کیا ہونے والا ہے؟

(Ilyas Mohammad Hussain, )

ویسے حد ہوگئی ہے یا پھرچاپلوسی کی انتہا، اسے بے حمیتی بھی کہا جا سکتاہے اورہمارے اخلاقی دیوالیہ پن کا بین ثبوت بھی کہ اب اخلاقی مجرموں کی حمایت میں جلوس نکلیں گے اسی لئے تو مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنے پارٹی قائد نواز شریف کی ضمانت کی مدت ختم ہونے پر7 مئی کی رات جاتی امرا سے کوٹ لکھپت جیل منتقلی کے موقع پر سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ایک خبر یہ بھی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے لاہور میں حضرت علی ہجویریؒ داتا دربار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے دربار پر چادر چڑھائی اور آنکھیں بند کر کے کافی دیر قبر مبارک کے قریب کھڑے رہے۔ خدا جانے و ہ اتنی دیر کیا سو چتے رہے۔ ویسے ایک کہاوت ہے ہاتھی ناکارہ بھی جائے تو سوا لاکھ کا ہوتاہے یہی حال میاں نوازشریف کاہے جو سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات میں نواز شریف داتا دربار حاضری کے بعد واپس رائیونڈ جاتی امراء پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتے کے لئے ضمانت منظور کی تھی اور انکی ضمانت 7 مئی کو ختم ہو رہی ہے اظہار یکجہتی کیلئے جیل تک مختلف مقامات پر اظہار یکجہتی کیلئے کیمپ لگائے جائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے نواز شریف کی جیل منتقلی کیلئے حکمت عملی پر غور کیا ہے فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی قائد محمد نواز شریف سے اظہار یکجہتی کے سلسلے میں مختلف مقامات پر کیمپ لگائے جائیں گئے۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں حکمت عملی کو حتمی شکل دیدی گئی شنیدہے کہ نواز شریف نے جیل واپسی کے موقع پر کارکنوں کو آنے سے منع کیا ہے تاہم اس کے باوجود کارکن بضد ہیں کہ وہ اپنے قائد سے اظہار یکجہتی کیلئے ہر صورت ان کے ساتھ جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق جیل کی حدود میں داخل ہونے سے قبل نواز شریف کا کارکنوں سے خطاب بھی متوقع ہے۔ نئی تنظیم سازی کے بعد ماڈل ٹاؤن لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ میں نئے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی، مرکزی سیکریٹری جنرل احسن اقبال اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے نئے صدر رانا ثناء اﷲ کی مشترکہ صدارت میں اجلاس میں اندرونی ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران محمد نواز شریف کی 7 مئی کی رات جیل منتقلی کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔کچھ اراکین اسمبلی کی رائے تھی کہ نواز شریف نے ریلی وغیرہ کی صورت میں جانے سے منع کیا ہے اس لیے نواز شریف کی ہدایت اور رمضان المبارک کی وجہ سے کارکنوں کو جاتی امرا آنے سے منع کردیا جائے جبکہ زیادہ تر رہنماؤں کا خیال تھا پارٹی کارکنوں کو متحرک اور فعال رکھنے کے لئے نواز شریف کی جیل منتقلی کے موقع پر سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا جانا ضروری ہے۔ رانا ثناء اﷲ نے کہا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت کی توسیع نہیں ہوئی ان کے ساتھ زیادتی ہوئی جس پر تشویش ہے۔ میڈیکل کی بنیاد پرضمانت نوازشریف کا بنیادی حق تھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف 7 مئی کو خود کو جیل حکام کے حوالے کریں گے۔ جبکہ گورنراسٹیٹ بینک سے زبردستی استعفٰی لیا گیا، آئی ایم ایف کے نوکر کو معیشت پر مسلط کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے موجودہ حکومت نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک لگایا گیا۔ پاکستان کو بدقسمتی سے آئی ایم ایف کی کالونی بنا دیا گیا۔ اس لئے ا سمبلی کے اندربھرپور احتجاج کریں گے۔ نیا بلدیاتی قانون، غیر آئینی، غیر قانونی ہے جیسے ہی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا ہم اسے عدالت میں چیلنج کر دیں گے۔سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کسی بھی شعبے میں ملک آگے نہیں جا رہا۔ ن لیگ کے پاس اقتصادی ویژن ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں ملک میں ترقی ہوئی۔ ن شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کی کسی نے مخالفت نہیں کی۔چوہدری نثار کے لئے دلوں اور پارٹی میں جگہ موجود ہے، ن لیگ نے رابطہ نہیں کیا تاہم اگر وہ پارٹی میں آنا چاہتے ہیں تو آ جائیں۔ شہباز شریف پارٹی صدر ہیں، اگلے دس دنوں میں واپس آ جائینگے۔ مریم اورنگزیب کا رد عمل تھا عمران خان صاب جتنے آپ نے یوٹرن لیے ہیں یہ پورے پاکستان کو پتہ ہے کہ آپ پیچھے مڑ کے نہیں دیکھتے۔ آپ لوگوں کو لارے نہ دیں روٹی دیں یہ ساری باتیں اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ن لیگ والے کچھ تو خداکا خوف کریں جس شخص کو عدالت ِ عظمیٰ نے کرپشن ثابت ہونے پر نااہل قرار دے دیا اس کو اس انداز سے پوزکیا جارہاہے جیسے وہ حج پرجارہاہو یا اس نے کشمیر فتح کرلیا ہو ۔ شدید گرمی ،حبس اور پابندیوں کے باوجود میاں شہبازشریف کے حق میں نعرے لگانے والے کارکن اپنے ابھی تک دکھ نہیں بھولے اور خادم ِ اعلیٰ مفرورہوگئے عوام کی اکثریت کی رائے ہے کہ میاں نوازشریف کو بھی موقعہ ملاتو وہ بھی لندن جلاوطن ہونے کیلئے مرے جارہے ہیں ایسے لوگوں کا استقبال کیا معنی رکھتاہے جنہوں نے ہمیشہ اپنا مفادمقدم رکھا آج حکومت کوئی ڈیل کرے یا ڈھیل دے یہ لوگ پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں گے اور پاکستان سے رفو چکرہونے میں دیر نہ لگائیں گے افسوس تو اس بات کاہے پنجاب نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد ایک لیڈر بنایا تھا حیف صد حیف وہ بھی گوڈے گوڈے کرپٹ نکلا۔ویسے حد ہوگئی ہے یا پھرچاپلوسی کی انتہا، اسے بے حمیتی بھی کہا جا سکتاہے اورہمارے اخلاقی دیوالیہ پن کا بین ثبوت بھی کہ اب اخلاقی مجرموں کی حمایت میں جلوس نکلیں گے خدا خیرکرے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Mohammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Mohammad Hussain: 327 Articles with 121454 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2019 Views: 175

Comments

آپ کی رائے