حادثات کی بنیادی وجہ ریل کا بوسیدہ نظام

(Sheraz Khokhar, Lahore)
گزشتہ دو ماہ کے دوران 29سے زائد ریل حادثات ہو چکے ہیں جس میں درجنوں افراد اپنی جان سے ہاتھ گنو ا بیٹھے ہیںاور کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہو چکا ہے ۔ پاکستان میں ریلوے کا نظام بہت وسیع مگر کافی پرانا ہے اور جس نوعیت کی بحالی کی اسے ضرورت تھی وہ نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان میں ٹرین حادثات کی تین بڑی وجوہات میں سرِفہرست ریلوے ٹریک سے متعلقہ مسائل ہیں جبکہ رولنگ سٹاک (ریل کے انجن اور بوگیاں) اور ریلوے سگنل کا نظام بھی حادثات کی وجہ بنتا ہے۔جبکہ محکمہ میں افرادی قوت کا بھی فقدان ہے ۔پاکستان ریلوے میں اس وقت بھی 23 ہزار سے زائد ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل سٹاف کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔افرادی قوت بشمول ڈرائیورز، اسسٹنٹ ڈرائیورز اور سگنل سٹاف کی کمی کا سامنا ہے اور مجبوری کے تحت نئے لوگ رکھنے کے بجائے ریٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ رکھا جا رہا ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہمحکمہ کو فنڈر کے مسائل کا سامنا ہے ۔ ماضی میں اس طرح کے پراجیکٹس نہیں بنائے گئے جس نوعیت کی سسٹم کو بحالی کی ضرورت تھی۔ماضی میں نئے انجن تو کافی تعداد میںخریدے گئے لیکن رولنگ سٹاک بشمول 800 ویگنز اور 300 کوچز کی خریداری ابھی تک عمل میں نہیں لائی جا سکی ۔

جمعرات کے روز سندھ اور پنجاب کے بارڈر کے نزدیک لاہور سے کوئٹہ جانے والی نان اسٹاپ مسافر ٹرین اکبر بگٹی ایکسپریس صادق آباد کے قریب ولہار نامی لوکل ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے21مسافر جاں بحق اور80زخمی ہو گئے۔ریل کا یہ ہولناک تصادم سگنل سسٹم کی خرابی کے باعث پیش آیا۔ صدر اوروزیر اعظم نے اس افسوس ناک سانحے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ریلوے کے دہائیوں پرانے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ہدایت کردی ہے جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ذمہ داران کو سزا دی جائے گی ۔وزیر ریلوے نے متوفین کے لیے 15،15لاکھ جب کہ زخمیوں کے لیے 5,5لاکھ روپے کا اعلان بھی کیا ہے ۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد کئی نئی ٹرینوں کا افتتاح کیا جن میںراولپنڈی سے کراچی کے لیے چلائی جانے والی ’بہترین سہولیات` سے آراستہ سرسید ایکسپریس ،لاہور سے چلنے والی جناح ایکسپریس ، نیازی ایکسپریس وغیر ہ شامل ہیں لیکن موجودہ دورحکومت میں ریل حادثات میں کمی کی بجائے تیزی آچکی ہے ۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران 29سے زائد ریل حادثات ہو چکے ہیں جس میں درجنوں افراد اپنی جان سے ہاتھ گنو ا بیٹھے ہیںاور کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہو چکا ہے ۔ایک زمانہ تھا جب ریل کا سفر محفوظ اور تیز ترین سفر سمجھا جاتا تھا لیکن حالیہ دنوں میں حادثات میں اضافے کی وجہ سے ریل کا سفر غیر محفوظ ہو چکا ہے ۔اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ زمین پر آنے والے ہر نفس کی واپسی کا وقت مقرر ہے اور ہر جان نے اپنے مقررہ وقت پر اپنے رب کی طرف چارو ناچار لوٹنا ہے ۔یہ امر بھی درست ہے کہ حادثات میں انسانی غفلت کے ساتھ ساتھ تقدیر کا لکھا بھی شامل ہوتا ہے تاہم انسانی غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی اور حادثات کے اسباب کے خاتمہ کے لیے مربوط حکمت عملی کے ذریعے ان حادثات کے امکانا ت کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے ۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے سال کے دوران بمشکل ہی کوئی ماہ ایسا گزرا ہے جس میں کسی ٹرین حادثے کی خبر سامنے نہ آئی ہو۔لیکن ہر واقعے کے بعد ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کی طرف سے بھی تحقیقات اور مرنے والوں کے لواحقین یا زخمیوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کر دیا جا تا ہے لیکن مستقبل میں ان حادثات سے نمٹنے کے لیے نہ تو کوئی مربوط حکمت عملی بنائی جاتی ہے اور نہ ہی سنجیدگی دکھائی جاتی ہے ۔حالیہ واقعہ کی ابتدائی تحقیقات میں جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ولہاراسٹیشن ماسٹر نے اکبر ایکسپریس کو مین لائن کا گرین سگنل دیا، اسٹیشن کا سگنل لوپ لائن پر ہی رہا،ڈرائیور اور اسسٹنٹ نے ایمرجنسی بریک کا سہارا لیا لیکن کارگر ثابت نہ ہو سکی ۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں حالیہ ٹرین حادثہ کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ وہ ”لواحقین کے غم میں برابر کا شریک اور زخمیوں کی جلداور مکمل شفایابی کیلئے دعاگو ہیں۔ وزیر صاحب کو ریلوے انفراسٹرکچر سے برتی جانے والی دہائیوں پر محیط غفلت کے فوری ازالے اور سیکیورٹی سٹینڈرڈز یقینی بنانے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے“۔یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے حکمران ہر حادثے کے بعد رسمی فقرات ادا کرنے کے بعد وقوعہ سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ہمار ے ہاں ایسے کتنے حادثات ہونگے جن کی تحقیقات کے بعد حکمران طبقہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہو ۔تحقیقاتی رپورٹ کا سارا نزلہ نچلے طبقے کے ملازمین پر ڈال دیا جاتا ہے اور محدود وسائل پر کام کرنے والے چھوٹے ملازمین پر قانون کا کوڑا برسا دیا جاتا ہے لیکن اصل حقائق اور اسباب و وجوہات پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے ۔پاکستان میں ریلوے کا نظام بہت وسیع مگر کافی پرانا ہے اور جس نوعیت کی بحالی کی اسے ضرورت تھی وہ نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان میں ٹرین حادثات کی تین بڑی وجوہات میں سرِفہرست ریلوے ٹریک سے متعلقہ مسائل ہیں جبکہ رولنگ سٹاک (ریل کے انجن اور بوگیاں) اور ریلوے سگنل کا نظام بھی حادثات کی وجہ بنتا ہے۔جبکہ محکمہ میں افرادی قوت کا بھی فقدان ہے ۔پاکستان ریلوے میں اس وقت بھی 23 ہزار سے زائد ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل سٹاف کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔افرادی قوت بشمول ڈرائیورز، اسسٹنٹ ڈرائیورز اور سگنل سٹاف کی کمی کا سامنا ہے اور مجبوری کے تحت نئے لوگ رکھنے کے بجائے ریٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ رکھا جا رہا ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہمحکمہ کو فنڈر کے مسائل کا سامنا ہے ۔ ماضی میں اس طرح کے پراجیکٹس نہیں بنائے گئے جس نوعیت کی سسٹم کو بحالی کی ضرورت تھی۔ماضی میں نئے انجن تو کافی تعداد میںخریدے گئے لیکن رولنگ سٹاک بشمول 800 ویگنز اور 300 کوچز کی خریداری ابھی تک عمل میں نہیں لائی جا سکی ۔

گذشتہ حادثات میں دیکھا گیا ہے کہ انسانی غفلت کی بجائے پرانے سسٹم میں خرابی کی وجہ آئے روزحادثات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔محکمہ کے ذمہ داران کا کہنا تو ہے کہ ریلوے ٹریکس کے مسائل پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں اور ایم ایل-ون (ریلوے کا مرکزی ٹریک جو پشاور سے کراچی کے درمیان ہے) کی مکمل بحالی کا بڑا پراجیکٹ سی پیک کے تحت ہونے والے منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ سی پیک کے تحت شروع ہونے والے بڑے منصوبے سے قطع نظر 'ہمیں مرکزی ٹریک کی بحالی کے چھوٹے منصوبوں پر فی الفور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میںریلوے ٹریک پر مسنگ لنکس ہیں ان کو فوری طور پر پلگ کرنے کی ضرورت ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sheraz Khokhar

Read More Articles by Sheraz Khokhar: 23 Articles with 6916 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jul, 2019 Views: 241

Comments

آپ کی رائے