افغان جنگ میں امریکی ہار !

(Muhammad Ansar Usmani, Karachi)

ایک چار سالہ افغان بچی کو فرانس سے برطانیہ اسمگل کرنے کی کوشش میں سابق برطانوی فوجی ’’رب نوری ‘‘ کو برطانوی پولیس نے گرفتار کیا۔ بچی کو برطانوی فوجی کی گاڑی کی ڈگی سے برآمد کیا گیا۔ یہ افغان بچی جس کا نام ’’ بہار احمدی ‘‘ہے فرانس کے مہاجر کیمپ ’’کیلے ‘‘ میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی۔ بہار احمدی کی ا سمگلنگ میں ملوث برطانوی فوجی کا یہ عملانتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ اس سے افغان مہاجرین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی صاف تصویر سامنے آتی ہے۔ افغانستان پہ مسلط طاغوتی طاقتیں سمجھتی ہیں کہ جنگ زدہ افغان مہاجرین ،بچے ، عورتیں ان کی جاگیر ، مالِ وراثت ہیں۔ لہذاان پر انسانی حقوق کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے دنیا بھر میں موجودافغان مہاجرین سے نیٹو ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے چشم پوشی کررکھی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جس پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ کو خون کے آنسو رولایاہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان کو جنگ میں مبتلا کرکے کھنڈر بنادیا۔ وہاں کے قبرستانوں میں دفن نفوس کی تعداد زندوں سے زیادہ ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ڈیڑھ عشرے تک بے ہتھیار افغانوں پرامریکہ اندوہ ناک ظلم کرتارہا اور نام نہاد انسانی حقوق کا راگ الاپنے والی تنظیموں، این جی اوز کی زبانوں پر تالے لگے ر ہے۔ کابل کئی مرتبہ بم دھماکوں سے لرزا۔ اس کے درو دیوار عالم کفرکے سردارامریکہ کے انسانیت پرمظالم دیکھ کر دید کھو بیٹھے۔ یہمہاجرینجب افغانستان کا آنکھوں دیکھا حال سناتے ہیں توعالمی برادری امریکہ کی شکل دیکھ کرآنکھیں موند لیتی ہے۔ کیوں کہ سچائی کے شیشے میں امریکہ کا کریہہ چہرہ واضح ہوچکا ہے۔ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ جوش میں ہوش کھو بیٹھنے والا امریکہ افغان جنگ میں سب کچھ ملیا میٹ کرکے اپنی ہار کو جیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ اِسے اب معلوم ہورہا ہے کہ سویت یونین کو شکست فاش دینے والے ان ملاؤں کے سینے چٹانوں سے زیادہ سخت ہیں۔

حالیہ کامیاب مذاکرات سے امریکہ کا دماغ مزید ٹھکانے آنے کی امید کی جاسکتی ہے کہ سفید عماموں والے درویشوں کو نہ پہلے کسی ایٹمی قوت کاخوف تھا، نہ اب کوئی فرعون انہیں ڈرا سکتا ہے۔ اﷲ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے یہ وارث آج بھی اسی شان و شوکت سے استعماری طاقتوں کے سامنے بیٹھے ہیں جس اندا ز جداگانہ سے متنفر ہو کر امریکہ ان کی اسلامی جاہ و حشم کو ختم کرنے ہزاروں میل کا سفر طے کرکے آیا تھا۔ امریکہ کی اس گندی سوچ کی وجہ ایک ہی ہے کہ یہ لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں،جو امن کے داعی ہیں،دنیا پر اپنامذہب تشدد کے ذریعے تھوپنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے تانے بانے بھی ان سے ملتے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی گورے کے خون کا ایک قطرہ گرتا ہے، سارا عالم کفر آنکھیں نکال کر مسلمانوں کو گھورنے لگ جاتا ہے۔ جب کہ یہ لوگ وثوق سے جانتے ہیں کہ اسلام تو انسانی حرمت کی بات پہلے کرتا ہے۔یہ روز اول سے امن کا داعی ہے۔مگرنخوت سے بھری کھوپڑیاں اس حقیقت کو نہیں مان رہیں، کیوں کہ انہیں اسلاموفوبیا کا مرض کا لاحق ہوچکا ہے۔

بہرحال امریکہ سمجھ چکا ہے کہ عافیت کا واحد رستہ افغانستا ن سے مکمل فوجی انخلا ہے۔ دنیا مان چکی ہے کہ افغان وار خودغرضانہ تھی جس میں امریکہ کواپنا تھوکا چاٹنا پڑاہے۔ یہ لاحاصل کی جستجو تھی جس میں ناکامی کا سہرا سجا کر امریکہ مکمل فوجی انخلا پر راضی ہوگیا ہے ،لیکن ہماری وجہ حیرت عالمی دنیا کاافغان مہاجرین کے ساتھ زیادتی پر سکوت ہے۔ دنیا امریکی بدمعاشی پر خاموش اس لیے ہے کہ اس کی انا کی تان ارتکاز مادیت پر آکر ٹوٹتی ہے۔ مقصددولت کا انبار لگانا ہے۔ چاہے اس کے لیے کوئی کتنے لہو کے دریا بہاتا پھرے۔ اس مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں اور اسلام کا ہورہا ہے۔ مسلمان صدیوں سے صرف دفاع کی خاطرمزاحمت کررہے ہیں۔ کبھی بھی مذہب کی آڑ میں انسانی تذلیل کا رستہ نہیں چنا۔ مغرب نے پہلے تومسلمانوں کے اسی نظریہ احترام انسانیت کو دہشت گردی سے نتھی کیا،پھربڑی عیاری سے اسلام کے تصور عالمگیریت کے آگے روڑے اٹکائے۔ اسلامی دنیا میں اگر کسی نے اسلام کی عالمگیریت کاپرچارکیا تو اس کے خلاف عالم کفر متحد ہوکر کھڑاہوگیا۔ اس کو جیل کی سلاخوں میں موت کی نیند سلایاگیا یا انہیں سبق سکھانے کے لیے آمریت کے رستے ہموار کیے گئے۔ کہیں غداران ملت اسلامیہ کو زر خرید غلام بنا لیاگیا،تاکہ اسلام کاعالمگیر تصور دنیا میں نہ پھیلے۔

مسلمان آج دنیا بھر میں جہاں کہیں بحیثیت مہاجر ہیں یا مقیم ، ہدف تنقید و تضحیک ہیں۔ یہ قتل کا آسان ٹارگٹ ہیں اور ان کے بچے،عورتیں عالم کفر کے رحم پر ہیں۔کہیں مذہب کے نام پر گورے ان کی عبادت گاہوں میں مسلح ہو کر گھس جاتے ہیں تو کہیں ان پر منوں ،ٹنوں بم برسائے جاتے ہیں۔اس کے باوجود امریکہ اپنی شکست کو سات پردوں میں بھی نہیں چھپا سکتا۔ اسلامی دنیا کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی جب تک آپس میں آفاقی رشتہ اخوت کو مضبوط نہیں کیاجاتا ، تب تک احساس کا تعلق قائم نہیں ہوگا۔ عالم اسلام کواسلام کے تصور عالمگیریت کے لیے ایک پیج پر جمع ہونا ہوگا ۔ انہیں چاہیے کہ اپنی سنہری تاریخ دہرائیں تاکہ مسلمانوں کو زمین پر چین و سکون میسر ہوورنہ تاریخ کے اوراق پر مسلمانوں کے خون ارزاں کی داستانیں لکھی جاتی رہیں گی۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 122 Print Article Print
About the Author: Muhammad Ansar Usmani

Read More Articles by Muhammad Ansar Usmani: 3 Articles with 413 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: