راہداری کی بروقت تعمیر اور ملکی منصوبوں کا حال

(Sohail Azmi, Dera Ismail Khan)

کرتار پور راہداری کے منصوبے کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے اسے بروقت ،ریکارڈ ایک سال کی مدت میں مکمل کرنے پر فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری حکومت اتنا اچھا کام کررہی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کرتار پور راہدری کی ریکارڈ مدت میں تعمیر ایف ڈبلیو او اور حکومت کا ایک ایساکارنامہ جس میں نہ صرف دنیا بھر میں پاکستان کا سافٹ امیج ابھرا ہے بلکہ تیرہ کروڑ سکھوں کی آبادی کے دل بھی پاکستان کے لئے نرم ہوئے ہیں ۔ان کے دل میں پاکستان کی محبت بڑھی ہے ۔سکھ آبادی جو ویسے بھی کشمیریوں اور ہندوستان میں بسنے والے تیس کروڑ مسلمانوں کی طرح اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا رونا روتے رہے ہیں اور ان کی خالصتان تحریک اب دنیا بھر میں احتجاجی جلسے ،جلوس منعقد کررہی ہے خاص کر اپنی تحریک کے علاوہ سکھ برادری کرتار پور راہداری کو کھولنے کے اعلان کے بعد سے ہی کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف بھی مسلمانوں کیسا تھ مل کر سراپا احتجاج ہے ۔پاکستانی ،کشمیری اور سکھ برادری مل کر دنیا بھر میں بھارت کا مکروہ چہرہ دکھانے میں مصروف ہیں ۔بھارت جو کہ سیکولر ملک کہلواتا ہے میں جس طرح اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک کیا جارہا ہے وہ مودی سرکار کی فاشٹ پالیسیوں کامنہ بولتا ثبوت ہے ۔خاص کر مسلمانوں کو زبردستی اپنی عبادات سے روکنے کے علاوہ نسلی ،مذہبی ،تعصب کا سامنا جس طرح بی جے پی کی حکومت میں کرنا پڑرہا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ،اب تو بی جے پی کی حکومت کے خلاف ان کے اپنے ملک میں آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں ۔ایسے حالات میں سکھ برادری کے لئے کرتار پور راہداری کا تحفہ اسلام کے ان دیرینہ اصول کے مطابق ہے جس میں غیر مذہب کو بھی اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ عبادت کرنے اور ان کے ساتھ اچھے اخلاقی برتاؤ پر زور دیاگیا ۔امت مسلمہ کی تاریخ گواہ ہے کہ کبھی بھی مسلمانوں نے اپنے مفتوح علاقوں میں کسی کو زبردستی مسلمان نہیں کیا ۔انہیں کامل مذہبی آذادی دی ،ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی ،ایک ایسے وقت میں جب بھارت سے ہمارے تعلقات کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر جاری جارحیت کی لہر کے باعث انتہائی ناگفتہ بہ ہیں ۔راہداری کا کھلنا ایک اچھا اقدام ہے جس سے ہندوستان میں بسنے والے تیرہ کروڑ کے قریب سکھ برداری نہ صرف ہمارے ہمدرد بنے گی بلکہ کشمیر کاز کو دنیا بھر میں مزید پزیرائی ملے گی اور راہداری کی وجہ سے آپ حیران ہوں گے کہ بھارتی پنجاب میں نوجوت سنگھ سدھ کے ساتھ عمران خان کے فوٹو اور پاکستان کے جھنڈے لگادیئے گئے ہیں، سکھ برادری عمران خان کے گن گارہی ہے ۔پاکستان کی حکومت اور عوام کرتار پور راہداری کھول کر جذبہ خیر سگالی کا پیغام دے رہی ہے لیکن ہندوستان میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ دے دیا اور بھارتی حکومت پاکستان کے خلاف جنگ کے حالات پیدا کررہا ہے اپنے دفاعی آلات کوٹسٹ کررہا ہے ۔سرحدوں کے قریب اپنے اگلے مورچوں کو الرٹ کررہا ہے ،بحری ،بری اور فضائی ہرطرف اس کی فوجیں میزائل اور آلات سے متحرک ہیں انہیں ٹسٹ کیا جارہا ہے جبکہ ہم جذبہ خیر سگالی کا کام کررہے ہیں ۔اقوام عالم کواب اپنی دوغلی پالیسی کو ترک کرنا چاہیے ۔پاکستان سے ہر وقت ڈومور کا مطالبہ ترک کرکے اب بھارت سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ کشمیر وبھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور کشمیر کی آئینی حیثیت کو بحال کرے ،کرتار پور راہداری کے کھلنے سے ہم نے نہ صرف سکھوں کی ہمدردی حاصل کی ہے بلکہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں سکھوں کی آمد سے بھاری زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گیا ۔کرتار پور راہداری کے افتتاح پرعمران خان کا یہ کہنا ہے کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میری حکومت اتنا اچھا کام کررہی ہے کے جواب میں کچھ سطور لکھنا چاہوں گا کہ آپ واقعی لاعلم ہیں ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سے، آپ راہداری کو بروقت مکمل کرنے کی مثال کو پورے ملک پر لاگو نہیں کرسکتے ۔آپ نے سی پیک کے منصوبوں کو کھڈے لائن لگادیا ۔ڈیرہ اسماعیل خان تاژوپ دو سوکلومیٹر کی دو رویہ سڑک پر تاحال کام شروع نہیں ہوسکا جبکہ ڈیرہ سے اسلام آباد کی روڈ کو 2018 میں مکمل ہونا تھا لیکن پھر جون 2019 کی تاریخ دی گئی لیکن تاحال 2019 تک اس کے مکمل ہونے کا امکان نہیں ہے ۔پچاس لاکھ گھر تعمیر نہ ہوسکے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں گھر ودکانیں گرادی گئیں ،دوسو ارب روپیہ باہر سے وآپس نہ آیا ،ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بجائے ٹیکسوں کی بھرمار کے باعث ہزاروں پاور لومز ،سمال انڈسٹریز کے سیکٹرز بند ہونے سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے ۔دو روپے یونٹ بجلی پچیس روپے یونٹ ہوگئی ،پینتالیس روپے لیٹر پیٹرول ،ایک سو پندرہ روپے کا ہوگیا ،علاج فری ہونے کی بجائے ادویات ،علاج دونوں ناپید ہوگئے ،پولیس میں اصلاحات ندارد،دوسوماہرین کی ٹیم کا عوام تاحال انتظار کررہی ہے ۔بیرونی قرضہ لینا بڑھ گیا ،سرمایہ کاری آنے کی بجائے جانا شروع ہوگئی ،بارہ ارب کی روزانہ کی کرپشن بیس ارب تک جاپہنچی ،ادارے بے لگام اور احتسابی ادارے ناکارہ ہوگئے ۔گیس کے نرخ کئی سو گنا بڑھ گئے ،کرکٹ ،ہاکی کے کھلاڑی بے روزگار اور کھیل تباہ ہوگئے ،میٹرو نہیں بناؤں گا لیکن بی آر ٹی منصوبہ عوام کی جان کو آگیا ،پروٹوکول سیاست کا خاتمہ نہ ہوا ،گورنر ہاؤس پر بلڈوزر چلا نہ افسر شاہی سیاست سے پاک ہوئی غرض عمران خان کو ملک میں بھی کرتار پور راہداری کی طرز پر بر وقت ترقیاتی منصوبوں ،وعدوں پر کام کرنا ہوگا ورنہ ان کی مثال چراغ تلے اندھیرے والی ہوگی ۔
٭٭٭٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Azmi

Read More Articles by Sohail Azmi: 155 Articles with 74666 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2019 Views: 260

Comments

آپ کی رائے