ٹرمپ کو مواخذہ کا خطرہ

(Sami Ullah Malik, )

امریکی کانگرس کے ایوانِ زیریں ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں تحقیقات کا حکم دیاجانا طے ہوچکاہے۔اب صرف موزوں موقع کاانتظار کیاجارہاہے۔اس کاسبب یہ بیان کیاجاتاہے کہ ٹرمپ نے محکمۂ انصاف کا مکمل اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تھی اور یہ عمل انصاف کی راہ میں دیوار کھڑی کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے قوانین وقواعدسے انحراف اوربدعنوانی کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔اس کے باوجود وہ دوسری مدت کیلئےبھی منتخب ہونے کی کوشش کررہے ہیں،خواہ اس کیلئےانہیں آئین ہی کوداؤپرلگاناپڑے۔ری پبلکن پارٹی اس وقت بظاہرکسی سازش کاشکارہے۔ٹرمپ نے عملاً سینیٹ کااختیاراپنے ہاتھ میں لے لیاہے۔ساتھ ہی ساتھ وہ اس تصورکاتمسخر اڑانے سے بھی باز نہیں آرہے کہ کانگرس درحقیقت حکومتی نظام میں برابرکی حصہ دارہے۔ اس صورت حال میں سینیٹ میں اکثریتی جماعت کے سربراہ مِچ مکونیل اورسینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین لِنزے گراہم فی الحقیقت ٹرمپ کے اجازت واختیاریافتہ نمائندوں کی حیثیت سے ابھرکرسامنے آئے ہیں اورجیسے یہ سب کچھ کافی نہ ہو،ٹرمپ اوران کے ساتھی ناجائزذرائع سے حاصل کیے جانے والے اثاثوں اورغیرضروری اختیارات کوتحفظ فراہم کرنے کیلئےایسے بہت سے اقدامات کر رہے ہیں،جوحکومتی نظام کیلئےانتہائی خرابی کاباعث ہیں۔ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف شواہد جمع ہوتے جارہے ہیں،انباربلندہوتاجارہاہے۔

امریکی اخبارات نے ایسی خبریں شائع کرناشروع کردی ہیں،جواگرعام حالات میں شائع ہوں تو کانگرس کی جانب سے صدر کے فوری مواخذے کی بنیاد بنیں اورصدرکواس منصب سے فی الفور ہٹادیاجائے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی اوورسائٹ اینڈ ریفارم کمیٹی نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے انتہائی حسّاس سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی سعودی عرب کو فروخت کرنے کی کوشش کی۔ یہ اقدام امریکی خفیہ اداروں کی طرف سے اعتراضات کے باوجود کیا گیا۔ یہ سودا ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے ابتدائی دنوں میں اُن کے قومی سلامتی کے مشیرمائیکل فلن نے کرانے کی کوشش کی،جن کااُس کمپنی سے مفاد وابستہ تھاجویہ سوداکر رہی تھی۔ مائیکل فلن کو دو دیگر مقدمات میں بھی ممکنہ سزاکاسامناہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی ایوان میں سعودی عرب سے خفیہ نیوکلیئرڈیل کے حوالے سے اب بھی مشاورت جاری ہے۔

ایف بی آئی کے سابق عبوری سربراہ اینڈریومیک کیب نے متعدد انٹرویوزمیں بتایا ہے کہ انہوں نے 2017ء کے موسم بہار میں کانگرس کوبتایاتھا کہ اُن کے پاس جوٹھوس شواہدموجودہیں اُن کی روشنی میں اس امرکی تحقیقات کی جانی چاہیے کہ ٹرمپ روسی ایجنٹ ہیں یانہیں۔ جوکچھ کہا اینڈریو میک کیب نے کہا،وہی کچھ اِس سے قبل خصوصی قانونی مشیررابرٹ مُولرنے بھی کہا تھا۔ اینڈریومیک کیب نے حال ہی میں’’دی تھریٹ:ہاؤایف بی آئی پروٹیکٹزامریکااِن دی ایج آف ٹیرراینڈ ٹرمپ‘‘کے عنوان سے کتاب لکھی ہے۔ایک انٹرویومیں انہوں نے بتایاکہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جب بتایا گیا کہ شمالی کوریا کی طرف سے نیوکلیئر میزائل داغے جانے کا خطرہ زور پکڑرہاہے توٹرمپ نے گفتگوکارخ کسی اورجانب موڑتے ہوئے کہاکہ’’شمالی کوریاایسا کچھ نہیں کررہا کیونکہ مجھے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن نے بتایاہے کہ امریکی خفیہ اداروں کاتجزیہ اوراندازہ غلط ہے اورجوکچھ بھی وہ شمالی کوریاکے نیوکلیئرمیزائل پروگرام کے بارے میں کہہ رہے ہیں وہ محض مذاق ہے،اور کچھ نہیں‘‘۔

نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبرکے مطابق ٹرمپ نے اٹارنی جنرل میتھیووٹیکرسےکہاہے کہ وہ اُن کے سابق وکیل مائیکل کوہن کی جانب سے صدارتی انتخاب سے قبل اُن دوخواتین کودیے جانے والے’’زرِ تلافی‘‘سے متعلق تحقیقات کارخ موڑیں جنہوں نے ٹرمپ پرافیئرکاالزام عائد کیاتھا۔ ٹرمپ کواس معاملے میں انتہائی وفاداروکیل کی ضرورت تھی۔ مائیکل کوہن نے اس حوالے سے کانگرس کے سامنے جھوٹ بولا،جس پرانہیں تین سال کی سزائے قید کاسامناہے،یہ قید جلد شروع ہوگی۔اس سے قبل ٹرمپ نے روس کے معاملے میں اُن کے خلاف جانے پراس وقت کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز کو برطرف کرنے کی طرف بھی قدم بڑھایا۔ ٹرمپ انتقامی کاروائی کے معاملے میں کبھی جھجکتے ہیں نہ شرمندہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل راڈ روزنز سٹین کو بھی نشانے پر لیا۔ بہت جلد ان کا استعفیٰ بھی متوقع ہے۔امریکیوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹرمپ نے محکمۂ انصاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں یقینی بنانے کے حوالے سے ذرا سی بھی شرم یاجھجک کامظاہرہ نہیں کیا۔انہوں نے ایف بی آئی ڈائریکٹرجیمزکومے کوبرطرف کیااوراب ایسالگتاہے کہ اینڈریومیک کیب کی باری ہے۔امریکی کے حکم پرمحکمۂ انصاف میں اتنے بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

کرپشن،خفیہ سودوں اورانصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کے حوالے سے خبریں تواترسے آرہی ہیں مگرحیرت انگیزامریہ ہے کہ سینیٹر میکونیل خاموش ہیں۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی مشکل وقت آئے گا، سینیٹر میکونیل ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اگر اورکسی بات سے کچھ اندازہ نہیں ہوتاتوچند ہفتوں کے دوران سینیٹرمیکونیل کی جانب سے دیے گئے بیانات ہی پرایک نظرڈالیے۔ان کا کہنا ہے کہ میکسیکو کی سرحد پردیوارتعمیرکرنے کیلئےفنڈ جمع کرانے کے سلسلے میں کانگرس پردباؤڈالنے کی غرض سے نیشنل ایمرجنسی کا نفاذ ٹرمپ کی طرف سے حماقت کے سواکسی چیزکااظہارنہ ہوگا مگر جب ٹرمپ اس مرحلے سے گزر گئے توسینیٹ میکونیل نے اُن کے لئےحمایت کا اظہار کرنے میں دیر نہیں لگائی۔

امریکی آئین کاایک خاصہ یہ ہے کہ اس کی وساطت سے پارلیمان یعنی کانگرس کوخزانے کے معاملات میں بالادستی حاصل ہے۔16ریاستوں کے اٹارنی جنرل کے دائرکیے ہوئے مقدمات میں نیشنل ایمرجنسی کو چیلنج کرتے ہوئے اُسے غیر آئینی قراردیا ہے۔ ٹرمپ اینٹی امیگریشن پالیسی پر غیرمعمولی حد تک یقین رکھتے ہیں اورانہوں نے میکسیکو کی سرحدپردیوارتعمیر کرنے کے حوالے سے اپنی پالیسی کو دائیں بازو کی سیاست کی بنیاد بنایا ہے۔ انہیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ مواخذے اور سزائے قید سے بچنے کی لازمی صورت یہ ہے کہ خودکو کسی نہ کسی طور دوسری مدت کیلئےبھی منتخب کرایاجائے۔

اگراناکامعاملہ ایک طرف ہٹادیاجائے تب بھی انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے اور محکمۂ انصاف کوکنٹرول کرنے کی خواہش وکوشش اورانتخابی مہم بہت پہلے شروع کرنے کی پشت پرٹرمپ کے دوواضح مقاصد ہوسکتے ہیں۔ایک تویہ کہ اُنہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ کانگرس میں ڈیموکریٹ ارکان کی واضح اکثریت اس بات پریقین رکھتی ہے کہ کاروبارکے حوالے سے ٹرمپ کے روس سے غیرمعمولی خفیہ تعلقات ہیں اوریہ کہ ٹرمپ کی کاروباری سلطنت کوزندہ رکھنے کیلئےاُس پیسے کی بہت اہمیت ہےجس کا منبع روس میں ہے۔یہ بات توطے ہے کہ ٹرمپ اپنے اوراپنے خاندان کے آمدن کے ذرائع اوراثاثوں کے بارے میں کی جانے والی ہرطرح کی تحقیقات ہرقیمت پر رکواناچاہتے ہیں اوردوسرے یہ کہ ٹرمپ 2016ء کی انتخابی مہم کے دوران اگرکسی روسی سیاستدان سے ان کاکوئی تعلق تھابھی تووہ فی الحال اس حوالے سے تمام شواہدکومٹانے پرتُلے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کی ٹیم میں نمایاں مقام رکھنے والوں میں مائیکل فلن،کیمپین منیجرپال مینفرٹ اور راجراسٹون شامل ہیں اور تینوں کوروسی سیاستدانوں سے تعلقات اوردیگر معاملات میں تحقیقات ہی نہیں بلکہ ممکنہ سزاؤں کابھی سامناہے۔

رابرٹ مولر کی فائل کی ہوئی عدالتی دستاویزات سے،جن میں بڑے پیمانے پرتبدیلیاں کرکے بعض نکات کوسینسربھی کیا گیا، یہ مترشح ہوتاہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے روسی سیاست دانوں سے مدد حاصل کی اورجواباًیہ عہدکیاکہ جب وہ صدرکی حیثیت سے کام کررہے ہوں گے تب یوکرین میں روسی مفادات کے نگہبان ہوں گے اوراس حوالے سے امریکی پابندیوں کوہٹانے میں اہم کرداربھی ادا کریں گے۔ٹرمپ کی سنگین سیاسی غلطیوں کے حوالے سے ابھی بہت کچھ ہے جومنظر عام پرآناہے۔مائیکل فلن،مینفرٹ اوررِک گیٹس کے حوالے سے تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کوہیں۔ اِن تمام افرادکوممکنہ طور پرسزاؤں کاسامناہوسکتا ہے۔وکی لیکس سے راجر اسٹون کے خفیہ روابط اورسابق امریکی وزیر خارجہ اورگزشتہ صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی حریف ہلیری کلنٹن کے کمپیوٹرزمیں روسی ہیکروں کی طرف سے سیندھ کامعاملہ بھی کھلے گاتو بہت کچھ سامنے آئے گا۔ مائیکل کوہن آئندہ ماہ سزابھگتنے کیلئےجیل جائیں گےمگر اس سے قبل وہ کانگرس میں شہادت ریکارڈ کرائیں گے۔ایوان نمائندگان کی متعدد کمیٹیاں مختلف معاملات پر کھلی سماعت کرنے والی ہیں اورپھرتحقیقات بھی کی جائیں گی۔نیویارک کے اٹارنی جنرل ٹرمپ کے مالیاتی معاملات اوران کے خیراتی ادارے سے متعلق تحقیقات کررہے ہیں،جس کے نتائج جلد منظر عام پرآنے والے ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے خلاف درج کی جانے والی درخواستوں کی سماعت بھی ہونے والی ہے۔

ٹرمپ اوران کی کابینہ کے ارکان نے اپنے منصب اوراختیارات کاجس طورغلط استعمال کیا ہے، اس پرملک بھرمیں تحقیقات کامطالبہ بھی زورپکڑرہا ہے۔اگرحالات اسی نہج پرچلتے رہے توٹرمپ مواخذہ کی تلوارسے بچ نہ سکیں گے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 459 Articles with 142007 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jun, 2019 Views: 241

Comments

آپ کی رائے