کشمیر اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

خطہ جنت نظیر کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی سفاک اوروحشی فوج مظالم کے پہاڑ توڑے رہی ہے۔کیا کیا جائے، اس وحشت بھری ہندو قوم پرستی کے جن نے، انسانیت کے منصوعی روپ میں شیطان کا کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے۔اسی قومیت کومحسنِ انسانیت پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اﷲ علی و سلم نے اپنے آخری خطبہ حج الودع میں یہ کہہ کر اپنے پیروں تلے روند دیا تھا کہ کالے کو گورے پر، عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں۔ انسانیت کی برتری تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر۔ کوئی بھی غیر مذہب کا پیرو مسلمان ہو کر برابر کا حق دار بن سکتا ہے۔ قرآن کے مطابق قومیں تو صرف اور صرف پہچان کے لیے ہیں۔مسلمانوں نے جب تک ان الہی تعلیمات پر عمل کیا تو عرب کے چرواہوں کو اﷲ نے دنیا کی مہذب ترین قوم بنا دیا۔دنیا کی ساری قومیں ان کے طریق ِزندگی پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ اپنے رہن سہن تہذیب تمدن اور معاشرت میں مسلمانوں کی مثالیں دی جاتی تھیں۔فتوحا ت کی بات کی جائے توبنو امیہ کے دورخلافت کے ۹۹ سال کے اندر اندر دنیا کے اُس وقت کے معلوم چار براعظموں کے غالب حصہ پر مسلمانوں نے اپنے سلطنتیں قائم کر دیں تھیں۔

اگر بھارت کی وحشت بھری قوم پرستی کی بات کی جائے، تو سفاکیت کا مظاہرہ کرنے والے کوئی اور نہیں۔ کشمیری مسلمانوں کے ہم وطن ہیں۔جن کی مسلمانوں سے ہزاروں سالوں کی شناسائی ہے۔جن پر خود مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زاہد مدت تک حکمرانی کی تھی۔ وہ اکثریت میں تھے اورمسلمان اقلیت میں تھے۔ مگر اسلام کے بتائے ہوئے طرز حکمرانی پر عمل کرتے ہوئے مسلمان بادشاہوں نے اکثریت کو مطمئن کررکھا تھا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں اتنی طویل مدت تک کسی بھی قوم نے حکمرانی نہیں کی۔

کیا انگریز اپنے کم تر نظام ِ حکومت اور عوام پر مظالم کی انتہا کی وجہ سے ہندوستان پر صرف دو سو سال حکمرانی کرنے کے بعد ملک ِ ہندوستان نہیں چھوڑ گئے تھے؟کیا انگریز کے دور میں ہوٹوں کے بورڈوں اورپارکوں کے دروازوں یہ الفاظ نہیں لکھے ہوتے تھے کہ اس میں صرف انگریز داخل ہو سکتے۔ کسی کتے( ہندستانی) کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ کیا فرانس کے باشاہ نے حکم نامہ نہیں جاری کیا تھا کہ موروں(مسلمانوں) کو قتل کرو اور ہنددؤں کو حکومت میں ملازم رکھو۔ کیا مسلمانوں کی طرف سے لڑی گئی ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو توپوں کے سامنے باندھ کر اُڑا نہیں دیا گیا تھا؟مسلمانوں کی جادایدیں ضبط نہیں کی گئیں؟ کالے پانی کی سزائیں نہیں دی گئیں؟ یہ ہی وجوہات تھیں کے عوام میں انگریزوں سے نفرت پیدا ہوئی اور بلا ٓخروہ ہندوستان سے بھاگ گئے۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے ہنددؤں کو آزادیاں اور بنیادی انسانی حقوق دیے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک ہندوستان پر حکمرانی کی ۔ بلکہ ہندو مسلمانوں سے نفرت کرنے کے بجائے کروڑوں کی تعداد میں ہندو مہذب چھوڑ کر مسلمان ہو گئے۔ہم نے موددی سرکار کو اپنے ایک کالم مشورہ دیا تھا کہ مسلمانوں پر مظالم بن کروورنہ تمھاری حکومت ختم ہو جائی گی۔اوراﷲ کے قانون کے مطابق کو عادل حکمران آ جائے گا۔کالم کا عنوان تھا’’ موددی ہم نے تم پر ایک ہزار حکمرانی کی، تم سو سال تو پورے کرو‘‘۔کیا بھارت کے قوم پرست حکمران بھارت میں اتنے زیادہ مظالم کے بعد دیر تک حکمرانی کر سکتے ہیں؟کیا وہاں بھارت میں مسلمانوں پران مظالم کی وجہ سے ایک اور پاکستان بننے کی زمین ہموار نہیں ہو رہی؟َتاریخ کاتو ہی سبق ہے کہ کفر کی حکمرانی تو چل سکتی ہے ظلم کی حکمرانی نہیں چل سکتی۔اس فارمولے کے تحت بھارتی حکمران بھارت کو ہندو ریاست بنا کر تو حکومت کر سکتے ہیں۔ یہ ہندو قوم کا حق ہے کہ اپنے مذہب کو اپنے ملک میں رائج کرے۔مگر بھارت کے قوم پرست حکمرانوں کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ وہ بھارت کے مسلمانوں کی قیمت پر حکومت بل لکل نہیں کر سکتے؟ یہ تاریخ کا سبق ہے اگر بھارت کے قوم پرست حکمران اسے پڑھ لیں تو ان کے لیے اچھا ہوتا۔ اور ایک خاص بات بھی عرض کر دو کہ بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں کو جس وقت بھی اپنا بھولا ہوا سبق یاد آ گیا۔ تو بھارت کے مظالم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے ۔ پھر بھارت کیا بھارت کے حمایئتی بھی مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھر سکیں گے۔وہ سبق جہاد فی سبیل اﷲ ہے۔ بھارت کیا، دنیا کا جابر سے جابر ظالم بھی مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھر سکے گا۔

مسلمانوں کے دور حکومت کی یہ خوبی تھی کہ مسلمانوں نے اکثریت کے دھرم یعنی ہندو مذہب کوبل لکل نہیں چھیڑا گیا۔ ہنددؤں کو اپنے مذہب عمل کرنے کی مکمل اجازت تھی۔ انسانی حقوق میں مسلمان اور ہندو برابر تھے۔مغل مسلمان بادشا ہ بابر نے اپنے بیٹے ہمایوں کو نصیحت کی تھی کہ ہنددؤں کے مذہب کا ا حترام کرنا۔اسی مغل بادشاہ بابر کی بنائی ہوئی، بابری مسجد کو انتہاپسند ہنددؤں نے حکمرانوں کی آشیر اباد پر صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔اب عدل جہانگیر رائج کرنے والے مغل بادشاہ کے بنائے ہوئے، دنیا کے آٹھویں عجوبہ، تاج محل آگرہ کو مسمار کرنے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ ہمایوں کے بیٹے مغل اعظم اکبر نے ہنددؤں کو حقوق سے کچھ زیادہ ہی دیاتھا۔ شیر شاہ سوری نے جرنیلی روڈ پر ہندو اور مسلمان سرائیں تک علیحدہ علیحدہ بنائیں تھی۔اورنگ زیب عالم گیر ؒ عوام کے خزانے سے خرچہ لینے کی بجائے ٹوپیاں سی کر اپنا خرچ چلاتا تھا۔ ہندوستان سارے مسلمان بادشاہوں نے ہنددؤں کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔اسلام امن اور شانتی کا دین ہے۔ اس میں کسی کو ذبردستی مسلمان نہیں بنایا جا سکتا۔مسلمانوں نے ہندوستان میں کہیں بھی مندر کو توڑ کر مسجد یں نہیں بنائیں۔یہ بھارتی سیاستدانوں کے چھوڑے ہوئے شوشے ہیں ۔ ہنددؤں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسا کر ووٹ حاصل کرنے کے حربے ہیں۔یہ مسلمان بزرگانِ دین تھے کہ جنہوں نے اسلام کے پر امن اور شانتی والے مذہب کی اپنے خانقاؤں میں بیٹھ کر تبلیغ کی اور کروڑوں ہندو مسلمان ہو گئے۔ مسلمان حکمرانوں نے ہنددؤں کے مقامی راجاؤں کو بھی عوام پر مظالم سے روکے رکھا۔ہندو راجاؤں کو صرف سیاسی غلبہ کے بعد مکمل مذہبی آزادی تھی۔اسی لیے وہ اپنے ہندو عوام کو مسلمان بادشاہوں کی اطاعت پر راضی کرتے رہے۔

اس کے برعکس بھارت میں مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ واپس شدھی ہو جاؤ ورنہ پاکستان چلے جاؤ۔مسلمان کو پاکستان کا ایجنٹ کہا جاتا ہے۔گائے کا گوشت کھانے کے شک میں بے دردی سے شہید کر دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا کہ مسلمان ہندو ؤں کی طرح اپنے مردوں کو جلائیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے لیے قبرستانوں کی جگہ نہیں۔ آذان پر پابندی لگائی جاتی ہے۔کشمیر میں جمعہ کی نماز پر ہوتی ہے۔ مزاروں کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ مسلمان کو باندھ کر مارا جاتا اور جے شری رام کہنے کو کہا جاتا۔مسلمانوں کوبھارت کے آئین کے مطابق نہ نوکریاں ملتی ہیں نہ ہی تعلیمی ادروں میں داخلے ملتے ہیں۔سچر رپورٹ اور دوسری رپورٹیں مسلمان کی خستہ حالی کا رونا رو رہی ہیں۔ مسلمان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک ہوتا ہے۔ مسلمان سرکاری نوکری نہ ملنے پر چھاپڑی ،دکان اور چھوٹاموٹا کارخانہ لگاتے تو مذہبی ہنگامے کرواکر مسلمانوں کے کاروبار کو خاکستر کر دیا جاتا ہے۔

کشمیر میں تو سفاک بھارت کی نسل پرست فوج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔پہلے کشمیری نوجوان کو گرفتار کرتے ہیں۔ مسنگ پرسن قرار دے دیتے ہیں۔ ازیتیں دے دے کر قتل کر دیتے ہیں۔پھر جھوٹاانکاؤنٹر ظاہر کرکے لاش ویرانے میں پھینک دیتے ہیں۔ اگر وادیوں کی تلاش میں گھر گھر کی تلاشی لیتے ہیں۔گھروں کا گیراؤ کر کے عورتوں کے ساتھ زیادتیاں کرتے ہے۔ اب تک دس ہزار سے زاہد کشمیریوں بے گناہ محصوم عورتوں کی اجتماعی آبروزیزی کر چکے ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کو غائب کر دیا ہے جسے عام زبان میں مسنگ پرسن کہتے ہیں۔کشمیر میں درجنوں اجتماہی قبریں دریافت ہو چکیں ہیں۔ ہزاروں کشمیری بھارت کی جیلوں میں سٹر رہے ہیں۔جیلوں سے جوکشمیری رہا ہوئے، ان کو عبرت بنا کر زندہ لاشیں بنا کر چھوڑاجاتا، تا کہ باقی کشمیری نوجوان خوف زدہ ہو کر اپنی آزادی کے نعرے نہ لگائیں۔۱۹۴۷ء کے بعدایک لاکھ کشمیری شہید کر دیے گئے۔ اس سے قبل مہاراہہ کی غلامی کے دوران پانچ لاکھ کشمیری شہید کیے گئے۔ کشمیر شہیدوں کے قبرستانوں سے بھر گیا ہے۔آزادی کی بات کرنے والے کئی کشمیری سیاسی لیڈروں کو شہید کر دیا گیا۔سیاسی لیڈروں کو آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی رہبری سے روک کر جیل ڈال دیا جاتا ہے یاہاؤس اریسٹ رکھا جاتا ہے۔ کشمیری لیڈرشبیر شاہ کو دنیا نے ضمیر کا قیدی مانا۔ کالج کی بچیاں جب آزادی کے مظاہروں میں شریک ہوتی ہیں تو ان کو گرفتار کر کے ان کی چوٹیاں کاٹی جاتی ہیں۔ کشمیری نوجوان کو فوجی جیب کے بونٹ سے باندھا جاتا ہے کہ پتھر اس پر پڑھیں اور بھارت فوجی سورما بچے رہیں۔کشمیریوں پر بلیٹ گنیں چلا کر کشمیریوں اندھا کیا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کی زری زمینوں ، پھلوں کے باغوں اور دوکانوں پر گن پاؤڈو چھڑک کر کاکستر کر دیا جاتا ہے۔ مکانوں میں باردو رکھ کر انہیں اُڑا دیا جاتا ہے۔ ظلم کی ایک لمبی داستان ہے کتنی بیان کیجائے۔ دنیا کی آزادی کی تاریخوں کا اگر مطالعہ کیا جائے تو کشمیری پر بھارتی قوم پرست فوجیوں کے مظالم سرے فہرست ہو ں گے۔ کسی بھی صحافی اور انسانی حقوق کی تنظیم کو کشمیر میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارتی فوجیوں کے کچھ مظالم کے واقعات اپنی رپورٹ میں آشکار کیے ہیں۔ جس کو ساری انصاف پسنددنیا نے ظلم مانا ہے۔ مگر بھارت تو حکومتی سطح پر کشمیریوں کو ہمیشہ غلام رکھنے کے بھارتی آئین کی اسپیشل دفعہ ۳۷۰ اور۳۵a ،جس کے تحت کشمیر میں کوئی غیر کشمیری جائداد نہیں خرید سکتا، اے ختم کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے ۔

تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق،پاکستان مسئلہ کشمیر کا تیسرا فریق ہے۔کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ان حالات میں کشمیر کے مسئلہ کا صرف ایک ہی حل ہے ۔ وہ ہے جہاد فی سبیل اﷲ ہے۔کشمیر کے مسلمان ذبح کیے جارہے ہیں۔ اس لیے ان کی مدد کرنا مسلمانوں کا مذہبی بھی فریضہ ہے۔ پاکستان کی حکومت کو بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کرنا چاہیے۔ علماء قرآن و حدیث کی روشنی میں حکومت کی تائید کرنے کا اعلان کریں۔کیا دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت دیتا کی ایک قوم کسی قوم کو ختم کرنے کا اعلان کرے اور دوسری قوم اس کے سامنے اپنے سر رکھ دے کہ آؤ اور ہمیں ختم کر دو۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً نہیں ،تو پاکستان کو بھارت کے خلاف اپنے دین کے مطابق جہاد فی سبیل اﷲ کا عام کا اعلان کر دینا چاہیے۔ سسک سسک کر مرنے سے بہتر کہ میدان جہاد میں جان دے دی جائے۔ ورنہ بھارت کشمیر تو کجا، قوم پرست ہندو، پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت بنانے کے اپنے پرانے منصوبے پر اپناعمل کر کے رہے گا۔ موددی خود دہشت گرد تنظیم ،انتہاپسند،قوم پرست آر ایس ایس تنظیم کا بنیادی رکن ہے۔ موددی نے الیکشن مہم کے دوران بھارت عوام میں پاکستان سے جنگ کا سمع پیدا کیا۔ پاکستان کو سبق سکھانے کے منشور پر الیکشن جیت کر اقتدار میں آیا ہے۔ موددی حکومت کوآر ایس ایس اور دوسری ہندو انتہا پسندوں کی حمایت حاصل ہے۔سیاسی محاذ پر،پاکستان کے وزیر اعظم کو موددی سے بار بار امن کی درخواست کرنے کے بجائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ جب تک بھارت کشمیر کو متنازہ مسئلہ تسلیم نہیں کرتا مذ اکرات کی بات نہیں کرنا چاہیے۔ بھارت کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف نہرو۔ لیاقت معاہدے کے بات کرنی چاہیے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے۔بھارت گلگت اور بلوچستان میں کھلے عام دہشت گردی کرو ارہا ہے ۔اپنی عوام کو اعتماد میں لے کرکشمیر میں جاری تکمیل پاکستان کی تحریک کی مکمل پشتہ بانی کرنی چاہیے۔ پاکستان اور کشمیر کے عوام ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس تنظیم نے اپنا انسانیت دوست منشور کے مطابق کشمیر میں بھارت کے مظالم کو مہذب دنیا کے سامنے پیش کیا۔کشمیر کے مظالم ایک نہ ایک ضرور ختم ہونگے اور کشمیری آزادی کا سانس لیں گے۔ ان شاء اﷲ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 927 Articles with 458741 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More
21 Jun, 2019 Views: 332

Comments

آپ کی رائے