سیکھنا اور سکھانا ایک مسلسل عمل ہے

(Tanvir Sadiq, Lahore)

مشہور امریکن مفکر اور ماہر تعلیم جان ڈیوی ،جسے موجودہ جدید نظام تعلیم کا بانی سمجھا جاتا ہے، نے کہا ہے کہ سیکھنا اور سکھانا ایک مسلسل عمل ہے ۔ آپ ایک تجربہ کرتے ہیں تو اس سے کئی نئے تجربات جنم لیتے ہیں۔ جن سے مزید نئے تجربات حاصل ہوتے ہیں ،ان سے مزید نئے اور پھر مزید نئے اوریوں تجربات کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔موجودہ حکومت کے روح رواں جناب عمران خان صاحب نے پہلا تجربہ دوستوں کا کیا۔ انہیں کسی نے بتایا تھا کہ اچھے دوست وہ ہوتے ہیں جو ساتھ تیرتے اور ساتھ ڈوبتے ہیں۔ انہوں نے ساری حکومت دوستوں سے بھر لی ۔ اب ایک سال ہونے کو آیا تو اندازہ ہوا کہ دوستوں کے ساتھ تو صرف ڈوبنا ہی ڈوبنا ہے۔ ان میں نہ کسی کو تیرنا آتا ہے اور نہ ہی کوئی اچھا کھیون ہار ہے جو معیشت کی کشتی کو کھینچ سکے اس کی مرمت کر سکے۔ فوری یو ٹرن لیا گیا جو اچھی بات ہے۔ اب ایک نئے تجربے کی ابتدا کی جارہی ہے۔ابھی اور تجربات جنم لیں گے ، پھر اور تجربے ، پھر اور۔ اﷲہم پر رحم کرے۔
پہلے تجربے میں دوست ہی دوست تھے۔ نئے تجربے میں بھان پتی کا کنبہ وجود میں آیا ہے۔ کیسی کیسی اینٹیں اور کیسے کیسے روڑے ۔ نئے ارکان کے انتخاب میں پارلیمان زیادہ تر آوٹ نظر آ رہی ہے۔پرانے انصافیے ،دوست اور جاں نثار اسد عمر کو بہرحال جانا تھاکہ وہ بہت اچھے سہی مگر مینجمنٹ کے آدمی تھی۔ معیشت سے ان کا وہی تعلق تھا جو عام طور پر لال بجھکڑ کا ہر معاملے سے ہوتا ہے۔ بیچارے معیشت کی ویران اور پریشان راہوں میں مارے گئے۔ حکومت آئی تھی تو یہی بتایا گیا تھا کہ زیادہ بوجھ جناب اسد عمر کے کندھوں پر ہو گا کہ تحریک انصاف کے بہترین آدمی ہیں مگر افسوس اپنے ایک سالہ دور میں انہوں نے کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیا ، جی ہاں فقط ایک کام بھی کہ جس کو ان کا کارنامہ شمار کیا جا سکے۔ فقط ناکامیاں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے ان کی مشکلات میں حد سے زیادہ اضافہ کر دیا گیا اور پھر مزید پریشانیوں کی نوید ۔ کوئی ذی عقل لوگوں کو پریشان تر کرنے کا سوچ سکتا ہے۔ انہیں یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ ٹیکس اکٹھا کرنا جس قدر سادہ عمل ہو گا ،آسان ہو گا اتنا ٹیکس زیادہ اکٹھا ہو گا۔ آپ نے لوگوں کواس قدر ذلیل کیاور ایسے اقدامات کئے کہ جن کے نتیجے میں لوگوں نے اپنی رقوم چھپا لی ہیں کاروباری جمود حد سے بڑھ چکا ہے ۔ امپورٹ بند، پراپرٹی کا کاروبار بند۔ کنسٹرکشن انڈسٹری تباہ۔ کون سا شعبہ ہے جہاں کام ہو رہا ہے۔ یہ سب پوری قوم کو نظر آ رہا ہے۔ مہنگائی نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ مگر جناب اسد عمر ان حالات سے انجان رہے ، لوگوں کے مسائل سے بالکل بے خبررہے۔

اسد عمرکی جگہ جو نئے مشیر خزانہ آئے ہیں انہوں نے اس سے پہلے تحریک انصاف کی طرف منہ پھیر کے دیکھا بھی نہیں تھا ۔ پہلے وہ پرویز مشرف کے ساتھ رہے، پھر کئی سال پیپلز پارٹی کے وفاداروں میں شمار ہوئے۔ انہیں ہر طرح سے ڈھل جانا آتا ہے، بدل جانا آتا ہے۔ آ ج سے وہ انصافیے شمار ہونگے۔ لیکن ان کا اصل تعلق عالمی اداروں سے ہے اور وہ ان کے مقاصد کے حصول کے لئے پاکستان سے زیادہ ان کی وفاداری نبھاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی نبھاتے رہیں گے۔معیشت کی چھیدو چھید کشتی کی مرمت ان کی ذمہ داری ہے۔ ساری قوم ان کے لئے دعاگو ہے۔نئے مشیر صحت ڈاکٹر ظفراﷲ مرزا کا تعلق بھی عالمی اداروں سے رہا ہے وہ 2010 سے 2016 تک WHO میں ملازم رہے۔پٹرولیم کے مشیر جناب ندیم بابر کا کیس نیب میں چل رہا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسی محکمے کے ڈیفالٹر ہیں جہاں اب وہ مشیر ہیں۔ سواتی کے معاملے میں تحریک انصاف کو جو خفت اٹھانی پڑی تھی وہ بھی بھلا دی گئی ہے ۔باقی بھی سارے وہی گھسے پٹے لوگ جن کی کارکردگی سب پر ظاہر ہے مگر جہاں نا اہلی ہی نا اہلی ہو وہاں ایسے لوگوں کا دم غنیمت ہے۔وہ سیاسی کہکشاں جو کل تک یوسف رضا گیلانی کے افق پر جگمگا رہی تھی آج عمران خان کے دامن سے جڑی ہے۔ویسے جس تیزی سے پیپلز پارٹی تحریک انصاف میں جگہ بنا رہی ہے ہو سکتا ہے زرداری صاحب کو صدارت کی پیشکش کی خبر بھی ہمیں جلد ہی سننی پڑے۔

تحریک انصاف کے اطلاعات کے قومی اور صوبائی دونوں وزیر محنتی ، جانثار اور عمران کے سچے سپاہی تھے مگر حد سے زیادہ جذباتی تھے۔ ان دونوں میں ہمیشہ سے یہ خوبی رہی ہے کہ اقتدارکے وقت جس کے ساتھ ہوتے ہیں بس اسی کے ہو کر رہتے ہیں نہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں نہ وہ آگے کی پرواہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے وزارت کے دوران اپنے منصب سے پورا انصاف کیا مگر انہیں اپنی زبان پر قابو نہیں تھا۔ جہاں بولنا ہو وہاں تو وہ بولتے ہی تھے مگر جہاں چپ رہنا ہو وہاں بھی وہ غیر ضروری بول دیتے تھے۔ان کا یہی کمال دونوں کو لے ڈوبا۔ پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات تو اپنی برطرفی کے بعد ابھی تک امید سے ہیں مگر جناب فواد چوہدری کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت دی گئی ہے۔ بہت سے لوگوں کو اعتراض ہے کہ ان کا سائنس سے کیا تعلق۔سائنس سے نہ سہی ماضی میں پیپلز پارٹی سے تو رہا ہے اور زرداری صاحب اپنے دور میں سائنس فاؤنڈیشن کا چیر مین پولیٹیکل سائنس کے بندے کو لگا سکتے تھے تو عمران کا جناب فواد چوہدری کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت دے دینا کیوں غلط ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے تو ایک پرانی روایت کو قائم رکھا ہے۔لوگ نئے پاکستان کے متلاشی سہی مگر پرانا پاکستان جان چھوڑنے کو تیار ہی نہیں۔ کیا کیا جا سکتا ہے۔

خان صاحب کہتے ہیں کہ وزرا کی کارکردگی پر نظر رکھی جائے گی۔ مگر اچھی اور بری کا سوال تو تب آتا ہے جب کچھ کیا جائے۔ میں لاہور کا مکین ہوں۔ پچھلے دور میں سڑکیں ادھڑ رہی تھیں، بن رہی تھیں۔ میٹرو ٹرین کا شور تھا۔ کہیں سیوریج بچھ رہا تھا، کہیں ہارٹیکلچر والے پھول پودے لگا رہے تھے۔ نظر آتا تھا کہ کچھ ہو رہا ہے مگر اب تو سکوت مرگ طاری ہے۔ LDA میں ان کی بھرتی کی ہوئی مخلوق آپ کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں اور آپ ان سے کام لینے کو تیار نہیں۔ وہاں کوئی ایک آدمی آپ نے لگایا یا تبدیل کیا، کچھ بھی نہیں۔ کوئی خالی پوسٹ پر کی ۔ کچھ بھی نہیں۔ ذاتی مفادات ہیں جو پورے کئے جا رہے ہیں۔آپ اپنے وزرا اعلیٰ کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔اس کے لئے آپ نے اپنے متحرک ترین آدمی گورنر پنجاب کو بھی کچھ ہدایات دی ہیں۔ گورنر صاحب کی پھرتیاں تو اخباروں کی حد تک دیدنی ہیں، مگر کارکردگی کا حال یہ ہے کہ چار چار ماہ تک ان کے دفتر میں گئی فائل واپس نہیں آتی۔آپ پتہ نہیں کس کارکردگی پر فیصلے کریں۔
 
اس ملک میں کارکردگی کا جائزہ لینے اور فیصلہ کرنے والے صرف آپ نہیں اور بھی کئی ہیں مجھے ڈر ہے کہ آپ کی گورننس کا یہی حال رہا تو جلد کہیں کچھ اور فیصلہ نہ ہو جائے جو موجودہ حالات میں بہت فطری ہے۔ آپ سے پہلے جو لوگ تھے ان سے میرے جیسے عام لوگوں کو گلہ تھا کہ زبانی جمع خرچ کے سوا ان کے پاس غریبوں کے لئے کچھ نہ تھا۔وہ غریبوں کا سوچتے ہی نہیں تھے۔ لوگوں نے بڑی آس ، امید اور یقین کے ساتھ آپ کو ووٹ دیا تھامگر آپ تو ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے۔آپ نے تولوگوں کی آس، امید اور یقین ہی نہیں ، ان کا چین اور سکون بھی لوٹ لیا ہے۔پچھلے دور میں حکمرانی کرنے والے لوگ شاید واپس نہ آئیں مگرحالات ایسے ہی رہے تو دنوں کی بات ہے جیسے اسد عمر کو اپنے جانے کا لمحوں پہلے پتہ چلا تھا، آپ بھی تیار ہو جائیں ۔شاید آپ کو بھی پتہ نہ چلے ۔اﷲنہ کرے ایسا ہو مگر کچھ بعید نہیں۔ عوام کی ہمدردیاں اپنی مسائل اور مصیبتوں سے جڑی ہوتی ہیں انہیں آمریت یا جمہوریت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والا، ان کے حالات کو بہترکرنے والا ان کا ہیرو ہوتا ہے ورنہ سب کچھ زیرو ہوتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 436 Articles with 219935 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
24 Apr, 2019 Views: 343

Comments

آپ کی رائے