اقوام متحدہ اور کشمیری عوام

(Safeer Ahmed Raza, )

5جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر عوام کے حق کودارادیت اور استصواب رائے کے حق میں قراردادین منطورکین مگر نصف صدی گزرنے کے باوجود ان قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا گیاہے۔اقوام متحدہ کی اس دوغلی پالیسی اور دوہرے معیار نے ہی اس بڑے عالمی ادارے پر سے مہذب دنیا کا اعتماد اٹھا لیاہے۔تحریک آزادی کشمیر میں اتارچڑھاؤ آتے رہے ہیں مگرکشمیری عوام کی یہ تحریک آج بھی ایک تسلسل سے جاری ہے ۔برھان وانی کی شہادت کے دلخراش سانحہ نے کشمیری عوام میں آزادی اور انقلاب کی ایک نئی روح پھونک دی ہے۔بھارت وانی شہید کے لہو سے جلنے والے آزادی کے اس چراغ کو ہر طرح کے حربے آزمانے کی ہزارکوششوں کے باوجود بجھانے میں ناکام ہوگیاہے،مقبوضہ ریاست میں وانی شہید کی شہادت کے بعد 90ء کی دھائی کی عکاسی کرتی ہوئی تحریک آزادی کا ہم اپنے پہلے مضامین میں تذکرہ کر چکے ہیں اور یقینا قارئین اس تحریک کے حوالہ سے باخبر بھی ہیں کہ کس طرح پیلٹ گنوں کے استعمال سے ہزاروں نوجوانوں کو چن چن کر زندگی بھرکے لئے گونگابہرہ اور آنکھوں کی بینائی سے محروم کرنے کی سفاکانہ مہم شروع کرکے بھاری فورسز نے جبروتشددکی نئی گھناؤنی اور تاریخ انسانی کی بدترین مثال قائم کی۔جب بھارت نے دیکھا کہ وہ جبر و تشدد کی تمام ھدود پارکر نے کے باوجود مقبوضہ ریاست کے اندر پربا ہونے والی اس پر امن تحریک آزادی ‘جو خالصتاًکشمیری عوام کی اپنی تحریک ہے‘کو دبانے میں ناکام ہو گیاہے تو پھر اس نے اپنے روائتی ہتھکنڈے آزمانے کا فیصلہ کیا۔بھارت کو جب کچھی نہیں بن پڑتا تو بہت آسان فارمولہ پر کا م شروع کردیاجاتاہے ‘وہ ہے پاکستان پر دراندازی اور کنٹرل لائن پر فائرنگ کا بھونڈا الزام،حالانکہ بھارت آج تک اپنے ان الزامات کو ٹھوس شواہد کے ساتھ کبھی بھی ثابت کرنے میں ناکام رہاہے۔بھارتی چالوں پر گورکریں۔بھارت نے اوڑی اٹیک کا ڈرامہ رچایا‘سرجیکل سٹرئیک کا داؤ کھیلا ‘سیزفائرلائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزادکشمیر کی لائن آف کنٹرول اور پاکستان کی ورکنگ بائنڈری پر بلااشتعال فائرنگ شروع کردی‘مگر سب بھونڈی کوششیں بے سود رہیں‘پھر اس نے انسانیت کی تمام حدیں پارکرتے ہوئے لائن آف کنترول کے ان علاقون کو نشانہ بنانا شروع کیا جہاں نہتے عوام اپنے روزمرہ معاملات میں مصروف پرامن زندگی گزاررہے ہیں۔ان میں وادی نیلم سرفہرست ہے۔نیلم کا ایک وسیع علاقہ مقبوضہ ریاست سے جڑا ہواہے اوردرجنوں کلومیٹرتک لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب دونوں علاقوں کو مدمقابل دیکھا جاسکتاہے۔بھارت نے اس بڑے علاقے میں پہلے لگ بھگ 14سال تک فائرنگ کرکے عوام اک جینا محال رکھااور پھر 23نومبر کو ایک مسافر بس پر انتہائی بہیمانہ طریقہ سے بھاری فائر کرکے موقع پر 10جبکہ مجموعی طورپر12بے گناہ افراد کو شہید کردیا۔اس دلخراش سانحہ میں ہمارے کالج کے زمانہ کے ایک دوست خواجہ محمدعارف مصطفائی بھی شدیدزخمی ہوئے۔خواجہ عارف مصطفائی ایک خوش مزاج اور بلاشبہہ ایک انتہائی خوش اخلاق اور ’’باوفا‘‘ دوست ہیں۔ہم نے کالج لائف میں’’فروغ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم تحریک انجمن طلباء اسلام‘‘ کے لئے مل کر کام کیاہواہے۔اگریوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سفرحجازمقدس‘عمرہ کی ادائیگی کے بعد اے ٹی آئی میں گزراہوا وقت ہماری زندگی کا حقیقی سرمایہ ہے۔انجمن طلباء اسلام نے ہماری زندگی میں ایک فکری،علمی و روحانی انقلاب لایااور سفر حجازمقدس نے اس انقلاب کی معراج نصیب کردی۔ہماری ملاقات خواجہ عارف مصطفائی سے واقعہ کے تقریباً ایک ماہ بعد ہوئی ،کیوں کہ ہم اس دوران سفرحجازمقدس کی سعادت حاصل کررہے تھے۔حرمین الشریفین اور مدینہ طیبہ کی مقدس و معطرفضاؤں میں جب ہمیں اس سانحہ کی خبرہوئی توسخت ذہنی کرب کا سامنا کرناپڑا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی ہمارا میڈیا’’بریکنگ نیوز‘‘کی دورمیں بسااوقات غلط رپورٹنگ بھی کرتاہے یا جلدبازی میں سُنی سنائی باتوں کو بھی ہیڈ لائن بنادیتاہے‘جو کہ انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوسکتاہے۔ہمیں نیلم بس پر فائرنگ کی پہلی اطلاع صھافیوں کے مشترکہ وہٹس ایپ گروپ میں ملی جس میں ابتدائی معلومات کے مطابق پہلے9شہداء میں خواجہ محمدعارف مصطفائی کا نام بھی شامل تھا۔خواجہ عارف مصطفائی الحمدﷲ اب روبہ صحت ہیں۔ان سے جب ملاقات ہوئی تو ہم نے سانحہ کی ابتدائی تفصیلات اور آنکھوں دیکھا حال معلوم کرنے کی اپنی خواہش کااظہار کردیا۔عارف مصطفائی جو اس وقت تنظیم یرجریدہ ضلع نیلم کے صدر بھی ہیں کہتے ہیں کہ’’بھارتی افواج نیلم کے عوام پر کیوں گولیاں برسارہی ہیں،اس کا سیدھا سادہ سا جواب یہ ہے کہ بھارت کو نیلم ویلی کی سول سوسائٹی سے خوف ہے ۔نیلم کے بہادرمجاہدوں اور غازیوں نے 47ء میں ہی مادروطن جموں کشمیر کی تقسیم کو قبول کرنے سے انکار کردیاتھااورتحریک آزادی کے روزاول سے ہی نیلم کے حریت پسندوں نے بھارتی سامراج کے خلاف فکری،علمی و عملی محاذپر بڑی بے جگری سے مسلسل غیر متزلزل اور نتیجہ خیز جدوجہد کی ہے۔ریاست جموں کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک میں ضلع نیلم کے حریت پسندوں کا ہمیشہ کلیدی کردار رہاہے ۔نیلم کی دھرتی نے ہمیشہ تحریک آزادی کی کامیابی و کامرانی کے لئے زخم سہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی افواج نیلم کے بچے بچے کواپنا دشمن سمجھتی ہے اور سرینگر اور کپواڑہ کی طرح نیلم میں بھی عام لوگوں پر گولیاں برسا رہی ہیں۔جس کی واضح مثال گذشتہ نومبر کی 23تاریخ کو بھارتی افواج کی جانب سے نیلم کی مسافر بس کو نشانہ بناہے۔نیلم کی دھرتی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔نیلم کے ایک طرف ہندوستانی مقبوضہ کشمیر جبکہ دوسری جانب شمالی کشمیرکا علاقہ گلگت بلتستان واقع ہے۔یوں ریاست کے دوبڑے حصوں کوملانے میں نیلم پل کا کردار اداکررہاہے۔نیلم وحدت کشمیر کی علامت ہے۔ضلع نیلم کے زیریں علاقوں میں جموں کی ڈوگری ،کپواڑہ کی پہاڑی و گوجری ،درمیانی حصے میں سرینگر کی کشمیری اوربالائی حصے کی زبانیں اورثقافت ملتی ہے۔گویاپوری ریاست جموں کشمیر کی زبانیں اورثقافت نیلم میں مجتمع ہونے کی وجہ سے خطہ نیلم ’’ام الکشمیر‘‘یعنی کشمیر کی ماں ہے۔نومبر2016 ء کے آخری عشرے میں بھارت نے جو خون کی ہولی کھیلی اہلیان نیلم اس کو کبھی نہیں بھول سکتے۔بھارت کی طرف سے اس بزدلانہ و ظالمانہ کارروائی کے زخم ہمیشہ تازہ رہیں گے۔اس دل فگار اورروح فرسا واقعہ نے عوام کے دلوں میں بھارت کے خلاف نفرت کی آگ کو مذید بڑھکادیاہے جو ایک فطری امرہے۔بس پر ظالمانہ فائرنگ کی زد میں آنے والے خواجہ عارف مصطفائی نے بتایا کہ وہ حسب معمول صبح ساڑھے آٹھ بجے مسافربس پر سوارہوئے۔بس کنڈیکٹر غلام احمدشہید نے ہنستے ،مسکراتے ہوئے ان کااستقبال کیااورگاڑی سے نیچے اترکر ویلکم کہا۔ عارف مصفائی کہتے ہیں کہ ’ میں نے جب گاڑی میں پاؤں رکھا تو گاڑی میں موجود خواجہ رفیق شہید ساکنہ دواریاں ،خواجہ سلطان ساکنہ نگدر،خواجہ منظورمیر،ملک اقبال شہیدنے مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ میرے سلام کا جواب دیااورمصافحہ کیا۔وہ کہتے ہیں ’’میں گاڑی کی آخری سیٹ سے پہلے والی سیکنڈلاسٹ سیٹ پر بیٹھا تو ڈرائیورکی عقبی سیٹوں سے خواجہ رفیق شہیداور خواجہ سلطان نے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت دی۔میں نے مسکراکر دونوں دوستوں کی دعوت کا یوں جواب دیاکہــ" حضوراگرآپ مجھے پچھلی سیٹوں پر ہی برداشت کرلیں تو یہ بھی بڑی بات ہوگی"۔میری بات سن کر دونوں مسکرائے اور آگے کی سمت دیکھنے لگے۔کس کو معلوم تھا کہ وہ مجھے موت کی سیٹ پر بیٹھنے کی دعوت دے رہے تھے۔خواجہ رفیق شہید کو اگر معلوم ہوتا کہ وہ خود موت کی گاڑی میں موت کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ ان کی زندگی کی آخری مسکراہٹیں ہیں تو مجھے کبھی بھی نہ بلاتے ۔چندمنٹ کی مسافت کے بعد لوات کنڈیاں کے رہائشی باپ بیٹا موت کی گاڑی کے مسافر بنے۔پھر کچھ منٹوں کے بعد عورسیداں سٹاپ،تھانہ لوات کے عقب سے میرے جگری دوست سید ظہورحسین شاہ گاڑی میں سوار ہوئے۔ان کی عادت ہوتی تھی کہ گاڑی میں سوار ہوکر مجھے ڈھونڈکراپنے ساتھ بٹھاتے تھے۔نہ جانے آج کیوں انہیں کسی نے روک لیا ،البتہ میں انہیں دیکھ کر خاموش ہو گیا ،کہ شاہ جی کی میرے ساتھ مزیدار گپ شپ ہوتی ہے۔یہ گپ شپ آج گاڑی کے بجائے اتر کر بہتر طریقے سے ہوگی۔کیا پتاتھا کہ آج گپ شپ تو دور کی بات شاہ جی مجھے آخری دیدارکرانے آئے تھے۔میرے گاڑی میں سوار ہونے کے دس منٹ بعد جونہی گاڑی جورہ نالہ کے مقابل پہنچی تو گھنی جھاڑیوں میں چھپے ہوئے بزدل دشمن بھارت نے ہم پرمشن گن سے اندھادھندفائرنگ شروع کردی، فائرنگ سے گاڑی کے شیشے ٹوٹنا شروع ہو گئے۔چھت کا اندرونی حصہ بھی فائرنگ سے متاثر ہوا تاہم فائرنگ اس قدر شدید تھی کی گولیوں کی بوچھاڑ سے گاڑی کے اندر دھواں بھر گیا۔فائرنگ سے گاڑی میں سوار کچھ لوگ زخمی ہوئے لیکن ڈرائیور اور گاڑی کے ٹائر سلامت تھے۔ڈرائیورنے اپنے حواس قائم رکھے اور بہادری کی لازوال داستان رقم کرتے ہوئے گاڑی کو محفوظ مقام تک بھگالے جانے میں کامیاب ہوا۔اس دوران ایک گولی ڈراؤر کی گردن کو چھو کر گزر گئی اس کی شہہ رگ کے قریبی حصہ سے خون بہنے گلا مگر اس نے ہمت نہیں ہاری اور گاڑی کو تیزرفتاری سے چلاتا رہا ‘ڈرائیورکے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے ڈرائیور کے گلے پر اپنا رومال ڈال کر خون بہنے والی جگہ اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ لیکن اچانک ایک اور گولی ڈرائیور کی ران میں آلگی ۔اب ڈرائیور نے ایک ہاتھ اپنی ران پر رکھ لیا تاکہ خون زیادہ نہ بہے اور دوسے ہاتھ سے گاڑی کو مذید تیز رفتاری سے چلاتا رہا۔بالاآخر عظیم ماں کے عظیم بہادر سپوت گلفام ڈرائیور گاڑی کو محفوط مقام تک لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔گلفام نے بھارتی فورسز کے اس انتہائی خوفناک حملہ کو 70فیصد تک ناکام بناتے ہوئے خود گہرے زخم کھانے کے باوجود گاڑی کو مکمل تباہی سے بچالیا۔اس دوران بھارتی درندے مکمل فائرنگ کرتے رہے جب ان کابس نہ چلا اور انہوں نے بھانپ لیا کہ بہادر ڈرائیورنے ان کے منہ پر سناٹے دار طمانچہ رسید کردیاہے اوروہ گاڑی بھگا لے جانے میں کامیاب ہو رہاہے توپھرانہوں نے گاڑی پر راکٹ لانچر فائر کردیا جس سے گاڑی کی چھت اڑ گئی اور شیل لگنے سے موقع پر 9افراد شہید ہوگئے۔راکٹ لانچر کے فائر سے لوات کنڈیاں کے سکونتی باپ بیٹا سمیت خواجہ رفیق ،سید ظہور حسین شاہ،اقبال ملک،کنڈیکٹر غلام احمدشہید ہوئے۔جبکہ خوش قسمت ڈرائیور گلفام زخموں سے چور چور ہونے کے باوجود اپنے حواس قائم رکھے ہوئے بدستور گاڑی چلاتارہا۔بزدل بھارتی فوجیوں نے جو پہلے ہی گھات لگا کر بیٹھے ہوئے تھے کو شاہین صفت کشمیری ڈرائیور گلفام کی بہادری کی وجہ سے یقینا اپنے حکام سے لعن طعن ضرور ملی ہو گی۔دودی پوسٹ سے آدھ کلومیٹر آگے ایک دومنزلہ دکان کی اوٹ میں جب گاڑی رکی تو میں، زخمی حالت میں نیچے اترا۔مجھے اﷲ رب العزت نے موت کے منہ سے نکال لیا تھا۔تاہم میرے سر پر شیل لگنے اور بازو کو چھو کر گزرنے والی ایک ترچھی گولی اور شیل نے مجھے زخمی کیا ہو اتھا۔میرے سر سے خون بہہ رہا تھا ۔میں نے اسی حالت میں چند شہداء کے اجساد خاکی کو گاڑی سے نکال کر ایک طرف لٹادیا اور شدیدزخمی خواجہ سلطان کو دکان کے اندر پہنچا کر لٹادیااور پھر ڈپٹی کمشنرنیلم کو اس اندوہناک سانحہ کی فون پر اطلاع دی۔میری اطلاع پر فوری طورپر نیلم انتظامیہ حرکت میں آگئی اور ڈی سی اور ایس ایس پی نیلم نے ہنگامی طورپر اٹھمقام سے ایمبولینسز جائے حادثہ کی طرف روانہ کردیں۔ایمبولینسز کے زریعے سب سے پہلے شدیدزخمیوں کو اٹھایا گیااور پھر مرحلہ وار شہداء کی میتیں اٹھائی گئیں۔میں اپنے دو عزیزیوں کے ہمراہ دنجربازارتک گاڑی میں اور پھر پیدل سفرطے کرکے اٹھمقام تک پہنچا۔اس سفرکے دوران جب زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے میری حالت غیر ہو گئی اور میں گر کر بے ہوش ہو گیا تو میرے دو دوستوں امجداعوان اورافتخاراعوان نے اپنی جانیں ہتھیلی پہ رکھ کر مجھے اٹھاکر محفوظ مقام تک پہنچایا۔ادھر انڈین آرمی کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ پر جب پاکستانی افواج نے جوابی کارروائی شروع کی تو پھر پورا علاقہ گھن گرج سے لرزنے لگا، ہم پیدل سفرکررہے تھے اسی باعث ہم اس دوران ہمہ وقت خطرے میں تھے کہ نہ جانے کب ہم کسی گولی یا گولے کی زد میں آکر شہید ہوتے ہیں۔اس سفرکے دوران ہم موت و حیات کی کشمکش میں مبتلاء رہے مگر اﷲ کے فضل وکرم اور حبیب رب کریم جناب محمدمصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ستودہ صفات پر ہدیہ درودو سلام کی کثرت کی برکت سے ہم محفوظ رہے‘‘۔عارف مصطفائی مزید کہتے ہیں کہ نیلم کے عوام نے بلاشبہہ تحریک آزادی کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں اورمادر وطن کی مکمل آزادی اور وحدت کی بحالی تک نیلم کے عوام سینہ سپر رہیں گے۔جو لوگ اس سانحہ میں شہید ہوئے ان کے خاندانوں کی تو گویا کل کائینات لُٹ گئی ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ فقط معاوضہ پر اکتفا کرنے کے بجائے شہداء کے خاندانوں کی مستقل بنیادوں پر کفالت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔اور جو افراداس سانحہ میں زخمی یا معذور ہوچکے ہیں۔ان کے مکمل علاج معالجہ کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں‘‘۔ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت یہ خواب دیکھنا چھو ڑ دے کہ وہ نیلم کے عوام کو اس طرح ڈرا دھمکا کر تحریک آزادی کشمیر کی روشن شمع کو بجھا سکے گا ۔نیلم کے عوام امن ضرور چاہتے ہیں مگر ریاست جموں کشمیر پر بھارت کا جبری قبضہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔ریاست کی آزدی کے لئے کشمیری عوام کی جدوجہدخالصتاً انسانی بنیادوں پر جاری ایک فطری تحریک ہے اور یہ تحریک بہت جلد اپنے منطقی انجام سے دوچارہوگی اور مقبوضہ ریاست کے عوام بھی آزادفضاؤں میں سانس لیں گے۔اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارون اور مہذب اقوام عالم کو اب سوچنا ہوگا کہ کب تک ان کے دوہرے معیار کی وجہ سے مقبوضہ ریاست جمون کشمیرمین قتل و غارت گری کا بازارگرم رہے گا۔’’میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن،ستم شعارسے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن۔۔۔۔۔۔۔۔ انشا ء اﷲ ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 110 Print Article Print
About the Author: Safeer Ahmed Raza

Read More Articles by Safeer Ahmed Raza: 37 Articles with 15869 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: