بھارتی انتخابات میں مقبوضہ کشمیر میں مکمل بائیکاٹ پولنگ اسٹیشن ویران

(Qadir Khan, Lahore)

بھارتی لوک سبھا کے 17 ویں انتخابات کے پانچویں مرحلے میں6مئی کو 7 ریاستوں کی 51 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے پانچویں مرحلے میں جن ریاستوں میں ووٹنگ جاری ہے ان میں بہار، مقبوضہ کشمیر، جھارکھنڈ، مدھیا پردیش، راجستھان، اترپردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔انتخابات کے پانچویں مرحلے میں سونیا گاندھی کے حلقے بریلی، بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ کے حلقے لکھنو، اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے حلقے پرپولنگ ہو ئی۔واضح رہے کہ 11 اپریل سے شروع ہونے والے بھارت کے 17ویں عام انتخابات 7 مراحل میں ہو رہے ہیں جو 19 مئی تک جاری رہیں گے جبکہ 23 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔پانچویں مرحلے کے لئے کل 674 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔حکمران اور اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے پر پر تشدد کارروائیوں کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔ حکومتی وزیر اسمرتی ایرانی نے راہول گاندھی پر جعلی ووٹ ڈلوانے کا الزام عائد کیا ہے۔جبکہ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتیں بی جے پی اور ان کی اتحادی جماعتوں پر دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کررہی ہیں۔انتخابات کے پانچویں مرحلے مجموعی طور پر 89 کروڑ 89 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس کے باوجود اب تک ہونے والے چار مرحلوں کے مقابلے میں یہ سب سے چھوٹا مرحلہ قرار دیا گیا ہے۔خواتین امیدواروں کی شرح سب سے زیادہ یعنی 12 فیصد ہے۔ جن میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس کی اہم رہنما سونیا گاندھی اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرگرم وزیر اور سابق اداکارہ اسمرتی ایرانی بھی شامل ہیں۔مرد امیدواروں میں کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی، بی جے پی کے اہم عہدیداراوروزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ بھی آج کے امیدواروں میں سرفہرست ہیں۔پولنگ کے لئے 96 ہزارپولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں جہاں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مغربی بنگال میں ریاستی پولیس کے بجائے مرکزی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ مرحلہ بھی بی جے پی کے لیے بہت اہم ہے۔ اس نے گزشتہ الیکشن میں ان حلقوں سے 40 نشستیں جیتی تھیں لیکن اس بار اسے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔مقبضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ایک پولنگ بوتھ پر دستی بم پھینکے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مغربی بنگال کے براک پورہ پارلیمانی حلقے میں بی جے پی کے امیدوار جن سنگھ نے اپنے اوپر ہوئے حملے کا الزام ترنمول کانگریس کے کارکنوں پر لگایا ہے۔بہار کے چھپرا حلقے کے ایک پولنگ بوتھ پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین توڑ دی گئی جبکہ کئی جگہوں پر مشینیں خراب پائی گئیں ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین توڑنے کے واقعات اس سے قبل بھی رونما ہوئے تھے جب تین سو الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں خرابی کی نشان دہی کی گئی کہ ووٹ کسی بھی جماعت کو ڈالا جائے وہ بھارتی جتنا پارٹی کے کھاتے میں ہی جاتا ہے ۔ الیکشن میں دھاندلی الزامات میں کانگریس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق امیٹھی سے بی جے پی کی امیدوار مرکزی وزیراسمرتی ایرانی نے کانگریس کے صدراور اپنے حریف راہول گاندھی پر فرضی ووٹ ڈلوانے کا الزام عائد کیا ہے۔

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کے پانچویں مرحلے میں صورتحال کافی حد تک واضح ہوتی جا رہی ہے کہ انتخابات میں جیت کو یقینی بنانے کے لئے دھاندلی اور الیکڑونک ووٹنگ مشین میں گڑ بڑ کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا میں وائرل ایک ویڈیو میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے ایک حلقے میں ووٹرز سے بی جے پی کے لئے ووٹ ڈالنے ڈالنے پر اصرار کرنا انتخابات کی شفافیت کو بھی مشکوک بنا رہا ہے ۔ اس صورتحال سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات کی وجہ سے نریندر مودی کو مشکلات کا سامنا تو ہے لیکن فائدہ پہنچنے کے امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں تو دوسری جان انتخابات میں مداخلت کی وجہ سے ووٹرز کے مودی مخالف ووٹ بھی الیکٹرونک ووٹنگ مشین میں پیدا کی جانے والی خرابی بھارتی الیکٹرونک ووٹ سسٹم پر عدم اعتماد میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں لوک سبھا کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری ہے اور پانچویں مرحلے میں بھی مقبوضہ کشمیر میں انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا ۔مقبوضہ کشمیر جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ کشمیر میں سابقہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ بمشکل ہی دس فیصد سے زیادہ رہا ہے۔ امکان ہے کہ عام انتخابات کے پانچویں مرحلے کے بعد بھی کشمیری علاقہ جات میں اس بار بھی ووٹروں کا ٹرن آؤٹ محدود ہی رہے گا۔ بھارتی جارح فوج کی جانب سے حریت پسند رہنماؤں کی گرفتاریاں اور مظلوم نہتے کشمیری عوام پر جبر کو مسلط کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انتخابات کا دھونگ رچانا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیری عوام کو اپنا حق رائے استعمال کرنے قرار داد پر بھارت رکاؤٹ بنا ہوا ہے۔ بھارت تسلط سے آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے بھارت اور امریکا کا گٹھ جوڑ خطے میں بہت بڑی سازش کی غمازی کرتا ہے کہ ایک جانب امریکا ، اسرائیلی مذموم کاروائیوں کو جائز قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں پر ظلم کرنے کو جائز قرار دیتا ہے تو دوسری جانب یہی رویہ مقبوضہ کشمیر کے لئے بھی روا رکھا ہوا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارح افواج کی تشدد گردی کی کاروائیوں پر امریکا نظر یں بند کئے بیٹھا ہے اور بھارت کی بولی بولتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہر مذموم کاروائی میں ساتھ دیتا ہے۔ مولانا مسعود اظہر کی تنظیم پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پابندی اور دہشت گردوں کی لسٹ میں نام شامل کئے جانے کی قرارداد کی آڑ میں پلوامہ واقعے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی سازش ناکام تو ہوگئی اور قرارداد میں پلوامہ واقعے سے پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ۔ لیکن نریندر مودی اور بھارتی میڈیا نے مولانا مسعود اظہر کا نام دہشت گردی کی عالمی فہرست میں شامل کئے جانے کو’’ سفارتی کامیابی‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنی الیکشن مہم کے لئے استعمال کیا ۔ تاہم نریندر مودی نے بھارتی عوام کو اس بات سے بے خبر رکھنے کی کوشش کی کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں سے قبل ہی مولانا مسعود اظہر اور جیش محمد کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائیاں کرچکا تھا ۔ جیش محمد کے خلاف کاروائیاں پاکستان نے اپنے نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیں تھی جس کا سلامتی کونسل کی کسی قرار داد کی منظوری سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ چین نے بھی اس بار قرار داد کو ویٹو نہیں کیا کیونکہ قرار داد میں پلوامہ واقعے کا کوئی تعلق پاکستان سے نہیں جوڑا گیا تھا ۔ مولانا اظہر مسعود کے خلاف پاکستان کی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ 33 کالعدم تنظیموں کی فہرست میں جیش محمد کا نام بھی شامل ہے۔

بھارت میں پاکستان مخالف ووٹ بنک پر انتخابات لڑے جاتے ہیں ۔ اس لئے انتخابات سے قبل مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے نام نہاد سرجیکل اسٹرئک کا ڈرامہ رچایا تھا لیکن یہ ڈرامہ خود مودی سرکار کے گلے پڑ گیا اور پاکستان کی جانب سے بھارت کے دو طیارے گرائے جانے کے بعد مودی سرکار کو سانپ سونگھ گیا تھا ۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف میزائل داغنے کی تیاری کی تھی لیکن پاکستان نے کمال مہارت سے بھارتی افواج کے کیمپوں ، یہاں تک کہ ذرائع کے مطابق ایک ایسے کیمپ کے قریب بھی میزائل گرائے جس کیمپ میں بھارتی افواج کے سربراہ موجود تھے ۔ پاکستان چاہتا تو اس کیمپ کو بھی نشانہ بنا سکتا تھا لیکن پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا کہ پاکستان کے شاہینوں کی عقابی نظروں سے کوئی بھی چھپا ہوا نہیں ہے اگر بھارت اپنی جنگی کیفیت سے باہر نہیں نکلتا اور دوبارہ ڈرامہ بازی کرتا ہے تو اس کا جواب بھارت کے لئے بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستانی فضائیہ نے اپنے عمل سے یہ ثابت بھی کردکھایا اور مودی سرکار کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ۔ چونکہ نریندر مودی نے بھارت میں ہندو انتہا پسندی کو ہوا دے رکھی ہے اس لئے ہندو انتہا پسندی سے متاثر ووٹرز کو پاکستان کے خوف میں مبتلا کیا ہوا ہے کہ مودی کا دوبارہ برسر اقتدار آنا بھارت کے لئے ضروری ہے۔تاہم نریندر مودی کے خلاف اپوزیشن اتحاد بھرپور انتخابی مہم چلانے کی کوشش کررہا ہے لیکن مبصرین کے مطابق مودی کی مقبولیت میں کمی تو ہوئی ہے لیکن انتخابات میں کامیابی کے لئے مودی سرکار نے جو جنگی جنون عوام میں پیدا کیا تھا اس کے اثرات سے مودی سرکار کی کامیابی کی پیشن گوئی بھی کی جا رہی ہے ۔ خاص طور پر مودی کے مقابلے میں کسی معروف و سیاسی قد آور سیاسی شخصیت کا مدمقابل نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ مودی کو اپنی نشست سے کامیابی کے لئے کسی دشواری کا سامنا نہیں ہوگا ۔ باقی انتخابی نشستوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کے اتحادی جماعتوں کے گٹھ جوڑ سے ایک طرف ہندو انتہا پرستی تو دوسری جانب دھاندلی اور دھونس سے جبراََ ووٹ حاصل کئے جا رہے ہیں۔12مئی اور19مئی کو59/59نشستوں کے لئے 7/8ریاستوں میں چھٹا اور آخری مرحلہ ہوگا جو بھارت کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔مودی سرکار کو کڑے امتحان کا سامنا ہے کیونکہ گذشتہ انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدے بی جے پی حکومت پوری نہیں کرسکی جس کی وجہ سے ایک بہت بڑی تعداد مودی سرکارکی انتہا پسند پالیسیوں سے بھی نالاں نظر آرہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 373 Articles with 145281 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 May, 2019 Views: 238

Comments

آپ کی رائے