گجرم دلیرم

(Irfan Mustafa Sehrai, Lahore)

قوم کے مخلص باکردار حکمران قرضوں کی بجائے آمدن کے ذرائع تلاش کرتے ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے عوام نے جس حکمران سے امید لگائی،وہ بھی اسی پرانی روش پر چل رہا ہے،جس میں ملکی خزانے پر قرضوں کا بوجھ ڈالنے کی پالیسی ہے ۔عمران خان کی کابینہ نے کمزور معیشت کو سہارا دینے کے لئے 6ارب کے قرض کی خاطر پورے ملک کو گروی رکھنے کا جو ساتھ وزیر اعظم کا دیا ہے، عوام بھولے سے نہیں بھول سکتے ۔آج کابینہ میں آئے دن ٹیکس در ٹیکس کی عوام سے وصول یابی کے منصوبے پر تو بات ہوتی ہے ،لیکن ترقیاتی منصوبوں اور قرضوں پر سود کی واپسی کا کوئی منصوبہ زیر بحث نہیں لایا جاتا۔

یہ حکمرانوں کی نا اہلی یا ملک دشمنوں کی سازش کہیں کہ معدنی اور زمینی وسائل سے مالا مال پاکستان کو سود کے گرداب میں پھنسا دیا گیا ہے ۔کہنے کوکہا گیا کہ اب پاکستان اپنی صحیح سمت کا تعین کر چکا ہے ،مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ۔جب تک اپنے وسائل پر تکیہ کرنے کی منصوبہ بندی نہ کی گئی اور سود کی بنیاد پر یوں ہی کام چلتا رہا تو اقتصادی طور پر ملک اپاہج ہو جائے گا،پھر دوبارہ غیر ملکی تسلط قائم ہونے کا بھی احتمال ہے ۔ابھی انہوں نے ملکی معیشت قابو کی ہے، پھر داخلی اور خارجی پالیسی بھی مکمل انہیں کے ہاتھ میں ہو گی ۔

پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے ۔جب کسی چیز کی بنیاد ہی کمزور ہو گی،وہاں مضبوطی کا تصور کرنا خام خیالی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوگا۔نصف افرادی قوت،پانی کا 90فیصد زراعت پر استعمال کر کے بھی کل قومی آمدنی کا پانچواں حصہ زرعی شعبے سے حاصل کر رہے ہیں ۔حکمرانوں کو کمزور زرعی پالیسی کیوں نظر نہیں آتی ․․․زرعی اصلاحات کی جانب کیوں توجہ نہیں دی جا رہی ہے ․․؟اگر حکمران زرعی اصلاحات پر پوری توجہ اور اس پر عمل کر لیں تو ہمیں کسی بیرونی قرض کی ضرورت نہیں رہے گی۔لیکن ہم نے غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کے لئے کام کرنا ہے ،اس لئے ہمارے لئے ملکی مفاد کے کام ترجیح نہیں ہیں ۔زرعی پالیسی کا پہلا ہدف فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہونا چاہیے۔اس کو سمجھنے میں کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ،کم پیداوار کی تین بنیادی وجوہات ہیں ۔ناقص معیار کے بیج ،کھادوں اور زرعی ادویات کا کم استعمال اور درست فصلیں کاشت کرنے کی ترغیب نہ دینا۔

جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں پہلی بار زرعی اصلاحات لائی گئیں ۔کاشتکار کی سب سے زیادہ ضرورت پانی ہوتا ہے ۔اس کے لئے سارکپ ایریا کی بنیاد رکھی گئی ۔جس کے تحت چھوٹے سوئے،نالے،ٹیوب ویل لگائے گئے،کاشتکار تک پانی پہنچانے کو یقینی بنایا گیا۔اس سے نا قابلِ کاشت زمین بھی زرخیز ہو گئی۔زرعی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔کیونکہ پنجاب کی زمین میں نائٹروجن کی کمی ہے ۔اس کے لئے ایوب یوریا متعارف کروائی گئی۔کاشتکاروں پر بہت کم بوجھ ڈالا گیا۔آبیانہ حریف،ربع میں 25 ایکٹرپر زمیندار کو معمولی ٹیکس لگا یا گیا۔لیکن اسے سہولیات بہت دی گئیں۔اس دور میں زراعت نے ترقی شروع کر دی ۔پھر ذوالفقار علی بھٹو کا دور آیا۔جس میں زرعی ترقی کا سلسلہ جاری رہا ،بین القوامی منڈیوں میں زرعی اجناس کی رسائی عمدہ پیمانے پر ہوئی،کاشکاروں کو آسانیاں دی گئیں۔زرعی انڈسٹری کو فروغ دیا گیا۔جدید انداز میں کاشتکاری کرنے کے لئے مفت مشورے دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔کراچی رائس کارپوریشن کا کردار مثالی تھا۔جو ٹریڈنگ سے ملک کے خزانے کو بڑا سہارا دیتی تھی ۔لیکن بھٹو دور میں بڑے زمیندار اور ہواری کے درمیان جھگڑے نے دونوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ۔جس کا نقصان زراعت کو ہوا۔ضیاء الحق کا دور زراعت کے شعبے میں تباہی لایا ۔مسائل بڑھتے رہے اور پاکستان زرعی شعبے میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گیا۔ایسی زمین جہاں بہترین آبپاشی نظام میسر تھا اسے بھی غیر مناسب پالیسیوں کی وجہ سے کاشت سے محروم کر دیا گیا۔فی ایکٹر پیداوار میں کمی واقع ہوئی ۔بین القوامی منڈیوں میں ٹریڈنگ پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش اور بھارت کی زرعی مصنوعات نے اپنے پاؤں مستقل طور پر جما لئے ۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے دور میں کاشتکاروں اور زمینداروں کی قسمت میں روشنی کی کرن نمودار ہوئی ۔جھوٹے زرعی قرضے معاف کئے گئے۔ٹریکٹر سکیم متعارف کروائی،جس میں روس اور چین کے تعاون سے بنے ٹریکٹر سبسٹی کے ساتھ دیئے گئے ۔جس سے کاشتکار کو بہت فائدہ ہوا۔پھر پرویز مشرف کا دور آیا اور پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب بنے ۔یہ زرعی اصلاحات کا سنہری دور تھا۔جس میں زراعت پر بہت کام کیا گیا۔زراعت سے منسلک چھوٹے کاشتکاروں کی بہتری ،زرعی پیدوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست طریقوں کا استعمال متعارف کروایا گیا۔کاشتکار کو اس کی فصل کی معقول قیمت دی گئی ۔کاٹن کا ریٹ 42سو روپے تک گیا جو آج 22 سو ہے ۔چودھری پرویز الٰہی نے حریف کا آبیانہ فی ایکٹر 95روپے اور ربع کا 75روپے فیکس کر دیا۔کاشتکاروں کو ان کے گھر پر جا کر اہلکار پیداوار بڑھانے کے مفید مشورے مفت دیتے رہے ۔اس معاملے میں ان کی معاونت کے ساتھ پوری مدد بھی کی جاتی تھی ۔گنا کی کاشتکاری کو جدّت دی گئی۔یہ وہ دور تھا جب ملک میں درجنوں نئی شوگرملز لگائی گئیں ۔زرعی قرضے بہت کم شرح 9.5 پر دیئے گئے اور ہر بنک کو اجازت دے دی گئی کہ وہ زرعی قرضے دے سکتے ہیں ۔پہلے زرعی قرضہ فی ایکڑ ساتھ آٹھ ہزار فی ایکڑ تھا چودھری پرویز الٰہی نے 80ہزار فی ایکڑ کر دیا۔جس سے کسان نے قرض لے کر محنت کی،اپنی آمدن بھی بڑھائی اور قرض بھی واپس کر دیئے ۔پھر آصف علی زرداری کا دور آیا ،جس میں زراعت زوال کی جانب گامزن ہو گئی،پیپلز پارٹی کی حکومت نے زراعت کے شعبے کی جانب کسی قسم کی توجہ نہیں دی ۔میاں نواز شریف کے دور میں زرعی قرضوں پر 16سے 18فیصد شرح سود لگایا گیا۔بعض بنک جیسے این آر ایس پی ،پنجاب بنک وغیرہ 22فیصد تک شرح سود لیتے ہیں ۔

افسوس 70سالوں میں حکومتوں نے زرعی پیداوار بڑھانے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی ہے ۔تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم اب تک ملک کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔منڈی بہاؤالدین سے شروع ہو کر سرگودھا،جھنگ،اوکاڑہ ،ساہیوال کپاس کے کارخانوں کا گڑھ ہوتا تھا۔آج بھی جن کے کھنڈرات موجود ہیں ۔ہم دنیا میں تیسرے نمبر پر اور ساؤتھ ایشیاء میں پہلے نمبر پر کاٹن کے ایکسپوٹر تھے ۔آج کپاس کی بین القوامی مارکیٹ بنگلہ دیش اور بھارت نے سنبھال لی ہے ۔ سرگودھا، بھلوال میں دنیا بھر میں لذیز ترین کنو کی پیداور کا مرکز ہے ۔جہاں آج کنو وائرس کی نظر ہو رہا ہے ۔حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے ۔ککر،ٹالی کے درخت وائرس کی نظر ہو چکے ہیں ۔حکومت سبز پاکستان کی بات کرتی ہے ،جہاں سفیدے اور بیری کے درخت لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے ۔سفیدے کے درخت کو ایک دن میں 70لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایک جانب کہتے ہیں کہ ملک میں پانی کی کمی ہے اور دوسری جانب غیر سنجیدہ منصوبہ بندی،یہی وجہ ہے کہ ملک اس نہج پر پہنچ چکا ہے ۔ہمارے پاس ریسرچ سنٹر موجود ہیں ،محکمہ زراعت کے دفاتر ہر شہر ،ضلع ،تحصیل اورگاؤں تک موجود ہیں ۔تحصیل لیول تک لیبارٹریز ،بڑے ریسرچ سنٹر ہیں،تمام عملہ موجود ہے ۔جو تنخواہیں وصول کر رہا ہے ۔لیکن کوئی کام نہیں ہو رہا۔

اگر زمیندار اور کاشتکار اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرے،تو لاہور سے ٹھٹہ ،سکھر کراچی حیدرآباد اور سپر ہائی وے روڈ کیوں نہ ہو زمیندار کے مقدر میں ڈنڈے کھانا لکھ دیے گئے ہیں ۔اگر زرعی اصلاحات پر توجہ دی جائے ،تو نوجوان زندگی کی شاہراہ پر چلنے کے قابل ہو جائیں گے اور زرعی انڈسٹری پر کام کرنا ہوگا،ریسرچ پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔اگر اس جانب توجہ دے دی جائے تو چھے ماہ میں نتائج آنے شروع ہو سکتے ہیں ،جس سے ملک میں مایوسی کے بادل مکمل طور پر جھٹ جائیں گے ۔حکمرانوں کو تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر منفی ردعمل سے اجتناب کرتے ہوئے مثبت سوچ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے اگر وہ محبّ الوطن ہیں․․؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 148 Articles with 50689 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jul, 2019 Views: 292

Comments

آپ کی رائے