کنٹرول لائن پر غیر اعلانیہ جنگ!

(Prof Khursheed Akhtar, Islamabad)

آزاد کشمیر کے ہر سیکٹر پر بھارتی فوج آئے روز شہری ابادی کو نشانہ بناتی ھے شدید گولہ باری اور مارٹر گولے ان مکینوں پر خوف بن کر ھمیشہ سوار رہتا ہے۔ابادی کی اکثریت ایک ٹرامے کا شکار ھے گزشتہ دنوں ھونے والا حملہ اتنا شدید تھا کہ بچے خواتین اور بوڑھے شدید زخمی ہوئے۔جوابی کاروائی میں 9 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اور یہ منظر دیکھنے میں آیا کہ انڈین فوج نے سفید پرچم لہرایا تاکہ وہ ھلاک شدہ فوجیوں اور زخمیوں کو اٹھا سکیں۔مگر حکومت آزاد کشمیر ھو یا پاکستان بارڈر کے قریبی گاؤں والوں کی حفاظت دیکھ بھال اور امداد کے لیے کچھ نہیں کر رہی یہ وہ لوگ ہیں جو کئی سال سے امن اور جنگ دونوں حالتوں میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔کئی دفعہ یہ لوگ نقل مکانی بھی کرتے ہیں اور واپس آ جاتے ھیں۔ان کے معاشی معاشرتی اور سماجی مسائل ھیں۔ان کے بچے تعلیم سے،روزگار سے محروم ھیں ان کے مستقبل کا کون سوچے گا وہ آپ کی دفاعی لائن بن کر گولے اپنے سینے پر سہتے ہیں۔پاکستانی افواج کے لیے یہ سب سے بڑی آزمائش ھے کہ وہ بارڈ پار کشمیری مسلمان پر فائرنگ نہیں کر سکتے اس احتیاط نے پاک فوج ھمیشہ انڈین چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہے۔مگر مودی وحشی بن کر کشمیری پر ٹوٹا ھوا ھے۔یہاں تک کے سیبوں کی ترسیل پر کشمیری تحریک کے خوف نے بھارت کو پاگل کیا ھوا ھے۔سیبوں پر تحریر آزادی اور عمران خان کے حق میں نعروں نے ریشمی رومال تحریک کی یاد تازہ کر دی دکھ اس بت کشمیر میں شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کا میڈیا کشمیر کو بھول کر دھرنا اور آزادی مارچ تک محدود ہو گیا ہے۔تحریک آزادی کشمیر دنیا بھر میں ایک بڑا ایشو ھے مگر بدقسمتی سے اس وقت ھماری سیاست ذاتیات کے تند و تیز حملوں میں گم ھے۔مودی نے غیر اعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے 80 ھزار کشمیری ایک قلعے میں محصور ھے اور فصیلوں پر 9 لاکھ فوج مورچے سنبھال کر بیٹھی ہے۔سکول ھسپتال ویران بازار بند اور زرا سا ریلیف ملتا ہے تو سڑکیں آزادی کے نعروں سے گونج اٹھتی ہیں۔اڈ صورت حال کو تین ماہ گزر گیا ھے۔کسی ادارے پر جوں تک نہیں رینگتی۔اس عجیب غریب صورت حال کو کون دیکھے گا؟ غیر اعلانیہ جنگ میں ھمارا کیا قومی کردار ھونا چاھیے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Khursheed Akhtar: 88 Articles with 27662 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Oct, 2019 Views: 149

Comments

آپ کی رائے