قصہ ایک کم فہم لڑکی کا

(Mukhtar Ahmed, Islamabad)

شاہدہ سولہ سترہ سال کی ایک حسین و جمیل لڑکی تھی- اس کا تعلق مڈل کلاس گھرانے سے تھا- اس کا باپ ریلوے میں کلرک بھرتی ہوا تھا اور حالات بتا رہے تھے کہ وہ کلرک کی حثیت ہی سے ریٹائر ہوجائے گا- اس کا تعلق ان مردوں میں ہوتا تھا جو حالات کی چکی میں پس پس کر جمالیاتی حسن کو خیرباد کہہ چکے ہوتے ہیں اور ہر کام مشینی انداز میں کرتے رہتے ہیں- غصہ اور چڑچڑا پن ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں- ایسے لوگوں کی موجودگی ان کے ساتھ رہنے والوں کو ہر وقت ایک ذھنی اذیت سے دو چار رکھتی ہے- وہ خود پر سختی اور بدمزاجی کا ایک ایسا خول چڑھا لیتے ہیں کہ لوگ ان سے کسی بھی قسم کی باتیں کرنے سے گریزاں رہتے ہیں- شاہدہ کا باپ سخت طبیعت کا ضرور تھا مگر گھریلو معاملات میں دل چسپی لیتا تھا- جو کچھ کماتا تھا بیوی کے ہاتھ پر لا کر رکھ دیتا تھا- اسے بیوی اور بیٹی سے محبّت تو بہت تھی مگر وہ اظہار نہیں کرتا تھا- شاہدہ نے جب یہ کہا کہ وہ میٹرک کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھے گی تو اس نے دفتر سے قرض لے کر کالج میں اس کا داخلہ بھی کروا دیا تھا-

شاہدہ کی ماں بھی اپنے کام سے کام رکھتی اور شوہر سے دوسری بیویوں کی طرح گھل مل کر نہیں رہتی تھی- اس کی یہ وجہ بھی تھی کہ وہ اس سے زیادہ باتیں کرنا پسند نہیں کرتا تھا اور اپنے کام سے کام رکھتا تھا- اس کے اس نا مناسب رویے کی وجہ اس کے آفس کے حالات تھے- جہاں بہت زیادہ ملازموں کی وجہ سے ترقی کے آثار معدوم تھے- سالوں ہوگئے تھے اور ابھی تک اس کی پروموشن کے دور دور تک آثار نہیں تھے- اخراجات بڑھتے جا رہے تھے اور تنخواہ وہیں کی وہیں تھی- باپ کے رویے کی وجہ سے شاہدہ بھی اس سے بات کرتے ہوۓ جھجکتی تھی اور وہ گھر میں ہوتا تو وہ سر پر دوپٹہ ڈالے خاموشی سے کسی کام میں لگی رہتی-

شاہدہ کو اپنی غربت اور کم مائیگی کا بہت احساس تھا- اس کی سہلیاں اور آس پڑوس کی عورتیں اس کی خوب صورتی کی تعریف کرتیں تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی کہ کاش اس کا باپ پیسے والا ہوتا- اس غربت بھرے ماحول میں رہنے کے باوجود وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی- اس کی بھی ایک وجہ تھی- وہ دوسری لڑکیوں کو دفتروں اور مختلف اداروں میں کام کرتا دیکھتی، اسے ان کے ٹھاٹ باٹ نظر آتے، وہ اونچی ہیل کی سینڈل پہنے کھٹ کھٹ چلتی پھرتی نظر آتیں اور گٹ پٹ انگلش بولتیں تو اس کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی کہ اسے بھی ایسا ہی بننا ہے- وہ کسی پر ظاہر تو نہیں کرتی تھی مگر یہ حقیقت تھی کہ وہ احساس کمتری کا شکار ہوگئی تھی- اسے اپنی غربت، اپنا ماحول اور ذرا ذرا سی چیزوں کے لیے ترسنا بالکل اچھا نہیں لگتا تھا- اس نے جیب خرچ سے پیسے بچا بچا کر ایک موبائل بھی خرید لیا تھا- یہ موبائل نہایت چھوٹا سا تھا، فنکشن بھی کچھ نہیں تھے- نمبر ملا کر کسی سے بات کرلو یا پھر ایف ایم ریڈیو سن لو- اس کے لیے یہ بھی غنیمت تھا- اس نے اپنا نمبر اپنی چند گہری سہلیوں کو بھی دے دیا تھا-

محلے میں اس کی ایک بچپن کی سہیلی بھی تھی اور اس کا نام فرخندہ تھا- دونوں ساتھ ہی کھیل کود کر بڑی ہوئی تھیں- فرخندہ کا باپ نہیں تھا اور ماں نے ایک دھاگہ بنانے کی فیکٹری میں نوکری کر کے اسے پالا تھا- میٹرک کرنے کے بعد وہ بچوں کے ایک اسکول میں بطور ٹیچر بھرتی ہو گئی تھی- کچھ ماہ پہلے اس کی ماں اچانک بیمار ہو کر چل بسی تھی اور اب وہ اس دنیا میں بالکل تنہا تھی- اپنی اپنی مصروفیات کے باوجود دونوں اب بھی وقت نکال کر کبھی کبھی ایک دوسرے سے مل لیا کرتی تھیں- آج بھی وہ عید کی کچھ شاپنگ کرنے مارکیٹ گئی تھیں-

شاپنگ کر کے وہ گھر لوٹی تو ماں نے اسے کھانا نکال کر دیا- وہ ابھی کھانے سے فارغ بھی نہیں ہوئی تھی کہ موبائل پر ایک اجنبی نمبر سے کال آئ- وہ سوچ میں پڑ گئی کہ اٹینڈ کرے کہ نہ کرے- اس نے بات نہیں کی-

کھانا کھا کر وہ تھوڑی دیر آرام کرنے کے لیے بستر پر لیٹ گئی- تھوڑی دیر بعد اسی نمبر سے پھر کال آئ- اس مرتبہ اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ او کے کا بٹن دبا دیا- دوسری طرف سے کسی نے نہایت نرمی اور مہذب انداز میں کہا- "شاہدہ- پلیز میری بات سنے بغیر فون بند نہیں کرنا-" اس نے جلدی سے فون بند کردیا- اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا- وہ اتنی خوفزدہ ہوگئی تھی کہ اس نے فون کو ہی آف کردیا- فون کرنے والے کا لہجہ رہ رہ کر اس کے ذہن میں گونج رہا تھا- وہ حیران تھی کہ وہ کون تھا جسے اس کا نام بھی معلوم تھا- اس کی تو آج تک کسی لڑکے سے بات چیت بھی نہیں ہوئی تھی، نہ اپنوں میں نہ غیروں میں- پھر اس لڑکے کو اس کا نمبر کیسے ملا؟ اس کے پاس ان سوالوں کے جوابات نہیں تھے-

وہ کب تک فون بند رکھتی- رات کو کسی سہیلی سے بات کرنے کے لیے اس نے موبائل آن کر لیا، پھر اس نے بات ختم کی ہی تھی کہ اسی نمبر سے پھر فون آگیا- اس نے سوچا کہ کال اٹینڈ کرلے- مگر اس کی ہمت نہ ہوئی- اسے اپنی کئی سہلیاں یاد آئیں- گھر والوں سے چھپ کر ان کی بھی لڑکوں سے دوستی تھی اور سب کی سب ان دوستیوں پر بہت خوش تھیں- شاہدہ کے ذہن میں یہ بات آئ کہ وہ سب لڑکیاں بولڈ تھیں- اس خیال کا آنا تھا کہ اس نے بھی بولڈ بن جانے کے فیصلہ کرلیا- اس نے یہ بھی سوچا کہ کونسا وہ اسے فون پر کھا جائے گا- معلوم تو کرنا چاہیے حضرت کون ہیں اور کتنے پانی میں ہیں اور کیا چاہتے ہیں-
اس نے کال اٹینڈ کرلی- اس کے بعدیہ سلسلہ چل پڑا اور دو تین دنوں میں ہی اسے پتہ چل گیا کہ اس کا نام ناصر ہے اور اس نے شاہدہ کو کسی مارکیٹ میں دیکھا تھا- شاہدہ کے ذہن میں یہ بات آ ہی نہ سکی کہ اس سے پوچھے کہ اسے اس کا موبائل نمبر کیسے پتہ چلا- اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک امیر باپ کا بیٹا ہے اور اس کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتا ہے- اس نے جب اسے پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو وہ اسے اتنی اچھی لگی کہ اس نے سوچ لیا کہ اسی سے شادی کرے گا-

شادی کی خواہش کوئی بری بات نہیں تھی- شاہدہ نے اس بات کا برا نہیں منایا، مگر اپنے تئیں اس نے ایک بڑی عقل کی بات کردی- "شادی بیاہ کوئی گڑیا گڈے کا کھیل نہیں- میں نے کون سا آپ کو دیکھا ہے جو آپ سے شادی کر لوں؟"

اس کے کہنے کی دیر تھی، اگلے روز وہ اس کے کالج پہنچ گیا- اس کی چھٹی سے کچھ دیر پہلے اس کا فون آگیا- "میں کالج کے گیٹ کے سامنے بلیک کلر کی گاڑی میں بیٹھا ہوں اور دعا کر رہا ہوں کہ تمہیں پسند آجاؤں- نہ پسند آیا تو پھر میرے سامنے خود کشی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا- میں سچ کہہ رہا ہوں- کہو تو قسم کھا لوں-"

شاہدہ سنّاٹے میں آگئی- وہ اتنی اہم ہے کہ کوئی اس کے لیے خود کشی کرنے پر بھی تیار ہوسکتا ہے- اس کی ایک کلاس فیلو قریب آگئی تھی، اس نے مزید کچھ کہے فون بند کردیا-

چھٹی کے بعد وہ گیٹ سے باہر نکلی- سامنے ہی وہ کار میں بیٹھا نظر آیا- وہ اسے پہچانتا تھا- اسے دیکھ کر مسکرایا اور گاڑی کے دروازہ کھول کر باہر آگیا- اسے دیکھ کر وہ مبہوت رہ گئی- وہ نہایت صاف رنگ کا لمبے قد کا ایک اسمارٹ لڑکا تھا- اس کے بال اس کی پیشانی پر بکھرے ہوۓ تھے، گلے میں ڈھیلی ڈھالی ٹائی جھول رہی تھی اور جسم پر موجود سوٹ خاصہ قیمتی دکھائی دیتا تھا- وہ مسکراتے ہوۓ اسے دیکھ رہا تھا- اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا- وہ گھبرا کر جلدی سے کالج کی بس میں چڑھ کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی- اس نے چور نظروں سے اپنے ارد گرد دیکھا ، کوئی لڑکی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھی، ان کی اکثریت اپنے موبائلوں کی طرف متوجہ تھی- اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا، وہ ابھی تک وہیں کھڑا تھا-

ناصر اسے بے حد پسند آیا تھا- اس کے بات کرنے کا انداز بہت دلکش تھا- وہ اتنی نرمی اور اپنایت سے بات کرتا تھا کہ جی چاہتا تھا کہ وہ بولتا رہے اور وہ سنتی رہے- اس نے اپنی کئی سہلیوں کے بوائے فرینڈز کی موبائلوں میں تصویریں دیکھی تھیں، پر خوبصورتی میں وہ ناصر کا عشر عشیر بھی نہیں تھے- گھر پہنچ کر بھی وہ ناصر کے خیالوں میں ہی گم تھی- اس نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی، اسے لگا کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ہے- ناصر یقیناً اس کی خوب صورتی سے مرعوب ہوگیا تھا- اس کے جدید انداز کے قیمتی کپڑے اور شاندار گاڑی بتا رہی تھی کہ وہ کسی امیر باپ کا بیٹا ہے- اس کے علم میں یہ بات تھی کہ امیر زادوں کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بیویاں کسی فلمی اداکارہ کی طرح حسین و جمیل اور اسمارٹ ہوں تاکہ پارٹیوں وغیرہ میں دوسرے مردوں پر رعب پڑ سکے-

اپنی بے وقوفی اور کم فہمی کی وجہ سے شاہدہ ناصر کی خوب صورتی اور اس کی امارت کے جال میں پھنس چکی تھی- اب ہر دم اسے ناصر کے فون کا انتظار رہنے لگا- ایک روز ناصر نے اسے تسلی دی کہ وہ کبھی اس بات سے پریشان نہ ہو کہ اس کا تعلق غریب گھرانے سے ہے- اس نے اسے یہ بھی یقین دلا دیا تھا کہ وہ بہت جلد اپنے گھر والوں کو رشتے کے لیے اس کے گھر بھیجے گا- شاہدہ کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی، اپنی خوشی کو چھپاتے ہوۓ اس نے مصنوعی فکر مندی سے پوچھا- "اگر شادی اتنی جلدی ہوگئی تو میری پڑھائی کا کیا ہوگا؟" اس کی بات سن کر ناصر ہنس کر بولا- "پھر تم اپنے بچوں کو پڑھانا-" اس کی بات سن کر شاہدہ شرما گئی- ناصر نے پھر کہا- "یقیناً تم یہ سن کر شرما گئی ہوگی- کاش میں تمہیں شرماتا ہوا دیکھ سکتا- دیکھو تم منع مت کرنا- میرے پاس ایک اسمارٹ فون بے کار پڑا ہے- اگر کبھی ملیں تو وہ میری طرف سے قبول کر لینا- میں اس میں نئی سم بھی ڈلوا دوں گا تاکہ تم بے فکری سے تنہائ میں اسے استعمال کر سکو- میرا دن تو کسی نہ کسی طرح گزر جاتا ہے مگر رات کو تمہاری بہت یاد آتی ہے- اپنی کچھ تصویریں بھی مجھے بھیج دیا کرنا، جب تک شادی نہیں ہوجاتی انھیں دیکھ کر ہی دل بہلا لیا کروں گا- اور ہاں شادی کے بعد تو میں کم سے کم ایک ماہ تک کام پر نہیں جاؤں گا تاکہ ہر وقت تمہیں ہی دیکھتا رہوں- بس ایک بات سے میری ڈھارس بندھی رہتی ہے کہ تھوڑے دنوں کی ہی تو بات ہے- پھر تو ہماری شادی ہو ہی جائے گی-"

یہ اس سے اگلے روز کی بات ہے- وجاہت کا باپ اپنی بیوی کو لے کر ان کے گھر آ دھمکا- وہ شاہدہ کے باپ کا بچپن کا دوست تھا- اتفاق کی بات تھی کہ سالوں پہلے دونوں دوستوں کی شادیاں بھی چند روز کے فرق سے آگے پیچھے ہوئی تھیں- اس زمانے کی رسم کے مطابق دونوں دوستوں نے طے کر لیا تھا کہ اگر ایک کے گھر لڑکا اور دوسرے کے گھر لڑکی ہوئی تو وہ ان دونوں کی شادی کر کے اپنی دوستی کو مزید مضبوط کر لیں گے- اس کے دوست کے ہاں تو شادی کے پہلے سال ہی بیٹا ہوگیا تھا- مگر شاہدہ پانچ چھ سال بعد پیدا ہوئی تھی- ویسے تو دونوں دوست زندگی کی مصروفیات سے وقت نکال کر مہینے دو مہینے بعد ایک دوسرے سے مل لیا کرتے تھے مگر اس دفعہ بیوی کے ساتھ آمد کا مقصد یہ ہی تھا کہ برسوں پہلے جو بات ہوئی تھی اس کو پورا کیا جائے- دوست کے بیٹے کا نام وجاہت تھا اور وہ کسی سرکاری ادارے میں ملازم تھا-

شاہدہ کا باپ اس رشتے پر نہ صرف راضی تھا بلکہ بہت خوش بھی تھا- اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ دونوں دوستوں نے اس کے بارے میں عہد بھی کیا ہوا تھا اور وہ عہد پورا کرنے کا وقت آگیا تھا- اپنی سخت گیر طبیعت کی بنا پر اس نے گھر میں کسی سے مشوره کرنے کی ضرورت بھی نہ سمجھی اور اپنا فیصلہ بیوی کو سنا دیا- "شاہدہ کی شادی میرے دوست کے بیٹے وجاہت سے ہوگی"- ماں تو سیدھی سادھی ایک مشرقی عورت تھی اور شوہر سے ڈر کر رہتی تھی- اس نے اس کے فیصلے پر سر جھکا دیا اور شائستہ کو باپ کے فیصلے سے آگاہ کردیا-

یہ خبر سن کر شائستہ پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی- اس نے آنکھوں میں آنسو بھر کر ماں سے اس بات پر احتجاج کیا، اپنی ادھوری پڑھائی کا بہانہ بنایا مگر اس کی ماں نے ہاتھ کھڑے کر دیے- "میں تیرے باپ سے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کر سکتی- وہ میرے پیچھے پڑ جائے گا- اگر تجھے کوئی اعتراض ہے تو جا کر اسی سے بات کر- یہ بات بس یاد رکھنا کہ ماں باپ جو بھی کرتے ہیں، اولاد کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے-"

اس میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ باپ سے بات کرتی، وہ دل مسوس کر رہ گئی- ایک روز اس کی ماں اور باپ وجاہت کے گھر جا کر اسے دیکھ بھی آئے- وجاہت دونوں کو بہت پسند آیا تھا اور یوں تابوت میں آخری کیل بھی گڑ گئی-

شاہدہ نے فوری طور پر ناصر سے رابطہ کیا اور یہ خبر اسے سنائی اور بولی- "ناصر اگر تم کچھ کر سکتے ہو تو کر لو- اپنے گھر والوں کو ہمارے گھر بھیج دو- شائد ابّا مان جائیں-"

لمحہ بھر کو تو ناصر چپ ہوگیا- پھر بولا- "میری امی تو اپنی بہن سے ملنے دبئی گئی ہوئی ہیں- دو تین مہینے وہیں رہیں گی-"

"تو پھر میں کیا کروں؟ مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ اپنے ابّا کے سامنے زبان کھولوں-" وہ بے بسی سے بولی- اس کی بات سن کر دوسری طرف خاصی دیر تک خاموشی رہی پھر ناصر کی آواز آئ- "تم شادی کرنے سے منع کردو-"

"یہ میں نہیں کر سکتی- مجھ میں اتنی ہمت نہیں-" یہ کہتے ہوۓ شاہدہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے- "تم میرے ابّا کو نہیں جانتے- مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے-"

"شاہدہ تم مجھے ٹھکرا رہی ہو-" ناصر نے کسی قدر غصے سے کہا- اچھا ایسا کرو کہ موقع دیکھ کر مجھ سے کہیں مل لو- میری بڑی بہن صدر کے علاقے میں رہتی ہیں- ہم دونوں ان سے ملنے چلیں گے، ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی حل نکال لیں-"

اس سے پہلے بھی ناصر نے اس سے کہیں باہر ملنے کو کہا تھا مگر اپنی فطری بزدلی کی وجہ سے وہ اس پر راضی نہیں ہوئی تھی- اس مرتبہ بھی وہ ناصر کے مطالبے کو صاف ٹال گئی- "زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ تم اپنی بڑی بہن کو ہمارے گھر بھیج دو تاکہ وہ رشتے کی بات چلائیں-" شاہدہ نے دو ٹوک لہجے میں کہا-

"تم مجھے غصہ دلا رہی ہو-" اس کی بات سن کر ناصر نے کہا- "میں چاہتا ہوں کہ باجی تم سے ایک دفعہ مل لیں پھر ہم آئندہ کا لایحہ عمل طے کر لیں گے-"

"سوری ناصر- یہ میں نہیں کر سکتی- مجھے کالج جانے کے علاوہ کہیں اور جانے کی اجازت نہیں ہے-" اس نے بے بسی سے کہا-

اس کی بات سن کر دوسری طرف سے فون بند کردیا گیا- اس کے بعد ناصر نے خود سے فون نہیں کیا- اس نے کئی بار اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اس کی ہر دفعہ یہ ہی رٹ ہوتی کہ وہ اس کی باجی سے ملنے کے لیے آمادہ ہوجائے- شاہدہ ایک سیدھی سادھی اور ڈرپوک قسم کی لڑکی تھی، وہ اس بات پر راضی نہیں ہوئی-

دو ہفتے بھی نہیں گزرے تھے، اس کی شادی بڑی سادگی سے ہوگئی- شادی کے بعد بھی ناصر اس کے دل سے نہیں نکل سکا تھا- اسے اس بات کا بھی افسوس ہوتا تھا کہ ناصر نے اس سے شادی کے لیے ذرا سا بھی تعاون نہیں کیا تھا- ماں اگر اپنی بہن سے ملنے دبئی گئی ہوئی تھی تو وہ اپنی باجی کو ان کے گھر بھیج سکتا تھا-

دن گذرتے رہے اور اب اس کی شادی کو ہوۓ تین ماہ بیت چکے تھے- اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کے دل میں وجاہت کے لیے کوئی جگہ نہ بن سکی تھی- وہ نہ اس سے بات کرتی تھی، نہ اس کو دیکھتی تھی، وہ کام پر چلا جاتا تو اسے ایک اطمینان کا احساس ہوتا- وہ کام سے گھر آجاتا تو اسے بے کلی سی محسوس ہونے لگتی- اس کے رویے سے وجاہت حیرت زدہ تو تھا مگر اس سلسلے میں اس نے آج تک کوئی سوال جواب نہیں کیا تھا-

اسے وجاہت سے نفرت تو نہیں تھی مگر وہ اس سے محبّت بھی نہیں کرتی تھی- وجاہت بھی جانے کس مٹی کا بنا تھا کہ اس کی بے التفاتی اور نظر اندازی پر کوئی حرف شکایت زبان پر نہیں لاتا تھا- اس نے شاہدہ سے شادی اپنے باپ کے کہنے پر کی تھی- اسے اپنے باپ سے بے حد محبّت تھی کیوں کہ وہ اس کے ساتھ بالکل دوستوں کی طرح رہتا تھا- باپ کی خوشی کے لیے وہ گھر میں یہ ہی ظاہر کرتا تھا کہ وہ اس شادی سے بہت خوش ہے-

شاہدہ بلا شبہ حسن و جمال میں یکتا تھی- سرو قد، گورا رنگ، بڑی بڑی آنکھیں، مناسب دہانہ، مسکراتی تھی تو بہت ہی پیاری لگتی تھی، ہنستی تھی تو گالوں میں گڑھے بھی نہیں پڑتے تھے جس کی وجہ سے ہنستے ہوۓ اور بھی اچھی لگتی تھی- اس سے شادی کر کے وجاہت بہت خوش تھا- وہ ایک شرمیلی طبیعت کا لڑکا تھا اس لیے شادی سے پہلے اس کی جان پہچان کسی لڑکی سے نہیں ہو سکی تھی- ایک تو بیوی خوب صورت اور چندے آفتاب چندے ماہتاب تھی، دوسری باپ کی پسند کی تھی- وجاہت بہت ہی مطمئین تھا- مگر شادی کی رات کو ہی وجاہت کو اندازہ ہوگیا کہ بیوی کھوئی کھوئی سی ملی ہے- اس نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ گھر والوں سے دوری کی وجہ سے ایسا ہوگا- ہفتہ گزرا تو برف پھر بھی نہیں پگھلی- ایسا معلوم دیتا تھا کہ جیسے شاہدہ کو دنیا کی کسی چیز سے دلچسپی نہیں ہے- وجاہت نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ وہ اس کو خود سے مخاطب نہیں کرتی تھی- وہ کوئی بات کرتا تو جواب دے دیتی ورنہ خاموش بیٹھی رہتی- اس کی ماں سے اس کا رویہ البتہ دوسرا تھا- اس کے پاس بیٹھی ہوتی تو خود سے بھی باتیں شروع کردیتی تھی- بہرحال ماں اور باپ دونوں کو بہو پسند آگئی تھی-

وجاہت نے ماں سے بھی شاہدہ کے نا مناسب رویے کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا تھا- وجاہت نہیں چاہتا تھا کہ شاہدہ کے بارے میں کوئی منفی بات کرکے گھر کی خوشیوں کو فکر مندیوں میں بدل دے-

اسے دنیا والی چالاکیاں بھی نہیں آتی تھیں کہ وہ شاہدہ کے اس رویے کے متعلق اندازے قائم کرتا- دو ایک دفعہ اس پر جھنجھلاہٹ بھی طاری ہوئی اور دل چاہا کہ اس سے پوچھے کہ وہ یوں دور دور کیوں رہتی ہے مگر ممکنہ بدمزگی کی وجہ سے وہ خاموش ہی رہا-

ان تمام باتوں کے باوجود وہ اسے بہت اچھی لگتی تھی- ایک دو دفعہ اس نے اس سے اچھی لگنے والی بات کا اظہار بھی کیا، مگر رد عمل میں اس کا جھکا ہوا سر اور ایک انگلی سے بستر کی چادر پر کھینچتی لکیریں ہی دیکھنے کو ملیں- شاہدہ کے اس رویے کو دیکھ کر اس کی ہمت ٹوٹ گئی اور اس نے بھی خاموشی کی راہ اپنا لی-

شاہدہ کے رویے کی وجہ سے وہ کوشش کرتا کہ زیادہ تر وقت اپنے دفتر میں ہی گزارے- چھٹی والے دن وہ دیر تک سوتا اور اٹھنے کے بعد دوستوں کے پاس چلا جاتا- اس کے بارے میں مشہور ہوگیا تھا کہ وہ دنیا کا واحد شوہر ہے جو شادی کے شروع کے دنوں میں بھی دوستوں کو اتنا ٹائم دیتا ہے، ورنہ دوسرے تو ان دنوں منظر سے ہی غائب ہوجاتے ہیں-

شاہدہ اپنی ماں کے گھر چلی جاتی تو وجاہت ایک عجیب طرح کی بے چینی محسوس کرتا- شاہدہ ماں کے گھر جاتے وقت بہت خوش نظر آتی تھی اور واپس سسرال آتے ہوۓ یہ خوشی غائب ہوجاتی تھی- وجاہت یہ چاہتا تھا کہ وہ بس ہر وقت اس کی آنکھوں کے سامنے ہی رہے- بات کرے نہ کرے دکھائی تو دیتی رہے- اس کے جانے سے اس کے دل پر ایک ان کہی پژمردگی طاری ہوجاتی تھی- اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے- کبھی کبھی وہ جھنجلا بھی جاتا-

آج وجاہت شاہدہ کو اس کی ماں کے گھر چھوڑنے آیا- اس کی ماں اپنے داماد سے بڑے تپاک سے ملی اور بہت سی دعائیں دیں- اتنی دیر میں شاہدہ اس کے لیے چائے بنا کر لے آئ- وہ چائے پی کر خاموشی سے روانہ ہو گیا- وہ اسے چھوڑنے دروازے تک بھی نہیں آئ-

وجاہت چلا گیا تو ہر ماں کی طرح شاہدہ کی ماں نے بھی یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ بیٹی سسرال میں خوش ہے یا نہیں- ویسے تو اس کی ماں جب بھی اس سے ملنے کے لیے اس کے سسرال جاتی تھی، وہ محسوس کرتی تھی کہ اس کی ساس سسر کا رویہ شاہدہ کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ہی ہے- البتہ اس بات پر اسے حیرت ہوتی تھی کہ وہ وجاہت کا بالکل تذکرہ نہیں کرتی تھی- اس بات سے اس کی ماں کے دل میں تشویش کی ایک لہر دوڑ جاتی مگر وہ سوچتی کہ ایک آدھ بچہ ہونے کے بعد وہ بدل جائے گی اور اپنے میاں کے قریب ہوجائے گی- شائد نئے ماحول کی وجہ سے وہ ایسی ہوگئی ہو-

شاہدہ جب بھی گھر آتی تھی اس کی ماں کو بہت خوشی ہوتی تھی- وہ آج بھی تھوڑی دیر تک اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتی رہی پھر دوپہر کے کھانے کی تیاری میں لگ گئی- شاہدہ ٹی وی کھول کر بیٹھ گئی- ٹی وی پر بریکنگ نیوز چلنے لگی تھی- اچانک وہ حیرت سے گنگ ہو کر رہ گئی- ٹی وی میں ناصر کو دکھایا جا رہا تھا- اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں، ڈر اور خوف اس کے چہرے سے عیاں تھا- اس کے ساتھ اس کے چار ساتھی بھی اسی حالت میں کھڑے تھے، ان ساتھیوں میں ایک لڑکی بھی تھی، جس نے اپنے چہرے کو چادر سے چھپا رکھا تھا- پاس ہی کرسیوں پر سائبر کرائم کی ٹیم کے ارکان بیٹھے ہوۓ تھے اور پریس کانفرنس میں ایک ڈپٹی ڈائریکٹر اس واقعہ کی تفصیلات بتا رہا تھا جس کی وجہ سے ان لوگوں کو پکڑا گیا تھا-

شاہدہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور کانوں میں سائیں سائیں سی ہونے لگی تھی- اس نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ بھیڑ دیا اور دوبارہ بستر پر بیٹھ کر ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگئی- وہ ناصر کو دیکھے جا رہی تھی جس کا چہرہ ستا ہوا تھا اور اس پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں- ڈپٹی ڈائریکٹر بتا رہا تھا کہ اس گروہ کے یہ لوگ، مختلف حربوں سے نو عمر لڑکیوں کو اپنے جال میں پھانس کر پہلے ان سے دوستی کرتے، پھر انھیں دوستی کا جھانسہ دے کر اپنی ساتھی لڑکی کے فلیٹ پر بلا کر ان کی نا زیبا فلمیں بناتے اور بعد میں ان فلموں کی تشہیر کرنے کی دھمکی دے کر وہ انھیں بلیک میل بھی کرتے تھے- ناصر ایک خوش شکل نوجوان تھا، اس کے جھانسے میں آکر کچھ لڑکیاں اپنا سب کچھ لٹا دیتی تھیں کیوں کہ یہ انھیں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے متاثر کر کے یہ یقین دلا دیتا تھا کہ وہ جلد ہی ان سے شادی کر لے گا- اس معاشرے میں ناصر جیسے شیطان صفت لوگوں کی ایک بڑی تعداد پیدا ہوگئی ہے- یہ مجبور، بے کس اور اچھی زندگی گزارنے کے لالچ کی خواہش مند لڑکیاں ڈھونڈ کر انہیں شیشے میں اتار کر تباہ کر دیتے ہیں- اس طرح کے کاموں میں ملوث لوگوں کی بھی درجہ بندی ہے- ان میں سے چند تو محض اپنی تسکین اور دوستوں پر رعب ڈالنے کے لیے ایک ساتھ کئی کئی لڑکیوں سے دوستی کرتے ہیں- دوسرے ناصر جیسے حیوان اور بے ضمیر لوگ ہوتے ہیں- یہ لوگ بھولی بھالی اور انڈین ڈراموں اور فلموں سے متاثرہ لڑکیوں کو اپنے جال میں پھانس کر انہیں اپنا ذریعہ معاش بنا لیتے ہیں- وہ نہ صرف ان کی قابل اعتراض فلمیں باہر کے ملکوں میں بیچ کر رقم کماتے ہیں بلکہ ان لڑکیوں کو بھی ڈرا دھمکا کر ان سے بھی رقم اینٹھتے ہیں- اگر لڑکیاں روپے نہ دیں تو یہ انھیں دھمکی دیتے ہیں کہ وہ سارے ثبوت سوشل میڈیا پر لگا دیں گے- اس کام کے لیے انہوں نے کرائے پر ایک فلیٹ لے رکھا تھا اور اسی فلیٹ میں لڑکیوں کو لایا جاتا تھا- ناصر متاثرہ لڑکیوں سے یہ کہتا تھا کہ یہ فلیٹ اس کی بڑی بہن کا ہے- بیوقوف لڑکیاں اس کی بات کا یقین کر لیتی تھیں- وہ یہ کہہ کر انہیں اس گھر میں بلاتا تھا کہ اس کی بہن اس کی ہونے والی بیوی سے ملنا چاہتی ہے تاکہ فیصلہ کر سکے کہ وہ لڑکی اس کے بھائی کے لیے مناسب ہے بھی کہ نہیں- وہ لڑکی اس کی بہن نہیں بلکہ اس مکروہ دھندے میں ملوث ان لوگوں کی ساتھی ہے- جن لڑکیوں کو یہ لوگ بلیک میل کرتے تھے، ان سے وہ ان کی سہلیوں کے موبائل نمبر بھی زبردستی حاصل کرلیا کرتے تھے- پھر ناصر ایک مہذب اور شائستہ نوجوان بن کر ان سے رابطہ کرتا اور تھوڑے ہی دنوں میں ان کے مزید شکار پیدا ہوجاتے-

سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے یہ بھی بتایا کہ مجرموں کو پکڑنے کی یہ ساری کاروائی فرخندہ نامی ایک لڑکی کی شکایت پر عمل میں لائی گئی تھی- وہ ان لوگوں کی بلیک میلنگ کے ہاتھوں سخت پریشان تھی- وہ کسی اسکول میں بچوں کو پڑھاتی تھی جہاں سے اسے پندرہ ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ ملتا تھا- ان پندرہ ہزار روپوں میں سے اسے ہر ماہ پانچ ہزار روپے ناصر کو دینا پڑتے تھے- وہ لڑکی دنیا میں اکیلی تھی، کچھ عرصہ پہلے اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا- وہ اب اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے باہر کے کسی ملک بھیجنا چاہ رہے تھے- وہ ان حالات سے بہت تنگ آگئی تھی اور پھر اس نے ایک بہت اچھا فیصلہ کر لیا اور ہمت کر کے قانون سے مدد حاصل کی- اس کی نشاندھی پر اس فلیٹ پر چھاپہ مارا گیا اور وہاں سے کئی جدید کیمرے، چار لیپ ٹاپ ، بہت سی ہارڈ ڈسکس اور دوسری قابل اعتراض اشیا برامد کرلی گئی ہیں- وہاں سے کچھ ایسی سکون بخش ادویات بھی ملی تھیں جو یہ لوگ لڑکیوں کو مشروبات میں ڈال کر پلاتے تھے- یہ دوائیں ان کے اعصاب پر اثر ڈال کر ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کر لیتی تھیں- لیپ ٹاپ میں سینکڑوں لڑکیوں کی مخرب الاخلاق تصویریں اور فلمیں موجود ہیں-

شاہدہ دم بخود بیٹھی یہ تمام باتیں سن رہی تھی- جب ٹی وی میں کیمرہ رخشندہ نامی لڑکی پر آیا تو باوجود اس کے کہ اس نے نقاب سے اپنا چہرہ چھپا رکھا تھا، شاہدہ نے اسے اس کی آنکھوں سے پہچان لیا- وہ اس کی بچپن کی سہیلی فرخندہ ہی تھی- اسے احساس ہوگیا کہ ناصر نے کہیں اسے رخشندہ کے ساتھ دیکھ لیا ہوگا اور ڈرا دھمکا کر اس کا موبائل نمبر لے لیا ہوگا- شاہدہ کو جھرجھری سی آگئی- وہ ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گرنے سے بال بال بچی تھی-

اب اسے اپنا سخت گیر باپ اور باپ کے حکم پر سر جھکا دینے والی ماں بہت اچھی لگ رہی تھی- اس کے ذہن میں یہ بات بھی آئ کہ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے جو بھی کرتے ہیں، اچھا کرتے ہیں- ماں باپ کے فیصلوں پر عمل کرکے اولاد کو زندگی بھر ایک تحفظ حاصل رہتا ہے اور کسی بھی برے وقت میں ان کی ہر طرح کی حمایت اور مدد میسر ہوتی ہے- دنیا میں تو قدم قدم پر بھیڑیے نما انسان موجود ہیں جو اپنے فائدے اور نفسانی خواہشوں کی تکمیل کے لیے دوسرے معصوم انسانوں کو انتہائی اذیت ناک تکلیفوں سے دو چار کر دیتے ہیں اور اکثر تو اپنا جرم چھپانے کے لیے قتل جیسے گھناونے کام سے بھی باز نہیں آتے- ان کی باتوں میں آ کر کیسے کیسے سانحات جنم لیتے ہیں- اچھی خاصی زندگیاں جہنم کا نمونہ بن جاتی ہیں- خاندانوں کی عزتیں خاک میں مل جاتی ہیں- اور ایسا محض اس لیے ہوتا ہے کہ اپنا فائدہ ، نامناسب طریقوں سے اچھی زندگی گزارنے کا لالچ اور بھیڑ کے بھیس میں بھیڑیے جیسے لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر بہت سی ناسمجھ لڑکیاں ان کے جال میں پھنس جاتی ہیں-

اب ٹی وی پر فرخندہ کا بیان چل رہا تھا- اس نے بڑی تفصیل سے ناصر اور اس کے دوستوں کے جرائم کا پردہ چاک کیا تھا- آخر میں اس نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ناصر کی دھمکی کے نتیجے میں اس نے بھی اپنی ایک سہیلی کا موبائل نمبر اسے دے دیا تھا جس کا اسے بے حد افسوس تھا مگر خوشی اس بات کی تھی کہ وہ سہیلی اس شیطان کے جال میں نہیں پھنسی تھی-

شاہدہ نے لرزتے ہاتھوں سے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کردیا اور بستر پر گر پڑی- وہ اس بات پر شکر ادا کر رہی تھی کہ وہ ایک بہت بڑی تباہی اور بدنامی سے بچ گئی تھی- وہ سوچنے لگی کہ لڑکیوں کے لیے دنیا میں صرف ماں باپ، بہن بھائی اور شوہر ہی ہوتے ہیں جو انھیں تحفظ دیتے ہیں باقی غیر تو سب بے دردی سے اپنا مفاد نکالنا جانتے ہیں- تمام لڑکیوں کو ماں باپ، بھائی بہنوں اور شوہروں کی عزت کو مقدم رکھنا چاہیے کیوں کہ یہ سب ان کے محافظ ہوتے ہیں- جب ان سب کی عزت کو مقدم رکھا جائے گا تو تب ہی ان انسان نما بھیڑیوں اور شیطانوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے-

تھوڑی دیر بعد جب اس کی حالت سنبھلی تو اس نے اپنا وہ ہی چھوٹا سا موبائل اٹھایا اور وجاہت کا نمبر ملانے لگی-

نمبر ملا تو اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کے کانوں میں وجاہت کی حیرت بھری آواز آئ- "شاہدہ- خیریت تو ہے- کیسےفون کیا؟"

اس نے بولنے کی کوشش کی تو آوازہ جیسے حلق میں اٹک گئی- اس نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور بولی- "چھٹی کے بعد آکر مجھے لے جائیے گا- میرا دل نہیں لگ رہا ہے- مجھے آپ، امی اور ابّا بہت یاد آ رہے ہیں-" یہ کہتے کہتے اس کی آواز بھّرا گئی تھی-

دوسری طرف چند لمحوں تک تو خاموشی چھائی رہی پھر اس کے کان میں وجاہت کی شوخ آواز سنائی دی- "بھاڑ میں جائے چھٹی- میں ابھی آرہا ہوں-"

"جی اچھا- میں تیار بیٹھی ہوں-" شاہدہ نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوۓ ایک دلفریب ہنسی کے ساتھ کہا اور فون بند کردیا-

اپنا سامان بیگ میں ڈالتے ہوۓ وہ سوچ رہی تھی کہ اپنے ماں باپ اور شوہروں کی عزتوں کا خیال رکھنے والی لڑکیوں کی زندگی کتنی قابل رشک ہوتی ہے- وہ شادی سے پہلے اپنے ماں باپ کے گھر میں بڑی عزت اور احترام سے وقت گزارتی ہیں اور شادی کے بعد مرتے دم تک اپنے شوہر کے گھر میں- وہ لڑکیاں جو اپنی عزت کے ان رکھوالوں کی قدر نہیں کرتیں، ناصر جیسے شیطان اور درندہ صفت لوگ قدم قدم پر گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں-

(ختم شد)
 

Reviews & Comments

حنیف بھائی تحریر پسند کرنے کا شکریہ- اس کہانی میں موبائل پر ہونے والی دوستیوں کی تلخ حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے- ان دوستیوں کی وجہ سے بہت ساری برائیاں جنم لیتی ہیں اور ان سے متاثر ہونے والے زندگی بھر ایک ذھنی اذیت سے دوچار رہتے ہیں- کافی سالوں پہلے لڑکے لڑکیوں اور نوجوانوں کی مختلف مشغولیات ہوتی تھیں- ڈاک کے ٹکٹ اور سکے جمع کرنا، قلمی دوستیاں، دن بھر کی مصروفیات کو ڈائری میں لکھنا، سنیما گھروں میں جا کر معصوم معصوم بلیک اینڈ وائٹ فلمیں دیکھنا اور سب سے بڑھ کر کتابیں پڑھنا- یہ مصروفیات تعمیری ہوتی تھیں اور ان میں مشغول لوگوں کا وقت بہت دل چسپ انداز میں گزرتا تھا اور وہ بہت سی باتیں بھی سیکھتے تھے- موبائل ایک اچھی چیز ہے مگر ہم نے اس کا ٹھیک ٹھیک استعمال نہیں سیکھا- بہت سے نوجوانوں نے خود کو بہت محدود کر لیا ہے- اور یہ محدود ہونا ایک ایسی چیز کے لیے ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں- پہلے وقتوں میں لڑکے ڈاک کے ٹکٹ اور سکے ایک دوسرے سے تبدیل کرتے تھے، اب کے اکثر لڑکے، لڑکیوں کے فون نمبر ایک دوسرے سے ایکسچینج کرتے ہیں- ایسی ناسمجھ لڑکیوں کی تعداد شکر ہے کہ بہت کم ہے، آٹے میں نمک کے برابر- ہماری زیادہ تر بہن بیٹیاں اس طرح کی احمقانہ سرگرمیوں سے دور ہی رہتی ہیں- بہرحال اس ناسمجھ کم تعداد کو بھی سوچنا چاہیے کہ لڑکیاں اپنے ماں باپ اور بھائیوں کا مان ہوتی ہیں- کسی غیر سنجیدہ، آوارہ ذہن اور وقت گزاری کے شوقین شخص کی وجہ سے یہ مان ٹوٹنا نہیں چاہیے- کیونکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ایسی دوستیاں جلد یا بدیر بدنامی اور ذھنی اذیت کا باعث بنتی ہیں اور ان کا کوئی مداوا بھی نہیں ہوتا- کیا ہی اچھا ہو اگر ہم گزرا ہوا دور واپس لانے کی کوشش کریں، اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں سے دوستی کرنا سیکھ لیں، ان کے ساتھ باتیں کریں، ان کے ساتھ بیٹھ کر فرصت کا وقت گزاریں تو پھر کسی دوسرے فالتو، مطلبی اور زندگیاں برباد کرنے والے دوست کی ضرورت بھی نہ رہے- کچھ عرصہ پہلے ابّا والا رعب بھائی جانوں میں اور امی والا رعب باجیوں میں ہوتا تھا- یہ کلچر چھوٹے بہن بھائیوں کی تربیت میں بہت مدد گار ثابت ہوتا تھا- اچھا معاشرہ مضبوط رشتوں سے تشکیل پاتا ہے- ابن الوقت لوگوں کی پر فریب دوستیوں سے نہیں-
By: Mukhtar Ahmad, Islamabad on Aug, 27 2019
Reply Reply
1 Like
دل کو چھولینے والی تحریر ہے واقعی گھر کی چار دیواری سے نکل کر کو بچیاں تحفظ ڈھونڈتی ہیں وہ اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت گنوادیتی ہیں اللہ ہر بچی کی عزت کو ایسے لٹیروں سے محفوظ رکھے۔آمین
By: tariq. mahmood, Karachi on Aug, 26 2019
Reply Reply
1 Like
taweel he magar behtreenhe...
By: S H M ANAS, karachi on Aug, 24 2019
Reply Reply
1 Like
Mukhtar Ahmed. bohat behtareen tahreer likhi hay ap nay. haqiqat hay zindagi main MAA, BAAP, Behan bhai kay elawa ek orat kay lia sub serif log han....asal main serif maa baap behan bhai hi asal main zindagi main sath hotay hain.. ALLAH pak har behan beti ko is tarha kay logoun se or bure sohbat se bachae or har behan beti ki hifazat farmae ameen suma ameen.
By: shohaib haneef, karachi on Aug, 23 2019
Reply Reply
2 Like
Language: