افغانستان میں قیام امن کیلئے مذاکرات اور طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیاں

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک طرف امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز مراحل میں داخل ہونے اور امن معاہدے کے مسودے پر وفود کی سطح پر اتفاق ہونے کی بات کرتے ہیں ۔ لیکن دوسری جانب افغانستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ہر روز تشدد کے واقعات میں اضافہ ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو جب زلمے خلیل زاد کابل میں افغان حکام کو امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات کے بارے میں بتارہے تھے کہ اسی دوران وہاں ایک کاربم دھماکہ ہوا جس میں حکام کے مطابق 16افراد ہلاک اور سو کے لگ بھگ زخمی بتائے گئے۔اس سلسلہ میں افغان میڈیا کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے کا کہنا ہیکہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کابل میں بم دھماکہ ہوا۔ دھماکہ کابل کی پولیس ڈسٹرکٹ نمبر 9میں گرین ولیج کے قریب ہوا، اس رہائشی علاقہ میں غیر ملکی شہری مقیم ہیں ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ اس بم دھماکہ کی ذمہ داری تحریک طالبان افغانستان نے قبول کی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کا نشانہ غیر ملکی قابض فورسز تھیں۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد کا کہنا ہے کہ کار بم دھماکے میں گرین ولیج میں قائم تمام عمارتیں، گھر اور ہاسٹلز مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور لاشیں اتنی زیادہ ہیں کہ گنتی کرنا مشکل ہورہا ہے۔اس طرح طالبان اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دے کر جس طرح فخر محسوس کررہے ہیں شاید انہیں اسلامی تعلیمات سے مکمل واقفیت نہیں ہے کیونکہ ان میں کتنے بے قصور اور معصوم افراد ہلاک ہورہے اس کا انہیں اندازہ ہونا چاہیے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے جو مراحل طے پارہے ہیں اس سے کوئی کامیابی حاصل ہونے والی نہیں ہے۔ 30؍ اگسٹ کو دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر کہ ’’ ہم وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنے جارہے ہیں ، ہم اس موجودگی کو بہت حد تک کم کررہے ہیں اور ہمیشہ وہاں اپنی موجودگی رکھیں گے‘‘ ۔ کہا کہ جب تک افغانستان سے قبضہ ختم نہیں ہوتا وہاں امن نہیں آسکتا۔ انکا کہنا ہے کہ ہم اٹھارہ سال سے اسی لئے قربانی دی ہے کہ افغانستان سے امریکی اور بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو، اب اس پر کسی کے ساتھ بھی کوئی معاملہ نہیں کرسکتے۔ امریکی صدر کے مطابق اب افغانستان میں امریکی افواج کی سطح کو کم کرنے کے بعد 8600رکھی جائے گی۔ امریکہ اور طالبان دوحہ قطر میں گذشتہ دس ماہ سے مذاکرات کررہے ہیں جس میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے علاوہ طالبان کو یہ باور کرانا ہیکہ افغان سرزمین امریکہ او ران کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ دوحہ میں جاری ان مذاکرات کے کامیابی کے فوراً بعد بین الاقوامی مذاکرات کا آغاز بتایا جارہا ہے۔ لیکن طالبان اپنی اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ بین الاقوامی مذاکرات میں افغان حکومت کے ساتھ حکومت کی حیثیت سے بات نہیں کریں گے اور ان مذاکرات میں باقی گروپس کی طرح افغان حکومت کے نمائندے بھی ایک گروپ کی حیثیت سے شریک ہوسکتے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا ہیکہ طالبان کے پاس افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے اور طالبان افغان حکومت کے ساتھ ہی بیٹھیں گے۔ ان کا مزید کہنا ہیکہ افغان حکومت طالبان کی فرمائشیں قبول کرنے کے لئے نہیں ہے ، طالبان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ افغانستان اب بدل چکا ہے۔ خیر افغانستان میں امن مذاکرات کس نوعیت اختیار کرتے ہیں اور کب امن قائم ہوگا اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دوحہ کے مذاکرات نتیجہ خیز بتائے جارہے ہیں تو افغان عوام میں خوشیاں پائی جارہی ہیں لیکن ان خوشیوں کا اظہار کرنے سے پہلے ہی افغانستان کے کسی نہ کسی علاقہ میں طالبان اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دے کر اسے قبول کرلیتے ہیں۔ اب رہی بات کیا واقعی طالبان ہی اصل میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دے رہے ہیں یا کوئی اور طاقت ہے جو طالبان کے نام پر دہشت گردی میں ہر روز اضافہ کرتے جارہی ہے۔ اس اسلامی ملک میں جہاں عوام سیکیوریٹی فورسز اور طالبان کے درمیان خوفناک ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسکولس کے بچے ہوکہ والدین و سرپرست اور اساتذہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں سیکیوریٹی فورسز کی یا افغان طالبان کی گولیاں اور گولہ بارود انکے سروں پر گزرتے گزرتے کہیں انکے جسم میں پہنچ کر انکی ہلاکت کا باعث نہ بن جائیں۔ بی بی سی کے مطابق ضلع تکاب کے نیاز محمد جو غازی عثمان ہائی اسکول کے طالب علم ہیں ان کا کہنا ہیکہ انکا اسکول اکثراوقات سکیوریٹی فورسز اور طالبان کے درمیان میدان جنگ بنا رہتا ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان میں انکی اسکول کی عمارت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ان کے اسکول کے پچاس سے زائد طالب علم اور دس سے زائد اساتذہ طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوچکے ہیں۔ انہو ں نے مزید بتایا کہ اکثر اوقات سکیوریٹی فورسز کی جانب سے طالبان پر فائر کئے جانے والے گولے ان کے سروں سے گزرتے ہیں اور یوں طالبان کی جانب سے سکیوریٹی فورسز پر داغے جانے والے گولے ہمارے سروں پر گزرتے ہیں۔خیر افغانستان کے طالبان کو چاہیے کہ وہ اپنے ہی دوسرے مسلم بھائیوں ، بہنوں اور بچوں کو ہلاک و زخمی کرنے کے بجائے اگر وہ غلط راہ پر ہے تو انہیں اسلامی تعلمات سے آگاہ کریں ، انہیں جس طرح ممکن ہوسکتا ہے اسلامی ماحول فراہم کرنے کی سعی کریں بر خلاف اس کے کہ اپنے ہی مسلم بھائیوں، بہنوں اور معصوم بچوں کو ہلاک و زخمی کررہے ہیں۔ اور افغان سیکیوریٹی فورسز کی حیثیت سے جو عہدیدارخدمات انجام دے رہے ہیں ان کی زندگیوں کا بھی طالبان کو احساس ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیرملک کی سلامتی اور امن و آمان کیلئے اپنے مدمقابل کے سامنے سینہ سپر ہورہے ہیں ۔ اگر طالبان ملک میں اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ مل جل کر افغانستان کی خوشحالی، ترقی اور معاشی استحکام کے لئے متحد ہوجاتے ہیں اور قیام امن کے لئے ہتھیار ڈالتے ہیں تو یہ خوش آئندہ بات ہوگی لیکن ایسا ہوتا محسوس نہیں ہورہا ہے کیونکہ ایک طرف دوحہ میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز بتائے جارہے ہیں تودوسری جانب افغانستان میں بم دھماکے اور فائرنگ وغیرہ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ان دہشت گردانہ واقعات کی ذمہ داری طالبان ہی قبول کررہے ہیں ۔ سوال پیدا ہوتا ہیکہ طالبان ملک میں امن وآمان چاہتے ہیں یا نہیں؟ جیسا کہ طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اورنیٹو ممالک کی افواج کا تخلیہ ضروری ہے ۔ لیکن اس بات کی کیا گیارنٹی ہوگی کہ امریکی اور نیٹو ممالک کی افواج افغانستان سے نکلنے کے بعد ملک میں امن وآمان قائم ہوجائے کیونکہ بعد میں طالبان اپنی بات منوانے کیلئے افغان عوام پر دباؤ ڈال سکتے ہیں اور اگر ان کی بات نہ سنی گئی تو پھر دہشت گرانہ کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی لئے ہوسکتا ہیکہ امریکہ افغانستان میں اپنی فوج رکھنا چاہتا ہے ۔ ادھر افغان عوام اتنے برسوں بعد ملک میں نتیجہ خیز مذاکرات پر خوشی محسوس کررہے ہیں ۔ کاش افغانستان میں واقعی امن و آمان کا قیام جلد از جلد ممکن ہو اور افغان عوام چین و سکون کی زندگی گزار سکیں۰۰۰

ایران کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیاں
ایران اپنی دفاعی قوت میں اضافہ کے لئے مسلسل کوشش کررہاہے اس پر عائد پابندیوں کے باوجود وہ کسی نہ کسی طرح اپنی طاقت کو عالمی سطح پر منوانا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس کے خلاف پابندویوں پر پابندیاں عائد کرتا جارہا ہے۔امریکہ نے ایران کے خلائی مشن کو خطرہ بتاتے ہوئے اس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کردیں ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ نے ایران کی تین خلائی ایجنسیوں پر پابندیاں عائد کردیں۔ان میں ایک خلائی ادارہ اور دو تحقیقاتی مرکز ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایران کی خلائی ایجنسی ،ایران سپیس ریسرچ سنٹر اورآسٹروناٹیکس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی جانب سے 29؍ اگست کو خلائی مشن کی کوشش فوری خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ایران کو خلائی پروگرام کی آڑ میں بیلسٹک میزائل پروگراموں کو آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمدروس کے دورے پر
عالمی ممالک اپنی اپنی طاقت اور قوت کے جوہر دکھانے کیلئے جس طرح ہتھیاروں کی ترسیل کرتے جارہے ہیں اس سے بین الاقوامی سطح پر ماحول پراگندہ ہوتا جارہا ہے ۔ امریکہ اور روس کے درمیان ہو کہ امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اسلامی ممالک امریکہ ، روس، فرانس وغیرہ سے کروڑہا ڈالرس کے ہتھیار خریدرہے ہیں اور ان ہتھیاروں کی وجہ سے کئی اسلامی ممالک معاشی اعتبار سے کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ کہیں پر حکمراں اپنے اقتدار کیلئے تو کہیں پر ملک و قوم کے دفاع کیلئے اسلامی ممالک ہتھیاروں سے لیس ہورہے ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد روس کے تین روزہ دورے پر ہیں ۔ ملائیشیائی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اپنے تین روزہ دورے کے دوران مہاتیر محمد ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کریں گے اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے علاوہ دیگر رہنماؤں کے ساتھ فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کریں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مہاتیر محمد کا یہ دورہ ملائیشیا کو روس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کا بہترین موقع فراہم کرے گا ۔

شام میں ایران کا نیا فوجی اڈہ اور امریکی تشویش
امریکی ٹی وی چینل نے مغربی انٹیلی جنس اداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران شام میں اپنے ہزاروں فوجیوں کو رکھنے کیلئے ایک نیا فوجی اڈا قائم کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے شام میں ایک نیا فوجی اڈا قائم کیا ہے جسے امام علی کمپلیکس کا نام دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ فوجی اڈا مکمل خاموشی اور راز داری میں مکمل کیا گیا اور اس کی تکمیل کی تمام تر نگرانی پاسداران انقلاب کی سمندر پار کارروائیوں کی ذمہ دار القدس ملیشیا کی طرف سے کی گئی۔امریکی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس مغربی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے فراہم کردہ مصدقہ اطلاعات موجود ہیں۔ اس اڈے کے بارے میں معلومات کے ساتھ سیٹلائیٹس کی مدد سے اس کی تصاویر بھی حاصل کی گئی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ فوجی اڈے کے شمال مغربی حصے میں 10 اضافی گودام تیار کیے گئے ہیں جنہیں باہر سے مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ چند عمارتیں اس انداز میں بنائی گئی ہیں کہ اس میں بڑے میزائلوں کو ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ امریکہ اس ہوائی اڈہ کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرتا ہے۔

پاکستانی فوجی عہدیدار کا ہندوستان کے لئے پیغام
جنگیں حب الوطنی اور عوام کے اعتماد سے لڑی جاتی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستانی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کیا۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کے مطابق انکا کہنا ہے کہ جنگیں حب الوطنی ، عوامی کے اعتماد اور فوج کی قابلیت پر لڑی جاتی ہیں ۔ عزت اور وقات کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں کی جانبازی کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان سے کہا ہے کہ انکے سپاہی ہمیشہ اپنی جانوں کی قربانی دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ چالیس سال سے خصوصی طور پر بیس سال میں دہشت گردی کے ناسور کا پاکستانیوں نے بہادری سے مقابلہ کیا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی توجہ ہٹانے کی کوششیں کیں۔ انکا کہنا ہیکہ پاکستان واحد ملک اور افواج ہیں جنہوں نے ان تمام چیالنجز کا سامنا کیا اور خطے میں امن کیلئے بھی اپنا کردار ادا کیا ۔ انکا کہنا تھاکہ افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو مغربی سرحد پر تعینات دو لاکھ فوج میں پہلی کمی ہوگی ، پھر یہاں کی تعیناتی ختم کردی جائے گی اور اس بات کو بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس بات کا خطرہ محسوس کرتا ہے پاکستان اگر افغان سرحد سے اپنی فوج ہٹالے تو یہی فوج ہندوستان کے لئے خطرہ ہوگی۔ اب دیکھنا ہے کہ ہندوستانی فوج کی جانب سے پاکستانی فوجی عہدیدار کے بیان پر کس قسم کا ردعمل سامنے آتا ہے ۔
***
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100344 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2019 Views: 300

Comments

آپ کی رائے