تبریز انصاری: یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے ہیں

(Dr Salim Khan, India)

دنیا بھر میں کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوجائے تو اس پر سب سے پہلے اظہار تاسف کرنے والوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کا نام ہوتا ہے لیکن جب ہمارے اپنے ملک میں بے قصور لوگ ہجومی تشدد کا شکار ہوتے ہیں تو ان کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ ان ساڑھے پانچ سالوں میں ہونے والے بے شمار قتل و غارتگری پر وہ صرف دو مرتبہ بولے۔ پہلے تو گجرات کے اونا میں جب دلتوں کو مارا گیا تو نوٹنکی انداز میں ڈرامائی مکالمہ ادا کیا ‘ مارنا ہے تو مجھے مارو’۔ کیا کوئی پاگل این ایس جی کے تحفظ میں گھرے وزیراعظم کو مارنے کا جوکھم لے کر اپنی جان خطرے میں ڈالے گا؟ ان کو اگر واقعی مظلومین سے ہمدردی ہوتی ظالموں کو سزا دلواتے لیکن اپنے چہیتےرائے دہندگان کو ناراض کرنے کی غلطی کوئی سیاستداں کیسے کرسکتا ہے؟ مودی جی نے ایوان پارلیمان میں تبریز انصاری کی ہلاکت پر دوسری بار افسوس کا اظہار کیا لیکن انہیں پسماندگان کا غم کم اورریاستِ جھارکھنڈ کی بدنامی کا دکھ زیادہ تھا ۔ کیوں نہ ہوتا وہاں صوبائی حکومت جو بی جے پی کی ہے۔ کسی اور پارٹی کی حکومت ہوتی تو جم کر تنقید کی جاتی تاکہ اسے بدنام کرکے اپنا نام روشن کیا جائے۔

تبریز کا معاملہ عالمی سطح پر اس قدر مشہور ہوا تھا کہ امریکہ کی معروف تنظیم یو ایس سی آئی آر ایف(United States Commission on International Religious Freedom) نے بھی سخت مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اس طرح کے تشدد اور ڈر کے ماحول کو روکنے کے لئے ٹھوس کارروائی کرنے کی اپیل کی ۔ پولس نے ٹھوس کارروائی کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ تبریز کی موت موب لنچنگ سے نہیں بلکہ دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی ۔ اس طرح بعید نہیں کہ کل پولس کہہ دے کہ تبریز کے زدو کوب کا وہ ویڈیو جعلی تھا یا تبریز سے جئے شری رام کا نعرہ نہیں لگوایا گیا بلکہ کلمہ پڑھوایا گیاتھا ۔ ویڈیو کو بگاڑ کر اس میں یہ دوسری آواز ڈال دی گئی ۔ اس لیے کہ اگر جھوٹ ہی بولنا ہے توانسان جو من میں آئےبولے ۔ ہر ماہ من کی بات کے ذریعہ اسی من مانی کی تربیت دی جاتی ہے۔ بعید نہیں کہ آئندہ ماہ من کی بات میں افسوس جتانے پر افسوس جتایا جائے۔

یہ سب اس لیے کیا جارہا ہےتاکہ ریاستی انتخاب میں اس کا فائدہ اٹھایا جاسکے ۔ عوام سے کہا جائے کہ حزب اختلاف آپ کو بدنام کرنے کے لیے جھارکھنڈ کو ماب لنچنگ کی فیکٹری کہتا ہے ۔ ہم نے آپ کو بدنامی سے بچانے کے لیے رپورٹ بدلوا دی ۔ قاتلوں کو بچا لیا اس لیے آپ ہمیں ووٹ دیں ۔ اقتدار کی ہوس کس طرح انسان کو حیوان بنا دیتی ہے اس کا ایک ثبوت تبریز انصاری کے معاملے میں پولس اور ان کے آقاوں کا رویہ ہے۔جھارکھنڈ انتخابات کےقریب آتے ہی سرائے کیلا میں ہجومی تشدد کا شکار ہونے والے تبریز انصاری کی فرد جرم پولس سے حیرت انگیز طور پر قتل کا الزام ہٹا لیا گیا ۔ جانچ کرنے والے افسر نےطبی رپورٹ کا حوالہ دے کر ڈاکٹروں کی تصدیق کو جواز بنایا ۔پولس جن ڈاکٹروں کا حوالہ دے رہی ہے وہ خود اس قتل کے بلاواسطہ شریک کار ہیں ۔ ہجوم کے ذریعہ کئی گھنٹوں تک زدوکوب کیے جانے کے بعد جب موقع واردات سے زخمی تبریز کو ضلع اسپتال لایا گیا تو اس کا ٹھیک سے علاج کرنے کے بجائے ان ڈاکٹروں نے مرہم پٹی کے بعد اسے پولس کے ساتھ جیل بھیج دیا ۔ اس صورتحال پر ساحر کی نظم کا مطلع دیکھیں؎
مرے جہاں میں سمن زار ڈھونڈنے والے
یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے ہیں

یہ عجیب معاملہ تھا کہ جس میں ظالم باہر گھوم رہے تھے اور مظلوم جیل کی سلاخوں کے پیچھے کراہ رہا تھا۔ چار دن بعد جب تبریز انصاری کی حالت مزید خراب ہو گئی تو اسے دوبارہ اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا اور اب موت کو دورۂ قلب سے منسوب کیا جارہاہے لیکن یہ بھی پورا سچ نہیں ہے بلکہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرس نےاپنے ٹوئٹر پیغام سے یہ تسلیم کیاہے کہ تبریز انصاری کا قتل ہوا ہے۔مذکورہ ڈاکٹرس کا الزام ہے کہ پولیس نے ان کی رپورٹ کو غلط انداز میں پیش کیاجبکہ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ تبریز کی موت صرف قلب پر حملے کی وجہ سے ہوئی ۔ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ سرمیں چوٹ لگنے سےممکن ہےدماغ کا وہ حصہ متاثر ہوا جو دل پر کنٹرول کرتا اور اس کے سبب دل کا دورہ پڑاہو۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسان کی کھوپڑی میں آسانی سے فریکچر نہیں ہوتا اور ان کی رپورٹ میں واضح طور پر تبریز کے اندرونی اور بیرونی زخموں کا ذکر ہے ۔ پولس نے دراصل رپورٹ کابہانہ بناکرایف آئی آر میں سے دفع ۳۰۲ ہٹالی ہے ۔ اس قابلِ مذمت حرکت پر مقدمہ کے وکیل الطاف حسین کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تبریز کی موت کا سبب دل کا دورہ بتایا گیا ہےمگر یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ بھیڑ کے ذریعہ پٹائی کی وجہ سے تبریز کے سر پر زخم لگا تھا۔ ایسے میں یہ کیونکرکہا جا سکتا ہے کہ موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی‘‘۔

تبریز انصاری کے معاملے کے ملزمان کے خلاف قتل کا الزام ہٹائے جانے پر برپا ہونے والے تنازعہ میں مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے اپنی پارٹی کی روایت کے خلاف ایک چونکانے والا بیان دےدیا ۔انہوں نے اس سانحہ کوبدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘یہ ایک مجرمانہ حرکت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ عدالت میں کیا ہوا۔میں یہ مانتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہوا ہے ، جو بھی مجرمانہ سرگرمی ہوئی ، اس کی سزا قصورواروں کو ضرور ملنی چاہئے۔ریڈی نے یقین دلایا کہ وہ ریاستی حکومت سے اس معاملے پر بات کریں گے۔ مرکزی وزیر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا اس طرح کے واقعات کہیں نہیں ہونا چاہئےاور قانون اپنا کام کرے گا۔مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی کا بیان اس لیے بھی حیرت انگیز ہے کہ حلف برداری کے بعد انہوں سکندرآباد کی عوام اور بی جے پی ہائی کمان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئےیہاں تک کہہ دیا تھا کہ حیدرآباد دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ بن گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ مل وہ ان دہشت گردوں کا خاتمہ کریں گے ۔تبریز کے حوالے سے ان کے دل کی نرمی قابلِ ستائش ہے۔یہ انسانی ضمیر کی آواز ہے اسی لیے شاعر کہتا ہے؎
مری صدا کو دبانا تو خیر ممکن ہے
مگر حیات کی للکار کون روکے گا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1251 Articles with 461932 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2019 Views: 409

Comments

آپ کی رائے