کل کے مخبر آج کے رہبر۔۔۔!!

(جاوید صدیقی‎, Karachi)

اکثر و بیشتر مجھے شوشل میڈیا بلخصوص واٹس اپ پر بہت نایاب خبریں، معلومات دیکھنے میں آتی ہیں چند روز پہلے مجھے ایک دوست نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آبادکےپروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن کی تحقیقی مواد بھیجا جس میں ایسی حقیقت پہناں تھیں جس کو پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ اس پر کالم لکھا جائے تاکہ ہماری نئی نسل تاریخ کے حقائق کے ان اوراق سے بھی واقف ہو جو ایک تلخ اور تکلیف دہ حقیقت ہے، ان میں ایسی ہستیوں کے خاندان عیاں ہورہے ہیں جن کےمتعلق کبھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں کہ ان شخصیات کے آباؤ اجداد نے کیا کیا گل کھلائے تھے، پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن نے اپنی تحقیقی مقالہ جات میں انہوں نے جنگ آزادی کے حالات پر روشنی ڈالی ہے جس کے مطابق اس جنگ میں جن خاندانوں نے جنگ آزادی کے مجاہدین کے خلاف انگریز کی مدد کی مجاہدین کو گرفتار کروایا اور قتل کیا اور کروایا ان کو انگریز نے بڑی بڑی جاگیریں مال و دولت اور خطابات سے نوازا ان کے لئے انگریز سرکار نے وظائف جاری کئے،پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن کے مقالہ جات کےمطابق تمام خاندان وہ ہیں جو انگریز کے وفادار تھے اور اس وفاداری کے بدلے انگریز کی نوازشات سے فیضیاب ہوئے یہ خاندان آج بھی جاگیردار ہیں اور آج بھی اپنے انگریز آقا کے جانے کے بعد ہر حکومت میں شامل ہوتےہیں(بحوالہ: لاہور گریفن پنجاب شیفس سن انیس سو نو )سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی کے بزرگ سید نور شاہ گیلانی کو انگریز سرکار نے ان کی خدمات کے عوض تین سو روپے خلعت اور سند عطا کی تھی، (بحوالہ: جون اٹھارہ سو اٹھاون پروسیسنگ آف دی پنجاب ڈپارٹمنٹ نمبر سینتالیس)کے مطابق دربار حضرت بہاؤالدین زکریا کے سجادہ نشین اور تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے اجداد نے مجاہدین آزادی کے خلاف انگریز کا ساتھ دیا انہیں ایک رسالہ کے لئے بیس آدمی اور گھوڑے فراہم کئے اس کے علاوہ پچیس آدمی لیکرخود بھی جنگ میں شامل ہوئے،انگریزوں کے سامان کی حفاظت پر مامور رہے ان کی خدمات کے عوض انہیں تین ہزار روپے کا تحفہ دیا گیا، دربار کیلئے سترہ سو پچاس روپے کی ایک قیمتی جاگیر اور ایک باغ دیا گیا جس کی اس وقت سالانہ آمدنایک سو پچاس روپے تھی جو حوالہ وزیر اعظم گیلانی کا ہے وہی اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کے اجدادچوہدری شیر خان کاہے،ان کی مخبری پر کئی مجاہدین کو گرفتار کر کے قتل کیا گیا، انعام کے طور پر چوہدری شیر خان کو ریونیو اکٹھا کرنے کا اختیار دیا گیا اور جب سب لوگوں سے اسلحہ واپس لیا گیا تو انہیں پندرہ بندوقیں رکھنے کی اجازت اور پانچ سو روپے خلعت دی گئی (بحوالہ: انیس سو پینتیس چھتیس گزیگٹیٹ گجرانوالہ حکومت پنجاب) کے مطابق حامد ناصر چٹھہ کے بزرگوں میں سے خدا بخش چٹھہ نے جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا وہ اس وقت جنرل نکلسن کی فوج میں تھےقصور کے خیرالدین خان جو خورشید قصوری کے خاندان سے تھے نے انگریزوں کے لیئے ایک سو آدمیوں کا دستہ تیار کیا اور خود بھتیجوں کے ساتھ جنگ میں شامل ہوا، انگریزوں نے اسے پچیس روپے سالانہ کی جاگیر اورہزار روپے سالانہ پنشن دی،احمد خاں کھرل کی مقبولیت بڑھی تو انگریزوں کو ڈر پیدا ہوا کہ ان کے مقامی سپاہی جلد یا بدیر احمد یا کھرل سے جا ملے گے اس لئےدس جون سن اٹھارہ سو ستاون کو ملتان چھاؤنی میں پلاٹون نمبرانہتر کو بغاوت کے شبہ میں نہتا کیا گیا او رپلاٹون کما نڈر کو مع دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑادیا گیا آخر جون میں بقیہ نہتے پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا او رتہ تیغ کردیا جائے گا سپاہیوں نے بغاوت کردی تقریباً بارہ سو سپاہیوں نے علم بغاوت بلند کیا انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والے مجاہدین کو شہر اور چھاؤنی کے درمیان پل شوالہ پر دربار بہاء الدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا او رتین سو کے قریب نہتے مجاہدین کو شہید کردیایہ شاہ محمود قریشی ہمارے موجودہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لکڑ دادا تھے ان کا نام ان ہی کے نام پر رکھا گیا کچھ باغی دریائے چناب کے کنارے شہرسے باہر نکل رہے تھے کہ انہوں نے دربار شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اوران کا قتل عام کیا مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لئے دریا میں چھلانگ لگادی کچھ ڈوب کر جان بحق ہوگئے او رکچھ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئےپار پہنچ جانے والوں کو سیدسلطان قتال بخاری کے سجادہ نشین دیوان آف جلال پور پیروالہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کردیاجلال پور پیروالہ کے موجودہ ایم این اے دیوان عاشق علی بخاری انہی کی آل میں سے ہیں، مجاہدین کی ایک ٹولی شمال میں حویلی کور نگاکی طرف نکل گئی جسے پیر مہر چاہ آف حویلی کورنگانے اپنے مریدوں او رلنگریال، ہراج، سرگانہ ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیرلیا او رچن چن کر شہید کردیا،مہر شاہ آف حویلی کورنگا سید فخرامام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھااسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپے نقد او رایک مربع اراضی عطا کی گئی، مخدوم شاہ محمود قریشی کو سن اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد جاگیرسالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سواسی روپے آٹھ چاہات جن کی سالانہ آمدنی ساڑھے پانچ سوروپے تھی بطور معافی دوام عطاہوئی مزید یہ کہ سن اٹھارہ سو ساٹھ میں وائسرائے ہند نے بیگی والا باغ عطا کیا مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے معاوضہ کے طور پر وسیع جاگیر عطا کی گئیں۔۔۔۔معزز قارئین!!یہ تو چند ایک شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے یہیں ذوالفقار علی بھٹو کا بھی ذکر نہ کیا گیا تو بات مکمل نہ ہوگی ، سندھ کی دھرتی کے جمہورت کے علم دان اور سندھ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذالفقار علی بھٹو کے آباؤاجداد بھی انگریزوں کے ایجنٹ اور دلالی کے سبب زمینوں کے مالک بنے اور انگریز حکومت نے وفاداری نبھانے پر سر شاہنواز شاہ کو بیش بہا انعامات سے نوازا گیا، پاکستان کی بیشتر سیاسی لوگ انگریزوں کے غلام اور دلالوں کی باقیات ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج تک ذہنی طور پر انگریز حکمرانوں کی غلامی سے باہر نہ نکل سکا جبکہ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ قومیں جنہوں نے اپنی زبانوں ،اپنے تہذیب و ثقافت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس پر علمی جامع پہنایا وہ دنیا مین عزت و وقار کیساتھ ساتھ ترقی کی بلندی پر پہنچے، ہماری ترقی اسی میں ہے کہ ہم بھی اپنی زبان اردو کو فوقیت دیں اور انگریزی زبان کو ثانوی زبان تک محدود رکھیں اس سے ہمارا تشخص ابھریگا اور ہم بہتر انداز میں تعلیمی درسگاہوں سے علم سے سرفراز بھی ہوسکیں گے ۔۔۔۔معزز قارئین!! آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں اسی بابت مورثی سیاست، مورثی جمہوریت کا قبضہ ہونے کے سبب ملک پاکستان آج کہاں کھڑا ہے اور یہ خاندان کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے ہیں، ان تمام بڑے خاندانوں کا پس منظر نکال کر ہی ان کا حقیقی معنوں میں احتساب کیا جانا چاہیئے کہ پاکستان مخالف اور انگریزوں کے غلام کیونکر پاکستان پر حکومت کررہے ہیں جن ذہنوں سے ہم نے لاکھوں جانیں دیکر یہ عظیم ملک حاصل کیا ہے اس پر مخالفین اورقابضین کا غلبہ کیوں ہو ، یہی نہیں بلکہ ان خاندان کے پیچھے قادیانیت احمدیت اور لاہوری گروپس کی کارفرمائیاں شامل رہی ہیں ، پاکستان کی نظام ریاست کی باگ ڈور جب تک ان خاندان سے نہیں چھینی جائیگی تب تک ان قادیانیت احمدیت اور لاہوری گروپس کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتے ، اس بابت ہمارے مفکرین، دانشور، ماہرین، محققین، مفتیان کرام، پیر عظام کو اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا بصورت نہ صرف پاکستان بلکہ دین اسلام کو نقصان پہچانے کیلئےان کفار کو راستہ ملتا ہی رہیگا، اللہ پاکستان کی عوام کو خوشحالی عطا فرمائے اوراس وطن میں امن و سکون دے ، آمین ۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی‎

Read More Articles by جاوید صدیقی‎: 308 Articles with 156412 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Apr, 2019 Views: 823

Comments

آپ کی رائے