خدارا! اپنا نام بدلو یا پھر کام

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

ہمارے شوبز سٹارز خود اپنے منہ سے خود کو پبلک پراپرٹی کہتے ہیں پھر ان کی اچھی پرفارمنس پر انہیں پذیرائی بھی ملتی ہے ۔ مگر کسی بھی نامعقول یا خلاف معمول سرگرمی پر یہی پبلک ان کی خوب مٹی پلید کرتی ہے گڑے مُردے اکھاڑتی ہے ۔ تب ان کے کچھ ہمدرد کہتے ہیں کہ یہ ان کی اپنی زندگی ہے جیسے چاہیں گذاریں یہ ان کا اپنا پرسنل میٹر ہے ۔ تو سوال یہ ہے کہ پرسنل میٹر کو پبلک کیوں کیا جاتا ہے اسے خود اپنے تک اور اپنے خاندان و دوستوں تک ہی محدود کیوں نہیں رکھا جاتا؟ یہ اپنے کسی بھی اقدام یا ذاتی سرگرمی کو عوامی سطح پر مشتہر کریں گے تو مختلف قسم کے رد عمل کا سامنا تو کرنا پڑے گا ۔ یہاں تو ایک ایسی مخلوق بھی پائی جاتی ہے کہ اگر کوئی اللہ کی بندہ یا بندی ہدایت پا جائے تو یہ اس کا ماضی اٹھا کر اس کے منہ پر دے مارتی ہے ۔

ماضی کی مقبول ترین صف اول کی فلمی ہیروئین انجمن نے بہت سا عروج دیکھنے کے بعد گمنامی کے اندھیروں میں ڈوبنے سے پہلے اپنی مقبولیت و شہرت کے ہی دور میں شادی کر لی جو بدقسمتی سے خود اپنوں کی بدخواہی اور سازشوں کا شکار بنتی رہی ۔ کبھی خلع اور کبھی صلح کی خبریں مع دستاویزی ثبوت کے منظر عام پر آتی رہیں اسی دوران تین بچے بھی تولد ہوئے بالآخر ان کا شوہر عین عید والے روز قتل ہو گیا ۔ اور اس سانحے کے چھ برس بعد گذشتہ ماہ جون کے وسط میں انجمن نے اپنے ایک ساتھی فنکار کے ساتھ دوسری شادی کر لی اور اس کے ایک ہفتے بعد میڈیا کو اس کی خبر دی اور تصویریں بھی فراہم کر دیں ۔ خبر کی حد تک تو درست تھا مگر نکاح کی تصویریں یقیناً ان کا ذاتی اثاثہ تھا جو انہیں صرف فیملی اور فرینڈز تک محدود رکھنا چاہیئے تھا مگر انہوں نے اسے پبلک کر دیا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ پرستاروں نے دعائیں دیں نیک خواہشات کا اظہار کیا تو کچھ جل ککڑوں نے اتنی دُہائیاں ڈالیں جیسے انجمن نے نکاح نہیں کوئی گناہ کر دیا ہو ۔ اور وجہ صرف یہی تھی کہ انہوں نے تقریباً پینسٹھ برس کی عمر میں کم عمر کنواری لڑکیوں کی طرح مکمل روایتی دلہن بن کر اپنے دولہا کے ساتھ پوری بےتکلفی کے ساتھ فوٹو شوٹ کروایا اور ساری دنیا کو زیارت کے لئے پیش کر دیا ۔

اب سوچنے والی بات ہے کہ انجمن کے تو نکاح تک کی تصویریں طنز و تضحیک کا نشانہ بنیں تو اگر کوئی بغیر نکاح کے مادر پدر آزاد بےتکلفی سے سرعام کیمروں کے سامنے اتنی بےحیائی اور فحاشی کا مظاہرہ کرے تو اسے کیسے بخش دیا جائے گا؟ دو روز پہلے ایک ایوارڈ شو کے موقع پر اداکار یاسر حسین نے ایک پری پلان ڈرامہ کیا اور برخورداری اقراء عزیز کی فنکارانہ صلاحیتوں میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے لہٰذا وہ ایسے حیران و انجان بنی ہوئی تھی جیسے اسے پہلے سے کچھ معلوم نہ ہو غضب کی ادائیں تھیں بھئی کیا کہنے ۔ چند روز پہلے یہ دونوں تھائی لینڈ میں چھٹیاں منا رہے تھے جسے ایک ایڈوانس ہنی مون کہنا زیادہ مناسب ہو گا ۔ انتہائی بولڈ فوٹو شوٹ کروا کے بلا جھجک اسے پبلک کے لئے پیش کیا اب پتہ نہیں کون سی کمی کسر باقی رہ گئی تھی کہ دونوں نے مل کر اسے ایوارڈ شو میں پورا کرنے کی کوشش کی ۔ حیرت کی بات ہے کہ آج تک کبھی کسی ایوارڈ یا فیشن شو میں کوئی خود کش حملہ نہیں ہؤا نا کبھی کسی فحاشی کے اڈے پر بم دھماکہ ہؤا ہے کہ پھر اس نوع کی تقاریب کے انعقاد اور ان میں شرکت اور ایسی گھٹیا حرکتوں سے پہلے سو سو بار سوچا جاتا ۔ بس جب تک یہ سارے کالے انگریز سلامت ہیں فن اور ثقافت کے نام فحاشی کی محفلیں آباد رہیں گی ۔

آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ نظر سے گذری جس نے ہمیں یہ مضمون سپرد تحریر کرنے پر مجبور کر دیا ۔ اقراء عزیز کی اسی موقع کی چار مختلف انداز کی تصویروں پر ترتیب وار کیپشن لگے ہوئے تھے اقراء عزیز ، اقراء غلیظ ، اقراء خبیث ، اقراء لذیذ ۔ لفظ اقراء رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کا سب سے پہلا لفظ ہے اور اس لڑکی کی حرکتوں کی وجہ سے جگت بازوں نے اسے کیسے کیسے استعمال کیا کم از کم اپنے نام کی ہی لاج رکھ لیتی ۔ اور اگر یہ گوارا نہیں تھا تو اس بےحیائی سے پہلے اپنا نام ہی بدل لیتی کہ وہ اس طرح بےحرمتی اور گستاخی کا نشانہ تو نہ بنتا ۔ اور صرف ایک اقراء عزیز پر ہی کیا موقوف ہے اور بھی کئی شوبز آرٹسٹ ہیں جو خالص اسلامی اور مقدس ترین ناموں کے ساتھ اپنے کاموں میں مصروف ہیں ۔ عائشہ ، آمنہ ، خدیجہ ، فاطمہ ، ایمان ، ثناء ، زینب اور اس جیسے اور بھی کئی محترم ناموں کی کتنی بڑی توہین ہے کہ برائے نام کپڑے پہن کر فوٹو شوٹ اور ماڈلنگ کرنے والی خواتین ان سے پکاری اور پہچانی جاتی ہیں نا اپنا نام بدلتی ہیں نا کام چھوڑتی ہیں خدا انہیں ہدایت دے (رعنا تبسم پاشا)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3112 Print Article Print
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 108 Articles with 702705 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

کیا کہوں لاجواب تحریر ہے اور یہ جملہ تو کمال ہے(بس جب تک یہ سارے کالے انگریز سلامت ہیں فن اور ثقافت کے نام فحاشی کی محفلیں آباد رہیں گی ۔)
By: tariq, karachi on Oct, 11 2019
Reply Reply
1 Like
Language: