مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ خدشات و امکانات

(Syed Majid Gardezi, )

۵؍اگست ۲۰۱۹ء کادن کشمیری قوم کے لیے ایک المناک دن کے طور پر گزر گیا۔ ۱۹۴۷ء سے شروع ہونے والی تحریک آزادی کشمیر ایک نئے موڑپر کھڑی ہے۔ منزل وہی ہے لیکن حالات اور واقعات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ہندوستان نے اپنی لوک سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا ۔ بھارت نے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ٹویونٹ کا نظام نافذ العمل کر دیا۔ ہندوستان کے ۱۹۵۲ء کے آئین اور ۱۹۵۴ء کے حکم نامہ کے مطابق ۳۷۰ اور ۳۵اے کے مطابق کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے اندر آئین ساز اسمبلی کام کر رہی تھی اور اس اسمبلی میں کشمیر کے نمائندہ افراد آئین سازی کر رہے تھے لیکن اب اس نئے حکم نامے کے مطابق کشمیر کے بارے میں ۱۹۵۲ء کے آئین کی شقوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے اور نئے حکم نامے کے مطابق کشمیر کی وہ خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی ہے اب کشمیر میں آئین ساز اسمبلی کے بجائے قانون ساز اسمبلی کام کرے گی اور مرکز کی طرف سے گورنر کے ذریعے مرکزی احکامات کو نافذ کیا جائے گا۔اس حکم نامے سے جہاں انتظامی امور بدل گئے وہاں اب کشمیریوں کے علاہ دیگر ریاستوں کے لوگ زمین خرید سکیں گے اور آباد ہو سکتے ہیں جس کے مستقبل میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی واقع ہوگی جس کے مستقبل کے خدشات بہت خطرناک ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر میں لاکھوں افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ہزاروں گھر اور کئی ہزاروں ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں۔ بھارت نے ایک ایسے موقع پر یہ قدم اٹھایا ہے جب تحریک آزادی کشمیر ایک نئے دوڑ پر داخل ہوچکی تھی۔ وادی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کشمیر کو ایک نئی جان مل چکی ہے ہر روز بھارت کے لئے کشمیر کو کنٹرول کرنا مشکل ہو چکا تھا دوسری طرف اگر بھارت اقوام متحدہ کی قرادوں کے مطابق کشمیر میں ریفرنڈم کرواتا تو آبادی کے تناسب کی وجہ سے کشمیر اس کے ہاتھوں سے نکل رہا تھا اب بھارت نے اس راستے کو اپنا کر کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی پالیسی کی جانب قدم اٹھایا ہے مگرکشمیریوں کی تحریک ایک منزل کے حصول کی تحریک ہے اور قانون بدلنے سے اس میں مشکلات تو آسکتی ہیں لیکن اس کو یکسر ختم کرنا ناممکن ہے۔

بھارت کے ان اقدامات کے بعد تحریک آزادی کشمیر ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ اس وقت وادی میں مکمل کرفیو نافذ کرکے عملا زندگی کومفلوج کر دیا گیا ہے۔ اور جموں و کشمیر کا دنیا سے رابطہ تقریباً منقطع کر دیا گیا ہے۔ موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ دنیا میں جمہوریت سے سب سے بلند و بالا دعوی کرنے والے ملک کی طرف سے اس طرح کے اقدامات جمہوریت پسندی کے دعوی کی نفی کر رہے ہیں۔ دنیا کے سامنے بھارت کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ بھارت نے حریت قیادت کو مسلسل پابند سلاسل رکھا ہوا ہے ان کو عوامی اجتماعات میں شمولیت سے بازور طاقت روکا جا رہا ہے۔ لیکن حریت قیادت نے جس ہمت سے ان تمام مظالم کا اب تک مقابلہ کیا ہے پوری قوم اس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ اور یاسین ملک کو مسلسل نظر بند رکھا جارہا ہے ۔یاسین ملک کی صحت ہر دن بگڑتی جا رہی ہے جب کہ ان کو روز مرہ کی ضروری صحت کی سہولیات سے مرحوم رکھا جا رہاہے۔ یہ سب کچھ ہندونستان کشمیریوں کی خالص آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لئے کر رہا ہے۔ ان حالات میں بھی کشمیر کے لوگوں کی ایک ہی آواز ہے کہ ہماری منزل پاکستان ہے۔
 
بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بھی سول آبادی کو نشانہ بنایا ہوا ہے ان غیر معمولی حالات میں عالمی برادری کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر میں اعلانیہ قبضہ کا اعلان کر دیا ہے جو اقوام متحدہ کی کشمیر کی متعلق تمام قرادادوں کی نفی ہے۔ بھارت نے بیک وقت عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے کشمیر کے بارے موقف کو ٹھکرا دیا ہے بھارت اس وقت طاقت کے نشے میں دھت ہو کر عالمی برادری کو کھلا چیلنج کر چکا ہے۔ بھارت کا یہ جنگی جنون خطے کے امن کو تباہ کرنے کے در پہ ہے۔ ان غیر معمولی حالات میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو فوری پر غیر معمولی اجلاس طلب کرنا ہوگا اور ان غیر معمولی حالات کو مزید وقت ضائع کیے بغیر کنٹرول کرنا ہوگا، وگرنہ خطہ کے امن کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ زمین کے ایک ٹکرے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہاں بسنے والے کڑوروں انسانوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے دنیا کو اپنے ضمیر کو جنجوڑنا ہوگا اور فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔

ان غیر معمولی حالات میں یہ خوش آئند ہے کہ پوری کشمیری و پاکستانی قوم اس اہم مسئلہ پر مکمل طور پر متحدو متفق ہے۔ آزادی کشمیر، کشمیریوں کی منزل ہے اور کشمیری قوم اس کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔ ظلم کی رات طویل تو ہوسکتی ہے لیکن ہر رات کی صبح ہوتی ہے اور یہ ظلم کی رات بھی ختم ہونے والی ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 253 Print Article Print
About the Author: Syed Majid Gardezi

Read More Articles by Syed Majid Gardezi: 6 Articles with 1852 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: