سابق وزیر اعظم سے بغض کی انتہا!

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 وزیرِ اعظم پاکستان عمران احمد نیازی میں اخلاقیات کی نچلی سطح سے تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ہے۔یہ اوران کا کابینہ کا آوا تو پہلےہی محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کا مذاق اڑاتے رہے اور مرحومہ پر طرح طرح کے شب وشتم ڈھاتے رہے۔کونسا الزام تھا جو اُس مرحومہ کی بیماری کے حوالے سے ان کی طرف سے نہ لگایا گیاہو؟کوئی ان کی بیماری کو نواز شریف کے وطن سے بھاگنے کا بہانہ کہتا اوراس حوالے سے نوازشریف کواپنی شریکِ حیات سے آخری لمحات تک بھی ملنے نہیں دیا گیا۔ اس کا سب سے بڑا مجرم نیب کا ادراہ اور سربراہ ہے۔جو شاہ سے زیادہ شاہ کا تابع فرمان ہے۔جس نے شریف فیملی کو نا کردہ گناہوں پرعتاب کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔جب محترمہ کا انتقال ہو گیا تو نیازی کے ڈھولچیوں اورتبلچیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ان کا انتقال تو بہت پہلے ہوچکا تھا ن لیگ اس پر سیاست کررہی ہے۔شرم،شرم،شرم!

اب نواز شریف کی صحت کے ساتھ نیب اور نیازی نے جو کھلواڑ کیا وہ ساری قوم کے سامنے ہے۔ اس کے برعکس نواز شریف کی خاندانی شرافت دیکھئے کہ جب نیازی ایک اسٹیج پر سے گرا تونواز شریف نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی خود جاکر نیازی کی مزاج پرسی کی اورصحت کے لئے دعا بھی کی۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ نواز شریف نے جس کو خورشید شاہ کے کہنے پر نیب کی باگ ڈور دی جوایک بے گناہ پروفیسرکا قاتل بھی ہے۔ آج نیازی کا کاسہ لیس بنا ہوا ہے۔جس نے نیازی کے خلاف بولنے والی ہر زبان کو بند کرنے کے لیئےایڑی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہےاور کسی بھی حزب اختلاف کے رہنما پرایک الزام بھی ثابت کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا ہے۔سال سال بھرلوگ اس کی کسٹڈی میں قیدی بنائے ہوئے ہیں۔ مگر مقدمات کا آغازنیازی کےاشاروں پر نہیں کر رہا ہے۔اورمیڈیا پرآ آ کر بھڑکیں خوب مارتا ہے۔پی ٹی آئی میں شامل ایسے ہی لوگ جن کو نیازی ڈکیت کہتا رہا ہے۔پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتا رہا ہے۔

نوازشریف جو پہلے ہی جیل کاٹ رہے تھے ان پر ایک نیا مقدمہحدیبہ مل کا قائم کر کے ان سے علاج معالجے کی سہولتیں بھی منی مائزکر کے۔ان کی بیماری کوانتہائی خطرناک اسٹیج پرپہنچا دیا۔ عمران نیازی نے اپنے پیچھے ہلنے والی انگلی کےبل پرنوازشریف کی صحت تباہ کروائی ہے۔کیونکہ وزیرِ اعظم نیازی پہلے ہی امریکہ میں اپنے گماشتوں سے کہہ آئے تھے کہ وہ ان سے اے سی اور ٹی وی کی سہولتیں چھین کر ان کو گھر کھانا کھانے نہیں دیں گے۔اور تھرڈ کلاس کال کوٹھڑیوں میں انہیں قید رکھیں گے،مقصد صاف ظاہر ہے ان کی زند گیوں سے کھلواڑ کیا جائے گا ۔جو کیا بھی گیا ہے۔نیب نے ان کے معالجوں تک کو بھی رسائی نہ دی اور نواز شریف جب لبِ دم ہو گئے تو قوم سے اپنا سیاہ چہرہ چھپانے کے لئے نیازی اور ان کے حواریوں کی دوڑین لگ گئیں۔مگر اس پر بھی فردوس عاشق جیسی نا اہل ڈاکٹر جو اپنے آپ کو ڈاکٹر کہتی ہیں۔ڈسپرین کو مرض کی وجہ بتانے کے لئے خم ٹھونک کرآئیں ۔جن کی بڑبازی کا تمام ہی میڈیکل فیلڈ کے لوگوں نےکھل کرمذاق بھی اڑایا۔

سیاسی مخالفتیں تو دنیا کے تمام ہی ممالک میں ہوتی ہیں۔موجودہ دور میں سیاسی مخالفتیں ایک خاص ایجنڈے کے تحت مخاصمتوں میں بد لوادی گئی ہیں۔جس میں خود حکمران طبقہ کہتا ہے کہ اسے فوج کی ماکمل حمایت حاصل ہے! فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کرنا ہے۔نہ کہ اس کا کام سیاست کرنا اور خارجہ پالیسی میں اڑنگے بازی کرنا ہے۔قوم ایسے جنرلوں سے سوال کرتی ہے کہ قوم نے تمہیں عزت،اور تمہارے ہاتھوں میں ہتھیار ملک کی سیفٹی کےلئے دیئے ہیں۔اس ملک میں سیاست کرنے یا حکمرانی کے لئے نہیں دیئے ہیں۔مشرقی پاکستان دے کراب کشمیر کو بھی ہندوستان کے حوالے کرنا چاہتے ہو کیا؟ملک کی سیاست سے ہٹ کر سرحدوں پر توجہ کرنا اس وقت میرے وطن کی خاص ضرورت ہے۔اگر کشمیر یا کشمیریوں کو کچھ ہوا تو قوم تم سے پوچھے گی۔

جب نواز شریف کی طبیعت میں خطرناک اتارچڑھائو پیدا ہواتو انہیں پمز ہسپپتا ل میں شفٹ کر کے اب پوری حکومت نے نمبرگیم شروع کردیا۔ پہلےمریم نواز کوان کی تیماری داری کے لئے ہسپتال لایا گیا اور پھررات تین بجے کے بعد انہیں نیندسے بیدارکرکے پھرجیل نواشریف کوذہنی اذیت اور ان کی بیماری کو بڑھاوا دینے کا ایک نیا کھیل شروع کر کے۔مگر مچھ کےآنسو بہانا شروع کر دیا۔ہے۔ نواز شریف کی بیماری صحیح معنوں میں اب تک ڈاکٹرز کی سمجھ سے باہر ہے۔دوسری جانب عدالت نے بھی مہربانی کر کے ان کی ضمانت کی منظوری دے کر کہہ دیا ہے کہ نواز شریف جہاں اورجس سے علاج کرانا چاہیں،کروا سکتےہیں ان کےاس حق کو کوئی صلب نہیں کر سکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران نیازی سیاست دانوں کے ساتھ اپنے حمائتیوں کے ساتھ مل کر جو کھیل کھیل رہے ہیں کہین یہ کھیل ان کے لئے مہنگا نہ پڑ جائے! کیونکہ انہوں نے سیاست دانوں کے ساتھ اور خاص طور پر سابق وزیر اعظم سے بغض کی انتہا کر دی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 120364 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2019 Views: 209

Comments

آپ کی رائے