باقی صوبوں کے جنوبی حصوں کو بھی الگ صوبہ بنایاجائے گا ؟

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

بالاخر ملتان ‘ بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے علاقوں پر مشتمل جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا آئینی بل ایوان میں پیش کردیا گیا۔سپیکر قومی اسمبلی نے بل پر غورو خوص کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ۔بل کے مطابق جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے بعد قومی اسمبلی کی 56اور صوبائی اسمبلی کے لیے 120نشستیں مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔بل میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 371سے کم کرکے 251کرنے کی تجویز دی گئی ۔علاوہ ازیں بل میں جنوبی پنجاب ہائی کورٹ کے قیام اور الیکشن کمیشن میں ممبر جنوبی پنجاب بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ جہاں تک جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حالیہ بل کا تعلق ہے اس کے بارے میں اپوزیشن اور حکمران جماعتوں کی دوغلی پالیسی صاف نظر آرہی ہے ۔جو لوگ قبائلی علاقوں کو صرف اس لیے خیبر پختونخوا میں شامل کرنے میں پھرتی دکھا رہے تھے کہ اس طرح قبائلی عوام کی محرومیوں کو جلد ختم کیا جاسکتا ہے وہی لوگ قبائلی علاقوں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ پنجاب کے جنوبی حصے کو یہ کہہ کر الگ کرنا چاہتے ہیں کہ ان علاقوں کی احساس محرومی ختم ہو گی ۔ سراسر یہ دو غلی پالیسی ہے ۔ ایسے لوگوں کو سندھی عوام کی پسماندگی ‘ جہالت اور شعبہ صحت کی کمترین سہولتیں ‘ کراچی کے مسائل کے انبار ‘ ہزارہ ڈویژن کے لوگوں کے الگ صوبے کا مطالبہ اور بلوچستان کے تمام علاقوں کی پسماندگی دکھائی نہیں دیتی۔ جہاں آج بھی لوگ صدیوں پرانے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا جنوبی پنجاب ‘ اندرون سندھ ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے انتہائی پسماندہ اور غریب علاقوں سے کہیں زیادہ آسودہ حال اور ترقی یافتہ ہے جہاں زندگی کی ہر سہولت بھی میسر ہے‘ اگر خیبر پختونخواہ اتنا ہی ترقی یافتہ ہوتا تو آدھے سے زیادہ پٹھان لاہور میں روزگار کی تلاش میں کیوں آتے ‘ سندھ کے علاقے تھر میں روزانہ فاقہ کش بچے ہلاک نہ ہوتے ‘ سندھی عوام ایڈز جیسی موذی بیماری میں مبتلا نہ ہوتے ۔ اور بلوچستان کے لوگ جانوروں سے بھی بدتر زندگی نہ گزارتے۔ درحقیقت جن لوگوں کے پیٹ میں پنجاب کو تقسیم کرنے کا درد اٹھ رہا ہے ان کے مفادات کچھ اور ہیں ۔ چند سال پہلے پیپلز پارٹی یہ کوشش کرچکی ہے ۔ جنوبی پنجاب کے کتنے ہی سیاست دان وفاقی اور صوبائی حکومتیں میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں ۔ان میں سے کسی نے اپنے علاقے کی تقدیر بدلنے کی کوشش نہیں اور اپنی ہی تجوریاں بھر کر چلتے بنے ۔اب کیا ضمانت ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کے علاقوں کو پیرس بنا دیں گے ۔ ایک بزرگ کایہ کہنا بھی سو فیصد درست ہے کہ اگر پسماندگی کو ہی بنیاد بناکر جنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنانا ہے تو پھر باقی صوبوں کے جنوبی حصوں کو بھی الگ صوبہ بنایا جائے تاکہ پنجاب دشمنی کے طعنے سے نجات مل سکے ۔اگر جواب نفی میں ہے تو پھر مجھے یہ کہنے کا حق دیجیئے کہ یہ بل صرف پنجاب دشمنی کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے ۔دھرتی انسان کی ماں جیسی ہوتی ہے ‘ اگر سندھ دھرتی کے ٹکڑے نہیں ہوسکتے تو پنجاب کے کیوں ہوں ؟گورنرسندھ کو تبدیل کرنے کا پیپلز پارٹی والے اس لیے مطالبہ کررہے ہیں کہ انہوں نے سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کیوں کی ؟ بلکہ جب بھی ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ ہوا تو پیپلز پارٹی کے لوگ مرنے مارنے پر اترآئے ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے وہی لوگ پنجاب کو تقسیم کرنے میں بہت پرجوش دکھائی دیتے ہیں بلکہ مگر مچھ کے آنسو بہاتے دکھائی دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کی تکلیفوں کا کسی کو احساس نہیں وہ صرف اورصرف حکومتی اور انتظامی عہدوں کے لیے مرے جارہے ہیں ۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ پنجابی مفادات کے لیے اپنی ماں کا کفن بھی بیچنے سے گریز نہیں کرتے۔آج وہ بات سچ نظر آرہی ہے۔ٹی وی پر نشر ہونے والی خبر کے مطابق پنجاب اس وقت ایک کھرب 20ارب کا مقروض ہوچکا ہے‘ نئے مالی سال کا بجٹ بنانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں ‘ اب یہ ذمہ داری سلیمان شاہ کو وزیر اعلی پنجاب کا مشیر مقرر کرکے سونپی جارہی ہے ۔اگر مالی وسائل اس قدر کم ہیں تو جنوبی پنجاب صوبے کے انتظامی اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے ۔ وزیر ‘ مشیر اور سرکاری افسر وں کو تنخواہیں کہاں سے ملیں گی۔ اس لیے صرف پنجاب کو تقسیم کرنا کسی بھی طرح دانش مندی قرار نہیں پاتا اگر یہ تقسیم بہت ضرور ی ہے تو پھر پورے پاکستان میں ایک ریفرنڈم کرایا جائے جس میں پنجاب کے عوام سے جنوبی پنجاب کی علیحدگی پر رضا مندی حاصل کی جائے ‘ سندھ کے لوگوں سے کراچی صوبے کے بارے میں استفسار کیا جائے ‘ خیبرپختوانخوا کے عوام سے ہزارہ ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے کے بارے میں پوچھا جائے ۔ چاروں صوبوں کے عوام جو بھی فیصلہ کریں وہ تما م سیاسی جماعتوں کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہیئے ۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک جوڈیشل کمیشن ( جس میں چاروں صوبوں کے سینئر ترین ججز شامل ہوں )قائم کیاجائے جو پسماندگی کے اعتبار نئے صوبوں کی تشکیل کے بارے میں اپنی رائے دیں اور پارلیمنٹ اس رائے پر نئے صوبے بنانے کے لیے قانون سازی کرے ۔اگر ریفرنڈم بھی نہ کرایا گیا اور نہ ہی جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا تو پھر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے بل اور اقدامات کو سراسر پنجاب دشمنی قرار دیا جائے گا ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 126 Print Article Print
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 427 Articles with 162614 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: