بھارت کا ایک اور اوچھا وار

(Sami Ullah Malik, )

بھارت نے آج تک پاکستان کے وجودکودل سے اس لئے تقسیم نہیں کیاکہ برہمن سامراج کامہابھارت کاخواب شرمندۂ تعبیرنہ ہو سکاجس کی صدیوں سے تمنادل میں لئے ہوئے ہے۔ برہمن اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جس ملک کوبحرِہندکاپانی چھوکرگزرتا ہے وہ مہابھارت کاحصہ ہے حالانکہ بھارت پرمسلمان حکمرانی کی چھاپ صدیوں پرمحیط ہے۔قیامِ پاکستان نے ان کی آرزؤں پر بری طرح پانی پھیردیالیکن برہمن آج تک اس زخم کوبھلانہیں پایا،یہی وجہ ہے کہ آج سے چندسال پہلے تک بھارت میں یہ امیداورخواہش بہت جوان تھی کہ پاکستان ایک پکے ہوئے پھل کی مانندان کی جھولی میں آن گرے گا۔اس میں امیداور خواہش کے الگ الگ پہلوتھے۔بھارت کے دانشوروں اورسیاستدانوں کی امیدکی بنیادیہ تھی کہ پاکستان ایک قومی ریاست کی تعریف پراس لئے پورانہیں اترتاکہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں مذاہب سے نہیں۔دوقومی نظریہ کی بنیادپرپاکستان وجود میں آیاہے اورمشترکہ بودوباش،زبان،ثقافت،تاریخی شعوراور معاشی مفادات ریاستوں کے بننے اورٹوٹنے میں اہم کرداراداکرتے ہیں جبکہ پاکستان کی مختلف اکائیوں میں مذہب کے سواکوئی قدرمشترک نہیں کہ اس میں رہنے والوں کامذہب اسلام ہے۔

اندرونی اوربیرونی سازشوں کی بنیادپرجب1971ء میں پاکستان کے مشرقی بازوکوالگ کردیاگیاتوبرہمن زادی اندراگاندھی نے بڑے تکبرسے یہ اعلان کیا کہ آج ہم نے نہ صرف ایک ہزار سال پراناقرض چکایاہے بلکہ دوقومی نظریہ کوبھی خلیج بنگال میں ڈبودیاہے۔بظاہر بھارت کی تویہ شدید خواہش تھی کہ باقی ماندہ پاکستان کے بھی ٹکڑے کرکے اس کوہمیشہ کیلئے ایک طفیلی ریاست بنادیاجائے اوراس طرح مہابھارت کے خواب کی تکمیل کاآغازکیاجائے۔بھارت کے سیاستدان اوردانشور یہ سوچنے لگے کہ پاکستان کے اندرایسی بہت سے طاقتیں اب بھی موجودہیں جو قیامِ پاکستان کی مخالف تھیں یاتحریک پاکستان کے دھارے سے الگ تھلگ تھیں اس لئے اب قومیت اورلسانیت کے جن بوتل سے نکال کران کے درمیان فساد پیداکرکے باقی ماندہ پاکستان کوبے پناہ مسائل اورمشکلات میں مبتلاکرکے اس کے باقی ماندہ وجودکوایساعالمی بوجھ بنادیاجائے کہ اس کے عوام نظریہ قیام پاکستان کوایک غلطی قراردیکرخودبخودیاتوبھارت کاایک حصہ بن جائیں یا پھربھارت کی ایک باجگزارریاست بنناقبول کرلیں۔

پاکستان میں جمہوری عدم سسٹم کی موجودگی نے بھی بھارتی سیاستدانوں اوردانشوروں کی ان امیدوں کوتروتازہ اورجوان رکھنے میں ایک اہم کرداراداکیا۔ان کا خیال تھاکہ پاکستان کاوجودمتحدہ ہندوستان کی راکھ سے اٹھاہے اورہندوؤں کی عددی برتری وبالادستی کے آگے سرتسلیم خم کرنے سے انکارکرکے تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں نے ان کی اناکوبری طرح زخمی کیا ہے، اورپھر ہندومت دنیاکے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے اورایک وسیع وعریض خطے پران کی عملداری رہی ہے اور اس خطے کے یہ تمام مسلمان بھی پہلے ہندودھرم سے ہی وابستہ تھے اس لئے پاکستان کے قیام کی صورت میں اس تہذیب کا شکست کھا جاناہندودانشوروں کوکسی بھی صورت ہضم نہیں ہورہاتھالیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ1971ء میں بھارت کی کھلی جارحیت کے بعدپاکستان کے مشرقی بازوکوبنگلہ دیش بنانے کے باوجودوہ بھارت کاحصہ نہ بن سکابلکہ بنگلہ دیش بھارتی سرحدپرکئی نئے مسائل کاموجب بن گیا۔متحدہ پاکستان ،مشرقی پاکستان کے ذریعے جن علاقوں کومتاثرکرنے کی پوزیشن میں نہیں تھااب بنگلہ دیش کی صورت میں بنگال،آسام اورناگالینڈکی ان سرحدوں پرنئے حوالوں سے کئی خطرات نے جنم لے لیاہے اوراب کئی بھارتی دانشوراپنی اس فاش غلطی کوکوس رہے ہیں۔

پاکستان کے ایٹمی طاقت کے طورپرابھرنے کے بعدبھارتی سیاستدانوں اوردانشوروں کی موہوم امیدوں نے جہاں دم توڑاہے وہاں اٹل بہارواجپائی کومینارپاکستان کے سائے تلے اوربعدازاں متعصب ہندولیڈرلال کرشن ایڈوانی کومزارِ قائداعظم پرپاکستان کے وجودکومجبوراًتسلیم کرناپڑا۔اٹل بہاری واجپائی کاایٹمی دھماکوں کے بعدمینارپاکستان لاہورکے سائے تلے تقریرکرنااس بدلتی ہوئی سوچ کاآئینہ دارتھاکہ انہوں نے پاکستان کے اس حق کو تسلیم کرلیاہے کہ دنیامیں جینے کاحق صرف ان کوہے جواپنی حرمت پرمرنے کاعزم رکھتے ہیں حالانکہ جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیاتھاتودھماکے کے صرف پندہ منٹ بعدایڈوانی نے اپنی پریس کانفرنس میں پاکستان کوکھلی دہمکی دی تھی کہ وہ آزادکشمیرپرحملہ کرکے کشمیرکے مسئلے کوہمیشہ کیلئے ختم کردیں گے۔ بظاہر بھارت نے پاکستان کے وجود کوتسلیم توکرلیالیکن اپنی خفیہ ریشہ دوانیوں کواب بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارت کی یہ پرانی خواہش ہے کہ وہ اس خطے کی سپرپاوربن کرمہابھارت کے نقشے میں اپنی امنگوں کارنگ بھرسکے لیکن پڑوس میں چین اورپاکستان جیسی ایٹمی قوتوں کے بعداس کواپنے خوابوں کی تعبیراور امنگوں کی تکمیل میں ناکامی ہورہی ہے اس لئے وہ اس خطے میں امریکااورمغربی ممالک کے توسط سے ایک تیرسے کئی شکارکھیلنے کی کوشش کررہاہے۔

پچھلےچارعشروں سے چین کی تیزرفتارصنعتی ترقی نے دنیاکی بیشترمنڈیوں پرقبضہ کرلیاہے بلکہ خودیورپ اورامریکاکی منڈیوں پرچینی مصنوعات نے برتری حاصل کرلی ہے جس کی بناء پرپچاس بڑی صہیونی کارپوریشنزجن کی گرفت میں عالمی تجارت ہے،ان کے مفادات کوبری طرح زک پہنچ رہی ہے۔ان کارپوریشنزکاامریکااورمغربی ممالک کی حکومتوں میں عمل دخل اب کوئی ڈھکاچھپاہوانہیں۔پچھلی تین دہائیوں سے ہنودویہودلابی نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے جوگٹھ جوڑکیاتھا اور جس بری طرح اس لابی نے پینٹاگون اورسی آئی اے میں اپنے خونی پنجے گاڑرکھے ہیں اس کے بارے میں خود امریکی دانشوروں کی ایک کثیر تعداد تشویش میں مبتلا ہے۔

پاک چین تعلقات کے حوالے سے بلیک میلنگ پرمشتمل پالیسیاں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں اوراس کے پس پردہ بھی وہی مقاصدبڑے واضح دکھائی دیتے ہیں کہ سی پیک کوناکام کیاجا سکے ۔ٹرائیکا دراصل اپنی اس ناکامی کے بعدآزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں فساد پیداکرنے کی کوشش کررہاہےاوروہاں کی مقامی آبادی سی پیک کے خلاگ گمراہ کن پروپیگنڈہ کرکےمقامی آبادی کوورغلارہاہے تاکہ عمران کے امریکی دورے سے پہلے چین اورپاکستان پردباؤ بڑھایاجاسکے اوراس کی آڑ میں مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی تعدادمیں ایک بڑامتوقع اضافہ ہے جسے اسرائیلی ماہرین کی مددبھی حاصل ہے۔ بدقسمتی سے بھارت اور امریکااپنے پہلےمقاصدمیں قطعی کامیاب نہیں ہوسکے۔

اس وقت بھارت کشمیرکی تحریکِ آزادی کوکچلنے میں نہ صرف بری طرح ناکام ہوچکاہے بلکہ کشمیرمیں جاری ظلم وستم کی وجہ سے عالمی طورپربدنام بھی ہورہاہے اوراب بھارت اس بہانے کی آڑ میں کشمیرمیں مزیددولاکھ فوج کے اضافے کی پوری کوشش کرے گاتاکہ مزیدطاقت کے بل بوتے پرکشمیرکے مسئلے سے جان چھڑاسکے اوردوسری طرف امریکاافغانستان میں اپنی شکست چھپانے کیلئے امریکی عوام کویہ احساس دلاناچاہتاہے کہ اگرانہوں نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکالیں توچین جوپہلے ہی پاکستان آچکاہے وہ اس خطے پرمکمل قبضہ کرلے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاسی تجزیہ نگاراورماہرین نے اس خبرکا کوئی نوٹس نہیں لیااوروہ سب جانتے ہیں کہ پاک افواج کوبالخصوص بھارت کے مقابلے کیلئے کسی اورکی مددکی قطعاً ضرورت نہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 148903 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Aug, 2019 Views: 268

Comments

آپ کی رائے