کشمیر میں بھارتی جارحیت ، پاکستان کیا کرے؟

(Irfan Qayyum, Lahore)

جموں و کشمیرجو مقبوضہ کشمیر کے نام سےبھی جانا جاتا ہے۔ زمین کے اس ٹکڑےکو اپنے رنگ ونور،قدرت کے خوبصورت اوردلکش مناظر، برف سے ڈھکے بلند وبالا پہاڑ، پھلوں سے لدے باغات ، سبزہ زاروں میں کھلتے رنگ برنگے گُل، پھل آور اور سایہ دار درختوں کی کثرت ، ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشموں ،آبشاروں کی پُر لطف آواز ، زمین کو سیراب کرتے دریا وؤں اور پُرسکون زندگی بسر کرتے لوگوں کو دیکھ کر اسے جنت کی نظیر لکھ دیاجائےیااسلامی تہذیب وثقافت،لسانیات وادب، جغرافیائی یکسانیت اور علاقائی خوبصورتی میں شمالی وجنوبی ایران سے مشابہت کی بنا پر ایر ان صغیر پُکاراجائے تودونوںاعتبار سے قابل رشک اور قابل تحسین ہے۔ خوبصورتی میں بے مثال ، قدرت کی لازوال کاریگری کی بنا پر یہ خطّہ سیّاحوں کی توجہ کا مرکز بنا رہاہے ۔ڈاکٹر ایم ایس ناز نے اپنی کتاب تصویر کشمیر میں لکھاکہ مشہور سیّاح فرانسیسی طبیب برنئیر نے جب کشمیر کا سفر کیا تو لکھنے پر مجبور ہوگیاـ" کشمیر کی خوبصورتی اور خوشنمائی کے حوالے سے جس قدر میرے اعلٰی سے اعلٰی تخیّلات اورتصوّرات تھے ، ان سب سےیہ سبقت اور فوقیت رکھتا ہے اور تمام دنیا میں بے نظیرہے"۔
اوراگر اس جنت ارضی کے مکینوں کا ذکر کیاجائے تو معلوم ہوتا گلاب کی مانند نکھرتے چہرے، پُرنور آنکھیں، خوبصورت قد،ہر ایک خود میں بادشاہ اور خوش وخرم نظر آتا۔
شاعر کے الفاظ میں

یاد ماضی عذاب ہے یارب

مگراب اس دھرتی کے حالات کچھ مختلف نظر آتے،یہاں کے مکین پریشانی سے نڈھال دکھائی دیتے ،ہر ُسو خوف وہراس اور وحشت کا سما ں نظر آتا،پُرسکون زندگی آزمائشوں سے بھر چکی ،ظلم کے بادل سروں پرمنڈلانے لگے،آہ وبکا کی آوازیں بلند ہونے لگیں،دھماکہ خیز مواد کے زہریلے دھوئیں سے فضا وبال جان بن چکی،بندوقوں کی ٹھاہ ٹھاہ سے شور کی آلودگی جنم لے چکی ۔ اقبال نے اسی لیے کہاتھا۔

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

سبب کیاہے؟ یہ ارض پر وہ خطّہ ہےجسےبرطانوی حکومت نے سفاک و جابر حکمران،مسلمان دشمن مہاراجہ گلاب سنگھ ڈوگرا کو 75لاکھ نانک شاہی میں فروخت کیا، یہ لین دین امرتسر معاہدے کے تحت ہوا،بس یہ ہی وہ موڑ تھا کہ جس نے جموں وکشمیر کے حالات پر یوٹرن لیا۔ خریداری میں تو کشمیر اور لداخ کے علاقے تھے مگراس نے زور بازو ملحقہ علاقوں پر بھی قبضہ جما لیا۔اور مذہبی تعصّب کی بنا پر ڈوگراراجہ گلاب سنگھ اور اس کے ہمنواؤں نے مسلمان رعایاکو خوب ظلم وستم کانشانہ بنایا،معمولی جرائم کی آڑ میں کڑی سزائیں دیں جاتیں۔ مسلمانوں نے ڈوگراراج کی جارحیت وبربریت سے تنگ آکرپہلے 1930 میں آزادی کی تحریک شروع کی اور پھر 1947 کو پاکستان سے الحاق کافیصلہ کیامگر یہ فیصلہ ڈوگراحکمران کو منظور نہ تھا ۔اس معاملے سے حالات بگڑنے لگےاور تحریک آزادی زور پکڑنے لگی توڈوگرا راجہ نےبھارت سے مدد مانگ لی ، بھارت نے معاملے کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی فوجیں جموںوکشمیر میںنہ صرف داخل کردیںبلکہ اس ریاست کی بھارت سے الحاق کی جعلی دستاویز بھی تیارکر لی۔ جبکہ دوسری طرف مجاہدین نے بھرپور کوشش سے کچھ علاقے فتح کرلیے اور پاکستان کے قبضے میں دے دیے۔بھارت کو اس بات کا ڈر ہو گیا کہ کہیں مجاہدین باقی ماندہ علاقے بھی فتح نہ کرلیں تو اس نے 13اگست 1948کو یہ معاملہ اقوام متحدہ میں پیش کردیا ۔اقوام متحدہ نے فیصلے کے طور پر قرارداد پیش کی کہ یہ معاملہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

حق تو یہ تھا کہ اس معاملہ کو جس طرح اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا اسی طرح اس کے فیصلے پر بھی بھارت سرتسلیم خم کرتا مگر یہاں بھی منافقت کا پہلو عیاں تھا۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ۔آج اس فیصلے کو آئے سالہا سال بیت چکے مگر بھار ت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا اور اقوام متحدہ کے اس فیصلے کو اپنے بوٹ کی نوک پر دے مارا۔معاملہ یہاں ہی نہیں رکا بلکہ اس فیصلے کے بعدخطرناک قسم کے ہتھیاروں کا استعمال کیاگیا، لاکھوں لوگوں کو شہید کیا گیا،ماوؤں اور بہنوں کی عصمتوں کو پامال کیا گیا ، عورتوں کو بیوہ کر دیا گیا،بچوں کے سروں سے والدین کا سایہ چھین لیا گیا،گھروں کو لوٹ لیا گیا ،مگر اقوام متحدہ اس فیصلے پر عمل درآمد کروانے میں بے بس نظرآتی ۔انسانی حقوق کی بیسیوں تنظیمیں خاموش تماشائی بنی ہوئیں۔کشمیریوں پر ہر سُو انصاف کے دروازے بند ہوئے لگتے ۔تو ذہنوں میں سوالات و خیالات جنم کیوں نہ لیں؟
شاعر کے الفاظ میں

ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں
قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے

حق تو یہ تھا کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی ممبر شپ سے فارغ کیا جاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔سیدھی بات ہے یہ اقوام متحدہ کی حُسن کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ تا ہے جو ہر امن پسند کے دل میں کھٹک رہا ہے۔مگر یہ معاملہ کب تک حل طلب رہے گا؟کب تک نہتے کشمیری ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے؟مگر یہ بیچارےکشمیری کریں تو کیاکریں؟ ۔ بھارت اپنے آپ کو دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویدار سمجھتا ،مگر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرتے نظر آتاہے۔بد قسمتی کا عالم یہ ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ہر شہید ہونے والے کشمیری پر دہشت گرد ی کا لیبل لگا کر معاملہ زمین بوس کیا جاتا۔
شاعر کے الفاظ میں

ہزاروں ظلم ہوں مظلوم پر تو چپ رہے دنیا
اگر مظلوم کچھ بولے تو دہشت گرد کہتی ہے

بھارت ،اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے محافظ اداروں کا کشمیر کے حوالے سے کردار پوری دنیاکے سامہنے روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا۔دُکھ سے کہتا ہوں کہ آج تک اسلامی ممالک کا اتحادنہ ہو سکاکہ ایک دوسرے کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں ۔یہی وجہ کہ دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں کا قتل عام پورے زوروشور سے جاری ہے ۔افغانستان ، عراق، شام، لیبیا، فلسطین، برما اورکشمیر کے حالات آنکھوں کے سامہنے ہیں۔کوئی مددکےلیے نہیں نکلتا،کوئی زخموں پر مرحم نہیں رکھتا۔غیروں سے کیا شکوہ کرتے ہو آج اپنے بھی سخت دل ہو چکے ، مگر ہاں یہ اسلامی ممالک کسی حادثے کے بعددکھ درد میں شریک ہونے کے لیےاپنی اپنی بولی میں مذمت کا لفظ بڑے اچھے طریقے سےاستعمال کرلیتے ہیں۔ آج کشمیر لہولہو ہے ۔کشمیری پاکستان کے طرف نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ تو کیا پاکستان بھی کشمیر کے حوالے سے صرف مذمت سے کا م چلائے ؟ بالکل نہیں ۔بلکہ یہ بھارتی جارحیت وہ بُرائی ہےجو ظالم کے ظلم کی شکل میں ہے۔ امن کے داعی محمد عربی ﷺنے کہاتھا، حدیث میں آیاہے "تم میں سےجوبھی برائی دیکھے تووہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے اگر اس کی طاقت نہ ہوتوزبان سے روکے اوراگر اس کی بھی طاقت نہیں تودل سے بُراجانے اوریہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے"۔اس حدیث سے ایمان کی جانچ پڑتال کا موقع بھی ملتا ہے۔سچی بات ہے کہ آج بھارت ظلم کی تمام حدیں پھلانگ چکا ہے۔پاکستان کو کشمیری مسلمانوں پرہندو کے ظلم وستم کی روک تھام کے لیےٹھوس عملی اقدامات کرنا ہوں گے ۔ قائداعظمؒ نے 1943 کو کراچی کے سالانہ اجلاس میں کہا تھا کہ " تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں "۔ جب جسم کا ایک عضو کسی خرابی کا شکار ہو تو سارا جسم پریشانی کےعالم میں ہوتاہے۔اقبالؒ نے اسی لیے کہا تھا۔

اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بیتاب ہو جائے

پاکستان کوکشمیر کی آزادی کےلیے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا ۔سبب کیا ہے؟ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے 1948 کو زیارت میں کہا تھا۔" کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔کوئی بھی قوم یہ گوارہ نہیں کر سکتی کہ اس کی شہ رگ دشمن کے شکنجے میں ہو"۔کہے دیتا ہوں انشااللہ وہ دن دور نہیںجب کشمیر پر بھارت کا قبضہ ختم ہوجائے گا ، ظلم کی یہ زنجیر ٹوٹ جائے گی ۔ کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور آزادی اُن کا مقدر بن جائے گی ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 528 Print Article Print
About the Author: Irfan Qayyum

Read More Articles by Irfan Qayyum: 9 Articles with 2845 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: