ایک ریڈیو کی کہانی

(راجہ ابرار حسین, Wah cantt)

نوٹ۔ 1993 میں میں نے کراچی کباڑ سے ایک ریڈیو خریدا ۔ یہ اسکی کہانی ھے ۔ خود ریڈیو کی زبانی سنیں۔

میں ایک ریڈیو ھوں ۔ یہ میری سچی آپ بیتی ھے ۔ اس میں زرا برابر بھی مبالغہ آراٸ نہیں ھے ۔ بڑھاپے اور وحشت انگیز تنہاٸ کی وجہ سے میری یاداشت ضرور متاٸثر ہوٸ ھے ۔ لیکن اپنی زندگی کا جو قصہ میں آپ کو سنانے لگا ہوں وہ میرے دماغ میں نقش ہو کر رہ گیا ھے ۔ زمانے کی گردش اس واقعے کی تلخی کو میرے دل و دماغ سے نہیں مٹا سکی ھے ۔

مجھے فلپس کمپنی نے بنایا ۔ میری جسامت بہت بڑی تھی ۔ ایک عام ریڈیو میں دو سیل پڑتے ھیں۔ جبکہ میرے اندر چھ سیل پڑتے تھے۔ اس سے آپ اندازا لگا سکتے ھیں کہ میں قد کاٹھ میں کتنا بڑا تھا ۔ میری آواز گرج دار اور صاف ستھری تھی۔

کافی عرصہ چلنے کے بعد جب میری چمک دمک ماند پڑ گٸ تو مجھے کباڑ خانے میں دے دیا گیا ۔ یہاں سے میری زندگی میں ایک انوکھا موڑ آیا ۔ مجھے دو لڑکے وہاں سے خرید کر لے گٸے ۔ ان کی بات چیت سے مجھے معلوم ھوا کہ ایک کا نام ابرار ھے اور دوسرے کا نام طاھر ھے ۔ دونوں لڑکے چکوال کے گاٶں کرولی کے رھنے والے تھے۔ یہ 1993 کے جولاٸ یا اگست کی بات ھے ۔ دونوں لڑکے چکوال کالج میں سیکنڈ اٸیر کے طالب علم تھے ۔ اور کراچی گھومنے آٸے ھوٸے تھے ۔

مجھے کباڑ سے خرید کر انھوں نے میری مرمت کرواٸ۔ اور میں بہتر حالت میں آگیا ۔ ریڈیو ابرار حسین نے اپنے والد صاحب کے لیۓ خریدا ۔ جب لڑکے کراچی سے گاٶں گٸے تو میں بھی انکے ساتھ کرولی گاٶں پہنچ گیا ۔

ابرار مجھے گاٶں چھوڑ کر کالج چلا گیا ۔ وہ چکوال ٹیکسٹاٸل ملCTM میں اپنے نانا کے پاس رھتا تھا ۔ یہ مل چکوال سے بیس کلومیڑ پنڈی روڈ پر واقع تھی ۔ اس کے ساتھ ایک گاٶں ھے جسے چک نورنگ کہتے ہیں۔ وہاں تیل کے کنویں بھی کھودے گۓ ہیں۔

اگلی بار جب ابرار گاٶں آیا تو میں خاموش ھو چکا تھا ۔ میرے اندر نامعلوم خرابی آچکی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ ابرار کافی پریشان اور مایوس ھے ۔ اس کا خیال تھا کہ اتنا بڑا ریڈیو کافی عرصہ چلے گا ۔ لیکن میں تو صرف ایک ماہ چل کر ھی رک گیا۔

گاٶں سے واپس جاتے ہوٸے ابرار نے مجھے تھیلے میں ڈالا اور ساتھ لے گیا ۔ میں شرمندہ شرمندہ سا تھا ۔ اس لیۓ بغیر کوٸ آواز نکالے چپکے سے تھیلے میں لیٹا رہا ۔

مل کے کواٹر میں لا کر مجھے ایک کونے میں ڈال دیا گیا ۔ کچھ دن میں ایسے ھی گم سم پڑا رھا ۔ جب جوانی ڈھل جاٸے تو حسن پھیکا پڑ جاتا ھے ۔ اس وقت عاشق بھی دلداریاں کرنا چھوڑ دیتا ھے ۔ میرا اور ابرار کا ساتھ بہت تھوڑے وقت کا تھا ۔ زیادہ سے زیادہ دو ماہ ہوٸے ہوں گے۔ لیکن اس تھوڑے سے عرصے میں ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح جان چکے تھے ۔ ابرار ایک پڑھا لکھا ۔ سوچ سمجھ کر کام کرنے والا آدمی تھا ۔اسکی عادت تھی کہ دوسروں کی غلطیوں اور زیادتیوں کو جلدی بھول جاتا۔ اور بات کو دل میں نہ رکھتا ۔ میرے ساتھ بھی اس نے درگزر کا معاملہ کیا اور چکوال شہر میں مکینک کو ٹھیک کرنے کے لیۓ دے دیا۔

بدقسمتی سے میری خرابی دور نہ ھوٸ ۔ ابرار مجھے اٹھاۓ ایک کے بعد دوسرے مکینک کے پاس جاتا رھا۔ لیکن کسی کو میری خرابی سمجھ نہ آ سکی ۔ آخر ابرار نے مزید کسی مکینک کے پاس نہ جانے کا فیصلہ کیا ۔ کالج کا ایک پیریڈ خالی تھا ۔ ابرار نے مجھے مکینک کی دکان سے اٹھایا اور کالج لے گیا ۔ بڑا سا تھیلا اٹھاۓ ھوۓ ابرار کچھ عجیب سا لگ رہا تھا ۔ طالب علم بھی اسے دلچسپی سے دیکھ رہے تھے ۔ ابرار مجھے اٹھاٸے اٹھاٸے کالج کے پچھلے حصے میں لے گیا ۔ آج کل وہاں نٸ عمارت بن گٸ ھے 1993 میں وہاں کچھ گرے ھوٸے پرانےکمرے تھے اور جھاڑیاں اور گھاس وغیرہ اگی ہوٸ تھی۔

ابرار نے ایک گرے ہوٸے کمرے کی دیوار پھلانگی اور مجھے اس کے اندر پتھروں کے بیچ چھپا دیا ۔ اور وہاں سے چلا گیا ۔ اس کا ارادا تھا کہ چھٹی کے بعد مجھے وہاں سے نکال کر لے جایۓ گا۔

کافی وقت گزر گیا اور ظہر کی آذان بھی ھوگٸ۔ کالج میں چھٹی ہو چکی تھی لیکن ابرار کا کہیں دور دور تک پتا نہ چل رھا تھا۔ عصر کی آذان ھوٸ تو مجھ پر گھبراہٹ طاری ھونے لگی ۔ میرا دل خوف اور وسوسوں کی آماجگاہ بن چکا تھا ۔ پھر رات ھوگٸ۔اور کمرے میں اندھیرا ھو گیا ۔ چھت کا کچھ حصہ گرا ھوا تھا ۔وہاں تاروں کی ہلکی ہلکی روشنی اندر آ رھی تھی ۔ ماحول ڈراٶنا تھا ۔ لیکن کیا کرتا ۔ دم سادھے پڑا رھا ۔

دوسرے دن بھی ابرار نہ آیا ۔ شاٸید مصروف ھو گیا تھا ۔ مجھے امید تھی کہ ابرار ضرور آۓ گا ۔ وہ پرانی چیزیں سنبھال کر رکھنے کا عادی تھا۔ اس نے پرانی ڈاٸریاں پرانے خط اور پرانے رسالے محفوظ کر کے رکھے ھوٸے تھے ۔ اس لیۓ میرا خیال تھا کہ مجھے بھی وہ محفوظ کر لے گا۔

کٸ دن گزر گۓ ابرار نہ آیا ۔ کالج میں امتحانات بھی ھو گۓ اور نٸی جماعت کے داخلے بھی ہو گٸے ۔ لیکن میں جہاں تھا وہیں پڑا رہا ۔ معلوم نہیں میں کتنا عرصہ پڑا رہا ۔ امتداد زمانہ سے میرا رنگ اتر گیا ۔ جسم گل گیا ۔اور شکل و صورت خراب ھو گٸ ۔ دکھ اور صدمے نے میری یاداشت چھین لی ۔ اب یہ بھی نہیں جانتا کہ میں کدھر پڑا ھوں ۔ اس بات کو عرصہ ہی بیت گیا ۔ اپنی آپ بیتی اس لیٸے لکھ رھا ہوں کہ شاٸید ابرار کی نظروں سے گزرے تو اسے اپنے رویۓ پر کچھ شرمندگی ھو ۔ اور وہ مجھے لینے آ جاۓ ۔

[نوٹ۔...کچھ عرصہ پہلے میں یعنی ابرار حسین چکوال کالج گیا تو ریڈیو کا خیال آیا ۔ لیکن اس جگہ کا نقشہ ھی بدل چکا ہے ۔ وھاں ایک بہت بڑی عمارت بن چکی ھے ۔ جو شاٸید لڑکیوں کا کالج ھے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 218 Print Article Print
About the Author: راجہ ابرار حسین

Read More Articles by راجہ ابرار حسین: 7 Articles with 3209 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: