تبدیلیاں!

(Younus Mehmood, )

تبدیلی کا لفظ سنتے ہی ہمارے دماغ میں "پی ٹی آئی" والی تبدیلی گھومنے لگتی ہے۔ جو حقیقت میں محض خیالات اور افسانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر آپ جوان جسم رکھتے ہیں، یا دماغ ابھی بوڑھا نہیں ہوا تو میرے ساتھ چلیں میں آپ کو اصلی تبدیلی سے متعارف کراتا ہوں۔

کیا آپ جانتے ہیں،13 سال کی عمر میں ایک عام سے اخبار میں لکھنے کا سفر شروع کرنے والا ’’نپولین ہل‘‘ مرنے سے پہلے کروڑوں لوگوں کو تبدیلی کا مطلب سمجھا چکا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ تبدیلی سے واقف ہونے کے لیے ناکام ہونا ضروری ہے۔ اس کی زندگی کا سب سے اہم موڑ وہ واقعہ تھا جب وہ اپنے وقت کے سب سے امیر شخص ’’اینڈیوکارینگی‘‘ کا انٹرویو کرنے گیا اور اینڈیو نے اس کو ایک نیا راستہ دکھا دیا۔

ایک ایسا راستہ جسے نپولین ہل مرتے دم تک نہیں بھول سکا تھا دراصل یہ راستہ تبدیلی کا راستہ تھا، جو اپنے کام تو آیا ہی دوسروں سے بھی شیئر کیا جا سکتا تھا۔انٹر ویو سے واپسی کے بعد اس نے 20 سال اس ریسرچ میں لگا دیئے کہ دنیا میں ہر شخص تبدیلی سے واقف ہونا چاہتا ہے مگر ہوتا نہیں ہے۔ آخر وہ کون سے اصول اور قوانین ہیں جن کوتبدیلی سے آشنا کچھ لوگ اپنا لیتے ہیں اور پھر اتنے تبدیل ہوجاتے ہیں کہ دنیا حیران ہوجاتی ہے۔ 20 سال کی ریسرچ کیلئے اس نے 500 انتہائی کامیاب لوگوں کے انٹرویو لیے جن میں کچھ بہت معروف نام شامل ہیں مثلاً ایڈیسن، گراہم بل، ہنری فورڈ اور روزولیٹ۔

بلآخر یہ ساری محنت "تھنک اینڈ گروریچ کتاب" کی شکل میں منظر عام پر آئی اور پوری دنیا نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا۔آئیے! ذرا ان اسباق کو پڑھیں جنہوں نے ایک دنیا کو بدلا۔
1: نپولین ہل کے مطابق تبدیلی سے واقف ہونے کیلئے صرف خواہش اور تمنا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں ایک جنون اور جذبے کی ضرورت ہے۔ یہ جنون ہمیں دوسروں سے ممتاز کردیتا ہے۔ ہمارے تبدیل ہونے کی تڑپ ہمیں چین نہیں لینے دیتی اور ہم ایک منزل کے بعد ایک نئی منزل کی جستجو میں لگ جاتے ہیں اور آخر کار تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ہل کے مطابق لوگ سست نہیں ہوتے بلکہ ان کامقصد اور ٹارگٹ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں جوش اور ولولہ ختم ہوجاتا ہے
2: تبدیل ہونے والے افراد کو خود پر یقین ہوتا ہے اور یہ یقین ان کی تبدیلی کو بھی یقینی بنا دیتا ہے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ’’یقین، پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلا دیتا ہے۔‘‘ اگر آپ کو خود پر یقین نہیں اور نہ ہی اپنی ذات پر اعتماد ہے تو کوئی شخص آپ پر اعتماد اور یقین نہیں کرے گا۔ پڑھائی، کھیل، سائنس، سیاست، آرٹ اور میوزک سب شعبوں میں وہ لوگ تبدیلی تک پہنچتے ہیں جن کو خود پر اور اپنے کام پر مکمل یقین ہوتا ہے۔
3: نپولین کے مطابق وہ بات چیت جو ہم دوسروں سے کرتے ہیں اس سے زیادہ اہم وہ بات چیت ہے جو ہم خود سے کرتے ہیں۔ اسے خود کلامی کہہ لیں، انگلش میں اس کو آٹو سجیشن Auto-Suggestion کہتے ہیں۔ دراصل ہم جب خود سے بات چیت کررہے ہوتے ہیں تو ہم خود کو نئے چیلنج اور حالات کے لیے تیار کررہے ہوتے ہیں۔ زندگی میں ہونے والا کوئی واقعہ اور کوئی حادثہ اتنا اہم نہیں جتنا اہم یہ بات ہے کہ ہم نے اس واقعے اور حادثے کو معنی اور نام کیا دیا ہے۔ دنیا کا ہر بڑا انسان پہلے خود اپنے آپ کو مانتا ہے اور بعد میں دنیا کے سامنے اپنا آپ منواتا ہے۔ آپ کی خود کلامی آپ کے اندر سوئے ہوئے ’’جن‘‘ کو جگا دیتی ہے۔ سوئے ہوئے کا جاگنا اہم نہیں جتنا کسی جاگے ہوئے کا بیدار ہونا اہم ہے۔ ہمیں خود کو ہمیشہ اچھے جملے اور اچھے فقرے دینے چاہیں۔ ہمیشہ خود سے بات چیت کرتے ہوئے کہیں کہ آپ ایک بڑے مشن کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔

یہاں تک نپولین کے ساتھ مل کر میں نے تبدیلی کے مفہوم آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یہاں تبدیلی سے مراد پی-ٹی-آئی کی تبدیلی، وزارتوں کا ردو بدل، جاب کے حوالے سے ایک کروڑ نوکریوں والی حکومتی پالیسیاں ، یا سبز پاکستان کے لیے جگہ جگہ درخت لگانے کے ارادے ہرگز مراد نہیں ہیں، یہاں تبدیلی "کامیابی" کے معنی میں ہے۔ سو! جہاں تبدیلی کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں "کامیابی" کا لفظ استعمال کریں، اچھی طرح بات سمجھ جائیں گے۔

ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ دنیا کا کوئی کامیاب ترین آدمی ہو یا ناکام ترین۔۔ کام کرنے کے لئے ہرکسی کے پاس دن میں 24 گھنٹے ہی ہوتے ہیں، اس وقت میں وہ اپنے آپ کو کامیاب بھی بنا سکتا ہے اور ناکام بھی۔ کامیابی کے لیے دولت مند ہونا ضروری نہیں۔ لیکن نپولین کے اصولوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یہ اب آپ پر ہے چاہے تو نپولین کی باتوں کو لے لیں اور حقیقی تبدیلی کے لیے تگ و دوہ میں لگ جائیں یا موجودہ "ہینڈ سم وزیراعظم" کے عظیم کارناموں کی جنگ سوشل میڈیا پر جاری رکھیں، یہاں تک کہ" نپولین" کی سچی باتوں پر عمل کرنے وقت بھی چلا جائے۔

لیکن میں اقبال کو بھی نہیں بھولوں گا!
بقول علامہ
نہ ہو نومید‘ نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
امید مردِ مومن ہے‘ خدا کے راز دانوں میں

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 116 Print Article Print
About the Author: Younus Mehmood

Read More Articles by Younus Mehmood: 15 Articles with 3885 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: