اسیر جان (قسط ٦)

(Kanwal Naveed, Karachi)

کنول نے پریشانی سے پوچھا ۔'' احمر آپ رو رہے ہیں ۔'' احمر نے ٹشو سے ناک صاف کرتے ہوئے کہا۔ محمود بھائی کی گاڑی کا بہت بُرا ایکسڈنٹ ہو گیا ۔موقع پر تینوں یہ کہہ کر وہ صوفہ پر بیٹھ کر اونچی آواز سے رونے لگا۔ کنول کو اپنا دل بیٹھتا ہوا محسوس ہوا ۔وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ اس نے روکتی ہوئی سانسوں سے کہا۔ ''میری امی کہاں ہیں ۔''
احمر نے روتے ہوئے کہا۔ کوئی نہیں بچا ۔کوئی بھی نہیں ۔ کل صبح ہوسپٹل سے لے کر آئیں گئے۔ کنول کے رونے کی آواز سے نانی کمرے سے نکل کر باہر آ گئی۔ ''ارے کیا ہوا کنول ۔ ''وہ زمین پر بیٹھی ،کنول کے پاس بیٹھ گئی۔ ''کیا ہوا؟ احمر نے کچھ کہا۔'' احمر بھی رو رہا تھا ۔ وہ بھی زمین پر بیٹھ گیا دادی کہہ کر ان کے ساتھ لپٹ گیا اور روتے ہوئے بولا ۔'' دادی اللہ کی مرضی کے سامنے ہم سب بے بس ہیں ۔ کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ کچھ بھی نہیں ۔ دادی نے دونوں روتے ہوئے احمر اور کنول کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا ''ہوا کیا ہے تم دونوں کو۔ تم دونوں تو ایسے رو رہے ہو جیسے تمہاری ماں مر گئی ہو۔ کیا ہوا ہے۔'' احمر نے روتے ہوئے کہا۔ ماں ہی تو مر گئی ہے۔ ہم دونوں کی ۔ دادی محمود کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ کوئی نہیں بچا۔ ''ایان گھر میں داخل ہو چکا تھا۔
ایان کی آواز سن کر احمر زمین سے اُٹھ گیا۔ کنول ابھی بھی پاگلوں کی طرح رو رہی تھی۔ ایان کے آنے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ احمر کے گلے لگ کر ایان رونے لگا۔احمر نے روتے ہوئے ایان سے کہا،'' ایان میرا بھائی ۔ ہم جس کو گھوڑی بیٹھانے والے تھے ۔جنازے پر لے جانے کی تیاری کرنی ہے اب۔ یہ صدمہ نہ سہنا پڑے دیکھو نا میری ماں اسی کے ساتھ چلی گئی ۔یہ بھی نہیں سوچا کہ میرا کیا ہو گا ۔ میں کیا کروں گا۔'' ایان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ احمر سنبھالو خود کو ۔ اگر تم خود کو نہیں سنبھالو گئے تو انکل کو سہارا کون دے گا۔
احمر نے روتے ہوئے کہا ، میں خود کو نہیں سنبھال پا رہا کسی اور کو کیا سہارا دوں گا۔ احمر نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو ، سب کو اطلاع دینا لازمی ہے ۔ تدفین کا اہتمام بھی کرنا ہے۔ ایان چلو۔ہوسپٹل چلیں ۔
کنول ایک بے یقینی کی سی کیفیت میں ابھی تک زمین پر بیٹھی تھی۔ ''نہیں نہیں ، کوئی ایسے کیسے مر سکتا ہے۔''اس نے حواس باختہ کیفیت میں خود سے کہا،اسے یوں محسوس ہوا ،جیسے اس کا دل درد سے بند ہو جائے گا اور وہ مر جائے گی۔''کاش کہ میں بھی مر جاتی،مگر نہ آنا اپنی مرضی سے نہ جانا اپنی مرضی سے،اور ہیں ہم اشرف المخلوقات۔''اس نے غصے و غم سے دھیمی آواز میں کہا۔ نانی نے کنول کو اندر چلنے کا کہا۔ اس نے نانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ نانی مجھے ہوسپٹل جانا ہے۔ وہ پاگلوں کی طرح بھاگتی ہوئی ، ایان اور احمر کے پیچھے آ ئی۔ ایان گاڑی میں بیٹھ چکا تھا جبکہ احمر بیٹھنے لگا تھا۔ کنول نے ذور سے کہا۔ احمر میں بھی جاوں گی۔ احمر نے کنول کی طرف دیکھا۔ ایان نے کہا یہ کون ہے۔ احمر نے افسردگی سے کہا ، میری پھوپھو کی بیٹی ہے ۔ اس کی امی تھی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ایان نے کہا ۔ ''اسے ہوسپٹل لے جانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ وہ لوگ موسٹ ماٹم کے بعد ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم اسے منع کرو۔ ''کنول گاڑی کے پاس آ چکی تھی۔ احمر نے کنول سے کہا۔ کنول ابھی ہوسپٹل والے تمہیں ،تمہاری امی سے ملنے نہیں دیں گئے۔ صبح ساڑھے چار بجے کا کہا ہے انہوں نے ۔ کنول نے روتے ہوئے کہا۔ ابھی کیا ٹائم ہوا ہے۔ ایان نے موبائل سے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا سوا ایک ہوا ہے۔ گپ اندھرا تھا۔کنول نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔ مجھے ساتھ لے چلو۔ احمر نے کنول کے پاس آ کر کہا ۔ ''دیکھو کنول مجھے پتہ ہے تم امی کو دیکھنا چاہتی ہو مگر ہوسپٹل جانے کا کوئی فائد ہ نہیں ۔ وہ دیکھنے نہیں دیں گئے۔ میں انہیں گھر لانے کے لیے ہی جا رہا ہو۔ پلیز سنبھالو خود کو۔ ہمارے پاس صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔'' کنول گاڑی کے سامنے سے ہٹ گئی۔ احمر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ گاڑی گیٹ سے باہر جا چکی تھی۔ کنول اندر آ کرصوفہ پر بیٹھ گئی ۔ وہ ان باتوں کو سننے کی کوشش کر رہی تھی جو امی نے اس سے فون پر کی تھیں ۔
میں جا رہی ہوں اپنا خیال رکھنا ۔اس کی انکھیں پھر سے چھلک گئی ۔ اس نے روتی ہوئی نانی کو پانی لا کر دیا۔ نانی نے روتے ہوئے کہا۔ ''میری باری تھی، مجھے جانا تھا ۔ میں کیوں نہیں گئی۔ یہ دن دیکھنے کے لیے کیوں زندہ رہ گئی'' کنول بھی رو رہی تھی۔ اس نے نانی کو سینے سے لگا لیا۔ نانی نے روتے ہوئے کہا۔ میری بچی ، دکھیاری ،زندگی کی کوئی خوشی تو نہیں دیکھ سکی۔ میری بچی۔ کنول کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔موت کیوں اور کیسےاپنی گرفت میں لے لیتی ہے،نہ وقت دیکھتی ہے نہ عمر، نہ ہی کہنے سننے کا کوئی موقع دیتی ہے۔ہم کس قدر بے بس اور مجبور ہیں ،اپنے کسی پیارے کی موت ہی پر ٹھیک سے اندازہ ہوتا ہے۔ اسے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے اب زندگی میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔
ایان اور احمر ہوسپٹل پہنچ چکے تھے۔ احمر نے سب رشتہ داروں دوستوں کو اطلاع دی ۔ جنازے کا ٹائم بتایا۔ بیک وقت ان کے گھر سے تین جنازوں نے نکلنا تھا۔
کنول نے جب اپنی ماں کا منہ دیکھا تو ان کے سینے سے لپٹ گئی۔دنیا میں کوئی رشتہ ماں کی طرح بے غرض، بے لوث نہیں ہو سکتا۔ ان کے سر پر پٹیاں تھیں ۔ ایکسڈینٹ کے باعث محمود کا چہرہ کسی کو نہیں دیکھایا گیا تھا۔ کنول نے ماموں کو دیوار کے ساتھ لگے ہوئے روتے دیکھا۔ کنول سوچ رہی تھی ،کاش وہ کبھی کراچی نہ آتی۔ پھر اس کے دل نے کہا ،کیسے نہ آتی ۔ امی سچ کہتی تھی ۔جس کام نے جہاں ہونا ہوتا ہے وہاں ہی ہوتا ہے۔
شاپنگ کے مناظر اس کی انکھوں میں پھرنے لگے ۔ اس کی ماں کی بات کہ میری میت کو تم غسل دینا اس کے کانوں کو گونج گئی۔ انسان کسی قدر بے بس اور حقیر ہے۔ کیسے کیسے منصوبہ بناتا ہے اور زندگی کو خوبصورت کرنے میں لگا رہتا ہے۔ تقدیر نے کیا کرنا ہے ، کیا کرئے گی ۔یہ کبھی نہیں سوچتا۔سوچے بھی کیسے ،جو اس کو پتہ ہی نہیں ۔
اس نے احمرسے بات کی کہ وہ اپنی ماں کو اپنے ہاتھوں سے غسل دینا چاہتی تھی۔ احمر نے اسے بتایا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ ایکسڈینٹ کی وجہ سے میت اس قابل نہیں کہ ہم انہیں دوبارہ غسل دیں ۔ اس سے میت کو تکلیف ہو گی۔ کنول نے افسردگی سے کہا۔ ''میری ماں کی خواہش تھی ، اس کومیں ضرور پوراکروں گی۔ ''احمر نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا ''بہت سی خواہشات پوری نہیں ہوتیں۔ انسان کے بس میں نہیں ہے کنول ۔ انہیں اور خود کو اذیت دینا چاہتی ہو تو کر لو اپنی خواہش پوری ۔ یہ سوچ لینا کہ تم واقعی ان کی خواہش پوری کرنا چاہ رہی ہو یا کہ خود کو خوشی دینا چاہ رہی ہو کہ تم نے ان کی خواہش پوری کر دی۔ ''کنول مایوسی سے تفکر کے انداز میں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ وہ سوچ نہیں پا رہی تھی کہ وہ اپنی ماں کی خواہش ان کو اذیت دے کر پوری کرئے یا نہ کرئے۔ کبھی کبھی فیصلے کسی قدر مشکل اور انسان کس قدر بے بس ہو جاتا ہے ۔ زندگی میں پہلی بار اس نے محسوس کیا۔
تینوں جنازے ایک ساتھ قطار سے گھر سے باہر جا رہے تھے۔ کنول کی انکھیں رو رو کر اب خشک ہو چکی تھی۔ کچھ ہی گھنٹوں میں گھر دوبارہ سے خالی ہو چکا تھا۔ سارے لوگ جا چکے تھے۔ کنول اور اس کی نانی کمرے میں بیٹھی تھی۔ دونوں خاموش اور افسردہ تھیں ۔ نانی نے کنول کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ''میرے ہوتے ہوئے ،خود کو اکیلا نہ سمجھنا۔میں ہوں نا ۔''کنول نانی سے لپٹ گئی ۔ وہ اس چھوٹے بچے کی طرح رو رہی تھی ۔جس سے اس کی سب سے پیاری چیز چھین لی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمر کبھی اپنے بھائی کے جنازے کو کندھا دے رہا تھا تو کبھی اپنی ماں اور پھوپھو کے جنازے کو۔ وہ جب نماز جنازہ کے لیے کھڑا ہوا تو کبھی محمود کے ساتھ گزارہ ہوا وقت اس کی نظروں میں گھوم رہا تھا تو کبھی ماں کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات اس کے وجود کو توڑ رہے تھے۔ وہ بار بار بھیگا ہوا چہرہ صاف کرتا۔انسان کی زندگی فقط ایک کہانی کی طرح ،اس کے بعد اپنوں کے دلوں میں محفوظ ہو کر رہ جاتی ہے،اس کا وجودایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔کیا ہے انسان اور انسان کی زندگی؟احمرکا دماغ چیخ رہا تھا اور وہ خاموش قبرستان سے لوٹ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ہفتہ گزر چکے تھے مگر کنول اور احمر دنوں ہی پر غم مسلط تھا۔ کنول کی زندگی رُک سی گئی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ زندہ کیوں ہے۔ پہلے تو وہ جو بھی کرتی تھی اپنی ماں کی خوشی اور فرمابرداری کا نام دیتی تھی اب وہ کیا کرئے ؟انسان کے وجود کا مقصد آخر کیا ہے ۔ وہ دیر تک سوچتی اور کچھ اس کی سمجھ میں نہ آتا۔ وہ اکثر دیر تک رونے میں ہی وقت گزارتی۔ نانی جان کی طبعیت بھی خراب رہنے لگی تھی۔ کنول انہیں دیکھتی تو انسان کی بے بسی کا احساس اس پر اور بھی زیادہ غالب آ جاتا۔
محبت ،قید تنہائی
زندگی آرزو، آبرو
اکثر ہار جاتے ہیں حواس
جب ہوتی ہے خود سے گفتگو
پوچھیں زاز حیات ہم بھی کبھی
مل جائے رب جو روبرو
کنول ؔاک مدت تک جو انتظار ملے
ہار جاتی ہے تڑپ کر جستجو
کچھ الفاظ لکھنے کے بعد وہ پن سے کاغذ پر آڑی ترچھی لائن کھینچ رہی تھی کہ دروازے پر غیر متوقع دستک نے اسے چونکا دیا۔ اس نے پن کو ڈائری میں ٹھونسنے کی کوشش کی ہی تھی کہ ماموں کی آواز آئی۔ کنول بیٹا کیا میں اندر آ جاوں ۔ اس نے سر پر دوپٹہ لیتے ہوئے دھیمی آواز میں جی کہا۔
ماموں نے جب اس کے ہاتھ میں پن دیکھا تو آ کر اس کے پا س ہی بیٹھ گئے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 727 Print Article Print
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 149076 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Reviews & Comments

Language: