بھٹو آج بھی زندہ ہے!‎

(Hassan Ali, Sargodha)

ذولفقار علی بھٹو کو اس دنیا سے بچھڑے چالیس سال ہو گئے ہیں، بھٹو کی پھانسی اج بھی متنازع، عدالتی فیصلہ عدالتی قتل قرار، دنیا اس غیر معروف مقتول کا نام تک نہیں جانتی، جس کے قاتل کو دنیا اج قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے یاد کرتی ہے، دنیا کو اپنی ذہانت اور علم سے حیران کر دینے والا ذولفقار علی بھٹو ہم نے مشرکہ طور پر گنوا دیا، قصور کسی ڈکٹیٹر کا نہیں، قصور پوری قوم کا ہے، پھر کچھ سوال ذہن میں آتے ہیں، کیا بھٹو اج بھی زندہ ہے ؟ اگر اج بھی بھٹو کے زندہ ہونے کی کچھ دلیلیں سامنے ملتی ہیں، تو پھر سوال بنتا ہے کہ، بھٹو اج بھی زندہ کیوں ہے؟

ذولفقار علی بھٹو اپنی قابلیت، ذہانت اور نصرت بھٹو کی وجہ سے ایوب خان کی کابینہ کا حصہ بنے، آپ کی صلاحیتوں کی دنیا قائل تھی، خود صدر ایوب خان بھی بہت تعریف کیا کرتے تھے، ذولفقار علی بھٹو صدر ایوب خان کو سرے عام اپنا باپ کہا کرتے تھے، پھر حالات میں تبدیلی آئی 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ازبکستان کے شہر تاشقند میں ایک معاہدہ ہوا، جس میں پاک بھارت جنگ کے بعد کے معاملات حل کیے گئے، جس میں ایوب خان کی طرف یہ تاثر ابھر رہا تھا، کہ ایوب خان نے ستمبر میں لڑی ہوئ جنگ ہار دی ہے، ذولفقار علی بھٹو اس معاہدہ سے خوش نہیں تھے، انہوں نے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کر کے ایوب خان سے راہیں جدا کر لیں، ایک ڈکٹیٹر سے راہیں جدا کرنے کا مطلب موت کو اجازت دینے کے برابر ہو سکتا تھا، پر ذولفقار علی بھٹو نے طاقت کے نشے میں جو کیا جانا چاہیے تھا، وہ کیا اور ایک عوامی اور پاکستان کی پہلی عوامی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی 1967 میں بنائی۔

ذولفقار علی بھٹو نے سیاست کا آغاز اپنی بلند و باق تقاریر سے کیا، وہ عوام کے دلوں میں بسنے والا ایک لیڈر بن رہا تھا، ذولفقار علی بھٹو اپنے آپ کو عوامی لیڈر کہتا تھا، ذولفقار علی بھٹو جب تقاریر کیا کرتا تھا، تب وہ اپنے جوشیلے انداز میں کیا بول رہے ہیں، اورکس کے خلاف بول رہے ہیں، انہیں ان باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، ساتھیوں کے سمجھانے پر بھی نہیں رکتے تھے، بھٹو نے عوام کو زبان دی، غریب کی باتیں ہر سیاستدان نے کی، پر بھٹو نے غریب کی سنی بھی، اس وقت بھٹو پورے پاکستان کی آواز بن چکا تھا، ہر گھر میں بھٹو سنا جاتا تھا۔

1973 کا آئین بھٹو نے پاکستان کو دیا، ایٹم بم، شملہ معاہدہ، اسلامی اتحاد کی کانفرنس پاکستان میں کرانے کے ساتھ ساتھ بھٹو نے پاکستان کی بہت خدمت کی، وہ اس وقت ایشیا کا سب سے بڑا لیڈر تھا، اس کا ویثرن روٹی کپڑا اور مکان لوگوں کو اس کی طرف مائل کر رہا تھا، بھٹو پر عالمی دباؤ ایٹمی پروگرام میں پیش رفت پر بہت ذیادہ ہو گیا، لیکن بھٹو بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھے، دوسری طرف بھٹو نے الیکشن کا اعلان بھی کر دیا تھا، 1976 میں ایٹمی پروگرام شروع کرنے پر اس وقت کے امریکی وزیرخارجہ نے دھمکی دی کہ ہم تمہیں عبرت کا نشان بنا دیں گیں، عالمی طاقتوں نے ایک مذہبی تحریک کی مدد سے بھٹو حکومت پر پریشر ڈالا گیا، بھر جنرل ضیاء الحق سے حکومت گرانے اور بھٹو کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا کام لیا گیا، اور 4 اپریل 1979 کو اس خطے اور اس قوم سے پہلا عوامی منتخب وزیراعظم چھین لیا گیا،

ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی نہیں، قتل کیا گیا تھا، اس بات کا انکشاف بعد میں نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے انٹرویوز میں کیا گیا، اور بہت سے لوگوں نے اس بات کی گواہی دی کہ، بھٹو کی گردن نہ ٹوٹی ہوئی تھی اور نہ کو پھانسی کے نشان تھے۔ بھٹو کی لاش کو عبرت کا نشان بنایا گیا، بے نظیر کو آخری دفعہ اپنے بابا سے ملنے بھی نہیں دیا، اس وقت بھی ڈیل کی باتیں ہو رہی تھی، جب اس بات کا اظہار ذولفقار علی بھٹو سے کیا گیا، تو انہوں نے کہا تاریخ کے ہاتھوں مٹنے سے بہتر ہے، میں ایک آمر کے ہاتھوں پھانسی چڑھ جاؤں، بھٹو کا یہ فیصلہ انہیں اج تک زندہ رکھنے کی وجہ ہے،

بھٹو اس دنیا سے تو چلا گیا، پر ضیاء الحق کے لیے مردہ بھٹو زندہ بھٹو سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا، بھٹو اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کی شکل میں پاکستان کو ایک رہنما دے کر گۓ تھے، 1986 بے نظیر کا استقبال در اصل یہ بتا رہا تھا کہ 'بھٹو زندہ ہے' پھر پی پی پی کو الیکشن ہرانے کے لیے دوسری جماعتیں بنا گئی، پھر اگلے الیکشن میں اصغر خان کے ذریعے جو دھاندلی کی گی، اس کا فیصلہ ابھی کچھ دن پہلے ہوا، بھر بھٹو کی بیٹی کو بھی قتل کروا دیا گیا، قاتل اج بھی زندہ ہیں۔

اب سوال بنتا ہے کہ کیا بھٹو اج بھی زندہ ہے ؟ تو جواب تلاش کرنا کافی مشکل بن گیا ہے، بھٹو کا ویژن تو کہیں گم ہو گیا ہے، سندھ میں بس بلاول ہاؤس سلامت ہے، باقی سارا سندھ قبرستان بن گیا ہے، زرداری اج کرپشن کا سب سے بڑا نام ہے، 4 اپریل کو بھٹو کی برسی زرداری صاحب اور بلاول نیب، حکومت اور اداروں کو دھمکی دیتے ہوئے نظر آے، اٹھارویں ترمیم اج کل پاکستان پیپلز پارٹی کا دوسرا نام ہے، بلاول ابو پچانے کے چکر میں اپنا مستقل ختم کر دیں گے، زرداری نے بے نظیر کو بھی اسی طرح خراب کیا، اب بلاول کی باری ہے، بے نظیر کے نامذد قاتلوں کو حکومت میں شامل کیا گیا، 5 سال حکومت رہی قاتل نہیں پکڑے گئے، اس ساری کہانی کا مطلب یہ نکلا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اج زرداری کی پارٹی ہے، بھٹو تو بس ووٹ لینے کا ہتھیار ہے، لیکن بھٹو اپنے کردار کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے بنا بھی زندہ رہے گا۔

جس نے عبرت کا نشان بنایا، اس کو بھی انہیں طاقتوں نے ختم کروا دیا، اج چالیس سال بعد لوگ بھٹو تو نہیں بھولے پر ضیاء کو ضرور بھلا دیا ہے، اس کی لاش دیکھنے کا قابل نہیں تھی۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 135 Print Article Print
About the Author: Hassan Ali
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: