چار کسان

(Qaisar Shahzad Khan, Mianwali)

وہ چار بھائی تھے. غریب گھرانا تھا، تھوڑی سی ذمین تھی جس میں اُنکا گزر ہوتا تھا. ذمین اور گھر چلانے کا اختیار بڑے بھائی کے پاس تھا. نظام چل رہا تھا کہ کچھ قدرتی آفات کی وجہ سے ایک بار انکی زمین کا اناج کم اُگا اور اس سیزن میں اُنکی بچت کم ہوئی، اتفاقاََ انہی دنوں گھر کے کچھ خرچے بڑھے اور سارا منافع خرچ ہو گیا. اب نئ فصل اُگانے کیلئے کسان کے پاس پیسے نہ بچے تو اُس نے ایک ساہوکار سے سُود پر قرض لیا اور فصل اُگا لی. پہلے فصل کے منافع کا ایک ہی حصہ ہوتا تھا جو گھر کی ضروریات پوری کرنے پر لگتا تھا اب اُسکا منافع دو حصوں میں بٹنے لگا، ایک گھر کی ضرورتوں اور دوسرا سود کی ادائیگی. ایسا چلتا رہا کسان کے بھائی بھی جوان ہو چکے تھے اور کسان کے اپنے بچے بھی تھے جن کیوجہ سے گھر کا خرچ کافی بڑھ گیا تھا، جس سے کسان کافی مشکل میں پڑ گیا اور مزید قرضہ لے لیا. سُود کی قسطیں بڑھیں، اخراجات مزید بڑھے اور حالات اُسکے کنٹرول سے نکلے تو گھر والوں نے اسے نالائق کا خطاب دے کر دوسرے نمبر والے بھائی کو ذمین اور گھر کی ذمہ داری سونپ دی. گھرکی ضروریات، گھر والوں کی شاہ خرچیاں، اور سود کی ادائیگی، مشکلات بڑھتی جا رہی تھیں اور وہ وقت قریب تھا کہ گھر کا چولہا بھی بُجھ جاتا لیکن اس نئے کسان نے بھی جا کر اُسی ساہوکار سے مزید قرضہ لے کر کچھ عرصے کیلئے چولہے کو بجھنے سے بچا لیا، لیکن جب قرضہ مزید بڑھا تو سُود بھی مزید بڑھ گیا حتی کے حالت اب یہاں تک پہنچ گئی کہ ذمین کی ذیادہ تر بچت سُود کی ادائیگی میں خرچ ہونے لگ گئی. جب وہ نیا قرضہ جو اس کسان نے لیا تھا ختم ہوا اور وہ بھی گھر والوں کی مزید ضروریات پوری نہ کر سکا تو گھر والوں نے اُسے بھی گھر بٹھا کر تیسرے بھائی کو ذمہ داری سونپ دی. یہ بھی روایتی کسان نکلا اور بھائیوں کی طرح گھر والوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا اور سُود اتنا بڑھ گیا کہ ذمین کی ساری بچت سُود کی ادائیگی میں نکل جاتی اور گھر چلانے کیلئے نیا قرضہ لینا پڑتا. اب چاروں بھائی شادی شدہ تھے اور چاروں کے بچے تھے جنکی وجہ سے گھر کا خرچہ کافی حد تک بڑھ چُکا تھا. گھر والے اُس سے بھی مایوس ہوئے اور چوتھے بھائی کو آخری اُمید کی کرن سمجھ کر ذمہ داری سونپ دی. نئے کسان نے نظام سنبھالا، کُل خرچے، کُل بچت اور قرض کی ادائیگیوں کا تخمینہ لگایا تو پریشان ہوگیا اور اُس نے پہلی بار یہ محسوس کیا کہ اگر اب ایسے ہی نظام چلتا رہا تو ہم برباد ہو جائیں گے. اس لیے اُس نے فیصلہ کیا کہ اب نظام میں کچھ تبدیلی کرنی پڑیگی. ابھی وہ حساب کتاب کر ہی رہا تھا کہ اُسے بتایا گیا کہ ہفتے بعد سُود کی ادائیگی کرنی ہے جو اگر نہ کی تو ساہوکار ذمین پر قبضہ کر لے گا. گھر میں کچھ بھی نہ بچا تھا چنانچہ وہ ساہوکار کے پاس گیا اور اپنی ذمین کو بچانے کیلئے مزید قرضہ مانگ لیا، ساہوکار قرضہ دے دے کر تھک چُکا تھا اسلئے اب کی بار اُس نے صاف انکار کر دیا وہ بھاگا اور دوسرے ساہوکاروں کے پاس گیا اور قرض کیلئے اُنکی منت سماجت کرنے لگ گیا. یہ دیکھ کر اُسکے گھر والے اٌس سے بھی مایوس ہوگئے یہ سوچ کر کہ یہ بھی پچھلوں کی طرح روایتی کسان ہے. لیکن گھر والوں کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا اسلئے وہ اُسے تبدیل نہ کر سکے. خیر ایک ساہوکار نے اُس کو تھوڑا سا قرض دینے کی حامی بھری اور کسان اُس سے قرض لے کر پہلے ساہوکار کے پاس گیا اور سُود کی قسط ادا کر کے رونے گڑگڑانے لگا اور مزید قرض کی درخواست کرنے لگا. ساہوکار کو اُس پے ترس آیا اور بلآخر اُسے ذیادہ سُود پے مزید قرضہ دے دیا. اب وہ نئے پیسے لے کر گھر آیا اور گھر والوں کو خبردار کیا کہ میں اکیلا نہیں آپ بھی اب میرے ساتھ کمائیں گے اور اُنہیں صاف منع کر دیا کہ میں عیاشی کی لیے آپ کو کوئی پیسے نہیں دونگا. کسان نے قرض کے پیسوں سے دو دکانیں بنائی، گھر والوں کے دو گروپ بنائے اور اُن کو دُکانوں کی ذمہ داری سونپ دی. اب گھر والے دُکانیں چلاتے اور کسان ذمینداری کرتا، آمدنی کے ذرائع بڑھ گئے اُس نے گھر کے خرچے مزید کم کر دئیےتو بچت ذیادہ ہونے لگی. بچت ذیادہ ہوئی تو اُس کسان نے بچت کو چار حصوں میں تقسیم کیا پہلا حصہ سُود کی ادائیگی، دوسرا حصہ اصل قرض کی ادائیگی، تیسرا حصہ گھر کے اخراجات اور چوتھا حصہ مستقبل کیلئے. یوں گھر کے حالات ٹھیک ہونے لگ گئے. کچھ عرصے بعد جب مستقبل کے اکاؤنٹ میں ذیادہ پیسے آ گئے تو اس نے کاروبار میں مزید توسیع کر دی. اسی طرح ذرائع آمدنی بڑھتے رہے، وہ قسطوں کی ادائیگی وقت پر کرتا رہا اور آخر وہ وقت آ گیا جب اُس نے اتنے پیسے اکٹھے کر لیے جتنا اُس کا ٹوٹل قرضہ تھا. اُس نے پیسے اُٹھائے، ساہوکار کے پاس گیا اُس کے ہاتھ پر رکھے، سلام کیا اور قرض اور سُود کو ہمیشہ سے خیرآباد کر کے اُس کے ڈیرے سے نکلا. اللہ کا شکر ادا کیا اور گھر واپس آ گیا. آج اسکی ذندگی کا عظیم دن تھا اس نے گھر والوں کو قرض سے نجات دلا کر امیر کر دیا تھا. اس نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا، اب اُسکے پاس گھر کی ذمہ داریوں کا کوئی جواز نہیں تھا، اسلئے اُس نے کاروبار بچوں کے حوالے کیا، اللہ کی یاد میں مصروف ہو گیا اور کچھ دنوں بعد گھر والوں پر قیامت تک کا احسان چھوڑ کر فوت ہو گیا.

(اب آپ گھر کو عوام، کسانوں کو حکمران، ساہوکار کو آئی ایم ایف سے تبدیل کر کے یہ کہانی دوبارہ پڑھیں. ایسے بنے گا نیا پاکستان ان شاء اللہ).

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qaisar Shahzad Khan

Read More Articles by Qaisar Shahzad Khan: 4 Articles with 1725 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 May, 2019 Views: 152

Comments

آپ کی رائے