گرین لائن منصوبہ یا سہانہ خواب

(Muhammad Hamza Khan, Karachi)


اسلام علیکم
میں بطور ایک آدمی کراچی کے مسائل سے بخوبی آشنا ہوں۔اس لیے اپنے قلم کا استعمال کراچی کے مسائل کو اجاگر کرنے کے کہ لئے کر رہا ہوں جو عوام سے ڈھکے چھپے تونہیں لیکن حکومتی نظروں سے اوجھل معلوم ہوتے ہیں ۔شہر کراچی پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی آج اکیسوی صدی میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ جہاں روز بروز نہ ختم ہونے والے مسئل نے عوام کو عزیت میں مبتلا کر رکھا ہے وہیکراچی کا سب سے بڑا مسلہ پبلک ٹرانسپورٹ کا ہے۔ڈھائی کروڑ عوام کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ٹرانسپورٹ کےنظام کی بدحالی کا سوال جب دس سال سے قابضحکومت سے کیا جائے تو وہ فنڈز اور وسائل کا رونا رو کر مسائل سے آنکھے چراتے نظر آتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے 2014 میں کراچی کا دورہ کیا اور کراچی کے لئےپندرہ ار کے میگا پروجیکٹ میٹرو بس منصوبے کا اعلان کیا۔اس منصوبے کہ مطابق شہر میں صوبائی حکومت کے ماتحت اس منصوبے کو پانچ حصوں گرین لائن ، اورنج لائن ، بلو لائن ، یلو لائن اور ریڈ لائن میں تقسیم کیا گیا جوکہ تقریبا 90 بس اسٹیشن پر مشتمل ہے۔ جس سے روزانہ لاکھوں افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔یہ کراچی کی عوام کے لئے ایک خوش آئند بات تھی۔ لیکن دو سال تک یہ اعلان محض کانوں کو خوش کرنے تک ہی محدود رہا۔کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے اور آخر کار دو سال کے طول عرصے کے بعداس 2016فروری میں اس منصوبے کے ایک حصے گرین لائن بس منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔ 26 کلو میٹر بس روٹ کا یہ منصوبہ اسٹاپ پر مشتمل ہے۔جوسٹی ریلوے اسٹیشن سے سرجانی تک جارہا ہے۔جس میں ریلوے روڈ ، مولوی تمیزالدین روڈ ، ایم۔ اےجناح روڈ، بزنس ریکورڈ روڈ، نواب صدیق علی خان روڈ، شاہراہ شیر شاہ سوری، شاہراہ عسمہ اور خواجہ شمسالدین عظیمی روڈشامل ہیں۔ یہ پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے پہلا میگا پروجیکٹ ہے جو وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ترتیب دیا ہے۔ منصوبہ تو عوام کی بھالیئی کے لئے تیار کیا گیا لیکن اسے سندھ حکومت کی بد نیتی سمجھیں یہ پھر نااہلی حکومت اس منصوبے کو مکمل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے شرو ع کیا گیا یہ منصوبہ عوام کے لئے مصیبت کا پہاڑ بن چکا ہے۔ منصوبہ شروع کرنے کے لئے سٹی ریلوے اسٹیشن سے لے کر سرجانی منصوبے کی راہ میں ہائل عوام کی قیمتی املاک کو مسمار کر دیا گیا جس کے باعث ہزارو افراد متاثر ہوئے ۔ اور اس کے علاوہ مسمار کی جانے والی املاک کا ملبہ بھی عرصہ دراز گزرنے کہ با وجود سڑکوں کی زینت بنایا ہوا ہے۔سڑکوں اور شاہراہوں پر گرین لائن کی کھدائی کے باعث اہم شاہراہوں کوںبغیر کوئی متابادل راستہ فراہم کئے بند کر دیا گیا ہے۔ متابادل راستے سڑکے بھی اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے کہ جن کہ باعث ٹریٖفک کی روانی بے حد متاثر ہو رہی ہے۔ اس کہ علاوہ سڑکوں کی کھدائی کہ دوران رہ جاناے والا ملبہ شہریوں کے لئے آلودگی کا باعث بن رہا ہے جس سے موٹر سایئکل سوار افراد زیادہ متاثر ہیں ترقیاتی کام کے نام پر شہر کے انفرااسٹرکچر کو اس طرح سے تباہ کیا گیا ہے کہ فضا سے کراچی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ دو سال میں مکمل ہونے والا منصوبہ چار سال کے بعد بھی عوام کے لئےعزاب بن کر کھڑا ہے۔

حکومت نے انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کا منصوبہ خیالی پلاؤ میں ترتیب تو دے دیا لیکن اس منسوبے پر عملدرامد کرانے کے لئےکی جانے والی پلاننگ حکومت کینااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگرمنصوبے کی پلاننگ میں عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کو مد نظر رکھا جائے تو عوام کے لئے ترتیب دئے جانے والے منصوبے عوام کے لئے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Hamza Khan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jul, 2019 Views: 600

Comments

آپ کی رائے
ایک ایسا منصوبہ جو بلاشبہ بہترین ہے لیکن اس منصوبے کو وقت پر مکمل نہیں کیا جاسکا پھر جہاں جہاں اس، روٹ پر کام شروع ہوا عوام کے مسائل کو بالکل نظر انداز، کردیا گیا. بس تعمیراتی کمپنی نے اپنے کام کے لئے جگہ حاصل کی اور مین روڈ جو صبح شام لاکھوں لوگ استعمال کرتے تھے ان پر ملبہ اور تعمیراتی سامان ڈال دیا گرد دھول کی وجہ سے سرجانی کے ڈی اے آفس سے اگر آپ بائیک یا کھلے شیشوں والی گاڑی میں سفر کرتے ہیں تو یقین مانیں بال چہرہ دھول سے اٹ جائینگے اور جوان بالوں کی وجہ سے بڈھا نظر آنے لگتا ہے
کے ڈی اے آفس سے لیکر فور کے چورنگی تک روزآنہ کی بنیاد پر کم از، کم آٹھ دس ایکسیڈنٹ ہوئے کھڈے اور ٹوٹے پھوٹے راستوں پر کبھی بھی اور کہیں بھی ذرہ برابر مال ڈال کر برابر نہیں کیا گیا
کے ڈی اے آفس سے ہری مسجد والے روڈ کے درمیان سے ٹریک بنایا گیا جس سے بس ٹرمینل سے نکل کر پورا فور اے کراس کراس کرنے پہلے اسٹاپ پر چڑھنے کےوالے ٹریک پر آتی ہے دوسری طرف تیسر ٹاؤن جانے والے روڈ سے بس ٹرمینل تک ٹریک بنایا گیا جس کے ذریعے بس ٹرمینل میں جاتی ہے
اس سے ایک تو فور اے اور فور بی کے درمیان نالہ ختم ہوا دوسرے اس روڈکو بہت تنگ کردیا گیا ہے اسوقت پوزیشن یہ ہے کہ آنے والے اور جانے والے روڈ پر اگر ایک گاڑی کھڑی ہوجائے اور ایک موٹر سائیکل آجائے تویہ روڈ بند ہوجاتا ہے
معلوم نہیں کون سے عقل مند آنکھوں کے اندھے اور دماغ سے فارغ انجینئر تھے جنہوں نے سیکٹر فوراے اور فور بی کے درمیان سے اس ٹریک کو گزارنے کی ڈرائنگ بنائی اور کون سے عقل سے فارغ گھامڑ افسران تھے جنہوں نے اس ٹریک کو اس روڈ پر بنانے کی اجازت دی
یہ گرین بس تو ضرور چلے گی لیکن سرجانی کا یہ روڈ عام ٹریفک کے لئے وبال جان اور حادثات اور قیمتی جانوں کے نقصان کا بہت بڑا روڈ ہوگا اسکا ذمہ دار کون ہوگا
By: عبدالحافظ خان, کراچی on Jul, 05 2019
Reply Reply
0 Like