سرزمین کراچی پر پہلا قدم

(Aslam Lodhi, Lahore)
میں نمبر ون کالم نگار کا ٹیٹرا پیک گرین میڈیا ایوارڈ 2007ء لینے کے لیے جب کراچی گیا

ساحل سمندر کی ٹھنڈی ٹھنڈی ریت پر چہل قدمی کرتے ہوئے مجھے ایک خوبصورت جوڑا دکھائی دیا جو دور واقعی بہت خوبصورت لگ رہا تھا‘ جب یہ جوڑا قریب آیا تو دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ لڑکا پاکستانی اور لڑکی چینی تھی۔ جسمانی خدو خال اور لباس سے لڑکی باحیا دکھائی دی جو صرف اپنے ہی مرد کی باتوں میں محو تھی۔ اسے قریب گزرنے والوں سے کوئی سروکار نہ تھا۔لیکن صبح کے خوبصورت موسم میں یہ دونوں بہت ہی بھلے دکھائی دے رہے تھے ۔کچھ دیر میں اور بیٹا ضیا ساحل سمندر کے نظارے لیتے رہے کیونکہ یہ میری زندگی کی ایک حیرت انگیز صبح تھی ۔جب سمند ر کی ریت پر سورج کی جھلملاتی ہوئی کرنیں صاحب دکھائی دینے لگیں تو بیٹا ضیا مجھ سے اجازت لے کر اپنے گھر (سٹیل ملز) روانہ ہوگیا ۔ جبکہ میں ڈی ایچ اے کلب واپس آگیا جہاں میرے لیے ناشتہ تیار تھا بلکہ پجارو کا پٹھان ڈرائیور معائلم خان کلب کے باہر کھڑا میرا منتظر دکھائی دیا۔ جس کی ڈیوٹی میرے دوست سید ندیم احمدنے کراچی میں واقع اپنے دفتر میں کہہ کر لگوائی تھی۔جلدی جلدی ناشتہ کرکے میں نے 9 بجے ڈی ایچ اے کلب کو خیر باد کہہ دیا۔اب ہماری گاڑی کلفٹن روڈ سے ہوتی ہوئی ایک ایسے مقام پر آپہنچی جہاں پانی کا ایک وسیع اور کشادہ تالاب میری نظروں کے سامنے تھا۔وہاں اس قدر بدبو تھی کہ مجھے ناک بند کرنا پڑا۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ یہ کونسا تالاب ہے اس نے کہا سر یہ تالاب نہیں سمندر کا ہی ایک حصہ ہے‘ جب سمندر طغیانی پر ہوتا ہے تو سمندر کا پانی سڑک عبور کرکے یہاں جمع ہوجاتا ہے‘ چونکہ یہ پانی ایک ہی جگہ ٹھہرجاتا ہے اس لیے صفائی نہ ہونے کی بنا پر اس سے بدبو آنے لگتی ہے۔ ایک پل سے گزرتے ہوئے ہمیں پی این ایس کی وہ بارہ منزلہ عمارت دکھائی دی جو اسی تالاب نما سمند ر کے کنارے پر بنی ہوئی تھی ۔ڈرائیورنے بتایا یہاں چند ماہ پہلے آگ لگ گئی تھی جسے کراچی اور پاک بحریہ کے فائر بریگیڈ مل کر بھی اسے نہ بجھا سکے۔ ہیلی کاپٹر نے بلڈنگ میں موجود انسان تو کسی نہ کسی طرح نکال لئے لیکن اس عمارت کی بالائی پانچ منزلیں جلنے سے نہ بچا ئی جاسکیں۔ یہ کراچی انتظامیہ کی کارکردگی ہے جہاں چالیس اور پچاس منزلہ بلڈنگوں کی تعمیر کا نہ صرف رواج عام ہوتا جارہا ہے بلکہ دھڑا دھڑا سرکاری سطح پر اجازت بھی دی جارہی ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے ہم آئی آئی چندریگر روڈ پر پہنچے جہاں ایک بنک میں چند دوستوں سے ہم کلام ہونا تھا کراچی شہر کی یہ اہم ترین سڑک گزشتہ کئی مہینوں سے زیر تعمیر تھی۔ وہاں پر ہونے والے تعمیراتی کام کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ کم از کم چھ مہینے تک سڑک کی تعمیر مکمل نہیں ہوگی حالانکہ کراچی شہر کی یہ مصروف ترین سڑک تھی۔ جہاں تمام قومی بنکوں کے ہیڈ کوارٹر ‘ سٹاک مارکیٹ ‘ اخبارات کے دفاتر وغیرہ موجود ہیں ۔جہاں سے گزرنے والوں کی تعداد ہر روز لاکھوں میں ہوگی بہرکیف کسی نہ کسی طرح یہاں سے گزرنے کے بعد ہماری منزل شیرٹن ہوٹل تھی جہاں ساڑھے بارہ بجے ٹیٹر ا پیک گرین میڈیا ایوارڈ کی تقریب کا آغا ز ہونے والا تھا گھڑی پر نظر دوڑائی تو ساڑھے گیارہ کا وقت ہوچکا تھا ۔ پندرہ کی مسافت تقریبا گھنٹے میں اس لئے طے ہوئی کہ شہر کے اس علاقے میں جگہ جگہ پر ٹریفک جام تھی۔ تین فائیو سٹار ہوٹل( آواری ‘ پی سی اور شیرٹن ہوٹل) قریب قریب نظر آئے لیکن جو تابانی لاہور کے فائیو سٹار ہوٹل میں نظر آتی ہے وہ یہاں نہیں تھی۔ اگر خوبصورت اور دیگر سہولتوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو شیرٹن ہوٹل سب سے آگے نظر آرہا تھا۔ یہاں دربار سی ہماری منزل تھی جہاں ٹیٹرا پیک گرین میڈیا ایوارڈ کی تقریب کا آغاز ہونے والا تھا۔یہیں پر عمر گھمن اور ناصر نجم سے ملاقات ہوئی ۔کراچی کا پیپر اور الیکٹرونکس میڈیا بڑی تعداد میں تقریب کی کوریج کے لیے موجود تھا۔ بیٹا ضیا بھی گھر سے ہوکے وہاں میرے پاس پہنچ چکا تھا۔ ڈیڑھ بجے تقریب کا آغاز ہوا مہمان خصوصی اے پی این ایس کے جنرل سیکرٹری محمد اسلم قاضی تھے جبکہ باقی افرادمیں ٹیٹرا پیک کے سرکردہ لوگ شامل تھے۔ عمر گھمن نے ایوارڈ کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ماحولیات کے حوالے سے ٹیٹرا پیک نے میڈیا کے موثر کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ایوارڈ کا اعلان کیا تھا جس میں چار گیٹگری بنائی گئی تھیں۔ اردو مقالہ نگار ی ‘ انگلش مقالہ نگار ی ‘ خصوصی رپورٹس اور فوٹو گرافی اس حوالے سے ملک بھر سے بے شمار مقالہ جات اور تصویریں موصول ہوئیں ۔اول دوم آنے والوں کا انتخاب کرنے کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں جامعہ کراچی ابلاغیات کے سابق چیرمین نثار زبیری ‘ ڈیلی نیشن کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ایم اے نیازی ‘ اور روزنامہ ایکسپریس کراچی کے ایڈیٹر شامل تھے۔ اپنے اپنے شعبہ جات میں سرکردہ افراد نے اردو ‘ انگلش مقالات جات کے لئے متفقہ طور پر جن شخصیات کو اول دوم قرار دیا ‘ان کے نام کچھ دیر بعد آپ کو بتائے جائیں بلکہ انہیں مہمان خصوصی کے ہاتھوں ایوارڈ بھی دلوائے جائیں گے۔ عمرگھمن کے سپاس نامے کے بعد ٹیٹر ا پیک کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں درختوں کی کٹائی سے لے کر کاغذ کی بنوائی تک کے مختلف مراحل شامل تھے۔ اس کے بعد مہمان خصوصی کا خطاب شروع ہوا‘ جو چند منٹوں پر مشتمل تھا ‘اس کے بعد ایک خاتون کامیاب کنندگان کے نام بولنے لگی سب سے پہلے انگلش مقالہ نگاری میں اول اور دوم آنے والوں کا نام بولا گیا جنہوں نے سٹیج پر جا کر کیش ایوارڈ اور شیلڈ وصول کی اس کے بعد اردو مقالہ نگاری میں میرا( محمد اسلم لودھی ) نام پکارا گیا ۔مجھے بھی اول انعام( پچاس ہزار روپے) اور یادگاری شیلڈ محمد اسلم قاضی کے ہاتھوں دلوائی گئی۔ بعد ازاں تقریب ختم ہوتے ہی ایک گروپ فوٹو بنوائی گئی پھر کھانے کا آغاز ہوگیا۔ یہیں پر میری دھنک میگزین کے نبیل صاحب کے حوالے سے ایک فوٹو گرافر علی صاحب جو اخبار سالار میں شوبز کے انچارج تھے سے ملاقات ہوئی انہوں نے بطور خاص میری چند تصویریں بنائیں ۔جنہیں لاہور واپسی پر اخبارات میں شائع کروا دیا گیا۔

یوں یہ تقریب اڑھائی بجے اختتام پذیر ہوئی۔شیرٹن ہوٹل سے باہر نکلے تو ڈرائیور ہمارا منتظر تھا‘ اس کے ساتھ ہم نے کراچی اردو بازار کا رخ کیا اور تھکاوٹ کے باوجود بارہ چودہ دوکان داروں سے ملاقات بھی کرلی۔ کراچی میں اپنی کتابوں کی فروخت اور مارکیٹنگ کے حوالے سے گفتگو بھی ہوئی ۔ حسن اتفاق سے اس وقت وہاں بجلی غائب تھی اور دوکان پر بیٹھا ہوا ہر شخص بیزار ہی دکھائی دیا۔اب تھکاوٹ عروج پر پہنچ چکی تھی اور جی چاہ رہا تھا کہ ہوٹل پہنچ کر ایک دو گھنٹے آرام کرلوں لیکن یہ سوچ پہلے سے پختہ تھی کہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم کے مزار پر حاضری ضرور دی جانی چاہئے ۔ مزار قائد اب زیادہ فاصلے پر نہیں تھا ۔

ڈرائیور ہمیں گیٹ پر اتار کر کھانا کھانے کے لئے چلا گیا۔ بیٹا ضیا اور میں ٹکٹ لے کر مزار قائد کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ سخت دھوپ کے عالم میں کچھ مرد و خواتین وہاں آتے اور جاتے دکھائی دیئے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہاں تختی پر یہ عبارت جلی حروف میں لکھی دکھائی دی ۔" مزار قائد پر جوتے پہن کر جانا منع ہے" -اس لئے جو بھی شخص مزار قائد پر جاتا ہے وہ خاصے فاصلے پر جوتے اتار کر ننگے پاؤں جاتا ۔ہم نے بھی جوتے اتار دیئے اور آگ کی طرح گرم فرش پر پاؤں رکھتے ہوئے مزار قائد کی طرح تیزی سے بڑھنے لگے وہاں مجھے چند کیمرہ مین جوتوں پر جرابیں چڑھائے چلتے پھرتے دکھائی دیئے۔ میں نے بیٹے ضیا سے کہا کہ اگر عام زائرین کو بھی مخصوص قسم کی جرابیں فراہم کر دی جاتیں ‘تو گرم فرش کی وجہ سے ہمارے بھی پاؤں تو نہ جلتے ۔ گفتگو میں مصروف جب ہم مزار قائد کے اندر داخل ہوئے تو وہاں حفاظتی گارڈ کا جو دستہ موجود تھا سب جوانوں نے فوجی بوٹ پہن رکھے تھے ۔ میں نے سوچا کہ مزار قائد کے اندر یہ فوجی بوٹ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمدعلی جناح کے لئے توہین کا باعث بنتے ہوں گے ۔فوجی بوٹوں پر بھی جرابیں چڑھائی جاسکتی تھیں لیکن شاید کسی نے زحمت محسوس نہیں کی۔

بہرکیف ہم نے ایصال ثواب کے لیے دعا کی ۔ بیٹے ضیا نے بتایا کہ حضرت قائد اعظم کے استعمال میں رہنے والی نادر اشیاء کی نمائش کا بھی اسی مزار سے ملحقہ اہتمام کیا گیا ہے جبکہ نچلی منزل پر قائد کی جانثار بہن فاطمہ جناح ‘ نوابزادہ لیاقت علی خاں ‘ بیگم نور الامین ‘ سردار عبدالرب نشتر کی قبریں بھی دکھائی دیں۔ جہاں فاتحہ خوانی کرکے ہم نوادرات دیکھنے ملحقہ میوزیم میں داخل ہوگئے۔ میوزیم میں قائد کے استعمال میں رہنے والی گاڑیاں ‘ لباس ‘ کراکری ‘ گالف کھیلنے والی سٹک ‘ بستر ‘ صوفے ‘ چھری کانٹے وغیرہ موجود تھے جو واقعی قائدکے معیار اور حسن انتخاب کا منہ بولتا ثبوت نظرتھے۔ یہاں میں نے محسوس کیا کہ جو شخص ملک و قوم کے لئے اپنی زندگی وقف کردیتا ہے پھراس کے استعمال میں رہنے والی ہرہر چیز نوادرات کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے اور قوم اپنے قائد کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال میں رہنے والی چیزوں سے بھی والہانہ محبت کرتی ہے ۔ یہی سبق اس پاکستانی قوم کے لئے اہم ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے وقف کردیں۔

مزار قائد پر حاضری کے بعد باہر نکلے ہی تھے کہ گاڑی ہماری منتظر تھی‘ یہاں سے ہم سیدھے پیراڈائز ہوٹل پہنچے جہاں آج رات میرا قیام تھا۔ وہاں 809کمرہ مجھے الاٹ کیا گیا جو آٹھویں فلور پر تھا۔ یہاں پہنچ کر بیٹا ضیا اپنے گھر چلا گیا اور دن بھر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے میں بستر پر لیٹ گیا ‘ شام چھ بجے تک میں خوب سوتا رہا ۔ میری اس وقت آنکھ کھلی جب نماز عصر کا وقت ہوچکا تھا‘ نماز پڑھنے کے بعد فارغ ہوا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک نوجوان (جس کانام خرم تھا) کھڑا نظر آیا۔ یہ نوجوان مجھے اپنے گھر واقع سہراب گوٹھ لے جانے کے لئے آیا تھا ‘ جہاں انہوں نے ایک پرتکلف دعوت کا اہتمام کررکھا تھا۔لیکن میں نے اس لیے انکار کردیا کہ سہراب گوٹھ کا علاقہ سمگلروں کے حوالے سے بہت مشہور ہے ‘ لاہور سے روانہ ہوتے وقت مجھے دوستوں نے بطور خاص دو علاقوں میں جانے سے منع کیا تھا ان میں سے ایک سہراب گوٹھ تو دوسرا لالو کھیت تھا۔

اگلی شام سات بجے کراچی سے میری لاہور روانگی کا ٹکٹ کنفرم تھا اس لئے میں نے چند ایک اخبارات کے دفاتر میں جانے کے بعد ائیرپورٹ ہی جانے میں عافیت جانی۔کیونکہ جس شہر کے لوگوں سے ہی خوف آتا ہو ‘ وہاں ٹھہرنا نہیں چاہیئے ۔میں نے خود کراچی کی دیواروں پر یہ عبارت جگہ جگہ لکھی دکھائی "پہلے گولی پھر بات"۔(ان دنوں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا خوف ہر شخص پر طاری تھا۔)

ڈرائیورجب مجھے ائیرپورٹ ڈراپ کرگیا اس وقت ابھی دوپہر کے تین بجے تھے جبکہ لاہور واپسی کے لیے میری فلائٹ چھ بجے تھی ۔ سات بج کر دس منٹ پر جہاز نے رن وے پر رینگنا شروع کردیا پھر ایک ایسی سمت جہاز مڑا جہاں کھڑکی سے مجھے سرزمین کراچی پر ڈوبتے ہوئے سورج کا عکس دکھائی دیا۔ اس کے بعد جہاز نے بائیں جانب کروٹ لی اور فضا میں پرواز کرنا شروع کردی۔ اس مرتبہ میری نشست چونکہ کھڑکی کے بالکل ساتھ والی تھی اس لئے میں کراچی کا خوبصورت منظر اپنی آنکھوں میں محفوظ کرلینا چاہتا تھا اس لمحے میرے دل سے دعا نکلی کہ کاش یہ شہر کراچی ماضی کی طرح محبتوں اور چاہتوں کاگہوارہ بن جائے اور اس شہر کا کوئی حصہ ایسا نہ ہو جہاں خوف کا عالم ہو۔جہاں ہر لمحے قتل و غارت کا خوف ہو۔ یہاں مجھے احمد ندیم قاسمی کی و ہ دعائیہ نظم یاد آرہی تھی ۔ جس کے بول تھے۔ "خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے ۔ وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔"

اس طرح ٹیٹرا پیک گرین میڈیاایوارڈ( پچاس ہزار روپے کا چیک) لینے کے لیے کراچی جانے اور واپس لاہور آنے کا سفر تمام ہوا۔ یہ سب میرے ماں اور باپ کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 78 Print Article Print
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 462 Articles with 189997 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: