بچہ بہت کچھ سکھاتا ہے۔

(Kanwal Naveed, Karachi)

انسان کا ہر چھوٹا ، بڑا عمل لوٹ کر اس کےپاس ضرور آتا ہے ، اپنے عمل کا ہر لمحہ جائزہ لیتے رہیں ۔

امی یہ گیند گول ہی کیوں ہوتی ہے ایان نے گیند کو ہوا میں اچھال کر سوچتے ہوئے پوچھا۔ اس کے تیسری بار ذور سے کہنے پرغزل نے موبائل سے چہرہ ہٹا کر ایان کی طرف گھور کر دیکھا ۔

ایان نے اپنا سوال چوتھی مرتبہ دُہرایا۔ پانچ سال کا بچہ اپنی ماں سے دماغ میں ہونے والی کھچلی کی تسکین چاہتا تھا۔ دوسری طرف غزل کو اپنی ڈالی گئی پوسٹ پر لائک اور کمیٹ پر تفتیش ہو رہی تھی کہ اتنے کم لائک کیوں آئے۔ وہ اپنے فرینڈ ز کی پوسٹ کو مایوسی سے دیکھ رہی تھی ،جن پر لائیک کی بھرمار تھی۔ اس نے میسج میں دیکھا تو عارف نے بھی پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔

ایان نے افسردگی سے موبائل کی طرف دیکھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ امی اتنی دیر سے اس سے زیادہ اہمیت کس کو دے رہی ہیں۔ غزل نے اپنی یاسیت اور مایوسی کے باعث ایان کو ذور سے ڈانٹا ( کیا ہر وقت اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہو۔ پیچھے ہٹو۔

ایان نے امی کی طرف دیکھا اور تھوڑا دور ہٹ گیا۔ پھر اس نے گیند اُٹھائی اور بولا ۔ امی یہ گیند گول ہی کیوں ہوتی ہے۔ غزل نے گیند کی طرف دیکھا اور پھر ایان کی طرف دیکھتے ہوئے ، بستر سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ تمہارے ابو آ جائے تو ان سے پوچھ لینا۔ مجھے کچن کا کام کرنا ہے ۔ ایان نے کچن میں جاتی اپنی امی کو افسردگی سے دیکھا۔

عارف جب شام کو واپس آیا تو ایان بھاگا ہوا دروازے پر آیا۔ ابو آگے کی آواز سے پورا گھر گونج رہا تھا۔ غزل نے دروازہ کھولتے ہی ، عارف کو دیکھا تو ، اس کی نظریں اس کے ہاتھوں کو ٹٹول رہیں تھیں مگر وہ تو خالی لوٹ آئیں ۔ عارف آج بھی اس کی ہینڈ فری نہیں لایا تھا۔ غزل نے اپنے نچلے ہونٹ کو ذور سے کاٹا اور سلام کر کے واپس کچن میں داخل ہو گئی۔ ایان عارف کے ساتھ لپٹا ہوا تھا۔

عارف نے ایان کے ماتھے کو چوما۔ عارف نے پیار سے کہا۔(اور کیا کیا، کیا؟ میرے بیٹے نے آج ) ایان سوچنے لگا۔ وہ ابھی بتانے کے لیے اپنی کہانی کے الفاظ جوڑ ہی رہا تھا کہ ،عارف نے موبائل اُٹھایا اور اِن باکس میں آنے والی ویڈیو دیکھنے لگا۔ ایان نے ابو ابو دو دفعہ کہا ،لیکن عارف ویڈیو دیکھنے میں ایسا مگن ہو گیا کہ وہ بھول ہی گیا کہ ایان سے اس نے کوئی سوال بھی کیا تھا۔ غزل نے پانی رکھتے ہی عارف کی طرف ایک نظر دیکھا اور ناراضگی کے انداز میں بولی ۔ آج بھی آپ ہینڈ فری نہیں لائے نا۔ میں نے کہا تھا آپ کو مگر۔عارف نے ویڈیو دیکھتے ہوئے ہی ،ہلکے سے ''ہوں '' کہا۔

ایان نے عارف کے ساتھ موبائل دیکھنا شروع کر دیا۔غزل نے جھک کر دیکھا کہ عارف کیا دیکھ رہا ہے۔ ایان نے غزل کو پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا۔ امی پیچھے ہٹیں نا۔ آپ تو میرے اوپر ہی چڑھ رہی ہیں ۔ غزل نے تھوڑی شرمندگی محسوس کی۔ اسے یاد آیا کہ دن میں اس نے بھی ایان کو جھڑک دیا تھا۔

ایان نے دھیرے سے کہا ابو ،یہ موبائل کس نے بنایا ہے۔ عارف نے ایان کی طرف ایک نظر دیکھا اور بولا کسی عقل مند انسان نے،ایان نے پھر سوال کیا۔ اور مجھے۔ عارف ہنس پڑا اور بولا۔ اللہ تعالیٰ نے۔

ایان نے پھر سوال کیا ، ابو یہ گیند گول کیوں ہوتی ہے؟ عارف نے فیس بک پر لگی نئی خبر پڑھنا شروع کر دی تھی ، اس نے جھنجھلا کر کہا۔ یہ تم اپنی امی سے پوچھو! ایان نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ امی نے کہا تھا کہ آپ سے پوچھوں ؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ امی سے پوچھوں؟ آپ دونوں کو پتہ ہی نہیں ہے ،اس نے گیند کو ذور سے نیچے پھینک دیا اور بستر پر پڑا غزل کا موبائل اُٹھا کر عارف کو دیکھاتے ہوئے کہا۔ ابو مجھے بھی بلکل ایسا چاہیے۔ عارف نے اپنے موبائل سے منہ گھما کر ایان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ کیوں؟ایان نے سوچتے ہوئے کہا۔ تاکہ جب آپ مجھ سے بات کریں تو میں بھی موباہل دیکھتا رہوں اورآپ سے کہوں کہ آپ امی سے پوچھ لیں اور جب امی کہیں تو کہوں ابو سے پوچھ لیں ۔

عارف نے غزل کی طرف دیکھا ، غزل نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں ۔ عارف بھی شرمندہ تھا۔ اپنے ہی پانچ سال کے بچے نے انہیں ایک دوسرے کے سامنے شرمندہ کر دیاتھا۔ عارف نے موبائل کو سائیڈ پر رکھا اور بولا ایان آپ کیا سوال کر رہے تھے۔ ایان اب اپنی امی کے موبائل پر دو ماہ پہلے نانی کے گھر کھینچی جانے والی تصاویر دیکھ رہا تھا۔ اس نے عارف کی طرف دیکھے بغیر''ہوں'' کہا۔ عارف نے غزل کی طرف ایک نظر دیکھا۔

ایان نے فیس بک کھول لی تھی۔ غزل اور عارف نے جھک کر دیکھا کہ ایان کیا دیکھ رہا ہے۔ کسی نے فیس بک پر اپنی پوسٹ دالی تھی۔ بہت خوبصورت سے پوسٹر پر لکھا تھا۔ انسان کا ہر چھوٹا ، بڑا عمل لوٹ کر اس کےپاس ضرور آتا ہے ، اپنے عمل کا ہر لمحہ جائزہ لیتے رہیں ۔ ایان نے امی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ یہ کیا لکھا ہے ۔ عارف اور غزل نے یک زبان ہو کر پوسٹ پڑھی اور کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔

ایان نے عارف اور غزل کی طرف باری باری دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا ، امی ابو، آپ دونوں کو سمجھ نہیں آیا نا کہ کیالکھا ہے ؟ ہے ناں ۔ ہے ناں ۔ وہ کھلکھلا کر ہنس رہا تھا۔ غزل اور عارف ایان کی طرف سنجیدگی سے دیکھ رہے تھے۔

ایان مگر اگلی پوسٹ دیکھ رہا تھا۔ جس میں لکھا تھا۔ آگہی جس لمحہ بھی میسر آ جائے اسے غنیمت جانو۔ ایان نے امی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،امی یہ کیا لکھا ہے۔ ایان کی انگلی اب ایک نئی پوسٹ پر تھی۔ عارف نے غزل سے پہلے پوسٹ کو پڑھا تھا۔ پوسٹ میں لکھا تھا، بچہ بہت کچھ سکھاتا ہے ۔غزل نے دھیرے سے کہا۔ بلکل سچ ہے ،بچہ بہت کچھ سکھاتا ہے ۔ اس نے ایان کے ہاتھ سے موبائل لے کر سائیڈ پر رکھا اور اس کے گال پر پیار سے بوسہ دیا۔ ایان غزل سے لپٹ گیا۔عارف نے ایک لمحے کے لیے پھر سے اپنا موبائل اُٹھایا اور کچھ سوچتے ہوئے دوبارہ سے رکھ دیا۔ وہ ایان اور غزل کو گیند سے کھیلتے دیکھ رہا تھا۔جب گیند اس کی طرف آئی تو ایان نے ذور سے کہا ،ابو آپ بھی آئیں نا۔ گیند بیڈ کے نیچے تھی اور ایان بھی۔ ایان نے گیند نکال کر عارف کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔ یہ تو بہت دور چلی گئی تھی۔ عارف نے مسکراتے ہوئے کہا۔ گیند گول جو ہوتی ہے اس لیے۔ ایان نے گیند کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ابو یہ گیند گول کیوں ہوتی ہے؟ عارف نے ایان کو گیند دیکھاتے ہوئے کہا، گیند گول اس لیے ہوتی ہے ،کہ پھینکنے پر دور تک جائے ،ہم اس کو پکڑنے کے لیے بھاگتے رہیں ۔ ایان نے کہا۔ اوہ ۔۔۔۔۔اچھا ۔ اسی لیے بیڈ کے نیچے گھس گئی ۔ ایان امی کی طرف دیکھ کر ذور سے بولا ، امی آپ نے سنا ابو نے کیا کہا۔ اس نے پھر سر ہلاتے ہوئے خود سے کہا۔ امی کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ گیند گول کیوں ہوتی ہے۔ غزل نے ایان ، عارف اور گیند کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔ ہاں بھئی ، مجھے نہیں پتہ تھا۔ اب کھیلیں ۔ غزل نے دل ہی دل میں کہا۔ بچہ بہت کچھ سکھاتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 878 Print Article Print
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 123 Articles with 137631 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Reviews & Comments

Language: