حلقہ این اے 57 سیاسی حالات

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 57 جو کے تحصیل کوٹلی ستیاں ،مری ، کہوٹہ، کلرسیداں اور راولپنڈی کے کچھ حصے پر مشتمعل ہے اس حلقے کو جغرافیائی لحاظ سے اتنا بے تکہ پھیلا دیا گیا ہے کہ خود منتخب نمائندوں کو اس حلقہ کے سیاسی حالات کی سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ کیا کیا جائے اور نہ ہی ابھی تک اس حلقہ کے عوام کو اس بات کی سمجھ آ رہی ہے کہ ان کا حلقہ کہاں تک ہے اس کا سرا کہاں تک ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر پورے حلقے کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ اس حلقے میں موجود ووٹرز اور عوام کا طریقہ اور رہن سہن زبان ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں مری ، کوٹلی ستیاں اور کہوٹہ کے عوام سے تعلق رکھنے والے عوام کا مزاج تو قدرے مشترک ہے لیکن تحصیل کلرسیداں اور راولپنڈی کی جو یو سیز اس میں شامل کی گئی ہیں ان علاقوں کے عوام کا باقی تین تحصیلوں کے باسیوں سے مزاج اور طریقہ کا بلکل الگ اور مختلف ہے جس وجہ سے یہ حلقہ ابھی تک ایک ہونے کے باوجود دو حصوں میں تقسیم ہے ان دو حصوں کے عوام کے مزاج ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں اور آپس میں مطابقت بھی نہیں رکھتے ہیں جس وجہ سے حلقے کے عوام کے دلوں میں ابھی تک مایوسی پھیلی ہوئی ہے اس حلقہ کی اگر سیاسی جماعتوں کے حالات پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان تحریک انصاف اس وقت حلقہ کے سیاسی حالات پر مکمل چھائی ہوئی ہے اور تمام حالات اس کے قابو میں ہیں پی ٹی آئی کے رہنما اس وقت اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں، کارکنوں اور ورکرز کو مختلف قسم کی کمیٹیوں میں ایڈجسٹ کر رہے ہیں اور اپنی پارٹی کو مزید فعال بنانے کیلیئے دن رات کوششوں میں مصروف عمل ہیں اور اب تو پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کی طرف سے ترقیاتی کاموں کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے جس سے عوام اور پارٹی کارکنوں کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں اور اب کارکن اپنی منتخب کردہ جماعت سے کافی مطمئن دکھائی دے رہے ہیں جو کہ ایک بہت خوش آئند بات ہے اور اب پی ٹی آئی کے کارکن کافی متحرک بھی ہو چکے ہیں اور بہت زہادہ محنت کرتے نظر آ رہے ہیں تحصیل کلرسیداں کیلیئے مختلف پروجیکٹس کے اعلان کے بعد کارکنوں اور عوام میں ایک جوش خروش پایا جا رہا ہے کہ ان کی جماعتان کچھ کرنے لگ گئی ہے ان ترقیاتی پروجیکٹس کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کے کارکن اپنے آس پاس کے لوگوں کو جواب دینے کیلیئے اب اپنے پاس جواز رکھتے ہیں کہ دیکھیں ہماری پارٹی نے ترقیاتی کاموں کا بہترین انداز میں آغاز کر دیا ہے کیوں کہ پچھلے چند ماہ تو انہوں نے بہت مشکل سے گزارے ہیں کیوں کہ ہر جہگہ ان سے یہ سوالات پوچھے جاتے تھے کہ آپ کی پارٹی کیا کر رہی ہے جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا اب کارکنوں کی جان میں جان آ گئی ہے ان وہ کھل کر اپنی پارٹی کا دفاع کر رہے ہیں دوسری طرف اگر ن لیگ کے سیاسی حالات کر طرف نظر دوڑائی جائے تو وہ ن لیگ جس کا کبھی اس حلقہ کے ہر طرح کے حالات پر مکمل کنٹرول تھا اب سخت زیر عتاب ہے اس کے کارکن بلکل بکھر چکے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس حلقہ میں ن لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور میں یہاں یہ بات بر ملا کروں گا کہ ایک ن لیگ اور دوسری نثار لیگ بن گئی ہے جو لوگ اصل ن لیگی ہیں وہ تو اپنی جماعت کے ساتھ اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور بہت سارے جو بظاہر تو نہ لیگ کا لیبل استمعال کر رہے ہیں لیکن اصل مسلم لیگی ہیں نہیں وہ نثار لیگ کا حصہ بنے ہوئے ہیں جس وجہ سے اصل ن لیگ کو بہت بڑا نقصان پہنچ رہا ہے نہ لیگ کے خرابی حالات کی دوسری سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب اس حلقہ میں ن لیگ کے حقیقی کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے حوالے سے بھی کافی فقدان پایا جا رہا ہے کارکنوں کو نمائندگی کے حوالے سے کافی ساری پریشانی کا سامنا ہے شاہد خاقان عباسی انتخابات میں شکست کے بعد دل شکستہ ہو کر رہ گئے ہیں انہوں نے اپنے حلقہ کے عوام اور اپنی جماعت کے حقیقی کارکنوں کو بلکل نظر انداز کر دیا ہے اور کبھی رابطہ کرنے اور دکھ درد میں شرکت کے ھوالے سے بھی مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے جو کہ ن لیگ کے ووٹرز کے ساتھ ایک بدرترین زیادتی تصور کی جا رہی ہے اصل لیڈر وہی ہوتا ہے جو اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو جیت کی نظروں سے نہ دیکھے بلکہ ان کو اپنی پارٹیکا اثاثہ سمجھ کر ان سے روابط رکھے یہ نہیں کہ اگر جیت جائے تو بہتر لیکن اگر شکست ہو جائے تو نام بھی لینے سے کترائے ن لیگ کے ووٹرز اس وقت اپنے لیڈران کو شکست کے باوجود اپنا لیڈر تسلیم کر رہے ہیں لیکن ان کو اپنے ہارے ہوئے لیڈر بھی کہیں دیکھنے کو بھی نہیں مل رہے ہیں شاہد خاقان عباسی کو چاہیئے تھا کہ وہ کبھی کلرسیداں کے مقام پر زیادہ نہیں تو کم از کم پارٹی کارکنوں کا کنوینشن ہی رکھ لیتے تا کہ ان کی جماعت کے ہٹھ کیلیاں کھاتے کارکن اور ووٹرز میں تھوڑی جان پڑ جاتی اس طرح سے تو وہ اپنا اور اپنی جماعت کا سخت نقصان کر رہے ہیں اور اگر انہوں نے اپنا یہی سیاسی طرز عمل جاری رکھا تو یقینا پاکستان تحریک انصاف اس حلقہ کی مقبول ترین جماعت بن جائے گی اور ن لیگ کا نام بھی مٹ جائے گا قمر السلام راجہ پی پی دس کے حوالے سے اس خلاء کو پر رکنے کی بہت زیادہ کوشش کر رہے ہیں لیکن اس خلاء کو اتنی آسانی سے ختم کرنا اب تھوڑا مشکل ہو چکا ہے اس کیلیئے ان کو بہت زیادہ محنت کرنا ہو گی ن لیگ کے وورکز کو اب اس بات کی سمجھ ہی نہیں آ رہی ہے کہ اس وقت وہ کس مقام پر کھڑے ہیں بلکہ حالات اس طرح کے ہوتے جا رہے ہیں کہ ن لیگ تو اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کوکوئی خاص پلیٹ فارم فراہم کارنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے جبکہ ایسے لوگوں کو پی ٹی آئی کے ورکرز کی طرف سے ٹچ کیا جا رہا ہے اور ان کو اپنی جماعت میں شمولیت کی دعوتیں دی جا رہی ہیں بہر حال پاکستان تحریک انصاف اس وقت حلقہ کی سیاست پر کافی گرفت حاصل کر چکی ہے اور اگر ن لیگ کی طرف سے موجودہ سیاسی حالات پر غور خوض نہ کی گئی تو پی ٹی آئی بلدیاتی انتخابات میں بھی اس حلقہ کی دیگر سیاسی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دے گی -

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 179 Print Article Print
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 103 Articles with 24074 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: