پاک فوج امن کا سمندر

(Maqsood Ali Hashmi, )

پاکستان کے امن کا خواہشمند ہونا عیاں ہے۔ اور ہمار دین بھی اس بات کا ہمیں سبق دیتاہے۔ ابھی نندن کو چھوڑ کر دنیا نے دیکھا پاکستان دشمن کو مٹانے کی طاقت رکھنے کے باوجود پوری دنیا میں امن کا پیغام دیا لیکن یہ ہندو بنیا اپنی بچھو جیسی خصلت سے باز نہیں آتا پلوامہ حملہ ممبئی حملہ اپنے ہی ملک کے لوگ جہنم و اصل کردیے جھوٹ مکاری ان لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہے انکو تو انسان کہتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے ۔پاکستان کواندرونی وبیرونی سرحدوں پرخطرات لاحق ہیں جس میں سب سے زیادہ بھارت کی جانب سے ہیں اس سارے کھیل میں اس کا کردارایک بھیڑیے کا ساہے۔

پلوامہ واقعہ کے بعدپاکستان اورانڈیاکے مابین کشیدگی پھرسے بڑھ گئی لیکن اس ساری صورتحال میں ہماری حکومت ،فوج اورعوام کی جانب سے مثبت وامن پسندرویہ کااظہارقابل ستائش ہے اورصدرووزیراعظم سے لے کرایک عام پاکستانی شہری بھی امن کوسبوتاڑکرنے کاخواہاں نظرنہیں آتاایک دوراندیش اورمصلحت پسندقوم کی یہ سب سے بڑی نشانی ہوتی ہے کہ وہ خودبھی پرامن رہے اوراپنے ہمسایہ ممالک سے بھی دوستانہ تعلقات استوارکرے۔

اس لئے کہ بیرونی خطرات کی موجودگی میں کوئی ملک ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہوسکتا۔قیام پاکستان سے لیکر آج تک افواج پاکستان نے کسی ملک کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیارنہیں کیا لیکن ہماراہمسایہ ملک تقسیم سے لے کرآج تلک کوئی شرارت کاموقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اس پیشاپ خور قوم نے تقسیم کے وقت بھی معصو م مسلمان عورتوں کی چھاتیاں کاٹی بچوں کو زبح کیا یعنی جتنا ظلم کرسکتاتھا اس جھوٹے اور مکار ہند وں و نے کیا کسی نہ کسی عنوان پرآگ بھڑکانااس کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے۔ ہم چاہیے تو اسکو اور اسکے یہودی سپورٹرز کو ہمیشہ کے لئے سفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔ لیکن بطور ہمسایہ ملک ہمار ا دین ایسا کرنے سے ہمیں روکتاہے ۔صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔۔

پاک سرزمین کاوجودوسا لمیت اوراسکی روزافزوں ترقی اس کو کسی طورپرہضم نہیں ہوتی اورالیکشن کے زمانہ میں اس میں خاصی شدت آجاتی ہے اگرہم بھارت کی پاکستان کے ساتھ چھیڑچھاڑ اورجارحیت کوتاریخ کے آئینہ میں دیکھیں تو1962ء میں طاقت کے نشہ میں مخموربھارت نے اپنے ہمسایہ ملک چائنہ کے ساتھ جنگ کاآغازکیا جس پراسے ذلت آمیزشکست کا سامنا کرناپڑاچائنہ سے منہ کی کھانے کے بعدبھارت نے 1965ء میں مسئلہ کشمیراور رَن کچھ کے متنازعہ علاقہ کوجوازبناکرپاکستان پرچڑھائی کردی جس کاپس منظردراصل کانگرس کابھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان کے خلاف جنگ کے ذریعے ووٹ حاصل کرنا تھا چنانچہ 6ستمبر1965ء کواندھیرے میں اس نے لاہورشہرپرواہگہ ،قصور،اوربرکی تینوں جانب سے یکبارگی میں حملہ کردیالیکن پاک فوج کے شیردل جوانوں نے میجرعزیز بھٹی شہیدکی کمان میں دشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔

اسی جنگ میں پاک فضائیہ کے شاہین صفت ہوابازوں نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اورجذبہ جہادسے سرشارہوکرپٹھانکوٹ ،آدم پور،ہلواڑہ ،جودھ پور،جموں ،سری نگراورجام نگرمیں موجوداہم بھارتی ہوائی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے اس کی فضائی طاقت کوچکناچورکردیا پاک فضائیہ کے قا بل فخرپائلٹ سکوارڈن ایم ایم عالم نے بھارت کے پانچ لڑاکا طیاروں کوگراکربھارت کے تکبرکو خاک میں ملا دیا اورفتح کے ناقابل تسخیرجھنڈے گاڑدیے۔

ا سی طرح 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کادولخت ہونا بھی بھارت کا ناپاک منصوبہ تھا جس میں اس نے مکاری سے پاکستان کے خلاف خوداس کے باشندوں کواستعمال کرکے ہماری سالمیت اورافرادی ودفاعی قوت کوشدیدنقصان پہنچایااوراس کے بعدبھی لائن آف کنٹرول پرنہتے پاکستانی شہریوں پربمباری کرنا اس کا معمول ہے۔بھارت کی حالیہ دراندازی اورپاکستانی فضائی حدودکی بارہاخلاف ورزی پرپاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارت کے دولڑاکا طیارے مارگرائے جس کے نتیجہ میں دو پائلٹ ہلاک اورایک کوزندہ حراست میں لے لیا گیا۔

اس ساری سٹرائیک میں افواج پاکستان نے اپنے سپہ سالاروں کی ہدایات کے مطابق انتہائی محتاط اندازاپنایا اوراپنے دفاع میں دشمن کوعبرت ناک شکست سے دوچارکیا۔اس واقعہ کے بعد ترجمان پاک فوج کا اپنے بیان میں یہ کہنا کہ ہم اس پرکسی فتح کوجش نہیں منارہے اس لئے کہ ہم نے جنگ نہیں لڑی بلکہ اپنے دفاع میں یہ سب کچھ کیا لیکن ہم بھارت کویہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان ہرلمحہ چوکس وہوشیارہیں اوردشمن کی نقل وحرکت پرعقابی نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔اوراس کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے امن کاراستہ اختیارکرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

لیکن امن نہ سمجھو کمزوری فولادی ہاتھ بھی رکھتے ہیں ترجمان پاک فوج کے بیان کے بعدوزیراعظم پاکستان نے نیشنل کمانڈاتھارٹی کے اجلاس کے بعدقوم کو خطاب کرتے ہوئے جہاں پرامن رہنے کاکہاوہیں بھارت کومذاکرات کی دعوت بھی دی جس سے پاکستان کے امن کا خواہشمندہونا عیاں ہے۔

پاکستان کواندرونی وبیرونی سرحدوں پرخطرات لاحق ہیں جس میں سب سے زیادہ بھارت کی جانب سے ہیں اس سارے کھیل میں اس کا کردارایک بھیڑیے کا ساہے لیکن پاکستانی قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اورالحمدﷲ پاکستانی فوج دنیاکی بہترین فوج ہے جوہرطرح کی عسکری قوت ومہارت سے لیس ہے۔جس دن سے پاکستان ایٹمی طاقت بناہے تب سے بھارت کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اوروہ کسی طرح سے اس کی ساکھ کوبین الاقوامی دنیامیں خراب کرنا چاہتاہے لیکن پاکستان اپنادفاع کرناجانتا ہے اوراقوام متحدہ اوردیگربین الاقوامی پلیٹ فارمز پرپاکستان اسکی مسئلہ کشمیراورپاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پرہونے والی دراندازیوں پرآوازاٹھا چکاہے۔

امن دونوں ممالک کے لئے ایک درمیانی راستہ ہے جس پرعمل پیراہوکروہ اپنے باہمی اختلافات کو فراموش کرکے ترقی وخوشحالی کا راستہ اختیارکرسکتے ہیں جنگ نہ کبھی مسائل کاحل رہی ہے اورنہ ہوسکتی ہے لیکن اگربھارت کوامن کاراستہ ہضم نہ ہواتوپھرا س کے لئے ایک پیغام ہے کہ
ہم پاک وطن کے باسی ہیں تیغوں میں پلے جوغازی ہیں
تم پرتھوی اگنی رکھتے ہو ہم غزنوی غوری رکھتے ہیں
دھنوش کے دوش پہ اتراتے ہو شاہین ونصرہم رکھتے ہیں
بِن مولاکے تم پھرتے ہو ہم اﷲ مولارکھتے ہیں
تم پیشاپ خور بے دین قوم ہو ہم دنیا میں اک مقم رکھتے ہیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqsood Ali Hashmi

Read More Articles by Maqsood Ali Hashmi: 138 Articles with 50735 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jun, 2019 Views: 301

Comments

آپ کی رائے