2020 امریکی صدارتی انتخابات کیا پھر متنازعہ ہونگے ؟

(Qadir Khan, Lahore)

 امریکی صدارتی انتخابات 2020سے قبل دلچسپ معاملات عالمی میڈیا کی خبر بن رہے ہیں۔ 2020کے صدارتی انتخابات کے لئے 25ڈیمو کرٹیک امیدوار میدان میں آچکے ہیں ان کے درمیان مباحثے کا آغاز ہوچکا ہے ۔ مباحثے کے دوسرے دور میں اُس وقت دلچسپ صورتحال سامنے آئی جب سابق صدر جوبائیڈن پر سینیٹر کملا ہارس نے نسلی تعصب کے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ1970کی دہائی میں انہوں نے سفید فام اور سیاہ فام بچوں کا انضمام روکنے کے لئے الگ اسکول اور بسیں مختص کرنے کی حمایت کی تھی۔ سابق صدر جوبائیڈن نے سینیٹر کملا ہارس کے الزامات کو مسترد تو کردیا ہے لیکن امریکا میں نسل پرستی کی لہر میں کئی صدارتی امیدواروں کو تنقید و سخت سوالات کا سامنا ہے۔ ڈیموکرٹیک پارٹی کے صدارتی امیدواروں کے مباحثے سے ایک نظریہ کو ابھارنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ 2016میں ٹرمپ حیران کن طور پر کس طرح کامیاب ہوگئے۔صدر ٹرمپ کی غیر متوقع کامیابی پر امریکی عوام ابھی تک حیران ہیں ۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی کامیابی پر کئی ریاستوں میں مظاہرے بھی کئے گئے تھے ۔ صدر ٹرمپ کی غیر متوقع کامیابی پر سابق صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن ، ڈیمو کرٹیک پارٹی کی قیادت ، امریکی میڈیا اور سی آئی اے کی طرف سے تواتر سے الزام عاید کیا جاتا رہا ہے کہ روس نے2016کے صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کو ہروانے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کی تھی ۔امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کی اپنی اپنی انٹیلی جنس کمیٹیاں ہیں۔ واشنگٹن میں ملکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے بھی پہلی بار کھل کر کہہ دیا ہے کہ روس نے امریکا میں ہوئے گزشتہ صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی۔نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق روس پر 2016 سے ہی یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ ماسکو نے امریکا کے ان صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی، جن کے نتیجے میں ارب پتی کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے تھے۔امریکی سپیشل قونصل رابرٹ مُلر کے پہلی بار عام ریمارکس کے بعد امریکی کانگریس میں تین سرکردہ ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔صدر ٹرمپ کے دعوے کے برعکس رابرٹ ملر نے کہا تھا کہ ان کی تحقیقات کے مطابق صدر ٹرمپ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام سے بری نہیں ہوئے۔رابرٹ ملر کو 2016کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا۔ملر رپورٹ کے خاصے بڑے حصے کو حذف کرنے کے بعد گزشتہ ماہ منظر عام پر لایا گیا تھا۔انھوں نے ایسے دس واقعات کا ذکر کیا تھا جن میں صدر ٹرمپ نے ممکنہ طور پر تحقیقاتی عمل میں حائل ہونے کی کوشش کی تھی۔ تاہم رابرٹ ملر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس موجودہ صدر پر فرد جرم عائد کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

کارنیگی میلن یونیورسٹی کے پولٹیکل سائنس کے شعبے سے وابستہ محقق ڈوولیون نے اس حوالے سے بہتر گہری ریسرچ کی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق امریکانے 1946ء سے 2000ء تک 81 ملکوں کے مختلف انتخابات میں مداخلت کی جبکہ حکومتوں کے تبدیل کرنے اور ان کے تختے الٹنے کی کوششیں ان کے علاوہ ہیں۔ انتخابات میں مداخلت کے حوالے سے لاطینی امریکہ، ایشیا اور یورپ امریکی توجہ کا مرکز رہے۔لہذا اس بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ امریکا میں بھی انتخابات میں مداخلت خارج ازامکان نہوں ہوسکتا ۔ جب کسی بھی ملک کے انتخابات یا صورتحال کو مشکوک بنانے کے لئے جدید انتخابی انجینئرنگ کی جاسکتی ہے تو امریکی انتخابات میں کیوں نہیں کی جاسکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے حوالے سے مختلف رپورٹوں میں ان الزامات کا اظہار کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا اور سائبر وار کے ذریعے انتخابی نتائج کو متاثر کیا گیا۔ رائے عامہ کو تبدیل کرنے یا متاثر کرنے کے لئے نسل پرستی سے ووٹرز کو اکسایاگیا اور سوشل میڈیا کے متعدد سائٹوں پر ایسا مواد شیئر کیا گیا جس سے نسل پرستی کے رجحان کو فروغ ملا ۔ ان میں خاص طور پر پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا بھی ہے جس میں غربت ، تشدد اور غیر متناسب وسائل کی تقسیم کے حوالے سے اشتعال پیدا کیا گیا۔ اسی طرح آزاد خیال طبقے ، مذہب اور جنسی عدم مساوات کو بھی ہدف بنایا گیا۔نسل ، مذہب اور نظریات سے معاشرہ تقسیم کرکے منظم طریقے سے عوامی رائے کو متاثر کیا گیا۔

امریکا میں اس وقت بھی انہی نظریات کے تحت 2020کے صدارتی انتخابات کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نسل پرستی کے رجحان اور اسرائیلی ہمدردی کی بنیاد پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں ، امریکی میڈیا صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا میں دیئے جانے والی ٹویٹس کو صدارتی انتخابات میں کامیابی کے حصول کا ایک طریق کار قرار دیتے ہیں کہ ماضی میں بھی صدر ٹرمپ نے ایران و افغانستان و عراق کے حوالے سے ایسی ٹوئٹس کی تھی جس میں انہوں نے اوباما حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ صدر ٹرمپ اب وہی عمل دوبارہ دوہرا رہے ہیں اور ایران ، شمالی کوریا ، چین کے حوالے سے ان کے سخت ٹویٹس کو صدارتی انتخابات کے لئے راہ ہموار کرنا سمجھا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ سوشل میڈیا میں بھرپور طریقے سے اپنے خفیہ اداروں کے سربراہوں کی پالیسیوں اور اپنی کابینہ کے اراکان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے تارکین وطن کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ تیار ہوجائیں ان کے خلاف اب چھاپے ماریں جائیں گے۔ امیگریشن حکام جلد ہی ان کے پاس آنے والے ہیں۔ صدر ٹرمپ تارکین وطن کی امریکا میں پناہ کے سخت مخالف ہیں ۔ میکسکو دیوار کی تعمیر کے معاملے پر انہیں پہلے ہی کانگریس کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور دیوار کی تعمیر کے لئے 5ارب 70کروڑ ڈالرز کے فنڈز منظور نہ کئے جانے پر صدر ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤ ن کئے۔35دن تک جاری شٹ ڈاؤن کئے جانے کے باوجود امریکی صدر فنڈز منظور کرانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ شٹ ڈاؤن سے 8لاکھ سرکاری ملازمین براہ راست متاثر ہوئے تھے۔اس قبل امریکی صدر نے 7مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندیاں ایگزیٹو آرڈر کے تحت پابندی عاید کی تھی ۔

صدارتی انتخابات کے حوالے سے ایک بڑا تنازعہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں جان میک کیفی جو کہ معروف اینٹی وائرس کمپنی میک کیفی کے بانی، برطانوی امریکی کمپیوٹر پروگرامر اور کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی حامی کاروباری شخصیت ہیں ، انہوں نے امریکی حکومت پر الزام لگایا کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ہراساں کیا جاتا رہتا ہے۔ جان میک کیفی امریکی حکومت کے حکام اور سی آئی ایجنٹس پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کے پاس لاتعداد فائلیں و کرپشن کے ثبوت ہیں جو کہ مجموعی طور پر جمع کردہ ڈیٹا کا سائز 31 ٹیرا بائٹ پر مشتمل ہے۔ جان میک کیفی نے خبردار کیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے 25اراکین کانگریس اور 5سینیٹرز نے2020کے الیکشن میں دوبارہ حصہ لیا تو وہ کرپٹ امریکی حکام اور اتحادیوں کے نام آشکارہ کردیں گے جو مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ ، رشوت سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ جان میک کیفی کا کہنا ہے کہ وہ تمام شواہد و ثبوت سامنے لا کر کرپٹ امریکی حکام اور سی آئی اے ایجنٹوں کو بے نقاب کرکے تباہی پھیلا دیں گے ۔ امریکی صدر ٹرمپ انتخابات میں کامیابی کے لئے امریکی عوام کو باور کرانے میں مشغول ہیں کہ امریکا کو محفوظ بنانے کے لئے ان کا دوبارہ منتخب ہونا ناگزیر ہے۔ امریکی صدر انتخابات سے قبل ایسے قابل ذکر اقدامات کرنا چاہتے ہیں جس سے امریکی عوام میں ان کی ذات کے حوالے سے پزیرائی پیدا ہو ۔ لیکن صدر ٹرمپ کے اقدامات کو امریکی عوام کی جانب سے پزایرئی ملنے کی امید کم ہے ، کیونکہ ایک جانب انہوں نے مشرق وسطی و افغانستان سے امریکی افواج کو واپس بلانے کا اعلان کیا تو کانگریس اور ان کے وزرا ء کی جانب سے سخت مخالفت سامنے آئی اور امریکا کے لئے ایسے خطرناک قرار دیا گیا ۔ صدر ٹرمپ مشرق وسطی کی جنگ سے باہر نکلنے کے بجائے ایران کے ساتھ الجھتے چلے گئے ۔ ان کے کے ٹوئٹس اور بیانات نے خود امریکی صدر کے لئے مشکلات پیدا کردی ہیں ۔ٹوئٹر صدر ٹرمپ کا پسندیدہ پلیٹ فارم ہے۔ اپنی مخالف امید وار ہلیری کلنٹن پر تنقید کرنی ہو یا امریکی نیوز چینلوں اور اخبارات کو ’فیک نیوز‘ کہنا ہو، کسی معاہدے کی توثیق یا تنسیخ کرنی ہو یا کسی ملک کو تڑی لگانی ہو، امریکی صدر یہ تمام کام ٹوئٹر کے ذریعے سرانجام دیتے ہیں۔ 2020کے انتخابات کے لئے ڈیموکریٹ امیدوار اس معاملے کو بھی باریکی بینی سے دیکھ رہے ہیں کہ 2015کے انتخابات کی طرح صدر ٹرمپ دوبارہ غیر متوقع طور پر کامیاب نہ ہوجائیں ۔ اس لئے رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے اور انتخابی فضا کو اپنے حق میں رکھنے کے لئے دونوں جماعتوں کی جانب سے باقاعدہ تیاریوں ، پروپیگنڈوں اور حکمت عملی کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔

ڈیمو کریٹس نے ہیلتھ کیئر اور عدم مساوات کو ایجنڈا بنایا ہے۔ وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو ڈیموکرٹیکس کی جانب سے دھچکا پہنچ چکا ہے ۔ اب 2020کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کے لئے مشکلات زیادہ ہیں کیونکہ انہوں نے وائٹ ہاؤس جیسے ’’ دھونس کا منبر‘‘ کا کہا جاتا ہے ، اس کے بجائے سوشل میڈیا کو ’’ منبر ‘‘ بنایا ، جس سے رائے عامہ ان کے موافق نظر نہیں آتی۔ اگر امریکی صدارتی انتخابات میں سیاسی انجینئرنگ نہیں ہوتی اور صدارتی انتخابات متنازع نہیں بنتے تو صدر ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔ اس کا اندازہ نامور امریکی دانشور نوم چومسکی کے اس بیان بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے امریکا کی ری پبلکن پارٹی کو انسانی تاریخ کی خطرناک ترین تنظیم قرار دے دیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کِم ڈارک کی ای میلز لیک ہوگئی ہیں جن میں صدر ٹرمپ کی طرز حکومت پر شدید تنقید کی گئی ہے اور حیران کن انکشافات کیے گئے ہیں۔برطانوی اخبار ’میل آن سنڈے‘ کو ذرائع سے موصول ہونے والی لیک ای میلز میں برطانوی سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں وائٹ ہاؤس کی مجموعی کارکردگی کو ناکارہ اور کئی اہم فیصلوں پر منقسم پایا تاہم انہوں نے امریکی صدر کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے پر بھی خبردار کیا۔اس لئے ان خدشات کا اظہار برملا ہو رہا ہے کہ 2020کے صدارتی انتخابات پھر متنازعہ ہوسکتے ہیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 269 Print Article Print
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 572 Articles with 205180 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: