اسیر جان (قسط ٤)

(Kanwal Naveed, Karachi)

بعض اوقات جن راستوں کو ہم اپنے لیے سہل سمجھتے ہیں ،وہ کسی منزل تک ہماری رہنمائی نہیں کرتے بلکہ اآگے سے بند ہوتے ہیں۔

جہاز کے جلد اُترنے کی انونسمنٹ کر دی گئی۔ نویرہ نے کتاب بند کی ۔کنول نے نویرہ کی طرف دیکھا تو ،نویرہ نے پوچھا آپ کراچی میں رہتی ہیں یا کسی سے ملنے آئی ہیں ۔ کنول نے کہا۔کزن کی شادی کے لیے ہم سب ۔ میری نانی اور امی آئیں ہیں ۔ آپ ؟ نویرہ نے کہا۔ میں تو یہاں ہی رہتی ہوں ۔ یونیورسٹی میں نفسیات پڑھاتی ہوں ۔ جہاز لینڈ کر چکا تھا۔ لوگ سامان نکالنے لگے۔ نویرہ نے بھی سامان نکالا۔اللہ حافظ ۔ نائیس ٹو میٹ یو۔کہہ کر جہاز کے دروزے کی طرف جانے لگی ۔ کنول نے نانی اور امی کی طرف دیکھا ۔ ہم کراچی پہنچ گئے ۔ کنول نے ہنس کر کہا۔
امی اور نانی کے ساتھ وہ جہاز میں سے نکلی تو سب سے پہلے اس نے آسمان کی طرف دیکھا ۔وہ پہلی بار کراچی آئی تھی۔ محمود اور ماموں جان کو آتے دیکھ کر کنول خوشی سے چلائی۔ امی ،نانی وہ ماموں آ گئے۔نانی نے اپنی اندر کو دھنسی ہوئی انکھوں کو جس قدر کھول سکتی تھیں کھولتے ہوئےدیکھنے کی ناکام کوشش کی۔ کنول نےپھر نانی جان کو اشارہ کرتے ہوئے دیکھانے کی کوشش کی اب کی بار ماموں جان بہت قریب تھے۔ نانی جان نے خوشی سے کہا۔ہاں ہاں آگئے۔
ساجدہ نے اپنے بھائی کا یہ گھر نہیں دیکھا تھا۔ نیا گھر انہوں نے دو سال پہلے ہی لیا تھا۔ یہ عالیشان بنگلہ معلوم ہوتا تھا۔ گارڈن کے ایک سرے پر پورچ میں ایک گاڑی کھڑی تھی ، دوسری محمود نے جب کھڑی کی تو ساجدہ نے اداس دل کے ساتھ گاڑی کا دروازہ کھولا۔ وہ گھر کی خوبصورتی جو جیسے جیسے دیکھتی جا رہی تھیں ۔ محمود سے کنول کی شادی نہ ہونے پر ان کے دل میں افسردگی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا ،بھائی میرے کی محنت اور لوگ کھائیں گئے۔ کیا تھا اگر کنول اس گھرکی بہو بن جاتی ۔ کمی کیا تھی ، میری بیٹی میں۔ کھوئی کھوئی جب وہ اندر داخل ہوئی تو گھر کے باہر کے حصے کی طرح اندرکے کمرے بھی شاندار اور خوبصورت تھے ۔ گویاساجدہ کے بھائی نے زندگی بھر کی جمع پونجی لگا دی تھی۔ ملنے جلنے اور رسمی گفتگو کے بعد جب وہ کمرے میں گئی تو اپنی ماں سے اپنے دل کی بات کرنے لگی ۔ کنول کا کمرہ الگ تھا۔ جبکہ نانی اور ساجدہ کو ایک ہی کمرہ دینے کے بعد ممانی نے کنول کو دوسرا کمرہ دیکھایا تھا۔ کنول جب اپنا سامان دوسرے کمرے میں چھوڑ کر نانی کے پاس آئی تو اپنی امی کو روتے ہوئے پایا۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھیں ، کمی کیا تھی میری بیٹی میں ۔ میری کنول سے ذیادہ کون ان کا خیال رکھتا ۔ اپنے آخر اپنے ہوتے ہیں ۔ محمود کے لیے باہر سے رشتہ کرنے کی ضرورت کیا تھی۔
نانی خاموشی سے ساجدہ کی ہاں میں ہاں ملائے جاتی ۔ وہ ماموں کی بجائے اپنی بہو کو کوستی جا رہی تھیں ۔ نانی کا خیال تھا کہ ان کا بیٹا معصوم ہے۔ان کی بہو نے کوئی تعویذ دھاگا کروا کر قابو میں کر لیا ہےورنہ ان کا بیٹا تو جان دیتاتھا، ماں بہن پر۔ ساجدہ مگر ماننے کو تیار نہ تھی ۔ دونوں اپنی طرف سے دلائل کے ساتھ گفتگو کر رہی تھیں ۔ کنول نے جب دروازہ کھولتے ہوئے ان کی باتیں سنی تو احمر بھی اس کے ساتھ ساتھ نانی جان کو ملنے کمرے کے باہر آ چکا تھا ۔ احمر اور کنول نے ان دونوں کی باتیں سنتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کنول شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔ اس کی امی اور نانی احمر کے ماں اور باپ کو کوس رہی تھیں ۔ کنول نے شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے احمر کو سلام کیا، اس نے بھی رسمی طور پر حال چال پوچھنے کے بعد دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایاپھر اپنا نام سن کر پیچھے ہو گیا۔نانی نےکہا احمر تھا احمر بھی تو ہے۔ میں کنول سے کہوں گی۔احمر سے بات جیت کرئے۔ سات ماہ تو چھوٹا ہے ۔کون سا دس سال کا فرق ہے جو۔۔۔۔ساجدہ نے افسردگی سے کہا۔ وہ کیا بات کرئے گی ۔ اور ہی لڑکیاں ہوتی ہیں جو لڑکوں کو شیشے میں اتار لیتی ہیں ۔ اسے تو شعر لکھنے سے فرصت ملے تو کسی اور طرف دھیان دے۔ احمر نے کنول کی طرف دیکھا ۔ اس کی نظریں نہیں پورا سر ہی جھکا ہوا تھا۔
کنول نے دل ہی دل میں سوچا ،کاش یہاں آئی ہی نہ ہوتی ۔ یہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاوں ۔ امی اور نانی کا بس چلے تو مجھے سڑک پر کھڑا کر کے نمائش میں لگا دیں ۔ کوئی ہے قابل اور کماو ،جو اس لڑکی کے ساتھ شادی کر لے۔ اس کو اپنی گردن میں جھکاو کی وجہ سے درد محسوس ہونے لگا تو اس نے مجبوراً گردن اوپر کی۔ احمر ابھی بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ احمر نے دروازے پر دستک دیتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔ دونوں جب اندر داخل ہوئے تو ساجدہ نے اپنا چہرہ پلٹ کر دوپٹہ سے صاف کرنے کی کوشش کی ۔احمر نے پیار سے دادی جان کے گلے لگتے ہوئے کہا۔ آپ کو کبھی ہماری یاد نہیں آئی دادی ۔ ساجدہ نے کٹے ہوئے لہجے میں کہا۔ ہمیں تو یاد ہے ۔ہم ویسے ہی ہیں ،تم لوگ امیر ہو گئے ہو ،تو بھول گئے ہو۔
احمر نے ہنس کر کہا۔ نہیں نہیں پھو پھو۔ مجھے تو ابھی تک آپ کے بنائے ہوئے مولی کے پراٹھے یاد ہیں ۔ جو میرے منہ میں زبردستی دادی نے ٹھونس کر کھلا دیئے تھے ۔کیسے میں دو پراٹھے کھا گیا۔ ساجدہ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔ نویں میں تھے تم ،اس وقت ۔ وقت کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا۔
احمر نے ساجدہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ ہم وقت کو واپس لے آئیں گئے۔ کنول نے احمر کو ایک نظر دیکھا ، وہ ان تصاویر سے کہیں ذیادہ سمارٹ تھا جو وہ فیس بک پر پوسٹ کرتا تھا۔ کالا رنگ ہونے کے باوجود وہ پرکشش تھا۔ کنول نے دل ہی دل میں سوچا یہ اس کے بارے میں کیا سوچتا ہو گا۔ امی اور نانی نے تو اس کی نظر میں مجھے گِرادیا۔
احمر کے کمرے سے چلے جانے کے بعد کنول نے غصے سے نانی اور امی کو گھورتے ہوئے کہا۔ آپ لوگوں کو کچھ خیال نہیں ہوتا ۔ جو منہ میں آتا ہے کہتی ہیں ۔ ساجدہ نے حیرت سے کنول کی طرف دیکھا ۔ ارے کیا ہوا ؟ کنول نے غصے سے کہا۔ کس کو شیشے میں اتاروں میں ۔ نہیں آتا مجھے یہ سب ۔ نہ ہی شوق ہے سیکھنے کا۔ پہاڑ میں جائے آپ کا احمر ۔ احمر نے درازے پر دستک دی ، کنول چپ ہو گئی۔ احمر کمرے میں داخل ہوا تو اس نے کنول کی طرف دیکھا۔ کنول نے پریشانی سے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیا ۔ وہ میری چابی۔ وہ چابی لے کر کمرے سے خاموشی سے نکل گیا۔ ساجدہ نے کنول کی طرف دیکھ کر کہا۔ ہائے وہ کیا سوچتا ہو گا۔ کنول نے غصے سے کہا ،جب آپ بول رہی تھیں اس وقت سوچنا چاہیے تھا نا۔ نانی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ رہی سہی کسر تم نے نکال لی۔ چپ نہیں رہ سکتی تھی۔ کنول نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ کیسے چپ رہتی۔ آپ لوگوں کا اثر جو ہے مجھ پر ۔ وہ مٹھیوں کو بھیجتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
اپنے کمرے میں آ کر اداس دل لیے بیٹھی تھی ، اس نے پرس سے کاپی پن نکالا۔
اپنی ذات کی کمی کا تذکرہ کس سے کرئیں
اپنی کوہتائیوں کا تبصرہ کس سے کرئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس قدر وابسطہ ہیں امیدیں ہم سے کنولؔ۔
ہم نے اپنے سے متعلقہ ہر امید توڑ دی ہے۔
بس گزرتا ہے جیون خوش رہیں اپنے سبھی۔
جینا ہم نے زندگی اپنی کب کی چھوڑ دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی انکھوں سے آنسو چھلک گئے۔ اس کی امی کمرے میں آ چکی تھیں ۔ اس نے امی کو دیکھ کر کاپی میں پن رکھا۔ امی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے کہا۔ تمہیں پتا ہے کنول ،میرے لیے تم ہی سب کچھ ہو۔ تمہاری انکھوں میں کبھی آنسو نہ آئیں ،یہی دُعا ہے میری۔ کنول نے درد بھرے دل سے افسردگی سے کہا۔ امی ۔۔۔۔ابھی وہ کچھ بولتی ، اس سے پہلے ہی ساجدہ نے کہا۔ جو ہوا ، اس کے لیے سوری ۔ میں اپنے آپ میں نہیں رہی تھی۔ ہم نے کون سا یہاں ساری زندگی رہنا ہے۔ احمر کو جو سوچنا ہے سوچتا رہے۔ ستائیس تاریخ کو شادی ہے اور تیس کو ہم یہاں سے چلے جائیں گئے۔ کنول نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا۔ آج کیا تاریخ ہے؟ گویا وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی تا کہ احمر کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے۔
ایان نے چیختے ہوئے کہا۔ آپ کو معلوم تھا نا کہ محمود کی شادی ہے ،مجھے احمر کے ساتھ کچھ کاموں کے لیے جانا ہے تو آپ نے کیوں ڈیڈی سے کہا،ایان آئے گا۔ میں کبھی بھی کسی صورت میں بھی دُبئی نہیں جا رہا ۔ سمجھی آپ ۔ اس کی مما نے غصے سے چیختے ہوئے کہا۔ تم اور تمہارے دوست ۔ تمہارے ڈیڈی کو تمہاری ضرورت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تم فرنیچر کی یہ ایگزبیشن دیکھو ۔ ایان نے ان کے سامنے آ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے لکڑی میں ۔ مجھے ڈاکٹر بننا ہے۔ رذلٹ آئے گا تو میں آگے ایڈمیشن لوں گا۔ آپ ڈیڈی کو بتا دیں ۔ ایان کی مما نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔ جو بتانا ہے خود بتاتے رہنا ۔ میں کہہ دوں گی ۔ ایان سے خود بات کر لیں ۔
وہ پاوں پٹختا ہوا باہر نکل گیا۔ گاڑی کو سٹارٹ کرتے ہوئے اس نے اپنے آپ سے کہا۔ ہر شے پیسے سے نہیں ملتی ۔ ڈیڈی کو بس آگے اور آگے بزنس لے کر جانا ہے۔ خواہ خود پیچھے سے پیچھے جاتے جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا مگر مجھے مشین نہیں بننا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول سب کی موجودگی میں کھانا کھاتے عجیب سا محسوس کر رہی تھی۔ عرصے سے نانی اور امی کے علاوہ دستر خوان پر کوئی نہیں ہوتا تھا۔ اسے ہاتھ سے چاول کھانے کی عادت تھی۔ وہ چاولوں کو دیکھ رہی تھی، جب اس نے ٹیبل پر بیٹھے لوگوں کا مشاہدہ کیا تو سب اپنی اپنی پلیٹ کے ساتھ مصروف تھے ۔ دل نے کہاکہ ہاتھ سے چاول کھا لے لیکن دماغ نے انکار کر دیا۔ وہ ابھی اسی کشمکش میں تھی کہ ماموں جان نے کنول کو دیکھتے ہوئے پیار سے کہا۔ کنول بیٹا تم تو کچھ کھا ہی نہیں رہی۔ اس نے چمچ اُٹھاتے ہوئے اس میں چاول بھرتے ہوئے کہا۔ جی۔
ماموں نے مسکرا کر کہا۔ بھئی سیر کا پروگرام بناو ۔نانی نے احمر کی طرف دیکھ کر کہا۔ہمیں اس عمر میں کیا سیر کرنی ہے۔ احمر سے کہو ،کنول کو لے جائے سمندر دیکھانے۔ اسے بہت شوق تھا۔ سمندر دیکھنے کا۔ کنول کا ہاتھ منہ تک آ کر رُک گیا۔ اسے ہاتھ میں اُٹھائی چمچ بھی بھاری لگ رہی تھی۔ ۔ ۔۔اس نے گھور کر نانی کو دیکھا۔ وہ کہہ تو سچ رہی تھیں ۔ کراچی آنے سے پہلے اس نے نانی سے کہا تھا۔ وہ سمندر دیکھنے کی خواہش مند بھی تھی مگر اب احمر کے ساتھ۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ احمر نے خوش دلی سے کہا۔ کیوں نہیں ۔پھوپھو آپ تو چلیں گی نا۔ کل شام چلتے ہیں ۔ ساجدہ کی طرف کنول نے التجابھری نظروں سے دیکھا۔ ساجدہ نے مگر کنول کی طرف دیکھے بغیر ہی انکار کر دیا۔ میرے تو گھٹنوں میں درد ہے ۔ مجھ سے نہیں ریت پر چلنے ہوتا۔ تم لوگ ہی جاو۔ممانی جان نے محمود کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، تم حریم سے پوچھ لو ۔ تم دونوں بھی چلے جاو۔ محمود نے اثبات میں سر ہلایا۔
کنول نے غیر ارادی طور پر احمر کی طرف دیکھا۔ وہ پہلے ہی اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کنول نے فوراً اپنی نظریں ساجدہ کی طرف گھما لیں۔ کنول نے دل ہی دل میں کہا۔ اللہ جی کل کچھ ایسا ہو کہ احمر کے ساتھ مجھے جانا ہی نہ پڑے ۔ وہ پتہ نہیں کیا سوچتا ہو گا۔ امی اور نانی نے کیسا گندہ امیج بنا دیا ہے میرا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستارہ نے اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے حیرت سے کہا۔ آپ کا مطلب ہے کہ میں پڑھائی چھوڑ دوں اور شادی کرلوں ۔یہ کیا بات ہوئی۔ میری سال بھر کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ امتحان کی ڈیٹ آ گئی ہے۔ اب آپ کہہ رہی ہیں کہ میں شادی کر لوں۔
ستارہ کی امی فرزانہ نے سنجیدگی سے کہا۔ ہاں میں کہہ رہی ہوں کہ تم شادی کر لو،منان کو تم پسند آ گئی ہو۔ امتحان شادی کے بعد دے دینا۔ ابھی وہ فوراً سے ویزہ تھوڑا ہی بھیج دے گا۔ ستارہ نے الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔جان نہ پہچان ،میں تیرا مہمان۔ یہ کہاں سے نمودار ہو گیا ہے منان ۔ ستارہ کی امی نے ہنس کر کہا۔ لڑکی کے لیے رشتے اسی طرح آتے ہیں ۔ منان کے دادا جی اور تمہارے دادا جی اچھے دوست تھے۔ منان کے بابا یو۔کے میں جا کر بس گئے۔ جان پہچان تو ہے نا۔
ستارہ نے امی کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ امی اتنی سی جان پہچان کافی نہیں ۔ دادا جی کو مرے زمانہ ہو گیا۔ منان کے دادا کون تھے کیاتھے کیا ورق پڑتا ہے۔ آپ ذرا غور تو کریں نا۔ پلیز۔
فرزانہ نے مسکرا کر کہا۔ غور تم کرو۔ ایک لڑکی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اسے جیون ساتھی اچھا مل جائے۔ ستارہ نے امی کی طرف دیکھ کر کہااور اس کی کیا گارنٹی ہے کہ جیون ساتھی اچھا ملنے والا ہے۔ فرزانہ نے کچھ دیرچپ رہنے کے بعد کہا۔ اس کی گارنٹی تو کوئی بھی نہیں دے سکتامگر جو معیار دیکھے بھالے جاتے ہیں ۔ہم بھی انہی کو دیکھ کرچاہ رہے ہیں کہ ہاں کر دیں ۔ یہاں بہت اچھے گھر ہیں ان کے اور تمہارے بابا کے دوست ستار جو یو ۔کے میں ہوتے ہیں ،ان سے پتہ کروایا ہے ۔منان کے بارے میں ان کی رائے بہت اچھی ہے۔ ستارہ نے افسردگی سے کہا۔ امی آپ تو مجھے دو دن خالہ کے گھر نہیں رہنے دیتی تھیں کہ میرے بغیر آپ کا دل نہیں لگتا اور اب مجھے دوسرے ملک بھیجنے پر کیسے مان گئی ہیں ۔ فرزانہ کی انکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ اس نے بھری ہوئی آواز میں کہا۔ تمہاری خوشی کے لیے۔
ستارہ نے ماں سے لپٹتے ہوئے کہا۔ کہاں کی خوشی ۔ کون سی خوشی ۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔ مجھے پڑھنا ہے ابھی ۔ جب فاخرہ آنٹی رشتہ لے کر چاہ ماہ پہلے آئی تھیں تو آپ ہی نے کہا تھا نا ۔ میری بیٹی کی عمر ہی کیا ہے ۔ اب کیا ہوا۔ فرزانہ نے اسے اپنی انکھوں کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔ سات لوگوں کا گھر ہے وہ ۔ساری زندگی کے سر میں کیڑے ڈالنے کے برابر تھا۔ یہاں بات اور ہے۔ بہت امیر لوگ ہیں ۔ پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے۔ سب سے بڑھ کر لڑکا شکل وعقل کے ساتھ اچھا خاندان رکھتا ہے۔ ستارہ نے فرزانہ کی طرف دیکھ کر کہا۔ آپ نے کرنی تو اپنی ہی ہے۔ مجھ سے پوچھنے کی فارملٹی کیوں پوری کر رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون پر گھنٹی لگا تار بج رہی تھی۔ کنول نے صوفہ پر پڑا فون دیکھا۔ اس نے اردگرد جائزہ لیا ۔ قریب قریب کوئی نہ تھا۔ وہ صوفہ کے قریب آئی ۔ ایان جانی اس نے نام پڑھا ہی تھا کے اس کی سائیڈ سے احمر نمودار ہوا۔ وہ چونک گئی۔ احمر نے فون اٹھاتے ہی پک کر لیا۔ اس نے کنول کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میرا ہے۔ کنول نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اس کی انکھیں سرخ سرخ لگ رہی تھیں۔
دوسرے ہی لمحے آواز نے کنول کے قدموں کو بھاری کر دیا۔ یار وہ میری کزن کو سمندر دیکھانا ہے ۔بس پانچ ، ساڑھے پانچ بجے ہم نکلیں گئے۔ تمہارے ساتھ کل جا کر شادی حال دیکھوں گا۔
کنول نے وال کلاک کی طرف دیکھا۔ چار ہو چکے تھے۔ اس کے دل میں فوراً آیا چلو ، محمود بھائی اور ۔۔۔۔ابھی اس کے دماغ میں خیال ادھورا ہی تھا کہ احمر کی آواز نے اس کے سماعت کو ایک اور دھچکا لگایا۔ محمود بھائی نے منع کر دیا ہے ، سمندر پر جانے سے ۔ انہیں کچھ اور کام ہے۔
کنول بھاری بھاری قدموں کے ساتھ اپنے کمرے میں آئی ۔ اس کی نظر پھر وال کلاک کی طرف گئی۔جو اسے اپنے کمرے میں نظر نہیں آئی ۔ اس نے اپنا موبائل اُٹھایا ٹائم دیکھا۔اللہ ۔ اس نے دل ہی دل میں خود کے ساتھ نانی اور امی کو کوستے ہوئے کہا۔ میں یہاں آئی ہی کیوں ہوں۔
کمرے کے دروازے پر دستک سے اس نے دروازے کی طرف دیکھا ۔ دستک پھر ہوئی ۔ اس نے دھیرے سے کہا۔ جی۔
احمر کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر وہ خاموشی سے اپنے پیر دیکھنے لگی۔ احمر نے اس سے کچھ دور فاصلے پر دروازے کے قریب سے کہا۔ آپ تیار ہو جائیں ،ہم سمندر چلتے ہیں ۔ کنول نے بے بسی سے جی کہا اور پھر اسے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو اس نے اوپر دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سوچا امی اور نانی کو جا کر سنائے مگر پھر دانت بھینچ کر رہ گئی ، اس نے اپنے آپ سے کہا۔ جو ہونا تھا ہو گیا میڈم کنول ،اب تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ احمر تو مزے لے رہا ہو گا اس حالت کے یا پھر شاہد وہ سوچ رہا ہو میں اس کو متاثر کرنے کی کوشش کروں گی۔ اسے کیا خبر بعض اوقات جن راستوں کو ہم اپنے لیے سہل سمجھتے ہیں ،وہ کسی منزل تک ہماری رہنمائی نہیں کرتے بلکہ آگے سے بند ہوتے ہیں ۔
وہ شیشے کےسامنے کھڑی تھی ۔ ساجدہ نے کمرے میں آتے ہی کہا، کنول راجکماری آئی ہوئی ہے ۔ جو یہاں کپڑے دھوتی ہے تم بھی جتنے کپڑے ہے دھونے کے لیے دے دو۔ کنول نے مڑ کر دیکھا اور پوچھا امی آپ نے کیا کہا۔ ساجدہ نے کنول کے قریب آتے ہوئے کہا۔وہ تم اپنے کپڑے دھونے کے لیے دے دو۔ یہاں جو لڑکی کپڑے دھونے کا کام کرتی ہے ،آئی ہوئی ہے ۔ اس کا نام راجکماری ہے۔ ابھی کچھ اور تفصیل چاہیے۔ کنول مسکرائی ۔ میرے پاس کوئی کپڑے نہیں ۔ میں نے دھو لیے تھے صبح ہی۔ اس کی امی کمرے سے جا چکی تھیں ۔ اس نے کپڑے نکالے اور تیار ہو گئی۔اس نے اب تک فلموں اور ڈراموں میں ہی سمندر دیکھا تھا۔
احمر نے اپنی ڈائری نکالی اور تصویر کو ایک مسکراہٹ بھری نظر سے دیکھا ۔

محبت میں کیا شکل و صورت دیکھیں ۔
لوگ مٹی میں خدا مورت دیکھیں۔
رہنے والے کو پتہ ہی نہیں گھر اس کا ہے۔
مکین مجھے فقط وقت ضرورت دیکھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ میں اُٹھائی ہوئی تصوریر کے پس منظر میں لکھی گئی شاعری کو وہ بغور دیکھ رہا تھا۔ جو اس کی محبت کی گواہی دے رہی تھی۔ احمر کی امی نے جب دروازہ کھولا تو ،اس کے ہاتھ سے تصویر نیچے گِر گئی۔احمر نے جلدی سے ڈائری بند کی۔ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ امی نے پاس آتے ہوئے اسے گھور کر دیکھا اور پھر دروازے کو۔
دیکھو احمر ، کہہ کر بینش نے واپس جا کر دروازے کو بند کیااور احمر کے پاس آ کر بولیں ۔تم جا تو رہے ہو کنول کے ساتھ مگر اس سے دور رہنا۔ احمر نے امی کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی۔ بینش نے دروازے کو دیکھنے کے بعد احمر کو دیکھتے ہوئے کہا۔ کنول اگر مجھے قبول ہوتی تو میں اسے محمود کے لیے ہی کر لیتی ۔ میرا خیال ہے تم سمجھ گئے ہو۔ احمر مسکرایا۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 588 Print Article Print
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 148843 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Reviews & Comments

Language: