مقدس مہینے میں دہشت گردی

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

کسی بھی معاشرے میں امن وامان کی فضا کو خراب کرنے والا منافق اور فسادی کہلاتا ہے ، دین اسلام امن و سلامتی کا درس دیتا ہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی جان ومال کی حفاظت دین اسلام کی تعلیمات کا خاصہ ہے دہشت گردی کو فساد فی الارض کہا گیا ہے دین اسلام مسلمانوں کی جان ومال اور حقوق کی حفاظت کا حکم تو دیتا ہی ہے ساتھ ہی غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کی بھی ضمانت دیتا ہے، وطن عزیز پاکستان میں شدت کے ساتھ گزشتہ پندرہ سالوں میں دہشت گردوں نے جہاں عام شہریوں کو شہید کیا وہیں پولیس اور دیگرسیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا سال 2019کے پہلے پانچ ماہ میں دہشت گردوں نے وطن عزیزکے بڑے شہروں میں دہشت گردی کی کاروائیاں کیں جس سے درجنوں عام شہریوں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کوبھی شہید کر دیا گیا پاک فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خاتمہ کے لئے وسیع پیمانے پر اقدامات کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے جس سے گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس سال کے پہلے پانچ میں صوبہ بلوچستان ، پنجاب میں دہشت گردی کی بڑی کاروائیوں میں درجنوں عام شہریوں سمیت پولیس اہلکاروں کی شہادت نے ملک میں سوگ کی فضا پیدا کر دی گزشتہ ماہ اپریل میں صوبہ بلوچستان میں ایک ہی روز میں دہشت گردی کے دو مختلف واقعات میں مرنے والے افراد کی تعداد 25 سے زائد بتائی گئی جبکہ 60 افراد ان واقعات میں زخمی ہوئے ،پہلا واقعہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیش آیا جہاں ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں 20 سے زائدافراد شہید جبکہ 40 زخمی ہوئے جبکہ دوسرے واقعے میں بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ہونے والے بم دھماکے میں ایک شخص شہید اور دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت 11 افراد زخمی ہو ئے،پہلاخودکش دھماکہ جمعے کی صبح ہزار گنجی کے علاقے میں واقع مارکیٹ میں ہوا اور مرنے والوں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے آٹھ سے زائد افراد کے علاوہ ایک سکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ بھی شامل تھا،کہا جاتا ہے کہ پہلے دھماکہ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد آلوؤں کے گودام پر آئے تو زوردار دھماکہ ہوا زخمیوں میں ہزارہ قبیلے کے علاوہ دیگر برادریوں کے لوگ بھی شامل تھے ، دہشت گردی کی ایک اور کاروائی ماہ رمضان المبارک کے دوسرے روزے کی صبح کو لاھور میں ہوئی داتا دربار کے باہر خودکش دھماکے میں 5پولیس اہلکاروں سمیت 11افراد شہید ہوگئے ،جبکہ میوہسپتال میں دھماکے کے زخمیوں کو ہسپتال کے سرجیکل ٹاور منتقل کیا گیا ،جہاں 26 زخمی زیر علاج ہیں جن میں سے 2 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے ،خود کش دھماکے میں شہید ہونے والے چارپولیس اہلکاروں کی نمازجنازہ بھی ادا کر دی گئی ہے کہا جارہا ہے کہ دھماکے کے شہداء میں ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 3 افراد بھی شامل ہیں، محمد رفیق اپنے 8 سال کے بیٹے اور رشتے دار کے ساتھ محنت مزدوری کی غرض سے لاہور میں تھا،پولیس کے مطابق دھماکے میں 7کلو گرام کے قریب بارودی مواد استعمال کیا گیاہے شہید ہونے والے پولیس ملازمین میں ہیڈ کانسٹیبل شاہد نذیر ، ہیڈ کانسٹیبل محمد سہیل ، ہیڈ کانسٹیبل گلزار احمد ،کانسٹیبل محمد سلیم شامل ہیں ، ڈی جی آپریشن محمد اشفاق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ صبح 8 بج کر 45 منٹ پر ہوا،جس میں پانچ پولیس اہلکارشہید ہوگئے جبکہ اس سے قبل بھی لاہور پولیس کے 306جوان مختلف دہشت گردی کی کاروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ داتا دربار کے باہر دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 11ہو گئی ہے جبکہ25افرادزخمی ہیں شہید ہونے والے افراد میں 5 پولیس اہلکار ایک سیکورٹی گارڈ جب کہ ایک راہگیر شامل ہے دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا داتا دربار کے داخلی و خارجی دروازے بند کر دئیے گئے زخمیوں کو میو اسپتال پہنچایا گیا جہاں 3سے5ز خمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے ایس پی سٹی کے مطابق داتا دربار کے باہر پولیس ناکے پر دھماکا ہوا جس میں ایلیٹ فورس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیاپولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خودکش تھاپولیس کو مبینہ خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا بھی ملے ہیں،پولیس کے مطابق دھماکہ داتا دربار گیٹ نمبر دو کے قریب مین روڈ پر پولیس وین کے قریب ہوا ہے،آئی جی پنجاب کیپٹن(ر)عارف نواز خان نے دھماکے کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس پر حملہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے، حملے میں ملوث عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سمیت تمام آر پی اوز کو سیکورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام سینئر افسران فیلڈ میں جا کر حساس مقامات اور اہم عمارات کی سیکورٹی کا خود جائزہ لیں، سانچ کے قارئین کرام ! پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں شدت گزشتہ پندرہ سال سے آئی جس میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ، آرمی پبلک سکول پشاور میں 16دسمبر 2014میں دہشت گردی کی کاروائی میں ڈیڑھ سو کے قریب بچوں کی شہادت کے بعد ہماری پاک فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف زبردست ایکشن لیتے ہوئے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی لیکن ابھی بھی دہشت گردی کے واقعات کا رونما ہونا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ بچے کچے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کو مزید اقدامات کرنا ہونگے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے میں پاک فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز کی قربانیاں لازوال ہیں ،ایک موقر روزنامہ کے مطابق پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اس سے وابستہ گروہوں نے سال 2018میں ہونے والے دہشت گردی کے اکثر واقعات کی ذمہ داری قبول کی، انکے بعد دوسرے نمبر پہ دہشت گردی کے واقعات میں دہشت گرد تحریکیں ملوث رہیں سب سے زیادہ حملے صوبہ خیبرپی کے اور سابقہ فاٹا میں ہوئے تاہم دہشتگردی کے حملوں میں سب سے زیادہ افراد بلوچستان میں مارے گئے اس رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق 2018میں پاکستان کے 64 اضلاع میں نسلی، مسلکی اور مذہبی دہشت گردی کے 262 واقعات ہوئے ان میں 19 خودکش حملے تھے دہشت گردی کی سب سے زیادہ مہلک کاروائیاں سیاسی رہنماں اور کارکنوں کے خلاف کی گئیں، 2018میں انتخابی مہم کے دوران 24 دہشت گرد حملے ہوئے دہشت گردی کے ان حملوں میں سے 171 حملے تحریک طالبان یا اس سے علیحدہ ہونے والے گروہوں جماعت الاحرار اور اس جیسے گروہوں اور مقامی طالبان اور دولت اسلامیہ وغیرہ نے کیے اور ان حملوں میں 449 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دیگر حملوں میں 96 افراد ہلاک ہوئے ملک میں فرقہ ورانہ دہشت گردی کے کل 11 واقعات ہوئے اور ان میں 50 افراد ہلاک جبکہ 45 زخمی ہوئے رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے کل واقعات میں سے 136 ایسے تھے جن میں براہ راست قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایاگیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے دوران 120 مسلح دہشت گرد ہلاک ہوئے، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان سمیت دیگر سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اﷲ تعالی سے دعا ہے کہ وہ وطن عزیز پاکستان کو داخلی وخارجی دہشت گردوں سے محفوظ رکھے آمین٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 53 Articles with 17866 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 May, 2019 Views: 460

Comments

آپ کی رائے