شکتی مان کی وکاس یاترا

(Dr Salim Khan, India)

ریل کا پہیہ گھڑی کے کانٹے کی مانند گھوم رہاتھا۔ رات کے دس بجے بڑودہ سے گاڑی چلی تو کلن نے للن سے کہا میں اپنی اوپر والی برتھ پر جاکر سوجاتا ہوں
آنکھ لگتے ہی ایک گرجدار آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۰۰۰۰۰۰۰بھائیو اور بہنو۔
للن بولا اوئے ناہنجار تیرا دماغ خراب ہے جو پردھان جی کی نقل کرتا ہے ۔ابھی حال میں ایک پھیری والا اس جرم میں گرفتار ہوچکا ہے۔
ایسے تو بہت سارے بے قصور ہر روز گرفتار ہوجاتے ہیں لیکن مجھے کوئی گرفتار نہیں کرسکتا ۔
اچھا! تو ہے کون؟؟؟
بھائیو اور بہنو ۰۰۰۰۰۰میں شکتی مان ہوں شکتی مان ۔ میں کسی سے نہیں ڈرتا سب مجھ سے ڈرتے ہیں۔ میں ہر ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہوں ۔
للن نے سوچا یہ تو اصلی لگتا ہے مگر پھر ہوائی جہاز چھوڑ کر یہاں کیوں چلا آیا؟ اس نے پوچھا کیوں بھائی ہوائی جہاز کا ٹائر پنچر ہوگیا کیا جو یہاں نکل آئے ؟
شکتی مان بولا بھائیو اور بہنو ۰۰۰ ائیر انڈیا بک گئی ہے کہ نہیں؟ جب ائیر انڈیا بک گئی ہے تو اب وہ فری سروس بند ہوگئی ہے کہ نہیں ؟
انداز ہو بہو پردھان جی کا تھا ۔ للن نے کہاہاں ہاں بھائی ہمیں معلوم ہے لیکن کیا اب ریلوے کو بھی بیچنے کا ارادہ ہے جو یہاں چلے آئے؟
ارادہ تو ہے لیکن خریدار نہیں ملتا ۰۰۰۰۰۰تم خریدوگے کیا؟
ارے بھائی یہ تمہاری واگھ بکری چائے تھوڑی نا ہے جو ہم چسکیاں لے لے کر نوش فرمائیں ۔ یہ تو ریلوے ہے ریلوے ۔
اوہو۰۰۰ تم نے بھی پرانی یاد تازہ کردی لیکن اب کہاں واگھ اور کہاں بکری ؟ نہ واگھ، نہ بکری اور نہ چائے ؟وہ سب لٹ گیا ؟
سب لٹ گیا ؟ میں نہیں سمجھا ۔ یہ کیسے ہوگیا؟
میں سمجھاتا ہوں ۔ پہلے تو گاندھی کی بکری کو گوڈسے کا شیر کھا گیا اور پھر ساورکرکی گائے نے شیر کو جنگل سے بھگا کر شہر میں بھیج دیا
اچھا تو پھر آج کل جنگل میں کس کا راج ہے؟
گائے کا اور کس کا ؟ اب تم پوچھو گے میں شہر میں کس کا راج ہے؟ ۰۰۰۰۰ تو سنو شیر کا اور کس کا؟
للن بولا اب سمجھا کہ شہر میں جنگل راج کیوں ہے ؟ اچھا یہ بتاو کہ آپ یہاں کیا کررہے ہیں ؟
اب آرام کر رہا ہوں ۔
آرام؟ آرام تو آپ کبھی نہیں کرتے ۔ سنا ہے آپ نیند میں بھی کام کرتے ہیں۔
جی ہاں صحیح سنا ہے تم نت۔ میں نیند سب سے اہم کام کرتا ہوں ۔
یہ سن کر للن چکرا گیا ۔ وہ بولا نییند میں سب سے اہم کام ؟میں نہیں سمجھا۔
میں نیند میں سپنے دیکھتا ہوں اور ہوش میں خواب بیچتا ہوں ۔
لیکن پھر آپ کے کرنے کا کام کون کرتا ہے ؟ میرا مطلب ہے وہ کام جس کی آپ کو تنخواہ ملتی ہے۔
میری مان کو وزیرداخلہ بناکرمیں نے اپنا کام اس کو سونپ دیا ۔
یہ میری مان درمیان میں کہاں سےآیا؟
ارے بھائی شکتی مان ہوتا ہےکہ نہیں؟ اور میں شکتی مان ہوں کہ نہیں ؟؟ اوراگر شکتی مان ہوسکتا ہے تو میری مان کیوں نہیں ہوسکتا ؟؟؟
ہوسکتا لیکن اگر وہ کل کو اپناارادہ بد دے اورآپ کے بجائے اپنی من مانی کرنے لگے تو کیا ہوگا؟
نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ میں شکتی مان ہوں ۔
شکتی مان ؟ للن نے ہنس کر پوچھا لیکن ہم کیسے مان لیں ؟ کیا یہ ثابت کرسکتے ہو کہ واقعی شکتی مان ہو؟
کیوں نہیں ۔ دیکھو میں دو گھنٹے بعد اس ٹرین کو احمد آباد پہنچا دوں گا۔
للن بولا ارے بھائی دوگھنٹے بعد تو گاڑی ویسے بھی پہنچ جائے گی ۔ اس میں شکتی مان کی کیا ضرورت اگرآپ شکتی مان ہیں تو دو کام کرکے دکھائیں؟
بولو جلدی بولو میں شکتی مان ہوں ۔ میں سب کچھ کرسکتا ہوں ۔
پہلا کام تو یہ ہے تم اس گاڑی کو ۶ گھنٹے میں احمدا ٓباد پہنچاو ۔
یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔میں ابھی زنجیر کھینچتا ہوں اور پھرڈرائیور کو انتخابی چائے پلا کر چار گھنٹے کے لیے مد ہوش کردیتا ہوں۔
اچھا اب دوسرا کام سنو ۔اگر واقعی شکتی مان ہو تو اس گاڑی کو پیچھے سورت لے چلو ۔
پیچھے سورت وہ کیوں؟ میں اور میرا وکاس تو آگے ہی آگے بڑھنے میں وشواس رکھتا ہے۔ میں پیچھے نہیں جاسکتا۔
پتہ ہے لیکن وکاس اگر پاگل ہوجائے تو ہر سمت بھاگتا پھرتا ہے۔ کبھی آگے کبھی پیچھے، کبھی اوپر کبھی نیچےکبھی دائیں مڑجائے کبھی بائیں مڑ جائے۰۰
اچھا ٹھیک ہے لیکن پہلے یہ بتاو کہ تم سورت واپس کیوں جانا چاہتے ہو؟
مجھے وہاں پر سورتی چائے والے نے پھٹی ہوئی دو ہزار کی نوٹ تھما دی ۔ میں اس کو بدلنا چاہتا ہوں ۔
چائے اور دوہزار کا نوٹ ؟ ہماری ایوان پارلیمان کی کینٹین میں تو ۰۰۰۰۰اوہو میں بھول گیا تھا اس میں عام لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے ۔
جی ہاں میں نے اس کو ایک چائے کے لیے پانچ ہزار کا نوٹ دیا ۔ اس نے دو دو ہزار کے دو نوٹ لوٹائے اس میں سے ایک پھٹا ہوا نکلا ۔
شکتی مان خوش ہوکر بولا بھائیو اور بہنو دیکھا تم نے ۔ میں نے چائے کی قیمت ایک ہزار تک پہنچا دی کہ نہیں ؟ میں شکتی مان ہوں کہ نہیں؟
ارے بھائی مہنگائی بھی ریل گاڑی کی طرح اپنے آپ آگے ہی آگے بڑھتی جاتی ہے ۔ اس کے لیے کسی شکتی مان کی کیا ضرورت ؟
مجھے پتہ تھا تم یہی بولوگے لیکن پہلے یہ پسنجر کی رفتار سے بڑھتی تھی۔اب بولیٹ ٹرین کی رفتار سے بڑھ رہی کہ نہیں ؟ بولومیں شکتی مان ہوں کہ نہیں ؟
اس شیخی کو سن کر ڈبے کے مسافر آپے سے باہر ہوگئے اور شکتی مان کو ٹرین سے باہر اچھال دیا ۔
اس بھیانک خواب نے کلن کو جگا دیا ۔ اس نے نیچے دیکھا توشکتی مان کے انجام سے بے نیاز للن بڑے مزے سے موبائل پر ایک پرانا گانا سن رہا تھا
جیون کے سفر میں راہی ملتے ہیں بچھڑ جانے کو ۰۰۰۰۰اور دے جاتے ہیں یادیں ۰۰۰۰۰۰۰
کلن پھر کرو ٹ بدل کر سوگیا ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 159 Print Article Print
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 791 Articles with 246273 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: