سعودی عرب کا قومی دن اور لازوال دوستی

(Habibullah Qamar, )

محمد مصعب
سعودی عرب کا قومی دن ہر سال 23ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ مملکت سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے مسلم ملکوں میں تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا، مسلم خطوں و ملکوں میں امن و سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ سفارت خانوں میں خاص طور پر ہر سال پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات چونکہ شروع دن سے انتہائی مضبوط اور مستحکم رہے ہیں، اس لئے وطن عزیز پاکستان کا ہر شہری چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا کیوں نہ ہو، سرزمین حرمین الشریفین کیلئے ہمیشہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعائیں کرتا ہے اور سعودی عرب کا نام سنتے ہی محبت، اخوت اور ایثار و قربانی کا جذبہ اس کے دل میں جاگزیں ہونے لگتا ہے۔ پاک سعودی تعلقات اگرچہ ابتداء سے ہی خوشگوار رہے ہیں لیکن شاہ فیصل کے دور میں ان تعلقات کو بہت زیادہ فروغ ملا۔ انہوں نے پاکستان سے تعلقات بڑھانے اور صرف دونوں ملکوں کو قریب کرنے کیلئے ہی نہیں پوری امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے زبردست کوششیں کی، جس پر دنیا بھر کے مسلمان انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سبھی مسلم حکمرانوں کو ان جیسا کردار ادا کرنے میں کوشاں دیکھنا چاہتے ہیں۔سعودی عرب ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر کھل کرپاکستان کے موقف کی تائید و حمایت کی ہے۔ بابائے قوم بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، جہاں غاصب بھارت نے آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔اپریل 1966ء میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل نے مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ 1967ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ اپریل 1968ء میں سعودی عرب سے تمام برطانوی ہوا بازوں اور فنی ماہرین کو رخصت کر دیا گیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب زدگان کی کھل کر مالی امداد کی۔ دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 2005ء میں آزاد کشمیر و سرحد کے خوفناک زلزلہ اور 2010ء کے سیلاب کے دوران بھی مصائب و مشکلات میں مبتلا پاکستانی بھائیوں کی مدد میں سعودی عرب سب سے آگے رہا اور روزانہ کی بنیاد پر امدادی طیارے پاکستان کی سرزمین پر اترتے رہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام پسند اور محب وطن حلقوں کی کوشش ہوتی ہے کہ سعودی عرب کے اسلامی اخوت پر مبنی کردار سے پاکستان کی نوجوان نسل کو آگاہ کیا جائے اور اس کے لیے وہ اپنا کردار بھی ادا کرتے رہتے ہیں۔

سرزمین حرمین شریفین کی وجہ سے سعودی عرب پوری دنیا کے مسلمانوں کا دینی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ مسجد الحرام، مدینہ منورہ میں مسجد نبوی اور حج کے مقدس مقامات کے خادم ہونے پر سعودی حکام کو یقینی طور پر فخر محسوس ہوتا ہے کیونکہ زائرین عمرہ اور حجاج کرام کی خدمت کرنا واقعتا ایک اعزاز ہے۔مقدس مقامات کی دیکھ بھال اور ترقی کیلئے مملکت کی کاوشیں شاہ عبدالعزیز کے دور سے لیکر اب تک کئی گنا ہو چکی ہیں۔ حرمین شریفین اور مقدس مقامات میں متعدد توسیعی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ سعودی حکومتوں نے مسجد الحرام، مسجد نبوی، منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں توسیع اور ترقی کے کئی منصوبے مکمل کئے ہیں جن میں شاہ عبداﷲ بن عبدالعزیز کا 19اگست 2011سے شروع کیا گیا مسجد الحرام کا عظیم الشان تاریخی توسیعی منصوبہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس توسیع کے بعد یہاں 25لاکھ مزید نمازیوں کی گنجائش پیدا ہو گئی ہے۔ اس توسیع کے مرکزی دروازے کا نام باب شاہ عبداﷲ رکھا گیا ہے۔یہ توسیعی منصوبہ مسجد الحرام کے شمال اور شمال مغرب میں واقع چار لاکھ مربع میٹر اراضی پر محیط ہو گا۔ اس میں مطاف کی توسیع بھی شامل ہے جبکہ تمام نئی عمارتیں ایئر کنڈیشنڈ ہوں گی۔ یہ عظیم تر توسیعی منصوبہ بنیادی ضروریات کی تمامتر خدمات، سازوسامان بالخصوص صفائی ، امن وامان کے جدید نظام اور پینے کے پانی کے فواروں جیسی سہولیات سے مزین ہے۔ اسی طرح شاہ عبداﷲ بن عبدالعزیز کی جانب سے مسجد نبوی کی توسیع کے احکامات صادر فرمائے جس سے مسجد نبوی میں مزید 16لاکھ نمازیوں کی گنجائش پیدا ہوئی ہے ۔ شاہ عبداﷲ بن عبدالعزیزکی جانب سے شروع کئے گئے ان توسیعی منصوبوں پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور اقتدار میں بہت کام ہوا اور یہ توسیعی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں۔ سعودی عرب کا دستور قرآن و سنت ہے‘ تمام آئینی قوانین انہی دو مصادر سے اخذ کئے گئے ہیں۔ یہاں نظام حکومت بادشاہت ہے جس میں بادشاہ اور وزراء کی کونسل انتظامی اور مقننہ کے اختیارات رکھتی ہے۔ مملکت شوریٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی معاملے پر اپنی رائے دے۔ برادر اسلامی ملک میں اسلام قانونی نظام اور حکومت کی بنیاد ہے۔ عربی اس مملکت کی قومی زبان ہے جبکہ شہری علاقوں میں انگریزی بھی بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔سعودی عرب مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں سب سے بڑی آزاد منڈی کی معیشت ہے جو عرب جی ڈی پی کے پچیس فیصد حصہ پر مشتمل ہے۔ مملکت کا جغرافیائی محل وقوع اسے یورپ، ایشیا اور افریقہ کی درآمدی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک مسلسل پھیلتی ہوئی منڈی ہے جس میں آبادی 3.5فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے اور یہ مضبوط قوت خرید رکھتی ہے۔ سعودی عرب کو اﷲ تعالیٰ نے تیل کے ذخائر کے دولت سے نواز رکھا ہے۔ اسلامی ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اقتصادیات، تعلیم اور دوسرے موضوعات پر ماہرین کی عالمی کانفرنسیں طلب کرنے جیسے اقدامات کرکے سعودی عرب کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور ان کو حل کرنے کے لیے مشترکہ طریق کار طے کر سکیں۔ سعودی عرب کی مالی امداد سے دنیا سے اسلام کی تبلیغ کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔

موجودہ حکومت کے دورمیں پاک سعودی تعلقات مزید مضبوط و مستحکم ہوئے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کا حالیہ دورہ سعودی عرب بھی بہت اہم تھا کیونکہ اس کے فوری بعد وہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے امریکہ پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس اجلاس سے قبل سعودی قیادت کو کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں کی بھی مذمت کی۔ وزیر اعظم نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگراعلیٰ سول اور فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دوستانہ تعلقات میں جو زبردست گرمجوشی پائی جاتی ہے اس میں پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اورسعودی سفارت خانے میں میڈیا سیکشن کے انچارج علی خالد الدوسری کا بھی کرداربھی نمایاں ہے۔ ہم سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے خادم الحرمین الشریفین اور پوری سعودی قوم کو مبارک باد کہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ سعودی عرب کو اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں سے محفوظ و مامون رکھے اور دین اسلام کی سربلندی کیلئے اور کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Habibullah Qamar

Read More Articles by Habibullah Qamar: 184 Articles with 71164 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2019 Views: 235

Comments

آپ کی رائے