صحت بڑی نعمت

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

ویسے تو خدا کی بے شمار نعمتیں ہیں جو نہ گن سکتے ہیں اور نہ ان کو سمجھ سکتے ہیں اور اس پر جتنا شکر کیا جاے کم ہے مثلاً آنکھیں اور اس کے علاوہ لا تعداد نعمتیں جن میں سب سے بڑھ کر صحت کیونکہ دوسری نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے صحت بہت ضروری ہے اور ایک قدیم مسلم محقق کے مطابق صحت کا دارو مدار غزا اور ورزش پر ہے
جو سب سے بڑی نعمت ہے اس پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے اور کتنا آسان ہے اس پر توجہ دینا اور یہ ہم سے نہیں ہو پاتا

ایک بڑا مسئلہ پیدل نہ چلنا اور اس کے لیے پارک جانا پڑتا ہے سیڑھیوں کی جگہ لفٹ ہے اور جلد از جلد اوپر جانے کی تمنا جو کچھ غلط بھی نہیں کہ ایک نہ ایک دن تو اوپر جانا ہی ہے اور ایک دنیا میں سب سے اوپر جانا جو ضرور کیا جاے مگر کچھ اپنا بھی خیال کیا جاے اور کسی اور سے چلتے وقت رسمی طور پر کہنا "اپنا خیال رکھیں " جو وہ اچھا رکھ رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کی پروا بھی شاید نہ کریں مگر آپ اپنا خیال رکھ کر ہی دوسروں کا خیال رکھ سکتے ہیں

ایک بچپن کا واقعہ ایک رشتہ دار گھر آتے تھے اور کبھی کبھی میری ڈیوٹی لگتی تھی ان کو وقت دینے کی اور وہ قیمتی وقت دینا بڑا قیمتی ہو گیا میں نے اُن سے پوچھا آپ ۸۵ سال کی عمر میں اتنی دور سے پیدل آتے ہیں اور مناسب جسمی خدو خال اس صحت کا کیا راز ہے تو انہوں نے بتایا کہ زندگی بھر دو چیزوں پر متواتر عمل کیا

۱ بھوک سے کم کھانا

۲ غصہ میں آپے سے باہر نہ ہونا

اور صحت کا انحصار کچھ نفسیاتی عوامل پر بھی ہوتا ہے اور ایک نفسیات کی کتاب کے مطابق ۸۰ فیصد بیماریوں کی وجہ کوی ایسے ہی حالات ہوتے ہیں جن میں مسلسل دباو اور حوصلہ شکنیاں وغیرہ وغیرہ اور بہت کم طبعی ہوتی ہیں اس میں یہی مشورہ دیا گیا ہے کہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ کام اور اپنی پسند کے مشغلے میں مصروف رکھنا اور پریشانی میں خدا سے رجوع کرنا صحت بخش زندگی دیتا ہے اور مناسب نیند بھی ضروری ہے

ایک ڈاکٹر کی لکھی کتاب بہت پہلے نظر سے گزری جس کی باتیں آج بھی نفع بخش ہیں جس کا نام "جسم وجاں " جو آج بھی میرے لیے" جانِ جاں " سے کم نہیں اور اردو میں لکھی ایسی کتاب پھر نہیں دیکھی جو طبی سے زیادہ ادبی لگتی ہے اور اس میں ذکر تھا کہ کیسے انسان نے گندم اور چاول کے چھلکے مشینوں سے صاف کر کے غزا کو متعارف کروایا اور جو چھلکا قدرت نے مفت فراہم کیا تھا وہ ڈاکٹر اور حکیموں کے مشورہ سے خرید خرید کر پھانک رہا ہے اور لکھا تھا کہ دوڑیے دوڑیے جان بچانے کے لیے دوڑیے اور میں دوڑ گیا اور کافی دن تک پارک میں واک کرتا رہا لیکن پھر اس صحت کی دوڑ کو چھوڑ کر دنیا کی فانی اور مقابلے کی دوڑ میں پڑ گیا جس میں اول آنا بغیر قسمت کے ممکن نہیں شائد اور صحت بھی خدا کا فضل ہوتا ہے

وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ

اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 232 Articles with 86934 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Apr, 2019 Views: 1077

Comments

آپ کی رائے