ریل آف شیم

(Ilyas Mohammad Hussain, )

چائنہ نے کمال کردیا جو ہم نے سوچا نہیں پڑوسی ملک نے اس پر عمل کرکے قرضہ خوروں کو بیچ چوراہے میں ننگا کردیاہے اخباری اطلاعات میں بتایا گیاہے چینی صوبے سچوان کی ہیجیانگ کاؤنٹی میں قرض لے کر واپس نہ کرنے والے خواتین وحضرات کے نام اور تصاویر سینما شوز سے قبل دکھائے جارہے ہیں تاکہ وہ شرمسار ہوکر اپنا قرض واپس کرنے میں جلدی کریں۔اسے ’ریل آف شیم‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے شروع میں اینی میٹڈ کارٹون آکر کہتا ہے:آؤ دیکھو یہ ہیں لاؤلائی!‘ یہاں لاؤلائی کا لفظ ایسے لوگوں کیلئے استعمال ہوتا ہے جو وقت پر اپنی قرض لی گئی رقم جمع کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کے بعد سینما اسکرین پر قرض لے کر واپس نہ کرنے والوں کی تصاویر اور نام ظاہر کیے جاتے ہیں۔ہیجیانگ کورٹس میں قوانین پر عمل در آمد کے سربراہ لی جیانگ نے بتایا: ’قرض واپس نہ کرنے والوں کو عوامی سطح پر شرمندہ کرنا، بلیک لسٹ کرنا اور ان پر سفری پابندیاں عائد کرنا ایک عام بات ہے۔

جیانگ نے مزید کہا کہ جس علاقے میں قرض واپس نہ کرنے والے افراد بستے ہیں عین ان ہی سینما میں ان کی تصاویر اور نام ظاہر کیے جاتے ہیں تاکہ یہ مہم بھرپور طور پر اثرانداز ہوسکے۔ ریل آف شیم کے بعد یہ خبر پورے چین کے سوشل میڈیا پر مشہور ہوتی جارہی ہے جس میں 26 ایسے بااثر تاجروں کی تصاویر دکھائی گئی ہیں جنہوں نے حکومت سے قرض لے کر اب تک واپس نہیں کیا ہے اور حکومتی اصرار کے باوجود وہ ٹس سے مس نہیں ہورہے۔چین میں کئی طرح سے قرض واپس نہ کرنے والوں کو شرمندہ کیا جاتا ہے۔ ان کی تصاویر بڑے اشتہاری بورڈ پرآویزاں کی جاتی ہیں، اس کے علاوہ جیانگسو، ہینان اور سچوان صوبوں میں قرض واپس نہ کرنے والے کے نمبروں پر کوئی فون کرے تو ٹیلی کام کمپنیاں پہلے اس قرض خور فرد کا جرم سناتی ہیں پھر اس شخص سے رابطہ ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں کھربوں کے قرضے معاف کروانے والوں کو شرم آتی ہے نہ حیا پھر بھی وہ خوب اتراتے پھرتے ہیں ایک سال پہلے سپریم کورٹ نے تمام قرض معاف کروانے والے 222 افرادکوطلب کرنے کا نوٹس جاری کئے تھے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ 222 افراد نے خلاف ضابطہ 84ارب روپے کے قرض معاف کروائے قرض معاف کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہو گی پھر کوئی خبرنہیں اس کیس کا کیا بنا؟بہرحال قومی مفادکے کیسزکو منطقی انجام تک پہچانا ضروری ہوتاہے اتنی شنیدہے کہ قرضہ معاف کروانے والوں میں نامی گرامی شخصیات کے نام ِ نامی آرہے تھے بہرحال ان مگر مچھوں کے حلق میں انگلی ڈال کر ملکی دولت اگلوائی جانی چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مزید انکشاف یہ ہوا ہے اسے اعتراف بھی کہا جا سکتاہے کہ پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) کے پاس رجسٹرڈ 3 ہزار 333 کمپنیوں میں سے 2 ہزار 8 کمپنیاں یعنی کْل رجسٹرڈ کمپنیوں کا 60.1 فی صد کمپنیاں کوئی ٹیکس ادا ہی نہیں کرتیں۔ دستاویزات کے مطابق 3 ہزار 333 کمپنیوں نے کْل 170 ارب روپے ٹیکس جمع کروایا۔ان کْل رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے ایک لاکھ تک ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیاں 7.6 فیصد ہیں، جن کا ادا کردہ ٹیکس 82 لاکھ 87 ہزار روپے ہے۔اسی طرح ایک سے 5 لاکھ کے دوران 6.2 کمپنیوں نے 5 کروڑ ساڑھے 74 لاکھ روپے ٹیکس دیا۔ 10 لاکھ کے درمیان ٹیکس دینے والی کمپنیاں 3.5 فی صد ہیں اور ان کمپنیوں نے 8کروڑ 42 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔ سے 50 لاکھ کے درمیان ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیاں کْل کمپنیوں کا 6.7 فیصد ہیں اور انہوں نے 55کروڑ 61 لاکھ روپے ٹیکس دیا۔ لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ٹیکس دینے والی کمپنیاں صرف 2.4 فیصد ہیں اور ان کے ٹیکس کی رقم 55کروڑ47 لاکھ روپے بنتی ہے۔جبکہ ایک کروڑ سے 5کروڑ کے درمیان ٹیکس دینے والی کمپنیوں کی شرح 6.3 فیصد ہے اور ان کمپنیوں کی طرف سے جمع شدہ ٹیکس کی رقم 5 ارب 17کروڑ روپے بنتی ہے۔ 10کروڑ کے درمیان ٹیکس دینے والی کمپنیوں کی شرح صرف 2.10 فیصد ہے اور انہوں نے 4 ارب 89 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا۔دستاویز کے مطابق 10کروڑ سے زیادہ ٹیکس دینے والی کمپنیاں تقریباً 5 فیصد ہیں اور ان کمپنیوں نے 158 ارب 45 کروڑ 28 لاکھ روپے ٹیکس جمع کروایا۔ ان حالات میں ملک کیسے ترقی کرے گا کوئی نہیں سوچتا۔ جس ملک میں قانون سازی کرے والے ارکان ِ اسمبلی ٹیکس دینا گوارانہ کریں وہاں ترقی کیسے ممکن ہے اس لئے پاکستان میں بھی’’ ریل آف شیم‘‘ طرزکا کوئی ٹی وی پروگرام لایا جائے جو تمام ٹیکس چوروں،کرپٹ عناصر اورمافیاز کے کالے کرتوت ہر نیوز چینلز سے دکھانے کااہتمام کیا جائے اس سلسلہ میں نیب اور سی بی آر کو اپنا ہوم ورک کرنا چاہیے تاکہ یہ مگر مچھ بے نقاب ہو سکیں پھر شایدان کو شرم آہی جائے وگرنہ وہ اتنے بے شرم اور بے حیاہیں کہ شایدان کا ضمیرکہیں سوگیاہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Mohammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Mohammad Hussain: 318 Articles with 113382 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2019 Views: 182

Comments

آپ کی رائے