تھیلیسیمیا سے بچاؤ

(Sanya Anjum, Karachi)
تھیلیسیمیا سے بچاؤ

مکرمی!تھیلیسیمیا ایک انتہائی موذی مرض اور اس کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ آتا ہے،جو کہ ایک غریب آدمی کے بس سے باہر ہے۔ایک محدود اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریبا 90 لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں اور ہر سال تقریبا ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔اس مرض میں مبتلا شخص زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔

(سنیہ انجم، کراچی)

مکرمی!تھیلیسیمیا ایک انتہائی موذی مرض اور اس کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ آتا ہے،جو کہ ایک غریب آدمی کے بس سے باہر ہے۔ایک محدود اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریبا 90 لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں اور ہر سال تقریبا ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔اس مرض میں مبتلا شخص زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔یہ بیماری دراصل موروثی ہوتی ہے اور نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔اس بیماری کے پھیلاؤ کا سبب لوگوں میں اس بیماری سے عدم آگاہی ہے۔اگر تھیلیسیمیا مائنر کا شکار شخص دوسرے تھیلیسیمیا مائینر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتا ہے تو اس سے انکی پیدا ہونے والی نسل میں تھیلیسیمیا میجر پیدا ہونے کے حتمی آل وسیع امکانات ہوتے ہیں،جس کا علاج ناممکن ہے۔اس مرض کے ترارک کے لیے لازم ہے کہ تھیلیسیمیا کے حامل افراد کے درمیان شادی کو روکا جائے۔مقتدر حلقوں کوچاہئے کہ انستداد تھیلیسمیا کے لئے نکاح کے وقت خون ٹیسٹ کی رپورٹ لازم قرار دی جائے،خصوصا گاؤں دیہاتوں میں بسنے والے لوگوں میں اس مرض سے متعلق شعور پیدا کیا جائے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sanya Anjum

Read More Articles by Sanya Anjum: 3 Articles with 1349 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2019 Views: 400

Comments

آپ کی رائے