سمجھ سے باہر ہے !!

(Muddasir Ahmed, India)

کسی بھی ملک کی معیشت جب زوال پذیر ہونے لگتی ہے تو ایسے وقت میں حکومتیں عوام سے پر بھاری ٹیکس اور جرمانے عائد کرنے لگتی ہے ۔ زمبابوے ، ارجنٹائنا جیسے ممالک میں یہی حال جاری ہے ۔ پچھلے کچھ سالوں سے یہاں کی معیشت بدترین حالات سے گزررہی ہے تو یہاں کی حکومتیں عوام سے پیسے اینٹھنے کے لئے ان پر جرمانے عائد کررہی ہے یا پھر ٹیکسوں کو بے جا طور پر وصول کرنے لگتی ہیں ۔ یہی حال اب ہندوستان کا بھی ہوچکاہے ، ایک طرف حکومت افسر شاہی نظام کو خاموش کرانے کے لئے انہیں بھاری بھرکم تنخواہیں دے رہی ہے اور مختلف مراعات و سہولیات دیتے ہوئے انہیں حکومت کے خلاف آواز اٹھانے سے روک رہی ہے تو دوسری جانب عام لوگوں پر جی یس ٹی ، امپورٹ ڈیوٹی ، ایکسائزڈیوٹی ، انکم ٹیکس ، سرویس ٹیکس میں اضافہ کرتے ہوئے انکا جینا محال کرچکی ہے ۔ ا نکم ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے کے لئے جہاں اب تک معمولی جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا ، اگر پانچ لاکھ روپئے سے کم کا ریٹرن ہے تو ایک ہزار روپئے اور پانچ لاکھ روپئے سے زیادہ کے ریٹرن کی ادائیگی نہ کرنے پر پانچ ہزار روپئے کا جرمانہ ادا کرنے کا قانون بنایا گیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے کبھی بھی انکم ٹیکس فائل نہ کرنے پر جرمانہ نہیں لگا یا گیا تھا۔اسی طرح سے مرکزی حکومت نے انڈین موٹر وھیکل ایکٹ میں بھی ترمیم کرتے ہوئے ٹرافک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے کے طورپر بھاری قیمتیں ادا کرنے کے قوانین بنائےہیں ۔ ہندوستان جیسے لو انکم گروپس (یل آئی جی ) کے شہریوں کے لئے حکومت کی جانب سے عائد شدہ جرمانوں سے یہ بات تو صاف طئے ہے کہ حکومت ہر گز بھی یہ نہیں چاہتی کہ جو لوگ ٹرافک کے قوانین کی خلاف ورزی کرینگے ان پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے انہیں احساس دلایا جائے کہ وہ دوبارہ غلطی نہ کریں بلکہ حکومت کا مقصد صرف یہی ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے عوام کو لوٹا جائے اور حکومت کے خزانے کے بھرا جائے ۔ سواریوں کے انشورینس کی شرح میں پہلے ہی اضافہ کرتے ہوئے لوگوں پر بوجھ ڈالا گیاہے جبکہ ٹرین میں سفر کے لئے انشورینس، بس و ہوائی جہاز میں سفر کے لئے انشورینس لے کر عام لوگوں کی جیبوں کو خالی کردیا ہے ۔اندازہ لگائیں کہ حکومت کس طرح سے اپنی معاشی بدحالی کو درست کرنے کے لئے عوام کو لوٹ رہی ہے ۔ پچھلے دنوں مرکزی حکومت نے آر بی آئی آئی سے 76.1 لاکھ کروڑروپئے بطور قرض حاصل کئے ہیں ، یہ ہندوستان کی تاریخ کا پہلا موقع ہے جس میں حکومت نے اپنے اخراجات کو اٹھانے کے لئے 76.1 لاکھ کروڑ روپئے کا قرضہ لی ہوئی ہے ، فائنانشیل ایکسپرٹس کا کہناہے کہ جب کو ئی حکومت اپنی مرکزی بینک سے سرپلس امائونٹ لیتی ہے تو وہ بینک دیوالیہ ہوجاتی ہے اور اس ملک کی معیشت گرنے لگتی ہے ۔ غور کریں کہ کس طرح سے ہندوستان میں پچھلے چند مہینوں سے مسلسل معاشی حالات بگڑنے لگے ہیں باوجود اسکے حکومت ان حالات کو سدھارنے کے بجائے انہیں چھپانے کی ناکام کوشش کررہی ہے ۔ سچائی کو چھپانے کے لئے نت نئے جھوٹ کہہ رہی ہے لیکن عوام جس طرح سے خاموشی اختیار کررہی ہے وہ قابل مذمت ہے ۔ کچھ سال پہلے تک دودھ پر ایک پیسہ اور دوسے پر دو پیسے کا بھی اضافہ ہوجاتا تو سڑکوں پر اتر کر حکومتوں کے خلاف آواز اٹھاتی لیکن حالیہ دنوں میں تمام چیزوں پر بے تحاشہ ٹیکس لگائے جارہا ہے ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے باوجود عوام کے سرپر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ ملک میں جو بدحالی پیدا ہوئی ہے اس بدحالی کو درست کرنے کے لئے عوام کے سامنے حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کے بجائے اور کوئی دوسری راہ نہیں ہے لیکن اس راہ کو اختیار کرنے میں اپوزیشن سمیت دیگر سماجی تنظیمیں اختیار کرنے میں کیو ں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں یہ سمجھ سے باہر ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 125 Print Article Print
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 43 Articles with 13133 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: