کبھی چہرہ نہیں ملتا ، کبھی درپن نہیں ملتا

(Qadir Khan, Lahore)

 چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتمادکا پانسہ پھینک دیا گیا ہے ۔ نمبر گیم تو مکمل طور پر واضح ہیں لیکن بد قسمتی سے سینیٹ کے انتخابات میں عمومی طور پر ’’ ہارس ٹریڈنگ‘‘ کی قبیح روایت کے سبب حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ سب بخوبی آگاہ ہیں کہ سیاسی شطرنج میں مہروں کو کس وقت ، کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن اتحادکی جانب سے حکومت کو دیئے جانے والا یہ پہلا عملی چیلنج ہے جو حکومت و اپوزیشن کی سمت متعین کردے گا ۔ سینیٹ انتخابات سے قبل جس طرح بلوچستان کی حکومت تبدیل ہوئی اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کو اکثریت ہونے کے باوجود ،وزیر اعلیٰ بلوچستان کو جماعتی بغاوت کے بعد مستعفی ہونا پڑا تھا وہ حیران کن و غیر متوقع نہیں تھا ۔ ق لیگ کے رکن وزیر اعلیٰ بلوچستان بن گئے اور بڑی شدت کے ساتھ افوہوں نے جنم لیا تھا کہ اب سینیٹ کا عمل مکمل نہیں ہوگا اس وجہ سے حکومت اپنے اقتدار کی مدت بھی پوری نہیں کرپائے گی۔ لیکن حکومت نے لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے آئینی مدت مکمل کرہی لی ۔ سینیٹ میں کامیابی کے لئے پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس واضح اکثریت تھی ، لیکن عدالتی فیصلے نے سب کچھ اکھاڑ پھینکا اور سینیٹ کے انتخابات میں نون لیگ کے امیدواروں کو آزاد نشانات پر الیکشن لڑنے پڑے ۔ میاں نواز شریف نااہل قرار پائے تو پارٹی کی صدارت کے دوران کئے جانے والے فیصلے بھی منسوخ ہوگئے۔ سینیٹ الیکشن ہوا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی ہنر مندی سے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ اور سلیم مانڈی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے۔ حالانکہ پاکستان مسلم لیگ ن نے سینیٹر رضا ربانی کی حمایت کا اعلان کیا تھا کہ اگر رضا ربانی چیئرمین سینیٹ بنتے ہیں تو وہ اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گی ، لیکن پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے سینیٹ چیئرمین کے لئے رضا ربانی کے نام پر حامی نہیں بھری اور موجودہ چیئرمین کا انتخاب عمل میں آگیا ۔پی پی پی جس کا امیدوار چیئرمین سینیٹ بن سکتا تھا ، انہوں نے ڈپٹی چیئرمین شپ پر اکتفا کیا ۔ یہ تمام تر معاملات پاکستان مسلم لیگ ن کی مخالفت کے بنا پر پی پی پی نے کئے ۔ اگر جمہوری روایات کے مطابق سینیٹ کے انتخابات ہوتے تو آج سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کا چیئرمین ہوتا ۔ جوڑ توڑ کی اس سیاست میں پی پی پی اور تحریک انصاف نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ بلوچستان سے نون لیگ کی حکومت بھی گئی اور سینیٹ کی چیئرمین شپ بھی نہ مل سکی۔

اب ایک مرتبہ پھر تاریخ خود دوہرا رہی ہے ، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کا غیر فطری اتحاد ہونے کے بعد آل پارٹیز کانفرنس میں کئے جانے والے فیصلے کے مطابق حکومت کے خلاف احتجاج و گھر بھیجنے کی منصوبہ بندیوں میں پہلا وار سینیٹ میں کیا گیا ہے ۔ بظاہر سینیٹ کا عملی کردار قومی اسمبلی کی طرح اہم نہیں ہے لیکن پارلیمانی مقننہ کے تحت سینیٹ پارلیمانی نظام کا استعارہ ہے ۔ اس لئے سینیٹ کی عوامی افادیت نہ ہونے کے باوجود سیاسی محاذ آرائی میں ایک بار پھر جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین و وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹ کے چیئرمین کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ جواباََ قائد ایوان نے ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کرادی ہے۔ ان قرادداوں کے نتائج سینیٹ کی روایات کے مطابق کچھ بھی ہوسکتے ہیں ۔ تاہم جس طرح حکومت مخالف تحریک میں تیزی آتی جا رہی ہے ۔ اس سے پی ٹی آئی کو پریشانیوں کا سامنا ضرور ہوسکتا ہے۔اس وقت مملکت میں کمزور جمہوری ڈھانچہ کھڑا ہوا ہے ۔ الیکٹیبلز کی مدد سے قائم حکومت کے خلاف مالیاتی بجٹ2019-20کے بعد ہڑتالوں اور احتجاجوں کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ اپوزیشن کو متحد رکھنے کے لئے حکومت وقت جس’’ جانقشانی‘‘ سے کام کررہی ہے اس کی مثال کم ہی ملے گی ۔ سیاسی افراتفری و ا نتشار کا موسم بگڑتا جا رہا ہے ۔ دوسری جانب ویڈیوز لیکس نے عدالتی نظا م کی شفافیت پر بڑا سوال چھوڑ دیا ہے۔ آج سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ویڈیو لیک کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت شروع کرے گا ۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ ویڈیو لیکس کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ پاکستان میں سیاست کا معیار انتہائی درجے تک پست ہوتا جارہا ہے۔ اخلاقی اقدار میں گراؤٹ کا سلسلہ تو چند برسوں میں کسی حد تک ہی رہتا تھا لیکن جس طرح اب سوشل میڈیا میں جس طرح کے ٹرینڈ بن رہے ہیں اور سیاست میں جس قسم کے الزامات لگائے جاتے ہیں اس سے سیاست کا مہذب ماحول قریباََ ختم ساہوگیا ہے۔ اب جوڑ توڑ کی سیاست میں دولت کی چمک ہی کافی نہیں رہی بلکہ مقاصد کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے کسی قسم کے اقدار کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔ موجودہ حکومت کے گیارہ مہینوں بعد معاشی صورتحال مزید گھمبیر ہوچکی ہے ، تاجروں کے مطالبات کی جو بھی نوعیت ہو لیکن اس سے محنت کش طبقہ براہ راست متاثر ہورہا ہے۔ سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن کی کامیابی کے بعد دو ایوانوں میں باہمی چپقلش و عدم تعاون کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہونے کے خدشات ہیں جس سے منتشر ایوانوں کو ایک صفحے پر آنے کے لئے بہت بڑی مسافت طے کرنا ہوگی۔

سیاسی جماعتوں کے رویوں سے عوام کی اکثریت نالاں ہوچکی ہے اور بر ملا جس اخلاقی پس ماندگی کے ساتھ اظہار کرتی ہے انہیں لکھا بھی نہیں جا سکتا ۔ بات اب صرف سیاسی جماعتوں تک ہی محدود نہیں رہی ہے بلکہ ریاست کے تینوں ستونو ں پر جو گند اچھالی جا رہی ہے۔ جو ایک افسوس ناک مقام ہے۔ صحافت ریاست کا اہم ستون ہے ، لیکن میڈیا ہاؤسز کی گروپ بندیوں کی وجہ سے اب صحافت فروعی سیاست کی ترجمان بن چکی ہے کہ برے کو اچھا اور اچھے کو برا کہنا ، اہم مقاصد بن چکے ہوں ۔ کسی بھی چینل کا نام عوام کے سامنے لیں تو وہ آنکھ بند کرکے بتا سکتا ہے کہ کس میڈیا ہاؤس کی ہمدردیاں کس سیاسی جماعت کے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف جس منظم انداز میں پروپیگنڈا کیا جارہا ہے وہ ملکی سلامتی کے لئے بڑی خطرناک صورتحال ہے۔ ملک دشمن عناصر کے تو پہلے ہی سے یہ مذموم عزائم رہے ہیں ، لیکن اب بیشتر سیاسی جماعتوں کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف جس قسم کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے وہ مسائل کو بڑھا ر ہے ہیں۔ ریاست کا سب سے اہم ستون عدلیہ ہے ۔ لیکن جس طرح عدلیہ کے حوالے سے مقتدور ہستیوں پر ریٹائرڈمنٹ کے بعد تنقید و الزامات عاید کئے جاتے ہیں ۔ وہ عدالتی نظام سے عوام کے اعتماد کو مجروح کئے جانے کے مترداف ہے ۔ خاص طور پر گزشتہ دنوں دو اہم شخصیات کی مبینہ ویڈیوز نے احتساب کے عمل پر شکوک و شبہات کے گہرے نقوش چھوڑے ہیں ۔ حکومت کبھی ویڈیوز لیکس پر ایک بیانیہ پر قائم نہیں ہے۔ چونکہ عدالت عظمیٰ باقاعدہ کاروائی کا آغاز کرچکی ہے اس لئے اس معاملے پر عدلیہ کی جانب سے منطقی فیصلہ نہ ہونے تک حکومت و اپوزیشن کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ہمیں قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد سے لیکر سیاست کی پست سطح تک ہمارے رویئے اور اطوار آنے والی نسل کے لئے عبرت ناک تاریخ بن رہے ہیں۔ جو بویا جاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے۔ ہمیں منفی عمل سے باہر نکلنا ہوگا۔ ایک بار ایسے فیصلے کرنا ہونگے جس کے نتائج دوررس ہوں ۔ وقتی نمبر گیم اور رکیک الزامات کی سیاست کو بالائے طاق رکھنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پنجہ آزمائی میں صرف ایک فریق غریب عوام و نقصان ہورہا ہے۔غریب عوام کے پاس پانچ برسوں میں صرف ایک موقع ووٹ کا ہوتا ہے ۔ جس کے بعد قسمت کی بازی اس کے ہاتھ میں نہیں رہتی ۔ عوام کو مایوس نہ کریں وگر نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 163 Print Article Print
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 572 Articles with 205287 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: