کاغذ (اوٹ پٹانگ)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 کاغذ کو عرصہ دراز سے زندگی کے معاملات میں انتہائی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس کی پہلی اہمیت لکھنے پڑھنے میں آسانی اور معاونت کرنے والی چیز کے طور پر صدیوں پہلے سامنے آ چکی تھی لیکن جب سے ملکوں کی کرنسی کاغذی پیرہن میں جلوہ گر ہوئی اس کی اہمیت کئی چند ہو گئی۔ آج کل اس کی اہمیت میں پھر سے کمی آنی شروع ہو گئی ہے اور اس کی وجہ الیکڑونک سکرین کا جلوہ گر ہونا ہے۔ کمپیوٹر اور موبائل کی دنیا میں کاغذ کا اہمیت اگرچہ ابھی باقی ہے اور ایک مدت تک باقی رہے گی بھی لیکن کاغذ کی برتری جو اس نے صدیوں پہلے چمڑے، پتوں، پتھروں وغیرہ پر تحریر کے حوالے سے حاصل کی تھی اب باقی نہیں رہی۔کاغذ کی اہمیت اس وقت اور بڑھ گئی جب نکاح اور طلاق کے رشتے بھی اس کے مرہونِ منت ہو گئے لیکن اب یہ اہمیت بھی اس سے چھن رہی ہے کہ نکاح اور طلاقیں اب موبائل کے میسجوں یا ای میلوں کی شکل میں رواج پا رہی ہیں۔ خیر ابھی کاغذ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، کرنسی کی کاغذ کے متبادل کوئی معتبر شکل ابھی تک سامنے نہیں آئی اگرچہ کریڈٹ کارڈ اور اس طرح کی دوسری سہولتیں اس معاملے میں بھی دخل اندازی سے باز نہیں ا ٓ رہیں۔

کاغذی پیرہن کو تاریخی حیثیت بھی حاصل رہی ہے اور کسی دور میں کاغذی لباس انسان کے سائل ہونے یا مجبور و مظلوم ہونے کی نشاندھی کیا کرتے تھے ،جیسا کہ ارشادِ غالبؔ ہے :
نقش فریادی ہے کس کی شوخئی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر ِ تصویر کا
لیکن اب ایسا نہیں ہے لیکن اب کاغذ نوٹوں کی شکل میں انسان کے رکے ہوئے کام نکلوانے میں بہت معاونت فرما رہے ہیں۔ کاغذ ی پہلوان کسی زمانے میں کمزور سمجھے جاتے تھے لیکن اب چوں کہ کرنسی کاغذی ہے تو اب کاغذی پہلوانوں میں بھی بلا کی طاقت بھر چکی ہے اور ہر چیز کو تہ و بالا بھی کر سکتے ہیں۔ اب توکاغذی پہلوانوں سے بچ کے ہی رہنا زیادہ بہتر ہے۔

دریا جب طغیانی میں آتا ہے تو وہ اپنے آپ سے باہر ہوجاتا ہے اور جب یہ طغیانی آہستہ آہستہ نشیب کا انداز اختیار کرتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے دریا میں انکساری آ گئی ہے۔ انسانی جذبات کو بھی اسی انداز پر منطبق کیا جاتا ہے۔ انسان جب غصے میں آتا ہے تو اپنی اوقات بھول جاتا ہے اور اپنے آپ کو فرعون، اور نمرود جیسی ذہنیت میں پاتا ہے اور بعض اوقات بڑے دعوے بھی کر تا ہے۔ لیکن جب اس کے اس نقلی زعم کی ہوا نکلتی ہے تو اسے اپنی حیثیت کا ادراک ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو کسی بھی حقیرچیز سے زیادہ حقیر پاتا ہے۔ انسانی جذبات ان دو انتہاؤں کے درمیان ایک جھولے کی طرح ارتعاش کرتے رہتے ہیں۔ انسان کے لئے کسی ایک سطح یا پوائنٹ پر رک جانا بڑی حدتک ممکن نہیں ، جب کہ ارتعاش اور کمی بیشی اس کی فطرت کا لازمی حصہ ہے۔ اسی لئے تو کہا گیا :

دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کے گھر جانا ہے
جب سوچیں کسی نکتے پر بیٹھ نہ رہی ہوں تو وہ آدمی کو بھی بیٹھنے نہیں دیتیں۔سوچوں کا بیٹھ جانا آدمی کے بیٹھ جانے پر محمول کیا جاتا ہے۔

ایک مہندس کے پاس بھی سائنسی علم جیسا علم ہوتا ہے لیکن اس کا تجربہ سائنسی تجربے جیسا نہیں ہوتا ۔ وہ اپنے ہندسوں کی مدد سے کسی نتیجے پر پہنچتا ہے لیکن وہ نتیجہ سائنسی نتیجے جیسا حتمی ہو ضروری نہیں ۔ لیکن سائنس کا بھی ہر تجربہ اپنے متوقع نتیجے پر پہنچے ضروری تو نہیں سائنس بھی بے شمار ناکام تجربات کا نام ہے۔ اگر سائنس کو ناکام تجربات کے بعد بھی عزت وتوقیر حاصل ہے تو دوسرے علوم کو جن کا نتیجہ یا تجربہ حتمی نہیں ہوتا بھی سائنسی مان لینے میں کیا ہرج ہے۔ لیکن ہر علم کا ایک زمانہ ہوتا ہے اس زمانے میں وہ علم اپنی تمام تر خرابیوں اور نقائص کے باوجود عمومی طور پرمانا اور استعمال کیا جاتا ہے اور اس زمانے کے بعد ایک نیا علم اس کی جگہ لے لیتا ہے اور پہلا علم پرانا ہو کر متروک ہو جاتا ہے۔ ماضی کے بہت سے علوم آج متروک علوم کے زمرے میں شمار ہو رہے ہیں۔

مقابلہ بازی انسانی نفسیات کی اساس ہے ۔ ’اساس‘ میں جو بنیادی حیثیت ہے وہ ’ساس‘ کی ہے۔ شادی شدہ لوگ ا س حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ’ساس‘ کی اہمیت دنیا کی بزرگ ترین ہستی کے طور پر مان لینے میں کتنی دانائی ہے۔ ساس کی’ اساس‘ زندگی کا بہت بڑا اثاثہ ہے۔ لیکن ساس کو کبھی اثاثہ کہنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے کیوں کہ ساس اور اثاثہ میں بہت زیادہ صوتی قربت ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اثاثہ ، ساس کی بگڑی ہو ئی شکل ہے جو کہ کسی نے طنزاً استعمال کی ہو ۔ اور اسی بنا پر یہ خطرہ سر پر منڈلاتا ہے کہ ساس نے اگر اس طرح کی چیز محسوس کر لی تو ’خیر‘ نہیں۔ ’خیر‘ کا لفظ بھی ’اخیر‘ کے قریب ہے اور ’خیر‘ بھی اکثر ’اخیر‘ کی صورت میں زیادہ مانگی جاتی ہے۔ ’اخیر‘ کا ایک مطلب ’انتہا‘ کر دینا بھی ہو تا ہے جیسا کہ بولا جاتا ہے کہ اس نے تو اس معاملے میں ’اخیر‘ کر دی ہے۔ اس کی بعض صورتوں میں تعریف کی جاتی ہے اور بعض صورتوں میں یہ ’اخیر‘ منفی معنوں میں لی جاتی ہے اس وقت یہ اخیر’ ٹیڑھی کھیر‘ کی طرف رجوع کر جاتی ہے۔

کبھی کبھی لکھنے کے لئے خیالات نہیں ملتے اور کبھی کبھی خیالات کو الفاظ نہیں ملتے ۔ لکھنا خیالوں کو لفظی لباس پہنانا ہے۔ لباس پہنانے کا فن جو لکھاری جتنا زیادہ جانتا ہے اس کو اتنا ہی اچھا اور بڑا لکھاری سمجھا جا سکتا ہے۔ خیالات کا کاروبار بھی ہر کسی کا ایک جیسا نہیں چلتا۔ کسی کا کاروبار بہت اونچان پے ہوتا ہے اور کسی کا گراوٹ میں۔ خیالات بھی انسان کی اور خاص طور پر لکھاری کی قسمت ہیں ۔ یعنی کہ اس کو وہ وہ خیالات ملیں گے جو اس کی قسمت میں لکھے ہیں۔ انسان اپنے ذہن پر بھی قابض یا حاکم نہیں ، اس کے خیالات بھی اپنی مرضی سے نازل یا وارد ہوتے ہیں۔ بعض اوقات خیالات رک جاتے ہیں اور کوشش کے باوجود نہیں آتے یانہیں اترتے۔ انہیں لانے یا اتارنے کے لئے بعض لوگ ان تک خود اڑ کر جانے کی کوشش میں جہاز بھی بن جاتے ہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 165 Print Article Print
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 150 Articles with 114566 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Reviews & Comments

Language: