ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
ٓاسلام آباد میں مرکزی حکومت کے وزیر ریلوے، جو مستقبل میں ہونے والی گرفتاریوں کی پیشن گوئی کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔جب ان سے اس گرفتاری بارے سوال کیا گیا توجواب میں انھوں نے مریم نواز پر تنقید کر کے یہ تاثر دیا کہ پیٹ میں مروڑ کا اصل سبب ہے کیا۔

زیادہ پرانی بات نہیں ہے پنجاب کے ایک سیاسی رہنماء پر بھینس چوری کا مقدمہ درج ہوا۔ سیاسی مقدمہ تھا، مقدمہ درج کرانے والوں پر لعن طعن ہوئی تو تحقیق شروع ہوئی کہ کس کے ایماء پر یہ بے سرو پا مقدمہ درج ہوا ہے۔

جب حکمران اقتدار کے ساتھ ساتھ طاقت ورہونے کے نشے کا شکار ہوں تو ایسے ہی بے سروپا مقدمات عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔ تازہ ترین مقدمہ جناب عرفان الحق صدیقی کے خلاف درج ہوا ہے۔ ہوا یوں کہ عرفان صدیقی کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹن تھری میں واقع ان کے گھر کے باہر سے اٹھایا گیا۔ تھانہ رمنا کی حوالات میں بند کرنے کے بعد ان پر مکان کو کرایہ پر دے کر کرایہ دار کے کوائف پولیس کومہیا نہ کرنے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۸۸۱ کے تحت مقدمہ نمبر ۹۱۔۳۴۲ درج کیا گیا۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے بقول اس نے قانون کی سربلندی کے لیے حکم پر عمل کیا ہے۔ حقیقت البتہ یہ ہے کہ مکان کا مالک عمران خاور صدیقی ہے۔ جو عرفان صدیقی کا بیٹا ہے۔ جب ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں عرفان صدیقی کے وکیل نے حقائق پیش کر کے عرفان صدیقی کا نام مقدمے سے خارج کرنے کی درخواست کی تو معزز عدالت نے عرفان صدیقی کو ۴۱ دن کے عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوانے کا حکم صادر کیا۔
ٓ
اسلام آباد میں مرکزی حکومت کے وزیر ریلوے، جو مستقبل میں ہونے والی گرفتاریوں کی پیشن گوئی کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔جب ان سے اس گرفتاری بارے سوال کیا گیا توجواب میں انھوں نے مریم نواز پر تنقید کر کے یہ تاثر دیا کہ پیٹ میں مروڑ کا اصل سبب ہے کیا۔

اسلامی سوچ کے حامل، پاکستان کے نام اور خاک سے محبت کرنے والے سابقہ استاد، نواز شریف کے سابقہ مشیر، کالم نویس اور مصنف ۸۷ سالہ عرفان صدیقی کی کہانی میں رنگ بھرنے کی ابتداء اس دن سے شروع ہو گئی تھی جس دن عرفان صدیقی نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔ عرفان کا ناقابل معافی جرم ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بنا۔ جوں جوں یہ نعرہ بلند ہوتا گیاعرفان کے خلاف تحقیقات تیز ہوتی گئی۔ مگر عملی سیاست سے دوراس ادبی اور نستعلیق مرد کا کوئی حرف، جملہ اس کو غدار ثابت کر سکا نہ کسی بیرونی ایجنسی یا ملک کا اہلکار۔ نہ کسی لفافے پر ہی اس کا نام ملا۔ پولیس کو ہفتوں کی محنت کے بعد قانون کرایہ داری کا جواز ہاتھ لگا سو اس پر ہاتھ ڈال دیا گیا۔ پولیس کے بس میں جو تھا اس نے کر دیا۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے بھی اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔البتہ قانون کا منتخب استعمال سیاسی انتقام کہلاتا ہے۔ اور ہماری حکومت اس باب میں خود کو بدعتی منوانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ایسے ہی حکمرانوں کے بارے میں کسی دل جلے نے کہا تھا:
ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہونگے بد قمار
جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے

استادوں کو ہتھکڑیاں لگانا، زنجیر وں میں جکڑ کر ان کی تصویریں میڈیا کے ذریعے عام کر نا تو اس دور میں عام سی بات ہے۔ منتقم تو موت کے بعد بھی استاد کے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑی کو کھولنے پر راضی نہیں ہوتا۔

آزادی اظہاررائے کے بارے میں واشنگٹن میں جو بیان دیا گیا تھا اس کا عملی ترجمہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ اگر حکومت وقت کی تعریف میں ہے تو اظہار رائے کا بہت احترام ہے مگر حکومتی پالیسیوں کے ناقدین پر قانون کا شکنجہ ایسے فٹ کیا جاتا ہے جیسے عرفان صدیقی پر کیا گیا ہے۔

میں نے کتاب میں پڑہا ہے کہ ایک اموی کو بطوربادشاہ چنا گیا۔ شراب کے دلدادہ نشئی بادشاہ کا طوطی سلطنت کے طول و عرض میں بولتا تھاالبتہ جب بات خاندانی وجاہت کی آتی تو عوام ایک دوسرے خاندان کے فرد کی طرف دیکھتی۔ بادشاہ کو یہ بات پسند نہ تھی۔ حل یہ نکالا گیا کہ مقدس خاندانی کو گھیر کر ایک صحراء میں لایا گیا۔ ذبح کر کے سر نیزے کی انی پر چڑہایا گیامگر پھر ہوا کیا۔ ڈیڑھ صدی بیت چلی ہے، تخت اور اہل تخت کے حصے میں جو آتا ہے سب کو معلوم ہے۔ البتہ نیزے کی انی پر بلند ہونے والا کٹا ہوا سر آج بھی کروڑوں لوگوں کے سر کا تاج ہے۔اسی کتاب میں ایک دوسرے اموی عمر بن عبدالعزیز کا نام بھی درج ہے۔ اس نے بھی کرپشن کے خلاف جنگ کی تھی۔ صرف ستائیس ماہ حکومت کر سکا مگراپنے ملک سے کرپشن کے جنگلات کے جنگلات ختم کر گیا۔ کتاب میں درج ہے جس دن وہ مرا بغداد شہر میں ہی نہیں جنگل میں بکریوں کے چرواہے بھی رو دیے تھے۔ اسی کتاب میں یہ فقرہ بھی درج ہے لوگ دوسروں کے تجربات سے کم ہی سیکھتے ہیں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 57686 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2019 Views: 455

Comments

آپ کی رائے