خبر یہ بھی ہے

(Ilyas Muhammad Hussain, )

"وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان اور بھارت کے درمیان آئی سی سی ورلڈ کپ کا میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم پہنچے تو تحریک انصاف کے کارکنوں نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف نعرے لگانا شروع ہوگئے۔ پی ٹی آئی کارکن نعرے لگا رہے تھے کہ نواز شریف، زرداری چور ہیں۔ جس پر شاہ محمود قریشی نے میڈیا کو متوجہ کرکے کہا دیکھ لیں عوام کی آواز کیا ہے۔ایک خبریہ بھی ہے کہ مریم نواز نے بلاول بھٹو زرداری کو لاہور آمد کے موقع پر ملاقات کے دوران محترمہ بے نظیربھٹو کی سالگرہ پر نواب شاہ میں جلسہ سے حکومت کیخلاف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کرلیاہے انہوں نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے حکمت ِ عملی بھی تیارکرلی ہے حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے قبل اپنے اپنے پلیٹ فارم پر عوام کو سڑکوں پر لانے کے لئے رابطہ عوام مہم شروع کرنے پر اتفاق ہوا ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ ان کی مولانا فضل الرحمنٰ سے بات ہوئی ہے وہ ماہ رواں کے اواخر میں اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے جاتی امراء میں (پی ایم ہاؤس) میں ہونے والی تین گھنٹے تک مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان جاری رہنے والی ملاقات کا بیشتر حصہ ’’ڈائنگ ٹیبل ‘‘ پر ہوا مریم نواز نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے لاہور آمد کی اطلاع موصول ہونے پر انہیں دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا اور اپنی نگرانی میں مہمانوں کی پسندیدگی کو پیش نظر رکھ کر کھانے تیار کرائے اور پھر کھانے کی ڈشیں مہمانوں پیش کرتے وقت یہ بھی بتاتی رہیں کہ ہمار ے ہاں یہ کھانا کس طرح تیار کیا جاتا ہے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میاں نواز شریف کو کون سی چیز پسند ہے اور ان کی والدہ محترمہ نے ان کی دادی محترمہ سے پکانا سیکھا۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی متوقع تحریک کامیاب ہوتی ہے یا نہیں ایک بات ہے اس دما دم مست قلندرمیں فضل الرحمن کی سیاست کو چارچاندلگ جائیں گے اور وہ چاہتے بھی یہی تھے۔ ہمارے سیاسی رہنما اربوں کھربوں کی بدعنوانی کو کرپشن نہیں سمجھتے جبکہ ایک خبریہ بھی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کو حکومتی فنڈز کے ناجائز استعمال پر سزا سنا دی گئی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے ایک مجسٹریٹ اتوار کے دن فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سارہ نے الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے استغاثہ کے ساتھ ایک ڈیل کر لی ہے اور وہ تقریبا پندرہ ہزار ڈالر کا جرمانا ادا کرنے پر رضا مند ہیں۔ سارہ پر الزام تھا کہ انہوں نے 99 ہزار 300 سو ڈالرحکومتی فنڈز مہنگے کھانے پکوانے پر استعمال کیے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کو بھی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے۔ سارہ کا مؤقف تھا گھر پر باورچی نہیں ہے اب بتائیں کیادیتے ہیں اس بارے میں فتویً۔؟آج کے اخبارمیں ایک اور خبربھی ہے جس سے اندازہ لگایاجا کستاہے کہ آنے والے دنوں میں سیاست کیا رخ اختیارکرسکتی ہے اسے بھٹو خاندان کیلئے خطرے کی گھنٹی بھی قراردیا جاسکتاہے قومی عوامی تحریک ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری کے باوجود سندھ میں احتجاج کیلئے بیس افراد بھی نہیں نکلے۔ اگر یہ معاملہ ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر کا ہوتا تو ہزاروں لوگ سڑکوں پر آجاتے۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کے ساتھ پیپلزپارٹی اور آصف زرداری نے ظلم کیا انہیں اپنی کرپشن کے دفاع پر لگا دیا ہے وہ جس راستے پر جارہے ہیں وہ اقتدار اور مفادات کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کے سندھ میں جو ووٹ کم ہوئے انہیں پیپلزپارٹی نے بی آئی ایس پی اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر بڑھایا۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کا ایک ہاتھ اسٹیبلشمنٹ اور دوسرا وڈیروں کے سر پر تھا۔ جیسے اے این پی خیبرپختونخوا اور مسلم لیگ ن پنجاب سے باہر ہوئیں اگر پیپلزپارٹی بھی ایسے سندھ سے ہوتی تو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا حلف بھی نہ ہوتا۔ایسی صورت ِ حال پر حکومت کے حامیوں کاایک تبصرہ یہ بھی ہے کہ ملکی خزانے پر شب خون مارنے والوں کا یوم حساب شروع ہو چکا ہے۔ احتجاج کرنے کی باتیں کرنے والے مٹھی بھر سیاستدان اپنا شوق پورا کر لیں۔ موجودہ حکومت حکومت گرانے والوں کے ارمان دل میں ہی رہیں گے۔ اور جیلوں میں جانے والے اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہیں اورکسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔ چلتے چلتے ایک خبر اور بھی سن لیجئے خواتین لڑکیوں پر تشدد کے اقتصادی سماجی اثرات سے متعلق سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سیکٹر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 34 فیصد خواتین ذہنی جسمانی جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں یعنی ملک کی ون تھرڈ آبادی کی حامل خواتین پر سب سے زیادہ جسمانی تشدد کیا جاتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ غربت اور تعلیم کی کمی (جہالت ) بھی ہے۔پاکستان میں 32 فیصد خواتین جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہیں جبکہ 22 فیصد شادی شدہ خواتین تشدد کا شکار ہوتی ہیں چار فیصد خواتین جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں پاکستان میں 14 فیصد ورکنگ خواتین کو تشدد یا بدمزگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواتین پر تشدد کے باعث پاکستان کی معیشت کو سالانہ 146 ملین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ تشدد کے باعث صحت کے مسائل پر 11.7 ملین ڈالر اخراجات آتے ہیں خواتین پر تشدد روکنے کیلئے بنائی گئی پالیسیوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ یہ ساری خبریں پڑھ کر ذرا سوچئے ہم کیسے معاشرے میں جی رہے ہیں؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Muhammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Muhammad Hussain: 315 Articles with 111360 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jun, 2019 Views: 307

Comments

آپ کی رائے