افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان اور افغان وفدکا اتفاق۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

افغانستان میں قیامِ امن کی راہیں کھلتی دکھائی دے رہی ہیں۔ گذشتہ دنوں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطر اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں دو روزہ کانفرنس منقعد ہوئی جس میں افغانستان میں قیام امن کے لئے طالبان اور افغان وفد کے درمیان بات چیت کے بعد امن کی بحالی کے لئے اتفاق ہوگیااس سے قبل افغان صدر اشرف غنی لون کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ملک میں قیام امن کے کوششیں ہوتی رہیں لیکن طالبان اشرف غنی لون کی حکومت کو کٹھ پتلی حکومت سے تعبیر کرتے رہے اور انہوں نے حکومت کے کسی بھی فریق سے مذاکرات کے عمل کو رد کردیا۔ قیام امن کے سلسلہ میں ہونے والے اتفاق رائے کو ملک میں گذشتہ 18برسوں سے جاری شورش کے خاتمے کیلئے ایک اہم پیشرفت سمجھا جارہا ہے۔ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان قوم نے گذشتہ 40برسوں کی تاریخ میں اپنے مذہب ، ملک اور کلچر کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ فریقین نے بین الاقوامی برادری اور علاقائی و داخلی عناصر پر زور دیا کہ وہ افغان اقدار کا احترام کریں جبکہ تمام فریقوں پر زور دیا گیاہیکہ وہ دھمکیوں ، بدلوں، اور متنازع الفاظ سے اجتناب کرتے ہوئے نرم الفاظ اور اصطلاحات کا استعمال کریں تاکہ تنازعات اور بدلے کی آگ نہ بھڑکے۔ افغانستان میں طالبان کی جانب سے ماضی میں کئی مدارس ، عوامی مقامات اور حکومتی دفاتر وغیرہ پر خودکش حملے، بم دھماکے اور فائرنگ کے ذریعہ دہشت گردی پھیلائی گئی ، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان میں قیام امن کے سلسلہ کس لئے زور دیا ہے اور اس کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہے اس سلسلہ میں کہا جاتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں ایک ناکام جنگ لڑا ہے اور مستقبل میں بھی اسے کوئی کامیابی نظر نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے اپنے سپاہیوں کو افغانستان سے بحفاظت واپس لے جانے کی کوشش میں ہے اور طالبان بھی یہی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی اور دیگر نیٹو افواج کوملک سے واپس بلالیا جائے ۔ستمبر میں افغانستان میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں اور اس سے قبل ہی افغانستان میں قیامِ امن کی کارروائیاں تیزی سے جاری ہے اب دیکھنا ہے کہ امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان سے کب نکلتے ہیں اور طالبان صدارتی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں یا نہیں ۔قیامِ امن کے سلسلہ میں قطر اور جرمنی نے جس طرح کا بھی رول ادا کررہے ہیں یہ عالمی سطح پر خوش آئند اقدام ہے کیونکہ افغانستان میں آئے دن خودکش حملے، بم دھماکے اور فائرنگ کے واقعات روزمرہ کا معمول ہیں۔ عوام اپنی زندگیوں کا بھروسا کئے بغیر گھر سے باہر نکلتے ہیں اور جب شام خیر و عافیت کے ساتھ لوٹتے ہیں تو وہ شاید اس ایک دن کی ملنے والی زندگی پر پروردگار عالم کا شکر بجالاتے ہونگے۔کیونکہ پھر اگلے روز کیا معاملہ پیش آنے والا ہے اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔طالبان اگر اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں سے رک جائیں گے تویہ افغان عوام کے لئے ترقی و خوشحالی کا باعث ہوگا اور اس سے پڑوسی ممالک میں امن و سلامتی کی فضا بحال ہوسکتی اور ترقی کی راہیں فراہم ہونگے کیونکہ پڑوسی ملک میں امن و سلامتی سے ہی دوسرے پڑوسی ممالک میں بھی امن وسلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی ممکن ہوسکتی ہے۔

عمران خان کا دورہ امریکہ اور روس ۔ حقیقت کیا ہے
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی اس ماہ 20؍ جولائی کو امریکہ کے دورہ پر روانہ ہونے کی خبریں میڈیا میں گشت کررہی تھیں لیکن امریکی محکمہ خارجہ نے عمران خان کے دورہ امریکہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ 9؍ جولائی کو محکمہ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان مورگن اورتاگس نے کہا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے تاحال اس دورے کی تصدیق نہیں کی ہے ، اس کی تصدیق یا تردید کیلئے انہوں نے وائٹ ہاوئس سے رابطہ کرنے کی بات کی تھی۔ مورگن اورتاگس کے بیان کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ وہ وزیراعظم کے دورے کے حوالے سے قیاس آرئیوں کے برخلاف حقیقت واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان اس سلسلے میں امریکی حکام سے قریبی رابطے میں ہے۔آخر کار 11؍ جولائی کووائٹ ہاوئس کی جانب سے اعلان آگیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی امریکہ پر آرہے ہیں اور انکا استقبال 22؍ جولائی کو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کرینگے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان واشنگٹن میں پاکستانی سفیر متعینہ امریکہ کے ہاں قیام کرینگے جبکہ انکے ساتھ جانے والا وفد تھری اسٹار ہوٹل میں قیام کرے گا۔ بتایا جاتا ہیکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈسمبر2018 میں وزیر اعظم عمران خان کے نام لکھے گئے ایک خط میں درخواست کی تھی کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ ہوسکتا ہے کہ عمران خان کا دورہ امریکہ اس اہم مقصد کی ایک کڑی ہو ۔افغانستان میں ستمبر میں ہونیو الے صدارتی انتخابات سے قبل یعنی اس ماہ کے اواخر میں عمران خان امریکہ کے دورہ پر روانہ ہونگے اور وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔اس سے قبل عمران خان کے دورہ روس سے متعلق بھی پاکستانی میڈیا میں خبریں گشت کررہی تھیں۔بتایا جاتا ہے کہ روسی صدر ولادیمیرپوٹن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو ’’ایسٹرن اکنامک فورم‘‘ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی گئی ہے لیکن روس کی حکومت کا کہنا ہیکہ ہماری طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔یہ افواہیں اس وقت سے گردیش کرنے لگیں تھیں جب شنگھائی تعاون تنظیم کے گذشتہ ماہ اجلاس کے دوران پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور روسی صدر ولادیمیرپوٹن کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق منگلولیہ کے صدر، ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ ملائشیاء اور جاپان کے وزراء اعظم کو ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

ریما بنت بندر امریکہ میں سفیر سعودی عرب متعین
سعودی عرب میں خواتین کو مختلف شعبہ حیات میں خدمات انجام دینے کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں پہلی مرتبہ کسی سعودی خاتون کو امریکہ میں سعودی سفیر کی حیثیت سے متعین کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عرب کی پہلی خاتون سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے واشنگٹن میں ملاقات کرکے اپنی سفارتی اسناد پیش کردیں۔ریما بنت بندر 4؍ جولائی کو اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ امریکی صدر سے ملاقات کے بعد انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان شراکت دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ملک علاقائی یا عالمی سطح پر کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ریما نے سعودی قیادت کی جانب سے امریکی صدر کو نیک خواہشات کا پیغام بھی پہنچایا اور کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ شراکت کو مزید مستحکم کرنے کا ٰخواہاں ہے۔

سعودی عرب میں اخبارات کی ترسیل کئی مقامات پر بند
انٹر نیٹ کا بے دریغ استعمال ، نئی نئی ٹکنالوجی اور ایجادات نے جہاں تک دنیا کو سکڑکے رکھ دیا ہے وہیں انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی نے روزنامہ اخبارات کی ترسیل پر بھی کافی اثر ڈالا ہے۔ الکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا نے پرنٹ میڈیا کوبُری طرح متاثر کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کی الوطنیہ ڈسٹری بیوشن کمپنی مملکت کے تمام شہروں و علاقوں میں اخبارات کی تقسیم عمل میں لایا کرتی ہے اس کمپنی کی جانب سے کئی شہروں اور علاقوں میں اخبارات کی تقسیم مکمل طور پر بند کردی ہے جس کی وجہ سے صحافیوں اور ادارں کے مستقبل پر سوالیہ نشانہ لگ گیا ہے اور مملکت سعودی عربیہ میں کئی اخبارات بند ہوچکے ہیں۔ جدہ سعودی عرب سے شائع ہونے والا اردو روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جو 1994ء سے پابندی سے شائع ہورہا تھا اسے بھی چند ماہ قبل بند کردیا گیا اور سعودی گزٹ انگریزی روزنامہ بھی اسی طرح بند کردیا گیا جسکے آن لائن اڈیشن ابھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ الوطنیہ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے ڈائرکٹر جنرل عبدالعزیز السحلی کے مطابق روزانہ سعودی اخبارات کی ایک لاکھ 30ہزار کاپیاں کمپنی کو ملتی ہیں ان میں سے ملک بھر میں صرف 30ہزار کاپیاں فروخت ہورہی ہیں۔ ترسیل میں کمی کی وجہ سے اداروں کو مالی بحران کا شکار ہونا پڑ رہا ہے۔ معروف صحافی فہد الاحمدی کا کہنا ہے کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اخبارات کی خریداری کس حد تک متاثر ہوچکی ہے۔ فہد الاحمدی کا کہنا ہیکہ 2006میں روزنامہ الریاض اخبار کی روزانہ دو لاکھ کاپیاں شائع ہوا کرتی تھیں۔ مملکت میں شاہی حکومت ہونے کی وجہ سے صحافتی ادارے کسی بھی قسم کے تبصرے کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔ ویسے عالمی سطح پر بھی اخبارات کی خریداری بہت حد تک متاثر ہوچکی ہے۔اسکے باوجودبین الاقوامی سطح پر لاکھوں لوگ صبح کی ابتدائی ساعتوں میں اخبارات کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں کیونکہ پرنٹ میڈیا کا مطالعہ قارئین کے دلوں کو تسکین بھی پہنچاتا ہے اور خبروں کی تصدیق بھی کرتا دکھائی دیتا ہے۔

اﷲ کے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع
سعودی عرب حجاز مقدس میں اﷲ کے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔کئی ممالک بشمول ہندوستان سے بھی عازمین حج کی روانگی کا آغاز ہوچکاہے۔ سعودی شاہی حکومت عازمین حج و عمرہ کی تمام تر سہولتوں کو ملحوظ رکھ کر بہترین وسیع تر انتظامات بجا لاتی ہے۔ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے لاکھوں عازمین حج کے اجتماع کے موقع پر شاہی حکومت کی جانب سے کئے جانے انتظامات قابلِ دید ہوتے ہیں۔ اﷲ کے مہمانوں کو کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچائے رکھنے کیلئے مختلف زبانوں میں راستوں کی نشاندہی اور کتابچے وغیرہ تقسیم کئے جاتے ہیں اور ان ممالک کے والنٹرس کو بھی خدام کی حیثیت سے تعینات کیا جاتا ہے۔ ان ایام میں بعض ممالک کے شر پسند عناصر کی جانب سے نعرہ بازی وغیرہ کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں سعودی عرب نے حج بیت اﷲ کیلئے آنے والے مہمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ حج کے موقع پر اپنی توجہ مقدس مقامات کی روحانیت کی برکات سمیٹنے، شعائر حج کی ادائی اورفریضہ حج کی تعلیمات پرعمل پیرا ہونے پر مرکوز رکھیں اورہرقسم کے مذہبی اور سیاسی نعرہ بازی کی الائشوں سے خود کودور رکھیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حجاج کرام کا سیاسی، مسلکی اور فرقہ وارانہ نعروں میں ملوث ہونا مناسب نہیں۔ اس طرح کے تصرفات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہونگے۔ اگر کسی شخص یا گروپ کی طرف سے حج کے موقع پر سیاسی نعرے بازی اور فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کابینی اجلاس کے بعد جاری بیان میں وزیر اطلاعات ترکی بن عبداﷲ شبانہ نے اس بیان کو پڑھ کر سنایا۔اس موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے اسلام کے پانچویں رْکن یعنی حج کی ادائی کے لیے آنیوالے فرزندان توحید کا خیر مقدم کیا اور ان کے فریضہ حج اور مناسک حج کی ادائی کی توفیق اور عبادت کی قبولیت کی بھی دعا کی۔

ایران کی جانب سے امریکہ کو دھمکی
ایران کی جانب سے امریکہ کو دھمکی دی گئی ہے کہ امریکی اڈے ایرانی میزائلوں کی رینج میں ہیں ۔ذرائع ابلاع کے مطابق ایرانی وزیر ثقافت اور سماجی امور حسین نیجات نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اڈے ہمارے میزائیلوں کی رینج میں ہیں اور اگر امریکہ نے کوئی بھی غلطی کی تو ہمارے میزائل انکے بحری بیڑوں کو تباہ کردینگے انہوں نے کہا کہ جنگ ٹرمپ کے ایجنڈا میں نہیں ہے تاہم امریکی صدر مجموعی دباؤ کے ذریعے تہران کو مذاکرات کی جانب کھینچنا چاہتے ہین انہوں نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال رکھا تھا اور اب یہ سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کیلئے خطرہ ہے انکا کہنا ہے کہ تہران دشمن کی سرحد پر جنگ لڑ رہا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ امریکہ ، ایران کو کسی قسم کا جواب دیتا ہے یا خاموشی اختیارکرتا ہے۔
***
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 296 Print Article Print
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 193 Articles with 59958 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: