الیکٹرونک میڈیا ملازمین کیلئے ویج بورڈ ایوارڈ لازم و ملزوم۔۔۔!!

(جاوید صدیقی‎, Karachi)

سن دو ہزار آٹھ کو سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے پاکستانی صحافت اور الیکٹرونک میڈیاکو نجی سطح پر جس قدر فروغ بخشا وہ رہتی دنیا تک امر ہوچکا ہے ان کی اس کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا الیکٹرونک میڈیا کو قواعد و ضوابط میں رکھنے کیلئے جو ایک ریگولریٹی اتھارٹی تشکیل دی تھی جس کا نام پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولریٹی اتھارٹی یعنی پیمرا رکھا اور جس کو مکمل اختیارات بخشے گئے کہ وہ تمام الیکٹرونک میڈیا کی نگرانی اور قواعد و ضوابط پر کاربند رکھے ان کے ادوار میں یقیناً پیمرا نے دلجوئی ایمانداری، سچائی، خلوص نیت کیساتھ بھرپور خدمات پیش کیں لیکن بعد کے زمانے میں نام نہاد جمہوری حکومتوں نے من پسندچیئرمین تعینات کرکے اس ادارے کو برباد کرکے رکھ دیا، خاص طور پر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے سابقہ دور میں جہاں ہر ادارہ تباہی و بربادی کی انتہا کو پہنچ گیا وہیں پیمرا بھی ان کے ناپاک پنجوں سے محفوظ نہ رہا،پیمرا گو کہ ایک آزاد خود مختیار ادارہ ہے لیکن اسےوفاقی وزارت انفارمیشن اپنے دباؤ میں مکمل رکھتی چلی آرہی ہے گویا یہ ادارہ اب حکومتی غلام بن کر رہ گیا ہے یہی وجہ ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کے ملازمین کے حقوق اور ان کے مسائل کو سننے والا، دیکھنے والا کوئی نہیں رہا، اس بابت کئی ایک لوگوں، کئی ایک تنظیموں نے کوششیں بھی کیں ہیں اور سپریم کورٹ کے دروازے کو کھٹکھٹایا بھی ہے مگر ابھی تک کوئی سنوائی نہیں ہوئی یہ حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ نے سن دو ہزار انیس کوآٹھ ویں ویج بورڈ ایوارڈ نے اخباری کارکنوں کے لئے عبوری امداد کا اعلان کردیا جس میں ان کی تنخواہ، بونس،ترقی، جاب سیکیورٹی اور دیگر تمام حقوق پر کاربند رہنے کا حکم صادر فرمادیا لیکن یہاں واضع کرتا چلوں کہ یہ احکامات صرف اخبارات تک محدود ہیں، یہاں عرض یہ کرنا ہے کہ دور حاضر جو جدید سائنسٹفک دور ہے جہاں لمحہ بھر میں اندرون و بیرون ملک کی خبریں عوام تک پہنچ جاتی ہیں وہ صرف ذریعہ الیکٹرونک میڈیا ہی ہے یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں الیکٹرونک میڈیا سب سے آگے ہے ، حالات جیسے بھی ہوں صحافی کمیرہ مین او ررپورٹرز جائے وقع پر پہنچ کر حقیقی عکس بندی کیساتھ خبر پیش کررہے ہوتے ہیں ان کے ساتھ ساتھ سینٹرل دیکس اور پی سی آر، ایم سی آر، دی ایس این جی آپریٹرز، فیڈ آپریٹرز تمام کے تمام اسٹاف فوری اور حقیق خبر پہچانے میں مصروف عمل رہتا ہے ، ایڈیٹنگ،گرافکس اینڈ اینیمیشن شعبہ بھی اس موقع پر اپنی صلاحیت کو خوب احسن انداز میں پیش کرتا ہے لیکن حکومتی کارندے اور ادارے جانتے بوجتے ہوئے بھی ان کے مسائل اور حقوق پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں، پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا کی پستی اور تنزلی کا براہ راست اگر مورد الزام ٹھہرائی جائے تو یقیناً سب سے پہلا نام پیمرا کا آئیگا کیونکہ پیمرا کی ہی سب سے زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام الیکٹرونک میڈیا انڈسٹریز کو پابند کرے کہ ان کے حقوق سلب نہ کیئے جائیں اس کیلئے یقیناً قانونی پہلو ضرور شامل ہونا چاہیئے اس بابت تمام صحافتی تنظیموں کے عہدیداران و کارکنان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ویج بورڈ میں الیکڑونک میڈیا کو شامل کرنے کی استدعا کی گئی ہےجتنی جلدی ممکن ہوسکے سپریم کورٹ اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے حکم صادر فرمادے کہ اخبارات کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا کو آٹھ ویں ویج بورڈ میں شامل کیا جائے اس حکم نامے کے بعد تمام میڈیا انڈسٹریز پانبد ہوجائے گی کہ وہ اپنے تمام ملازمین کے تحفظ اور حقوق کی پاسداری کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریگی، سپریم کورٹ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ سب سے زیادہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں الیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی اپنے منصب کی ادائیگی میں ہلاک ہوئے ہیں اور ہر وقت اپنی جان ہتھیلی میں لیئے پھرتے ہیں، الیکٹرونک میڈیا میںبے ضابطگی، اقربہ پروری، حق تلفی کا عمل شدت اختیار کرگیا ہے گویا نجی ادارہ ہونے کے سبب تمام اخلاقی اور قانونی قوائد سے آزاد ہوگیا ہے، وطن عزیز پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا قطعی طور پر درست سمت نہیں بڑھ سکتا ہے جب تک اس الیکٹرونک میڈیا انڈسٹریز کو بھی ویج ایوارڈ بورڈ میں شامل نہ کیا جائے، الیکٹرونک میڈیا کے ملازمین کی بقا و سلامتی ہی ویج بورڈ ایوارڈ میں پہنا ہیں کیونکہ اس سے انھوں قانونی تحفظ حاصل ہوجائیگا، کراچی یونین آف جرنلسٹ، لاہور یونین آف جرنلسٹ، پشاور یونین آف جرنلسٹ، کوئٹہ یونین آف جرنلسٹ، حیدرآباد یونین آف جرنلسٹ، سکھر یونین آف جرنلسٹ، اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ، فیصل آبادیونین آف جرنلسٹ، ریجنل یونین آف جرنلسٹ ،نیشنل یونین آف جرنلسٹ گوکہ پاکستان بھر کی تمام صحافتی تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کو بھی ویج ایوارڈ بورڈ میں شامل کرتے ہوئے ان کے حقوق کی پاسداری کے عمل کو لازم و ملزوم شامل کیا جائے، ان تمام تنظیموں کے عہدیراروں و کارکنان کے مطابق اب وقت بدل چکا ہے اس سائنسٹفک اور تیز دور میں الیکٹرونک میڈیا کی خدمات، کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اسی لیئے ان کے ملازمین کی جاب سیکیورٹی سمیت تمام حقوق کا تحفظ ریاست پاکستان اور پیمرا کی ذمہ داری بنتی ہے ، دور حاضر میں الیکٹرونک میڈیا سب سے زیادہ کماتا ہے لیکن وہ اپنے ملازمین کیساتھ انصاف نہیں برتا، خاص کر چند لوگ مالکان کے گرد گہرا لگائے بیٹھے ہوتے ہیں جو دائیں اور بائیں گروپ کی شکل اختیار کیئے ہوئے ہیں یہ سلسلہ ہر چینل میں مختلف اشکال کی صورت میں نظر آئیگا انہی کے سبب نا انصافی اور اقربہ پروری کا سلسلہ متواتر جاری و ساری ہے انہی کی چاپلوسی اور گمراہ کن مشوروں سے تمام ملازمین مسائل سے دوچار ہیں، ویج بورڈ ایوارڈ میں الیکٹرونک میڈیا کو شامل کرنے سے ایسے لوگوں کے منفی اثرات زائل ہوسکیں گے اور پاکستان کا الیکٹرونک میڈیا انڈسٹریز دنیا بھر کے الیکٹرونک میڈیا کو مات دینے کا اہل ثابت ہوسکے گا، قابلیت، اہلیت ، سینارٹی اوراعلیٰ تعلیم یافتہ افراد چند ایک لوگوں کے سبب میڈیا انڈسٹریز میں بیکار پرزے کے مانند کردیئے گئے ہیں کیونکہ ان کی اہلیت و قابلیت کے جوہر پیش کیئے جائیں تو چاپلوس گروہ کہاں جائیگا اور منفی امور پر رہنے والوں کے راستے بند ہوجائیں گے یہی وجہ ہے کہ ان چند ایک دائیں اور بائیں بازؤ ں کی وجہ سے نہ صرف مالکان سفر ہورہے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے تمام انڈسٹریز پر زنگ لگ رہا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب اپنی مدت ملازمت میں الیکٹرونک میڈیا کو ویج بورڈ ایوارڈ میں شامل کرکے رہتی دنیا میںپاکستان کی الیکٹرونک میڈیا کو بام حیات بخشیں گے ،آپ سے ہم الیکٹرونک میڈیا ملازمین بہت پر امید ہیں، اللہ آپ کا اقبال بلند فرمائے آمین ۔حیرت و تعجب کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کچھ نجی چینلز ایسے ہیں جن کے اخبارات بھی ساتھ ساتھ اشاعت ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو صرف چینل آن ایئر کرتے ہیں اخبارات کی اشاعت کرنے والے حالیہ آٹھ وین ویج بورڈ ایوارڈ کی منطوری کے بعد اپنے اخبارات سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو مکمل سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ویج ایوارڈ کے تحت عمل کررہے ہیں مگر اپنے ہی الیکٹرونک چینل کے ملازمین کو تمام تر حقوق سے محروم کر رکھا ہے ان میں وہ سب نجی چینل میں شامل ہیں جن کے اخبارات شائع نہیں ہوتے گویا وقت ضرورت آں پہنچا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کو بھی لازم و ملزوم آٹھ ویں ویج بورڈ ایوارڈ میں شامل کرکے ان کے حقوق کی پاسداری کی جائے اس کیلئے سپریم کورٹ ہی احکامات جاری کرسکتا ہے کیونکہ پیمرا بے بس اور ناکارہ ادارہ بن چکا ہے،اب صرف سپریم کورٹ کو ہی اس بابت سخت اقدام اتھانا چاہیئے تاکہ عدل وانصاف ممکن ہوسکے ۔آمین۔۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔۔۔!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی‎

Read More Articles by جاوید صدیقی‎: 308 Articles with 157028 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jun, 2019 Views: 519

Comments

آپ کی رائے