تہمت زنی جان بھی لے سکتی ہے

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 خبریں آرہی ہیں کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی صحت خراب ہونے کے باعث انہیں اسپتال منتقل کیاگیاہے۔میاں نوازشریف کے صاحبزادے حسین نوازنے خدشہ ظاہرکیاہے کہ میاں نوازشریف کوزہردیاگیاہے۔حسین نوازکاخدشہ قبل ازوقت الزام تراشی یعنی تہمت زنی اوربہتان تراشی ہی سمجھاجاسکتاہے۔ابھی ہمیں میاں نوازشریف کی بہت ضروت ہے لہٰذادعاہے کہ اﷲ تعالیٰ اُن کوصحت والی لمبی عمرعطافرمائے اورانہیں ملک وقوم کیلئے مفیدکرداراداکرنے کی توفیق وطاقت عطافرمائے۔آج کاموضوع تہمت زنی ہے لہٰذامیاں نوازشریف کی صحت کے متعلق بات تفصیلات آنے کے بعد کریں گے۔اﷲ سبحان تعالیٰ کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں اس کائنات کے ذرے ذرے میں جلوہ نماہیں۔ایک کھیت۔ایک جیسی مٹی۔ایک جیساپانی اوریکساں موسم کے باوجود گنااتنامیٹھاپیداہوتاہے جس سے گڑ۔شکراورچینی بنائی جاتی ہے۔لیمن اس قدرکھٹاپیداہوتاہے کہ نام سن کرہی منہ میں پانی آجائے۔مرچیں اس قدر کڑوی کہ تڑپاکے رکھ دیں۔گاجر۔مولی۔شلجم۔لہسن۔ادرک۔ہلدی اوردیگربے شمارصحت بخش پھل اورسبزیوں کے ساتھ انتہائی مضرصحت تمباکو۔بھنگ۔افیون جیسی منشیات بھی اسی مٹی میں پیداہوتی ہیں۔انسان بھی دیکھنے میں ایک جیسے۔ایک ہی جیسے طریقہ کارسے پیداہوتے ہیں۔انسان بھی ایک ہی کھیت میں اگنے والی مختلف فصلوں کی طرح مختلف صلاحتیوں۔خصلتوں۔خوبیوں اورخامیوں کامجموعہ ہوتے ہیں۔بنیادی طورپرانسان معصوم پیداہوتاہے۔دنیاوی زندگی میں اپنی وراثتی اورتربیتی خوبیوں یاخامیوں کی بنیادپراپنی پہچان بناتااورکرداراداکرتاہے۔دورحاضرمیں انسانی آبادی خاص طورپرمشرقی ممالک کی اکثریت بغض۔منافقت اورغیبت کے نرخے میں محسوس ہوتی ہے۔بغض اورمنافقت کی کئی اقسام ہیں جن میں سب سے زیادہ خطرناک اقسام احساس کمتری یامایوسی کے شکارافراد کے ذہنوں میں جنم لیتی ہیں۔ایسے افراددوسروں کی کردارکشی کی کوشش میں اس حدتک چلے جاتے ہیں کہ دوسروں کی بجائے اُن کی اپنی شخصیت متاثرہونے لگتی ہے۔ایسے لوگوں کاجس یاجن افراد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔کہیں کسی حوالے سے ملاقات نہیں ہوتی۔کسی میدان میں مقابلہ نہیں ہوتا۔کبھی لین دین نہیں کیاہوتا۔کوئی مذہبی۔مسلکی اختلاف نہیں رکھتے۔کوئی زمین۔جائیدادکاتنازعہ نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ کبھی قریب سے دیکھاتک نہیں ہوتااُن انجان لوگوں کی معاشرتی۔علمی یاکاروباری کامیابیوں کوبرداشت نہیں کرپاتے یعنی جلن محسوس کرتے ہیں اور بلاوجہ اُن کی کردارکشی کرتے ہیں۔جوبرائیاں ان کی شخصیت میں موجودنہیں ہوتی ان کی ذات سے منسوب کرتے ہیں۔بلاوجہ بغض رکھنا۔منافقت کی تمام حدیں عبورکرتے ہوئے دوسروں کواپنے ناپسندیدہ افرادیافردسے میل ملاپ نہ رکھنے کی نصیحت کرتے ہیں یہاں تک کہ جس شخص کواچھی طرح جانتے نہیں اس کی شکایت کسی ایسے فردکولگانے لگتے ہیں جسے بالکل ہی نہیں جانتے اوراسی قسم کی مزیدکئی بیماریاں ہمارے یہاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔انہی اعمال کو تہمت زنی،بہتان تراشی بھی کہاجاتاہے۔انسان کی پیدائش ایک ہی کھیت میں مختلف ذائقوں اورتاثیررکھنے والے پھلوں اورسبزیوں سے قدرے مختلف ہے پروراثت میں ملنے والی خصلتیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔انسان کو عادات۔صلاحتیں۔شعور۔جہالت۔صحت سے جڑے مسائل۔دنیاکی دولت۔مختصرکہ بہت ساری اچھائیوں اور برائیوں کاکچھ حصہ وراثت میں ضرورمل جاتا ہے۔جبکہ بہت ساری خوبیاں یاخامیاں تعلیم وتربیت کے ذریعے انسان کی زندگی کاحصہ بن جاتی ہیں۔ شائداسی وجہ سے کسی نہ کہاہے کہ انسان کی گفتگواورلہجہ نہ صرف اس کی تعلیم وتربیت کے رازعیاں کردیتے ہیں بلکہ اس کے خاندان اورنسلوں کے بھیدبھی کھول دیتے ہیں۔جس طرح مرچ کی کڑواہٹ اس کے بیج اورنسل کے کڑوے ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ جس طرح گنے۔آم اورکھجورکی مٹھاس اپنے بیج اورنسل کی مٹھاس کاتعارف کرواتی ہے ٹھیک اسی طرح انسان کارویہ۔لہجہ۔اخلاق اورالفاظ اس کی تعلیم وتربیت کے ساتھ اس کی گزشتہ نسلوں کی باشعوری یاجہالت کاپتہ بتادیتے ہیں۔گنابہت میٹھاہوسکتاہے کم میٹھا ہوسکتاہے یابہت کم میٹھاہوسکتاہے پرکڑوانہیں ہوتا۔مرچ بہت کڑوی ہوتی ہے۔کڑوی ہوتی ہے یاکم کڑوی ہوتی ہے پر گنے جیسی میٹھی نہیں ہوتی اسی طرح انسان کووراثت میں ملنے والے جراثیم بھی اس کی گفتگو۔لہجے۔اخلاقیات۔منافقت،بہتان تراشی۔تہمت زنی جیسی علامات سے ظاہرہوجاتے ہیں۔تہمت لگانے والانہیں جان سکتاکہ جس فردکوتہمت کاسامناکرناپڑتاہے اس پرکیاگزرتی ہے۔اسی قسم کی ایک تازہ مثال ایم اے او کالج کے لیکچرار محمد افضل کی خودکشی ہے جن پر جنسی ہراسانی کا الزام غلط ثابت ہوجانے پربھی انکوائری کمیٹی کی جانب سے بریت کی تحریری رپورٹ جاری کرنے میں بے جاہ تاخیرنے انہیں خودکشی جیسے انتہائی اقدام پرمجبورکردیا۔لیکچرار محمد افضل پرجنسی ہراسانی کاجھوٹاالزام یعنی تہمت کس نے اورکیوں لگائی؟الزام غلط ثابت ہونے کے باوجودان کی بات کیوں نہ سنی گئی؟یہ سوالات اب بے معنی لگتے ہیں۔ہمارے سامنے تہمت زنی ایک بے گناہ انسان کی جان لے گئی۔یادرکھیں کہ گناہان کبیرہ میں سے ایک گناہ تہمت زنی ہے۔تہمت زنی انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔جب کوئی انسان کسی دوسرے انسان پر تہمت لگاتا ہے تو وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ خود اپنے آپ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور اپنی روح کو گناہوں سے آلودہ کرلیتا ہے۔جب ہم ایک انگلی کسی کی طرف اُٹھاتے ہیں توہماری اپنی تین انگلیاں ہماری طرف اُٹھتی ہیں یقین نہیں توابھی کرکے دیکھیں۔تہمت زنی۔بہتان تراشی یاکسی کی کردارکشی کرنے سے پہلے ہمیں سوچ لیناچاہے کہ یہی سلوک کوئی ہمارے ساتھ کرے توہم پرکیاگزرے گی؟خبردارتہمت زنی انسان کی تعلیم تربیت کے ساتھ وراثتی رازعیاں کرنے کے ساتھ کسی کی جان بھی لے سکتی ہے اورتہمت لگانے والے کوبروزقیامت حساب دیناپڑے گالہٰذاایسے اعمال سے بچناچاہئے-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 309791 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Oct, 2019 Views: 343

Comments

آپ کی رائے