ہند۔سعودی عرب باہمی تعلقات کے استحکام کی کاوشیں

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
ہندوستانی وزیراعظم کا آٹھ ماہ میں دوسرا دورہ ریاض

ہند۔سعودی باہمی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کاوشوں کا سلسلہ جاری ہے، چنانچہ 28؍ اکٹوبر کو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی دارالحکومت ریاض کا دورہ کریں گے، جہاں وہ توقع ہے خادم حرمین شریفن شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر سیکوریٹی، دفاع، تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں باہمی تعاون کے معاہدات پر دستخط کئے جائیں گے۔ مسٹر نریندر مودی کا آٹھ سال کے اندر دوسرا دورہ سعودی عرب ہے۔ وزیر اعظم مستقبل میں سرمایہ کاری کے امکانات پر منعقد ہونے والی سربراہ کانفرنس Davos in the Desertمیں حصہ لیں گے، جو مغربی ایشاء کی سب سے اہم کانفرنس ہے۔

پاکستانی وزیراعظم پُر اعتماد۰۰۰ سابق وزیر اعظم نواز شریف سخت علیل
ان دنوں پاکستانی سیاست میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ، وزیر اعظم عمران خان پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ اپنے سیاسی حریفوں کا مقابلہ کرنے اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرتے ہوئے ایک نئے پاکستان کی جو امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہیکہ فوج انکے پیچھے کھڑی ہے پاک فوج اس وقت منتخب حکومت کی ہر پالیسی کے ساتھ ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد ہے ، ہم مل کر ملک کو مشکل صورتحال سے نکالیں گے۔ وزیر اعظم نے یہ واضح کردیا کہ وہ حکومت کواس طرح چھوڑ کر نہیں جائیں گے ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ مولانا فضل الرحمن سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) عمران خان کو حکومت سے دستبردار کرانا چاہتے ہیں اور انہوں نے عمران خان حکومت کے خلاف 27؍ اکٹوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی تائید و حمایت اور مکمل تعاون کا پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اعلان کردیا ہے۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات سربراہ و سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف جو ان دنوں مختلف الزامات کے تحت جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں سخت علیل ہیں جنہیں لاہور کے سروسز ہاسپتل میں شریک کرایا گیا ہے ، ذرائع ابلاغ کے متعلق اگر انکی حالات بہتر نہ ہونے کی صورت میں انہیں لندن منتقل کیاجاسکتا ہے ،جبکہ انکی صاحبزادی مریم نواز شریک چیرمین مسلم لیگ ن بھی الزامات کے تحت جیل میں قید ہیں انہیں اپنے والد کی طبیعت خراب ہونے پر23؍ اکٹوبر کو لاہور کے سروسز ہاسپتل پہنچ کر تیمار داری کی اجازت دی گئی تھی جہاں پروہ نواز شریف کی عیادت کی لیکن والد کو دیکھنے کے بعد ان کی طبیعت بھی اچانک خراب ہوگئی جس کی وجہ سے انہیں بھی رات میں سروسز ہاسپتل میں ہی رکھا گیا اور 24؍ اکٹوبر کے روز ابتدائی ساعتوں میں دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور نواز شریف کے داماد، مریم نواز کے شریک حیات ریٹائرڈ کیپٹن صفدر جنہیں گذشتہ دنوں عدالتی حکم پر جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل منتقل کیا گیا تھا انکی بھی اچانک جیل میں طبیعت خراب ہوگئی ہے ۔ انکا بھی سروسز ہاسپتل لاہور کے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ جیل پہنچ کر میڈیکل چک اَپ کیا۔ نواز شریف کی صحت یابی کیلئے وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب حکومت کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو خصوصی طبی سہولتیں فراہم کرنے کے احکامات دیئے ہیں اور انہوں نے نواز شریف کی صحت یابی کیلئے دعا بھی کی ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پنجاب حکومت نے نواز شریف کے علاج کیلئے ہر قسم کی طبی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ 24؍ اکٹوبر کو نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کرلی گئی ہے اور علاج بھی شروع ہوچکا ہے ، بتایا جاتاہے کہ انہیں اکیوٹ آئی ٹی پی ‘‘ کا مرض لاحق ہے اور اسکا علاج پاکستان میں ممکن ہے ، تین روز قبل انہیں پلیٹ لیٹس میں شدید کمی کے باعث ہنگامی بنیادوں پر سروسز ہاسپتل منتقل کیا گیا تھا جہاں انہیں پلیٹ لیٹس کے چار سے زائد میگایونٹ لگائے جاچکے تھے اور بیماری کی تشخیص میں کافی مشکلات در پیش ہوئیں لیکن 24؍ اکٹوبر کو ان کی بیماری کو پہنچان کراسکا علاج بھی شروع کردیا گیا ہے ، ڈاکٹروں کے مطابق انہیں صحت یاب ہونے کے لئے ایک ہفتہ درکار ہوسکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اداروں کے خلاف بیانات دینے پر چیف جسٹس اطہر من اﷲ نے کیس کی سماعت کی ، درخواست گزار نے موقف اپنایا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے اداروں کے خلاف بیانات دیئے ہیں جس پر انکے خلاف کارروائی کی جائے ، چیف جسٹس اطہر من اﷲ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں آزادی رائے کی اجازت ہونی چائیے ، انہوں نے درخواست گزار سے کہا کہ مجھے بتائیں کہ کارروائی کیوں کریں؟ ایسی باتوں سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیا آپ نے اسلام پڑھا ہے؟ حضرت امام ابو حنیفہؒ بھی اپنے شاگردوں سے اظہار اختلاف کرتے رہے، ہمارے کردار ایسے ہونے چاہیں کہ کوئی بات نہ کرے ، انہوں نے کہا کہ گلوبل ورلڈ اور سوشل میڈیا کا دور ہے کس کس کو روکیں گے؟ ہمیں بتائیں کہ کیوں کسی کو روکنا چاہیے ؟ اس طرح چیف جسٹس نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف کارروائی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ ادھر وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کسی اور کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں، اس سلسلہ میں انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا، عمران خان کا کہنا ہیکہ ان کے دھرنے پر بھارت خوشیاں منارہا ہے ،انہوں نے کہا کہ مولانا کبھی مذہبی کارڈ کااستعمال کرتے ہیں ، کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ ، ان کا چارٹر آف ڈیمانڈ واضح نہیں ، وزیر اعظم خان نے آزادی مارچ سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچنے اور دشمن ممالک کو فائدہ پہنچنے کی بات کہی ہے۔ نواز شریف کے مستقبل کے فیصلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ عدالتیں انکے مستقبل کا فیصلہ کریں گی ، صحت کے تعلق سے کہا کہ انکی صحت کا معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ذرائع ابلاغ روزنامہ جنگ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری سابق صدر پاکستان او رمیاں نواز شریف سابق وزیر اعظم پاکستان کی حراست میں ناسازیٔ صحت کے حوالہ سے کہا کہ اگر ان دونوں قائدین کو خدانخواستہ کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ انہوں نے میاں نوازشریف کی جلد مکمل صحت یابی کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی دورانِ قید علالت سے اہل خانہ شدید تکلیف سے دوچار ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو صرف سیاسی انتقام کیلئے اذیتیں دی جارہی ہیں ۔ ان دنوں آصف زرداری بھی احتساب عدالت کی جانب سے دیئے گئے فیصلہ کے تحت قید ہیں اور انکی طبیعت بھی آئے دن خراب بتائی جارہی ہے۔لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف کی بیرون ملک علاج اور ضمانت پر رہائی کے لئے درخواست دی گئی جس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے انکی صحت سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے ، اب دیکھنا ہیکہ لاہور ہائیکورٹ نواز شریف کے حق میں کس قسم کا فیصلہ کرے گی، انہیں ضمانت پر رہائی اوربیرون ملک جانے کی اجازت دے گی یا نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 29؍ اکٹوبر تک لئے سماعت ملتوی کردی ہے جبکہ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے نواز شریف کی ضمانت کی مخالفت کی ہے ۔نواز شریف کی تشویشناک حالت کی خبرسننے کے بعد ممتاز پاکستانی عالم دین مولانا طارق جمیل 24؍ اکٹوبر کو سروسز ہاسپتل پہنچ کرسابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی عیادت کی اور انکی صحت یابی کے لئے دعا کی ۔

عمران خان کے لئے آزمائشی وقت تو نہیں؟
کشمیر کی صورتحال کو کشیدہ بتاتے ہوئیعمران خان نے کہا کہ ہندوستان پلوامہ جیسا ایک اور ڈرامہ رچا سکتا ہے ،اس سلسلہ میں ذرائع ابلاغ کے متعلق انہوں نے آرمی چیف سے کہا ہے کہ فوج کو مکمل طور پر تیار رکھیں، بھارت کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ، پاکستانی معیشت کو بہتری کی جانب بتایا اور روپیے کی قدر مزید مستحکم ہونے کے یقین کا اظہار کیا، مہنگائی اور بیروزگاری کو سنجیدہ مسئلہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس پر کام کررہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک ہی مسئلہ ہے کہ انہیں این آر او (قومی مفاہمت فرمان) دیں ،اگر ان کو این آر او اور گرفتار رہنماؤں کو باہر جانے کی اجازت دے دی جائے تو ، انکی (عمران خان) کی زندگی اور حکومت آسان ہوجائے مگر حکومت کسی قسم کا این آر او نہیں دے گی، کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اس طرح عمران خان نے اپوزیشن کو ماضی کی طرح کسی بھی قومی مفاہمت فرمان کے ذریعہ کسی قسم کی چھوٹ اور معافی دینے سے انکار کیا ہے۔

سعودی اور ایران کے درمیان مفاہمتی کوششیں
سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ سے متعلق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہیکہ اسرائیل چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں جنگ ہو، روزنامہ جنگ کے مطابق عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم ایران اور سعودی وزرائے خارجہ کی اسلام میں ملاقات کی کوشش کررہے ہیں ، کوشش ہے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہو، سعودی عرب اور ایران کی لڑائی ہمارے لئے بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کیسعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحتی کوشش کتنی کارکرد ہوسکتی ہے اور اسلام دشمن طاقتیں انکی اس کوشش کو کس حد تک کامیاب ہونے دیتے ہیں۔عمران خان کو ملکی سطح پر اور ہندوستانی کشمیر اور افغانستان کے مسئلہ پر بیرونی دباؤ ہے ۔ اس سے وہ کس طرح نمٹ پاتے ہیں اور آنے والا وقت کس حد تک انکی کامیابی کی نوید لے کر آتاہے۔

ہندو پاک کے درمیان کرتارپور راہداری معاہدہ
ہندوستان اور پاکستان نے کرتارپور راہداری کے معاہدے پر دستخط ثبت کردیئے ہیں جس کے تحت ہندوستان کے سکھ یاتری بغیر ویزے پاکستان میں موجود سکھ مذہب کے مقدس مقام گرودوارہ دربار صاحب کا دورہ کرسکیں گے۔ ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر بنایا گیا راستہ کرتار پور راہداری کہلاتا ہے اور اس کا استعمال کرتے ہوئے سکھ یاتری دربار صاحب آسکیں گے ، معاہدہ کے تحت دونوں ممالک کے اتفاق سے یہ راستہ 9؍ نومبر کو گرونانک کی 550ویں سالگرہ کے موقع پر کھول دیا جائے گا ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق روزانہ پانچ ہزار سکھ یاتری کرتارپور آسکیں ۔ اس معاہدہ کے تحت کسی بھی مذہب کے یاتری اس راہداری سے سفرکرسکتے ہیں۔ سفر کے لئے درست پاسپورٹ اور الیکٹرانک سفری اجازت نامہ ( ای ٹی اے) ہونا لازمی ہے۔اس معاہدہ کی رو سے ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دیگر ممالک کے لوگ بھی راہداری کا استعمال کرسکتے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ 1925ء میں یہ گرودوارہ تعمیر کیا گیا تھا لیکن اس کی اصل حالت سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھی ۔ سنہ 2004ء میں اسے پاکستان کی جانب سے بہتر کیا گیا ، اس گرودوارہ کی تعمیر کے تعلق سے بتایا جاتا ہے کہ گرونانک نے اپنی زندگی کے 18برس کے دوران اس مقام پر قیام کیا تھا یہ سکھوں کیلئے دوسرا مقدس ترین مقام ہے ۔دیکھنا ہے کہ اس سے ہند۔پاک کے درمیان تعلقات پر کیااثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کامیابی کس کے سر ۰۰ امریکہ یا روس
ترکی نے امریکہ کی جانب سے شمالی شام کے ان علاقوں پر جہاں کرد ملیشیا جسے ترکی دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا ۔ ترکی اپنی سرحد سے متصل 32کلو میٹر تک شامی علاقے کو ’’سیف زون‘‘بناکر اس میں کم و بیش بیس لاکھ سے شامی مہاجرین کو وہاں ٹھہرانا چاہتا ہے۔ ترکی کا مطالبہ ہے کہ کرد جنگجو شمالی شام کی 32کلو میر کی حدود سے باہر چلے جائیں ۔ ترکی کی اس کارروائی کے بعد امریکہ نے 14؍ اکٹوبر کو ترکی کی وزارت دفاع، توانائی کے ساتھ ساتھ ملک کے تین اعلیٰ عہدیداروں پر پابندیاں قائد کردی تھیں۔ اسکے بعد امریکی نائب صدر اور ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کے درمیان عارضی جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا اور اس معاہدہ کی تحت کرد جنگجوؤں کو 150گھنٹے کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ سرحد سے 30کلومیٹر دور پیچھے ہٹ جائیں یہمعیاد 29؍ اکٹوبر کو مکمل ہوگئی ۔ گذشتہ دنوں ترکی اور روس کرد فورسز کو ترکی کے ساتھ شام کی سرحد سے دور رکھنے کا معاہدہ کیا اور دونوں ممالک نے اسے تاریخی معاہدہ قرار دیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت روسی اور شامی افواج اس بات کی نگرانی کریں گی کہ کرد فورسز وہاں سے فوری نکل جائیں تاہم کردوں کی جانب سے کوئی ردّ عمل سامنے نہیں آیا ہے ۔ یہ معاہدہ بحر اسود کے شہر سوچی میں چھ گھنٹے صدر ترکی رجب طیب اردغان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بات چیت کے بعد طے پایا۔اس معاہدے کے تحت روس نے ترک فوج کو وہاں رہنے اور اس علاقے کا مکمل کنٹرول رکھنے پر رضا مندی کا اظہار کیا۔ شامی صدر بشارالاسد نے بیرونی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن کرملن(روس) کا کہنا ہیکہ انہوں نے صدر ولادیمیرپوتن کا شکریہ ادا کیا اور کام کے نتائج کو اپنی مکمل حمایت کے اظہار کے ساتھ شام اور ترک سرحد پر روسی فوج کے ساتھ شامی سرحدی گارڈز کی تعیناتی پر رضا مندی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر کا کہنا ہیکہ ترک حکومت نے امریکی انتظامیہ کو شام میں فوجی کارروائی روکنے سے متعلق یقین دلایا ہے کہ وہ شام میں مستقل طور پر جنگ بندی برقرار رکھے گا۔ علاوہ ازیں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ تیل کی تنصیبات کے تحفظ کیلئے شام کے کچھ حصوں میں امریکی فوج کی ایک چھوٹی تعداد تعینات رکھیں گے۔ امریکہ کی جانب سے ترکی کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ اور روس کی جانب سے کئے جانے والے معاہدہ کے بعد ترکی کے لئے آسان ہوگیا ہے کہ وہ شمالی شام کے 30کلو میٹر حدود سے کردوں کو نکال باہر کرکے شامی پناہ گزینوں کو رکھیں گے۔اس طرح رجب طیب اردغان اپنے فیصلہ میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ امریکہ اور روس دونوں نے ترکی کے ساتھ معاہدہ کرکے بڑی تعداد میں ہلاکت کو روکنے کی کوشش کی ہے ، اب دیکھنا ہیکہ کرد ملیشیاء اس فیصلہ پر کس قسم کا اظہار کرتے ہیں۔

سعودی ۔ویزا فیس میں اضافہ
سعودی حکومت نے ویزا فیس میں چھ گنا اضافہ کردیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سنگل انٹری ویزا کی فیس 93ڈالر سے بڑھاکر 533ڈالر جبکہ ایک سے زائد انٹری والے 6مہنے کی ویزا فیس 800ڈالر اور ایک سال والے ویزا فیس 1333ڈالر کردی گئی ہے ۔ البتہ ابھی حج و عمرہ کے عازمین کے لئے ویزا فیس میں کوئی اضافہ کی رپورٹ نہیں ہے ۔ اب دیکھنا ہیکہ شاہی حکومت اس سلسلہ میں کیا اقدام کرتی ہے ۔ حج و عمرہ کی ویزا فیس بحال رکھتی ہے یا پھر اس میں کسی قسم کا اضافہ کیا جاتا ہے ۔ویزا فیس میں اضافہ کے بعد عازمین حج و عمرہ میں تشویش کی لہر دور گئی تھی کہ کہیں حج و عمرہ کے ویزے پر بھی اتنی زیادہ فیس بڑھا دی گئی ہے۔
***

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100491 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2019 Views: 284

Comments

آپ کی رائے