ہیومن رائٹ والو کہاں ہو؟

(Syed Haseen Abbas Madani, )

بھارت اور پاکستان کے درمیان تجزیہ نگار بڑے بڑے مشورے دیتے ہیں اوربھارت کی طرف سے بولتے ہیں اور بعض پاکستان کو قصور وار ٹھہراتے ہیں مگر ایک پاکستانی کی حیثیت سے جب میں یہ سنتا ہوں تو مجھے تجزیہ نگار اندھیر کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان سے واقف ہوتے ہیں نہ انڈیا سے اور تجزیہ نگار ی کرتے ان کو شرم نہیں آتی ۔ آپ سےعرض کروں کہ پاکستان کی عوام فوج اور حکومت ہم آہنگ (on one page) ہیں۔ سوائے چند سیاستدانوں کے اور وہ بھی اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کہ ستر سال میں پہلی مرتبہ ایسا حکمران آیا ہے کہ اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اور وہ پوری ایمانداری سے پاکستان کو اور اس کے غریبوں کو اوپر لانا چاہتا ہے مگر چالیس برسوں میں اس ملک کو لوٹا ہے اور ناقابل یقین حد تک لوٹا ہے کہ اب نواز شریف اور زرداری کو بھی یقین نہیں آ رہا کہ اچھا ہم نے لوٹا ہے یہ کب ہوا پاکستان آج جس معاشی بحران میں الجھا ہوا ہے صرف اللہ رب العزت اپنی رحمت سے نکالے تو نکل سکتے ہیں مگر ہم لوگ ابھی بھی مایوس نہیں ہیں ۔ عمران خان کی یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ اسنے دونوں ظالموں کو چھوڑرکھاہے ۔دولت کے پجاری ان کی لوٹی ہوئی دولت کے رعب کی وجہ سے انپر ہاتھ ڈالتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔کیونکہ کہ انکی دولت پر ہاتھ ڈالتے ہوئے انکے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں اسی دولت کی خطرناک طاقت سے چور بھگوان بن جاتے ہیں اور انڈین فارمولا جہاں سے پٹائی ہو اسی کو بھگوان کہو اور جان چھڑائو اس کی وجہ سے یہ دونوں ڈاکو انجوائے کر رہے ہیں۔ ابھی حسین حقّانی کا انٹرویو دیکھ رہا تھا یہ اگرچہ بار بار کہہ رہا تھا کہ میں بھی پاکستانی ہوں لیکن تمام دہشت گردی کا الزام پاکستان پر ڈال رہا تھا۔ حد یہ کہ ۔ وہ جیش محمد اور پلوامہ حملے کا بوجھ بھی پاکستان کے اوپر ڈال رہا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ موجودہ حکومت سے معافی تلافی سے شاید حالات بہتر ہوجائیں ۔ جبکہ اس کو بھارت کی صورتحال کا علم ہی نہیں مودی نہ صرف کشمیر پر ظلم کر رہا ہے جو کہ نظر آ رہا ہے ۔ بلکہ وہ اپنی آبادی کے85 فیصد ایس ٹی ۔ایس سی۔ او بی سی ۔این ٹیSchedule Cast/schedule Tribe/Other Backward Classes/Nomadic tribes)) پر جو مظالم ڈھائے ہوئے ہیں اور ہمیشہ سے ان کی زندگی محال کر رکھی ہے مگر دنیا میں ان کی آواز تو سامنے آتی ہے نہ کوئی بتاتا ہے ۔ ان لوگوں کوحقوق انسانی سے محروم رکھا ہواہے۔جب یہ براہمن دو ہزار سال پہلے بھارت میں داخل ہوا ۔ تو اسنے اپنے مکروفریب سے بھارت کی سادہ اور معصوم بودھ عوام پر قبضہ کر کے انہیں غلام بنا لیا ۔ اور انٹرٹین منٹ کی خاطردیو مالائی فاطرالعقل کہانیوں میں انکو الجھا دیا۔ تیس ہزار سے زائد دیوی دیوتا بنا ڈالے۔اپنی سیکیوریٹی کی خاطر ۔ حکمرانی کیلئے بانٹو اور حکومت کرو(Divide and Rule)کی حکمت ِ عملی کے مطابق ،اس نےاتنی بڑی آبادی کو چھ ہزارذاتوں میں تقسیم کیا ۔ اور انکی بودھ شناخت کو ہٹا کر ہندو کے نام سے نوازا حالانکہ یہ لفظ انکی کتابوں میں کہیں نہیں ہے۔ دوسری بڑی بات یہ کہ ان کے اپنے مذہب کا نام سناتن دھرم ہے یا آپ اسکو براہمن دھرم کہہ سکتے ہیں ۔ آج کی اکیسویں صدی میں آپ ان کہانیوں کو جسٹیفائی کرنے کی کوشش بھی کریں۔ تو سوائے مذاق کے کچھ نہ پائیں گے۔ مثال کی طورپر انکے دیوتا ہنو مان ہوا سےخلا تک اڑ سکتے تھے اور سورج کو نگل لیتے تھے۔ انہوں نے اپنی دم میں آگ لگاکر پوری لنکا کو آگ لگا دی تھی ۔ جب وہ فارغ ہوئے تو اپنی دم ٹھنڈی کرنے کیلئے سمندر کے پاس گئےتو سمندر نے کہا اس سے تو سمندر میں آگ لگ جائے گی ۔ تو ہنومان نے اپنی دم کو اپنے منہ میں رکھ کر بجھایا ۔ لہٰذا ان کا منہ جل گیا؟ سورج نگلنے والے کا منہ جل گیا؟ کیا مذاق ہے۔ان پچاسی فیصد غریبوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے نہ ان کو پڑھنے کا حق ہےنہ نوکریاں کرنے کا حق ہے ۔نہ انہیں آگے بڑھنے کا حق ہے ۔ یہ کیا کھائیں گے اور کیا پہنیں گے یہ سب ان براہمنوں کی مرضی سے ہو گا۔ حالانکہ ۱۹۳۲؁ کی گول میزکانفرنس میں یہ طے ہو گیا تھا کہSC/ST/OBC/Nomadic Tribes ہندو نہیں ہیں اور یہ بات آئین میں لکھ دی گئی تھی۔ لیکن آج کے ہندوستان میں آئین پر کوئی عمل نہیں ہورہا ۔ اور براہمن ٹولہ انپر اسی طرح ظلم کر رہا ہے۔ یہ براہمن پورے بھارت کا ساڑھے تین فیصد ہے جب یہ ان دبے ہوئے لوگوں کو ہندو کہتے ہیں تو ان کی گنتی ساڑھے اٹھٹھاسی فیصد ہو جاتی ہے۔مگر پھر بھی انہوں نے پچاسی فیصد افراد کےحقوق انسانی پر ڈاکہ ڈالا ہے۔براہمن خود تو لڑنے بھڑنے کے قابل نہیں ہے مگر قتل غارتگری کیلئے ان پچاسی فیصد کو چڑھادیتاہے۔بابری مسجد گرانے کیلئے اسنے رام کی جنم بھومی کا راگ الاپ دیا۔ https://youtu.be/RDg-7E-2t1E یہ لنک ڈاکٹروامن میشرام کا ہےوہ بتاتے ہیں کہ رام کبھی پیداہی نہیں ہوا۔مگر انہوں نے کتنے مسلمانوں کو مروادیا۔ اسی طرح سکھوں کو مروادیا حالانکہ یہ کمبخت سکھوں کو بھی ہندو کہتے ہیں ۔ خوش قسمتی سے سوشل میڈیا سےانہیں یہ موقع ملا ہے کہ وہ اپنی آواز دنیا میں پہنچائیں ۔آپ چاہیں تو یوٹیوب میں نیشنل دستک،ایم ۔این ٹی وی، میں ، دیکھ سکتے ہیں۔یہ لوگ کس طرح اپنی آزادی کےلیئے کوشش کر رہے ہیں۔ ۲۳ اپریل ۲۰۱۹ کے الیکشن کے نتائج ،نریندرمودی کی بےایمانی کی بڑی واضح مثال ہے۔ جس کیلئے یہ سب بشمول مسلمان،سکھ،عیسائی متحد ہو کر اسکے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ بھارت کی بڑی آبادی ہندو نہیں ہے۔ لہٰذا ہمارے ساتھ دشمنی کیسی؟ ہماری غلطی یہی ہے کہ ہم اس غریب عوام کو ہندو بنا کر براہمنوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہےکہ ہمارا میڈیا اس بات کا پراچار کرےاور دنیا کی ایک بڑ آبادی کی مدد کریں۔

ہم مسلمان اگراس صورتحال میں صرف خطبہء حجت الوداع کو لیکر اسکا پراچار کرتے تو شائد ساڑھے چھیانوے فیصد بھارتی آبادی مسلمان ہو جاتی۔ مگر ہم نے مسلمان ہونے کے باوجود

خطبہ کے خلاف اپنا عمل جاری رکھا اور اونچ نیچ ذات پات اور فرقہ کو اہمیت دی۔

نتیجہ کے طور کیا ہم اللہ کی رحمتوں کے حقدار ہیں؟

بھارت کا حکمران طبقہ بھارت کا دشمن ہے انکے سامنے ذاتی مفاد کی اہمیت ہےیہی وجہ ہے ان کی دوستی ہمارے چوروں سے ہے۔اور دونوں کی حکمتِ عملی بھی ایک جیسی ہے۔تو یہ تجزیہ کار کس کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں ۔ لہذا ان کی بکواس کی کیا اہمیت ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Haseen Abbas Madani

Read More Articles by Syed Haseen Abbas Madani: 58 Articles with 24787 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jun, 2019 Views: 390

Comments

آپ کی رائے