ہربرائی کے پیچھے پاک فوج کا نام کیوں؟؟

(Rashid Ali Anjum, Chakwal)
آمریت اور جمہوریت کا خلاصہ

آمریہ اور جمہوریت کا خلاصہ

تین ادوار کی کہانی تھوڑی طویل ہے پڑھنے سے ہی حقیقت سمجھ آئیگی

ہر برائی کے ساتھ پاک فوج کا نام کیوں؟؟
پاک فوج کے تین ادوار کی کہانی
جمہوریت کے گن گانے والے تو اپنی حکومتوں کے کارنامے سب جانتے ہی ہیں
تحریرراشدعلی انجم!!

پیپلزپارٹی نون لیگی پارٹی کے جس ورکرکوبھی کہوکہ پاکستان بحران کا شکار کیوں ہے اتنے قرض کیوں چھڑائے گئے ملک معاشی بحران کا شکارکیوں رہا ہے تو آگے سے جس کو دیکھوجواب اسٹیبلشمنٹ سیاست میں کیوں دخل اندازی کرتی ہے انکی سوچ پہ زرہ روشنی ڈالتے ہیں۔۔

ہم پاکستانی اکثر جنرل ایوب کوٹارگٹ کرتے ہیں کہ وہ آمریت کا دورتھاتوزرہ اس دور کے ملکی حالات اور معاشی حالات پہ نظرڈالتے ہیں۔۔

پی آئی اے 1960 میں ایشیا کی دوسری ائیرلائن بنی جس کے پاس بوئنگ 707 طیارہ تھا۔

1961 میں پی آئی اے دنیا کی دوسری ائیرلائن تھی جو کراس اٹلانٹک روٹ یعنی کراچی سے لندن اور لندن سے نیویارک کی حامل تھی۔

1962 میں پی آئی اے نے لندن سے کراچی کی فلائیٹ کو 938 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مکمل کرتے ہوئے دنیا کی تیزترین اڑان کا ریکارڈ بنایا جو آج بھی پی آئی اے کے پاس ہے۔

60 کی دہائی میں پی آئی اے نے فرنچ ڈیزائنر پئیرے کارڈن کے ذریعے اپنی ائیرہوسٹس کا دوپٹہ اوڑھے یونیفارم ڈیزائن کروایا جسے دنیا کی تمام ائیرلائنز کے مقابلے میں بہترین یونیفارم کا ٹائٹل ملا۔

دنیا کی واحد ائیرلائن تھی جو اپنے ہر روٹ میں کھانا سرو کرتی تھی، چاھے وہ 30 منٹ کی فلائیٹ ہی کیوں نہ ہو۔

70 کی دہائی میں پی آئی اے دنیا کی ٹاپ تھری ائیرلائنز میں سے ایک بن چکی تھی۔

ان تمام باتوں کی وجہ باوجود صدر ایوب خان اپنے اقتدار کے پہلے دور میں یعنی 1958 سے 1964 تک مقبول اور کامیاب صدر تھے اس کی بنیادی وجوہات یہ تھیں کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد قومی رہنمائوں اور سیاست دانوں نے عوام کو مایوس کیا تھا 1958 میں مارشل لا کے آغاز پر ملک بھر میں منافع خوروں ذخیرہ اندوزوں ، اسمگلروں ،غنڈوں ،بدمعاشوں ،ڈاکوئوںکے خلاف سخت ایکشن لیا گیا تھا۔

حکومت کی رٹ بہت سختی سے برقرار تھی، پولیس کا ایک سپاہی چارپائی کی رسی سے بیس ،بیس آدمیوں کو باندھ کر لے جا تا تھا عام طور پر سفارش،اقربا پروری، رشوت ستانی ختم کر د ی گئی تھی ،پہلے دور میں آٹا سولہ روپے کا من گوشت چھوٹا دو روپے سے تین روپے سیر،بڑا گوشت ایک روپے سے ڈیڑھ روپے سیر، خالص گھی چار روپے سیر، دودھ ایک روپے سیر تھا

جب پاکستان دنیا سے قرض لیتا نہیں بلکہ قرض دیتا تھا!
‏ایوب خان کے دور میں کوئی قرضہ نہیں تھا.
پاکستان قرض دینے والےممالک میں شامل تھا. اس دور میں پاکستان نےجرمنی جیسے ملک کو 120 ملین کا ترقیاتی قرضہ دیا۔

‏ایوب خان نے جب اقتدار سنبھالا تو ڈالر 4 روپے کا تھا اور 11 سال بعد جب وہ چھوڑ کرگیا تب بھی ڈالر 4سے 5 روپے کا ہی تھا۔

‏ایک چینی وفد پاکستان آیا تووہ پاکستان سےحبیب بینک پلازہ کاڈیزائن لے کر گئے. اُس دورمیں کراچی کامقابلہ لندن اور نیویارک سے کیا جاتا تھا.

‏ایوب خان کے دور میں صنعتی ترقی کی شرح پاکستانی تاریخ کا ریکارڈ 9 فیصد تھی ۔ یہ شرح آج کے دور میں چین کی ھے۔

‏ایوب خان کے دور میں بے روزگاری کی شرح 3 فیصد تھی جو پاکستان کی تاریخ میں کم ترین ھے۔

‏اسی دور میں جنوبی کوریا نے تیز رفتار ترقی کے لیے پاکستان سے اس کا پانچ سالہ منصوبہ لے کر اس پر عمل کیا۔

‏سٹاک ایکسچینج نے 1.7 ارب سے 5.2 ارب کی چھلانگ لگائی ۔ سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 81 سے 282 ہوگئی ۔

پاکستان میں سب سے زیادہ بڑے ڈیمزجنرل ایوب کے دور میں بنے جن سے آج بھی سستی بجلی حاصل کی جارہی ہے۔

ضیاء الحق کا 11سالہ دور حکومت

1971ءسے1977ء کا زمانہ پاکستان کی تاریخ کا انتہائی پرآشوب دور تھا۔ پورے ملک میں افراتفری پھیل چکی تھی حالات حد سے گزرے، لاء اینڈ آرڈر مشکل ہو گیاتو فوج نے مارشل لاء نافذ کر دیا اور ملک میں امن و امان بحال کیا۔

اسی دوران ایک روز فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ کا وسیع پنڈال جو جلسہ جلوس کے لئے بڑی مخصوص جگہ تھی۔ دھوبی گھاٹ کی حیثیت فیصل آباد میں وہی ہے جو تحریک پاکستان کے زمانے میں لاہور کے موچی گیٹ کو حاصل تھی۔ایک روز اعلان ہوا کہ اس میدان میں ایک شخص کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ مقررہ تاریخ سے ایک روز قبل دھوبی گھاٹ کے میدان میں پھانسی گھاٹ بنایا گیا۔ پھانسی کے لئے لوہے کی ٹکٹکی آویزاں کر دی گئی۔پھانسی کے لئے سہ پہر کا وقت مقرر تھا۔ لوگوں کے غول در غول دھوبی گھاٹ میں جمع ہو گئے۔

عین وقت مقررہ پر ڈسٹرکٹ جیل کی نیلے رنگ کی وین آئی اور دھوبی گھاٹ کے آہنی دروازے پر آ کر رکی۔ ایک ملزم کو پولیس کے پہرے میں وین کے دروازے سے نیچے اتارا گیا اور پھانسی کے چبوترے پر لایا گیا۔ منظر دیکھ کر تمام حاضرین پر سناٹا طاری ہو گیا۔ عین وقت مقررہ پر پھانسی پانے والے شخص کو تختوں پر کھڑا کیا گیااور حکم ملتے ہی جلاد نے لبلبہ دبا دیا۔ تختے نیچے سے کھل گئے اور لاش پھانسی کے پھندے پر جھول گئی۔ چند منٹ بعد ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور موت کی تصدیق کر دی۔

لوگوں میں تجسس تھا۔ اس انسان کا کیا قصور تھا؟ پتہ چلا کہ اس نے ایک نوخیز بچے کو اغواء کیا، پھر بداخلاقی کے بعد اس کو قتل کردیا تھا۔ بھلا ایسے سفاک کو یہ سزا نہ دی جاتی تو کیا اس کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے جاتے یا اس کی خدمت میں گجرے پیش کیے جاتے۔ ایسے ہی واقعات اور بڑے شہروں میں دہرائے گئے۔

پورا ملک جو بھیڑیوں کی آماجگاہ بن چکاتھا پر سکون ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا کہ شرفاء کی عزت داؤ پر لگ چکی تھی۔ بہو بیٹیوں کی عزت و ناموس کو تار تار کرنے والے درندہ صفت بھیڑ یئے تازہ لہو کی تلاش میں گلیوں میں تانک جھانک میں پھرتے تھے۔اشرار کو کھلی چھٹی اور اخیار پر جکڑ بندیاں تھیں۔

کون سا ظلم ہے کہ جو شرفاء پر آزمایا نہ گیا ہو۔ اس کی تفصیل جاننے کے لئے ستر کی دہائی کے اخبارات کی گواہی کافی مددگار ثابت ہو گی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت مفلوج ہو چکی تھی البتہ یہ درست ہے کہ حکومت نے شرفاء کے ہاتھ باندھ دئیے تھے اور اشرار کو من مانیاں کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔

شہید اسلام ضیاء الحق فوج کے سپہ سالار تھے جنہوں نے پانچ جولائی 1977ء کی رات کو ملک میں مارشل لاء نافذ کر کے عنان حکومت سنبھال لی تھی۔ عام لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ 1971ء سے لے کر1977ء تک بہت سے انتہائی دل سوز واقعات ملک میں رو نما ہوئے، ملک میں ہیجان پیدا ہوا۔

ان کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجہ میں کارخانے بند ہو گئے، سکول و کالج یونیورسٹیوں میں تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ عورتیں تک سڑکوں پر آ گئیں۔ میلوں لمبے جلوس نکلے، قانون نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی۔

لوگوں نے کھلے عام فوج سے مداخلت کا مطالبہ کرنا شروع کیا۔ ایسے عالم میں وقت کی انتہائی ضرورت کے تحت فوج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے عنان حکومت سنبھالی۔ اس فیصلے پر ساری فوج کی قیادت متفق تھی۔ اس اقدام پر پورے پاکستان کے عوام نے سکھ کا سانس لیا، مہینوں لوگوں نے خوشیاں منائیں اور چوراہوں چوکوں پر مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، حلوے کی دیگیں بانٹی گئیں، ملک میں امن قائم ہوا۔

ضیاء الحقؒ نے تقریباً گیارہ برس عنان حکومت سنبھالے رکھی۔ ۱۷ اگست کو وہ ایک سازش کا شکار ہوئے اور طیارہ کے حادثے میں بہاول پور کے قریب شہادت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہو گئے۔

قائداعظم اور لیاقت علی کے بعد وہ پہلے حکمران تھے جن پر بدعنوانی یا مالی بے قاعدگی کا الزام نہ لگا۔ بعد میں آنے والی حکومت نے بڑی کوشش کی، لیکن ایک پیسے کی مالی بدعنوانی نہ پکڑ سکی۔یقیناًضیاء الحق انتہائی، نیک، دیانت داراور خدا ترس حکمران تھے۔

ان کی شہادت کے بعدضیاء الحق ؒ کی بیوہ نے اپنے شوہر کی شہادت پر ملنے والی رقم بھی غرباء میں تقسیم کر دی۔ضیاء الحق نے اپنے دور اقتدار میں کسی کو انتقام کا نشانہ نہ بنایا۔ ایک انقلابی شاعر نے ان کے خلاف نظم لکھی جس کی سی آئی ڈی کے لوگوں نے ضیاء الحقؒ کو خبر کی۔

مرحوم نے اس مذکورہ شاعر کو طلب کیا، وہ گھبرایا پولیس کے ہرکارے اسے پکڑ لائے تھے۔ ضیاء الحقؒ کے سامنے پیش کیا۔ مرحوم صدر نے اس شاعر سے کہا وہی نظم میرے سامنے پڑھو۔ شاعر تھر تھر کانپنے لگا، مرد مومن نے اس کو حوصلہ دیا اور کہا کہ وہ نظم میرے سامنے پڑھو۔ صدر کا حکم شاعر کیسے نہ مانتا۔ مرحوم صدر نے ساری نظم غور سے سنی اور کہا میں نے تمہاری ساری نظم سنی ہے تم نے مجھے برا بھلا کہا ہے۔

میں نے تمہیں معاف کیا، کیونکہ ایک مسلمان ذاتی انتقام نہیں لیا کرتا۔ میں رسولﷺ کے داماد حضرت علیؓ کا ادنیٰ خادم ہوں۔ انہوں نے اپنے دشمن کو قابو کر لیا تھا اور سینے پر بیٹھ گئے تھے۔ چاہتے تو قتل کر سکتے تھے، لیکن اس نے چہرہ مبارک پر تھوک اچھال دیا۔ حضرت علیؓ سینے سے اتر کر ایک طرف ہو گئے تھے فرمایاتو دشمن دین تھا میں اسی لئے تجھے قتل کرنا چاہتا تھا،لیکن تو نے میری طرف تھوک پھینکا مجھے غصہ آ گیا، میں ذاتی غصہ کی وجہ سے تجھے قتل نہ کروں گا۔ ضیاء الحق نے بھی اپنے دشمن کو باوجود پوری طاقت رکھنے کے اس شاعر کو معاف کر دیا۔

حالانکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انکو جنرل ضیاء نے کوڑے مروائے تھے جوکے سراسر غلط ہے

ضیاء الحق نے پاکستان کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے کی شعوری کوشش کی، اس سلسلے میں پروازوں میں شراب پیش کرنے پر پابندی لگائی۔ نظام صلوٰۃ قائم کیا، نظام زکوٰۃ کو شرعی اصولوں کے مطابق منظم کیا۔ اس حوالے سے ان کا سب سے بڑا کارنامہ قرار داد مقاصد کو آئین کا حصہ بنانا بھی ہے۔

تشکیل پاکستان کے ابتدائی ایام میں قرار داد مقاصد جناب لیاقت علی نے مارچ 1949ء میں مجلس دستور ساز پاکستان کے اجلاس میں پیش کی تھی جو متفقہ طور پر کامیاب ہوئی۔ ضیاء الحق نے اس قرار داد کو باقاعدہ آئین کا حصہ بنایا۔ یہ مرحوم کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔ قرار داد مقاصد کے الفاظ حسب ذیل ہیں:

’’چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کابلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے۔ اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لئے نیابتاً عطا فرمایا ہے اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے لہٰذا۔

جمہور پاکستان کی نمائندہ یہ مجلس دستور ساز فیصلہ کرتی ہے کہ آزاد اور خود مختار مملکت پاکستان کے لئے ایک دستور مرتب کیا جائے جس کی رو سے مملکت تمام حقوق و اختیاراتِ حکمرانی، عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے۔

جس میں اصول جمہوریت و حریت، مساوات و رواداری اور سماجی عدل کو، جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق جو قرآن مجید اور سنت رسول میں متعین ہیں، ترتیب دے سکیں جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی انتظام کیا جائے، کہ اقلیتیںآزادی کے ساتھ اپنے مذہبوں پر عقیدہ رکھ سکیں۔

اور ان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں جس کی رو سے وہ علاقے جو اب پاکستان میں داخل ہیں یا شامل ہو گئے ہیں اور ایسے دیگر علاقے جو آئندہ پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں ایک وفاق بنائیں جس کے ارکان مقرر کردہ حدود اربعہ و متعینہ اختیارات کے ماتحت خود مختار ہوں، جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے اور ان حقوق میں قانون و اخلاق عامہ کے ماتحت مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدل، اظہار خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور ارتباط(میل جول اور باہمی تعلق)کی آزادی شامل ہو۔

جس کی رو سے اقلیتوں اور پس ماندہ و پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے، جس کی رو سے عدلیہ کی آزادی مکمل طور پر محفوظ ہو، جس کی روسے وفاق کے علاقوں کی حفاظت، اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا جن میں اس کے بروبحر اور فضا پر سیادت کے حقوق شامل ہیں، تحفظ کیا جائے، تاکہ اہل پاکستان فلاح اور خوش حالی کی زندگی بسر کر سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کر سکیں اور امن عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود میں کماحقہ اضافہ کر سکیں۔۔

اسی لئے مرحوم یہ کہا کرتے تھے کہ میں ایسے اقدامات کر جاؤں گا جن سے پیچھے ہٹنا بعد کے آنے والوں کے لئے آسان کام نہ ہو گا۔قانون کی شق 62/63 ضیاء الحقؒ کا کارنامہ ہے۔ یعنی امین و صادق ہونا جس پر پورا اترنا ہر اسمبلی ممبر کے لئے لازمی ہے۔ پانامہ کیس کا معاملہ اسی نکتہ پر بنیاد رکھتا ہے۔ اگر اس شق پر پورا عمل کیا جائے تو ملک کی بیشتر خرابیاں از خود دور ہو سکتی ہیں۔

شہید صدر ضیاء الحقؒ کا انتہائی اہم کارنامہ یہ ہے وہ عقیدہ ختم نبوت پر پختہ ایمان رکھتے تھے اور وہ پورے وثوق سے یہ سمجھتے تھے کہ قادیانی حضرات سلطنت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہیں جن کو حکومت برطانیہ نے مسلمانوں میں کاشت کرنے کی سعی کی ہے، تاکہ مسلمانوں میں عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں تشکیک پیدا ہو اور اس کے ذریعے وہ مسلمانوں میں ختم نبوت کے عقیدہ کو ختم کر سکیں اور اس طرح اسلام کی بیخ کنی میں باغیانہ سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ چنانچہ ضیاء الحق مرحوم نے 11مئی1984ء کو دو ٹوک الفاظ میں ارشاد فرمایا:

’’قادیانیوں کے سامنے دو ہی راستے ہیں، اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جائیں یا بطور اقلیت پاکستان میں رہیں۔‘‘( تحریک ختم نبوت کا آخری پیغام، ص: 4)

شہید صدر محمد ضیاء الحق 11 برس تک پاکستان کے مطلق العنان سربراہ رہے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے دوران اپنی اولاد کے لئے سیاست کے دروازوں کو بند رکھا اور اپنی صدارت کو وراثت نہ بننے دیا۔

حادثہ بہاول پور میں وہ شہید ہو گئے۔ بوقت شہادت وہ باوضو تھے اور نماز عصر ادا کر کے اپنے طیارے میں سوار ہوئے تھے۔ جب ان کاجنازہ اٹھا تو تقریباً پانچ لاکھ افراد ان کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ پورے پاکستان سے لوگ ان کے جنازے میں شریک ہونے کی غرض سے پاکستان کے کونے کونے سے مشقت برداشت کر کے اسلام آباد پہنچے۔

شرکت کرنے والوں میں ایک لمبے قد کا نوجوان بھی تھا جو بہت زاروقطار رو رہا تھا۔ لوگ اسے دلاسے دے رہے تھے۔ شرکائے جنازہ میں تجسس پیدا ہوا یہ نوجوان کون ہے؟اس روز لوگوں کو علم ہوا کہ یہ نوجوان صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کا بیٹا اعجاز الحق ہے جسے پہلے کبھی کسی نے نہ دیکھا تھا۔ وہ چاہتے تو اپنے دور اقتدار میں اس کی شناخت بطور سیاسی لیڈر ضرور کرا سکتے تھے، لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا، تاکہ تخت پاکستان وراثت نہ بن جائے۔

مشرف کادور1999سے 2007

مشرف کے دور میں ڈالر 65 روپے کا تھا انہوں نے جو اپنے دور میں آئی ایم سے قرض لیا وہ سارا کا سارا واپس کیا اور نعرہ لگایا کہ اگلے دوتین سالوں میں ہم اس قرض جیسی لعنت سے بلکل چھٹکارہ حاصل کر لینگے۔

2006 میں پاکستان سٹیل مل بھی ریکارڈ منافع دیا کرتی تھی اور اسی لئے جب مشرف نے اسے پرائیویٹائز کرنے کا فیصلہ کیا تو افتخار چوہدری نے اسے منسوخ کردیا۔ مشرف جانتا تھا کہ اس وقت سٹیل مل کی جو 3 بلین ڈالر میں ڈیل ہورہی تھی، وہ آگے چل کر جمہوری ادوار میں 3 ملین روپے بھی نہیں رہے گی۔

1999ء پرویز مشرف جب اقتدار میں آیا تو قومی خزانے میں صرف 0.4 ارب ڈالر تھے اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ جب 2007 میں مشرف چھوڑ کر جا رہا تھا تب قومی خزانے میں 18 ارب ڈالر تھے۔

1999ء میں مشرف اقتدار میں آیا تو پاکستان پر کل قرضہ 38.5 ارب ڈالر تھا۔ مشرف یہ قرضہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کم کروا کر 34 ارب ڈالر پر لے آیا تھا اور آئی ایم ایف کا تمام قرضہ چکتا کر دیا تھا۔ آجکل یہ قرضہ 80 ارب ڈالر ہے۔

1999ء میں جب مشرف کو اقتدار ملا تو ڈالر کی قمیت 55 روپے تھی۔ 8 سال بعد جب وہ چھوڑ کر جا رہا تھا تو 60 روپے تھی۔ مشرف کے جانے کے 8 سال بعد ڈالر کی قیمت 106 روپے ہوگئی۔

1988 سے 99 کے درمیان پاکستان میں کل بیرونی سرمایہ کاری 4 ارب ڈالر رہی۔ پرویز مشرف کے دور میں یہ سرمایہ کاری 13 ارب ڈالر ہوگئی تھی۔ آجکل پاکستان میں کل بیرونی سرمایہ کاری بمشکل 1 ارب ڈالر سے کچھ اوپر ہے۔

1999 میں نواز شریف کے دور میں پاکستان میں شرح غربت 34 فیصد تھی۔ مشرف کے دور میں یہ کم ہوکر 23 فیصد رہ گئی تھی۔ نواز شریف کے موجودہ دور میں اب یہ دوبارہ 39 فیصد ہو چکی ہے۔

2007 میں پاکستان کی برآمدات 18.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی جن میں سے 11 ارب ڈالر صرف ٹیکسٹائلز کی تھیں.

1999 میں سٹاک مارکیٹ کا حجم 334 ارب روپے تھا۔ پرویز مشرف نے 2007 تک اسکو 3980 ارب روپے تک پہنچا دیا تھا۔

مشرف کو اقتدار ملا تو پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد تھی۔ مشرف کے دور میں 2004/5 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 7.6 فیصد تھی۔ آجکل یہ شرح دوبارہ 4.5 فیصد پر آگئی ہے۔

1999ء صنعتی ترقی کی شرح 3.6% تھی۔ جو اس کے دور میں 2004/5ء میں ریکارڈ 19.9 فیصد ہوگئ۔

1999 میں پاکستان اپنی کل جی ڈی پی کا 64٪ قرضوں اور اس کی سود کی ادائیگی میں صرف کرتا تھا۔ مشرف کے دور میں یہ رقم 28٪ رہ گئی۔ آجکل یہ دوبارہ کتنےفیصد کا ہندسہ کراس کر چکی ہے سب کو معلوم ہے۔

قومی اداروں کی بات کی جائے تو سٹیل مل 1999ء میں کئی ارب روپے خسارے میں تھی۔ مشرف کے دور میں سٹیل مل بتدریج منافع میں چلی گئی اور سالانہ ایک ارب روپے منافع دینے لگی۔ آج سٹیل مل دوبارہ پہلے سے زیادہ بڑے خسارے میں جا رہی ہے جو سالانہ کئی ارب روپے ہے۔ یہی حال ریلوے اور پی آئی اے کا بھی ہے۔

مشرف کے دور میں پاکستان کی زرعی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر رہی جبکہ کچھ دن پہلے اسحاق ڈار کے مطابق اس وقت پاکستان کی زرعی پیدوار تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔

جنرل ضیاء کے بعد ( جس نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم بنائے تھے) ایک طویل وقفے بعد پہلی بار مشرف کے آٹھ سالہ دور میں کل 5 درمیانے ڈیم بنائے گئے جن میں میرانی ڈیم، گومل زم ڈیم، سبک زئی ڈیم، تنگی ڈیم اور خرم ڈیم شامل ہیں۔

منگلا ڈیم کی پیدواری استطاعت بڑھائی گئی جبکہ ستیارا ڈیم جیسے درجنوں چھوٹے ڈیم بھی بنائے گئے۔ اس کے بعد سے اب تک ایک بھی ڈیم نہیں بنا۔

مشرف نے ایوب خان کے بعد پہلی بار دیا میر بھاشا اور نیلم جہلم پراجیکٹ جیسے بڑے آبی منصوبوں پر کام کا آغاز کیا۔ مشرف ہی نے کالاباغ ڈیم پر دوبارہ کام کرنے کا اعلان کیا تھا جو جنرل ضیاء کی شہادت کے بعد روک دیا گیا تھا۔

مشرف کے جانے کے بعد کالاباغ ڈیم دوبارہ جمہوریت کی نظر ہوگیا۔ دیا میر بھاشا ڈیم پر کام روکا جا چکا ہےجبکہ نیلم جہلم پراجیکٹ بند ہونے کے قریب ہے۔

1988ء سے 99ء تک نئی نہروں کی تعمیر پر کام رکا رہا۔ مشرف کے دور میں کچی کنال، ریانی کنال، گریٹر تھر کنال اور سب سے بڑھ کر غازی بھروتہ پراجیکٹ جیسے منصوبے مکمل کیے گئے۔

ان کے علاوہ ہر کھیت تک پانی پہنچانے کے لیے 41000 واٹر کورسز کی تعمیر نو کی گئی جبکہ پورے پاکستان میں کل واٹر کورسز 86000 ہیں۔

اس کے بعد سے بڑی نہروں اور کنالز کی تعمیر کا کام رکا ہوا ہے۔

مشرف دور میں 5000 نئے دیہاتوں کو بجلی پہنچائی گی۔ دیہاتوں میں اوسط لوڈ شیڈنگ 3 گھنٹے جبکہ شہروں میں 1 گھنٹہ تھی۔ آج دیہاتوں میں اوسط لوڈ شیڈنگ 12 گھنٹے اور شہروں مین 4 سے 6 گھنٹے ہے۔ اس معاملے میں کوئی جھوٹ نہیں بولا جا سکتا کیوںکہ دونوں ادوار کا مشاہدہ کرنے والوں کی اکثریت موجود ہے۔

1999ء میں نواز شریف کے دور میں صحت کے لیے کل بجٹ 20 ارب روپے تھا۔ مشرف کے دور میں یہ بجٹ 50 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ آجکل یہ بجٹ 15 ارب روپے ہے۔

1999 میں پاکستان میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد سالانہ 20 تھی۔ مشرف کے دور یہ تعداد سالانہ 300 ہوگئی۔ مشرف کے دور میں کل 5000 طلباء سرکاری خرچے پر پاکستان سے باہر پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔
ملک بھر میں 81 نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں۔ جبکہ کل 99319 نئے تعلیمی اداروں کا اضافہ کیا گیا۔

پرویز مشرف نے 7 نئی موٹرویز تعمیر کیں اور پہلے سے موجود موٹرویز کو تین گنا وسعت دی۔ ان کے علاوہ مکران کوسٹل ھائی وے، کراچی نادرن بائی پاس، مانسہرہ، ناران جلخاد روڈ، خضدار تک 600 کلومیٹر روڈ ، ڈیرہ اللہ یار سے دادر روڈ، اسلام آباد سے مظفرآباد روڈ جیسی اہم شاہراہیں شامل ہیں۔ کل 6378 کلومیٹر کے نئی سڑکیں تعمیر کی گئیں۔
ان کے علاوہ لواری ٹنل، پشاور کوہاٹ ٹنل، اور لکپاس ٹنل جیسے اہم منصوبے مکمل کیے گئے۔

جبکہ آج نواز شریف ان موٹرویز کو گروی رکھ کر قرضے لے رہا ہے۔

اور ان سب سے بڑھ کر پرویز مشرف نے چین کے ساتھ ملکر گودار پراجیکٹ کا آغآز کیا اور اسکا پہلا فیز مکمل کیا۔ آج اسی گوادر پراجیکٹ کے لیے چین سڑک بنا رہا ہے اور اسی پراجیکٹ کے لیے پاکستان میں 46 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا کر رہاہے۔

اس منصوبے پر مشرف کے جاتے ہی کام روک دیا گیا تھا۔ تاہم راحیل شریف نے چیف آف آرمی سٹآف بننے کے بعد گوادر پراجیکٹ کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

پرویز مشرف نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔ جس پر اس کے جانے کے بعد کام روک دیا گیا اور آج تک رکا ہوا ہے۔ یہ سٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم نوعیت کا منصوبہ ہے۔

لیکن اس پروجیکٹ کا کریڈٹ پیپلزپارٹی لیتی ہے

مجھے بلکل سمجھ نہیں آرہی کہ " جرنیلوں نے کیسے ملک برباد کیا اور نواز شریف نے اسکو کیسے ٹھیک کیا " ۔۔۔

ویسے اگر جنرل ضیاء کی طرف تھا تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس کے آگے " کون ہاتھ باندھے کھڑا رہتا تھا" ۔۔ ! :)

لیکن اگر مخاطب پوری پاک فوج ہے تو ایک اور سوال ۔۔ !

کیا ہم آج یہ کہہ سکتے ہیں کہ " سپریم کورٹ کے ججز پاکستان کی تباہی کے ذمہ دار ہیں " ۔۔ ہرگز نہیں۔ قانون فوارً ہمارے خلاف حرکت میں آجائیگا۔ حالانکہ غداروں، دہشت گردوں اور کرپشن کرنے والوں کے خلاف ہم اپنی عدلیہ کے کردار سے اچھی طرح واقف ہیں۔

تب پاک فوج کو ہی سب کو گالیاں دینے کی اجازت کیوں ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ " پاکستان انکی قربانیوں کی بدولت اب تک بچا ہوا ہے " ؟؟؟؟

( مشرف کو 8 سال میں امریکہ سے صرف 5 ارب ڈالر کی کل رقم ملی تھی جو اوپر بیان کی گئی ترقی کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے لہذا کچھ لوگوں کا یہ دعوی احمقانہ ہے کہ وہ ترقی امریکی امداد کے مرہون منت تھی)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Ali Anjum

Read More Articles by Rashid Ali Anjum: 3 Articles with 1467 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 May, 2019 Views: 286

Comments

آپ کی رائے